سیاسی و غیر سیاسی باتیں

ساحر لدھیانوی اسی دور کے اُن ترقی پسند شعراء میں سے تھے جنہوں نے حالات پر تنقید نہایت تلخ لہجہ میں کی اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے مجموعہ کلام کا نام ”تلخیاں“ رکھا تھا اور اسی اندازِبیان کی وجہ سے مشہور تھے۔ تاج محل پر اُنکی واحد نظم نے آپکی شہرت کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ تاج محل کی خوبصورتی اور خوشنمائی کے بجائے اُنہوں نے طنزیہ لہجہ میں کہا تھا:
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق
فلمی دنیا میں جاکر بھی انہوں نے اپنا طرزِ کلام تبدیل نہیں کیا اور ہمیشہ حکمرانوں اور رہبروں پر تنقید کرتے رہے۔ ان کا یہ شعر موجودہ حکمرانوں کی عزت (غیرت؟) کو للکاررہا ہے:
یہ کس کا لہو ہے کون مَرا؟
اے رہبر ملک و قوم بتا!
بے گناہوں کے خون بہنے پر وہ سوال رہبروں سے کر رہے ہیں جو دراصل امن و امان اور عوام کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ آج کل ہمارے پورے ملک میں جو خونریزی کا کھیل جاری ہے اس کیلئے اگر کوئی حکمرانوں سے سوال کرنے کی جسارت کرتا ہے تو وہ فوراً اپنی ذمہ داری سے یہ کہہ کر دستبردار ہو جاتے ہیں کہ اس میں بیرونی و تیسری قوت کا ہاتھ ہے، دہشت گردوں کا ہاتھ ہے جو باہر سے ہدایت پر عمل کررہے ہیں اور پھر یہ کہ ہمیشہ سے کچھ لوگ ہماری پارٹی اور حکومت کے خلاف رہے ہیں۔ یہ لوگ یہ بات نظر انداز کردیتے

ہیں کہ ان خرابیوں کا علاج، ان کا سدباب انہی کی ذمہ داری ہے۔ کیا عوام بیرونی قوتوں اور دہشت گردی کا مقابلہ خود کرسکتے ہیں پھر آپ جو بھنگڑے عوامی مینڈیٹ کے مارتے ہیں ان کا کیا جواز ہے۔ کیا آپ کو یہ مینڈیٹ صرف قیمتی گاڑیوں میں گھومنے، شان و شوکت اور عیش و عشرت کے لئے دیا ہے گویا آپ بھی ہمارے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے اس مصرع پر عمل کررہے ہیں:
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
کچھ لوگوں نے اس کو تبدیل کرکے یوں بیان کیا ہے:
بابر بہ عیش کوش کہ عمر تواں گزشت
یعنی بے انتہا اخراجات، شاہوں کی طرح فیاضیاں، قیمتی گاڑیوں کی قطاریں، لاتعداد حفاظتی گارڈ، بیرونی ممالک میں دولت کے ذخیرے جمع کرنے پر پوری طرح عملدرآمد جاری ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی ، بے روزگاری کا شکار تھے اب جان و مال کا تحفظ بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ کوئی بیرونی حملہ آور نہیں ہیں یہ ہمارے اندرونی خلفشار کا نتیجہ ہے جو مشرف نے امریکہ کی جنگ کو پاکستانی جنگ میں تبدیل کرکے اور لال مسجد میں معصوم بچوں کو فاسفورس بموں سے جلا کر ہم پر تھونپ دیا ہے۔ ان تمام بے گناہوں کی شہادت کے بدلے میں یہ ضرور جہنم میں جگہ پائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ اور انتباہ کے مطابق آگ میں اس کی کھال باربار بدل کر اپنے گناہوں کی یاد دہانی کرائے گا۔ حکومتی غفلت سے مہلک ہتھیار بکثرت ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئے ہیں اور ہر قسم کے جرائم کے ارتکاب میں استعمال ہورہے ہیں۔ دہشت گردوں کی آڑ میں سیاسی پارٹیوں کے مسلح گروہ دل کھول کر قتل و غارتگری اور لوٹ مار میں لگے ہیں۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان و سندھ کے حالات اور قتل و غارتگری سے آپ پوری طرح واقف ہیں۔ حکومت کی نااہلی اور حکمرانوں کی عیاشی اور عوام کی مشکلات بھی سب پر عیاں ہیں مگر کوئی نجات دہندہ ، کوئی مسیحا نظر نہیں آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت ہی سخت امتحان و عتاب میں ڈال دیا ہے۔ ہم قبائلی علاقوں پر خود بھی بے دردانہ حملے کرتے ہیں، خوفناک ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور امریکیوں کو بھی کھلی جارحیت کی اجازت دے رکھی ہے۔ آپ ان کی خواتین و بچے بے دردی سے قتل کررہے ہیں اور جب وہ سخت جواب دیتے ہیں تو ہمارے یہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے اور نوحہ خوانی شروع ہوجاتی ہے۔
دہری شہریت اور جعلی ڈگریوں والے نمائندوں کا مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اب یہ راز کھل گیا کہ یوسف رضا گیلانی کے بڑے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کی ڈگری بھی جعلی ہے۔ بجائے شرمندہ ہونے کے یوسف رضا گیلانی فرماتے ہیں کہ FIA کو جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں ہے ۔ ہمیں تو 60 سال سے یہی بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے تمام دھوکہ دہی یعنی فراڈ کے کیس پکڑنے کیلئے کام کرتی ہے۔ یہ چونکہ فراڈ کا کیس ہے اسلئے ایف آئی اے کی گرفت میں آتا ہے اور یقینا پکڑ ہونی چاہئے۔
الطاف حسین نے ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ میں شرکت کا اعلان کرڈالا ہے۔ 12 مئی کے واقعات ابھی تازہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس پلاننگ کے پیچھے کہیں یہ فلسفہ تو نہیں کہ ہلڑبازی کرکے امن و امان کی کیفیت کرکے الیکشن ملتوی کرائے جائیں اور حکمرانوں کیلئے لوٹ مار کا کھلا میدان مہیا کردیا جائے۔ ماورائے قانون کی ہر تحریک کا عدلیہ اور فوج کو سر کچل دینا چاہئے۔ یہ ملک اب ان چیزوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے لانگ مارچ کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کردیا ہے۔ ہم ابھی خلافت تحریک، قرض اتارو ملک سنوارو، رازق الخیری صاحب کی یتیم خانوں کے لئے چندہ جمع کرنے کی تحریکوں کو نہیں بھولے ہیں۔ ایم کیو ایم نے بھی چندہ جمع کرنے کی مہم پر لبیک کہہ دیا ہے۔ اس قسم کی مہم میں عموماً غرباء ہی تختہ ِ مشق بنتے ہیں۔ وہ زندگی بھر کی جمع کی ہوئی پونجی جذبات میں آکر دے دیتے ہیں اور مفلس ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ کو اس لانگ مارچ کے لئے ”رضاکاروں“ کو خریدنے کی کیوں ضرورت پیش آرہی ہے۔
چلئے سیاست اور ان مسائل و تحریکات کی باتیں چھوڑتے ہیں اور کچھ اچھی باتیں کرتے ہیں۔
پہلی اچھی خبر یہ ہے کہ انگریزی روزنامہ دی بلوچستان ٹائمز اور اردو روزنامہ زمانہ کے ایڈیٹر ان چیف و سابق سینیٹر جناب فصیح اقبال کو بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور مینجمنٹ سائنسز کی جانب سے گورنر جناب نواب ذوالفقار علی خان مگسی نے 26 دسمبر کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی، یہ یقینا اس کے مستحق ہیں۔ میرے پرانے عزیز دوست ہیں، نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے بلوچستان کے عوام کی صحیح ترجمانی کررہے ہیں۔ ان کو صدر پاکستان نے ستارہٴ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات سے بھی نوازا ہے۔ آپ نے کوئٹہ میں گلستان فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرکے اپنی تمام دولت و بنگلہ اس کے نام کردیا ہے۔ میں ایک عرصہ تک بلوچستان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر تھا اور مجھے بھی 2003ء میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔ فصیح اقبال صاحب کو میں نے اس وقت ایک اعلیٰ انسٹیٹیوٹ بنانے کی تجویز اور فیزیبلیٹی رپورٹ بھی دی تھی، اب وہ اس انسٹیٹیوٹ کی تعمیر کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ان کو جناب ایس ایم ظفرنے انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کے اعتراف میں ایوارڈ دیا تھا۔ فصیح اقبال بھوپال سے بھی واقف ہیں اور محبت رکھتے ہیں۔ ان کے پیر و مرشد مولانا نسترن بھوپال میں قیام پذیر تھے اور ان کے نام سے منسوب مسجد نسترن بھوپال کی اعلیٰ مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔ تقسیم سے پہلے فصیح اقبال بھوپال جایا کرتے تھے اور انہیں یاد ہے کہ ہندوستان میں بھوپال واحد جگہ تھی جہاں سڑک پر مرکری لائٹس لگی ہوئی تھیں اور اس کو ٹھنڈی سڑک کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو مزید اعزازات سے نوازے، تندرست ، خوش و خرم رکھے اور عمر دراز کرے، آمین۔ یہ بلوچستان کے سچے فرزند ہیں۔
2012ء کا ایک قابل تحسین کام جدّہ میں مقیم ڈاکٹر خلیل الرحمن کا ہے انہوں نے ایبٹ آباد سے تھوڑا پہلے مسلم آباد نامی علاقہ میں پاکستان کڈنی سینٹر بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔ دسمبر کے اوائل میں وہاں سنگ بنیاد رکھنے کے فنکشن میں مجھے بطور مہمان خصوصی بنایا گیا۔ یہ اہم ترین فلاحی کام وہ پاکستان ویلفیئر سوسائٹی ٹرسٹ کے زیر تحت کررہے ہیں اور سعودی عرب میں انکے دوست اس کام میں ان کی مدد کررہے ہیں۔ اس سینٹر میں گردوں کے امراض کے علاج کیلئے ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ ایک گورننگ باڈی اس کی سرپرستی اور نگرانی کریگی۔ تمام مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس نہایت اہم کام میں ڈاکٹر خلیل الرحمن کا ہاتھ بٹائیں۔ میرے نہایت عزیز دوست پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان اور میں اس نیک کام میں ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ آپ اپنے عطیات اس پتہ پر روانہ کریں۔
Pakistan Welfare Society Trust
A/C No. 01-200-4080-7, Swift Code ABPAPKKAISL,
Allied Bank, G-10 Markaz Branch – (0750) – Islamabad, Pakistan
Tel. Nos: 00966502529964
0092-300-5183977
تمام دوستوں ، ہمدردوں، بہی خواہوں اور قارئین کو اللہ تعالیٰ 2013ء بہت مبارک کرے۔ خوش و خرم ، تندرست رکھے اور عمر دراز کرے،آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: