بازی گروں کا میلہ

آج کل ملک جس افراتفری اور لاقانونیت کا شکار ہے وہ ہم سب پر عیاں ہے۔ آج ہماری نئی نسل حیران اور مضطرب نظر آتی ہے۔ پریشان اور فکر مند ہوکر کبھی اَدھر اور کبھی اُدھر دیکھتی ہے۔ ایک طرف اس نوجوان نسل کو ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو پوری ڈھٹائی اور دھڑلے سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ آج بھی ترقی اور فلاح کا راستہ یہی ہے کہ آنکھیں بند کرکے شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کی حرف بہ حرف تقلید کی جائے، انہی کی برتری اور بہتری کو تسلیم کرکے، ان کا لوہا مان کر کوئی ملک دنیا میں جی سکتا ہے اور آگے قدم بڑھا سکتا ہے، ورنہ اس کے سوا دوسرا راستہ ہمارے سامنے صرف ایک ہی کھلا ہے، یہ وہ راستہ ہے جو پتھر کے زمانے میں ہمیں اٹھاکر پھینک دے گا۔ اس نام نہاد روشن خیال نظریہ کی بڑی زور شور سے دن رات آج بھی کچھ لوگ تشہیر پر لگے ہیں۔ اس سے پہلے پرویز مشرف اور اس کے حواریوں نے آٹھ سال اسی بات کی تبلیغ کی اور چھانٹ چھانٹ کر ایسے ہی خیالات کے لوگوں کی وہ سرپرستی کرتا رہا، ادارے اور اقدار تباہ کرتا رہا اور ہمارے تمام اہم ترین اداروں پر نااہل اور نالائق لوگوں کو مسلّط کرکے ان کا بیڑہ غرق کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر ناکام ہوا اور ہم سب نے دیکھا کہ وہ رسوا ہوکر یہاں سے اچانک فرار ہوگیا۔
دوسری طرف ایک اور خطرناک کھیل جاری ہے۔ اس

کھیل نے ساری قوم بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو چکرا رکھا ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یکایک بیٹھے بٹھائے جو فرقہ وارانہ جنگ و جدل اور لسانی بنیادوں پر قتل و غارت کا بازار گرم کردیتا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ کیا یہ فرقے آج کی پیداوار ہیں؟ کیا برسہا برس سے یہی مذہبی اور لسانی گروہ ہمارے اپنے درمیان امن و بھائی چارے سے نہیں رہتے آئے؟ پھر یکایک کیا ہوا؟ معاشرہ کی طرف نظر ڈالیں تو کوئی فرقہ وارانہ فساد کی جڑیں دکھائی نہیں دیتیں، کوئی خاندان اس بنیاد پر ٹوٹتا نظر نہیں آتا، کسی محلہ یا گلی کوچہ میں اس وجہ سے لڑائی جھگڑا نہیں ہو رہا۔ بس یہی منظر بار بار سامنے آتا ہے کہ فلاں مسجد میں نمازی مارے گئے یا اس شفاخانہ میں مریض فنا کردیئے گئے۔ نہ کوئی اس بات پر غور کرتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر خوف و دہشت کا یہ ڈرامہ کب شروع ہوا، کہاں سے اس کی ہدایت کاری کی گئی؟ کس نے، کب، کہاں اور کیوں ایک فیصلہ کرکے ہمارے ملک و ملت کا سودا کرلیا اور وہ کون لوگ ہیں جو اب بھی تلے بیٹھے ہیں کہ کسی ”مربّی“ کی گود میں پلتے پلاتے اچانک دھم سے اس ناپاک ڈرامہ کے اسٹیج پر کود کر دوبارہ نمودار ہوجائیں، ایک نیا روپ دھار کر پھر اس ناٹک کو دہرائیں اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر پھر دوبارہ انعام وصول کرکے اپنے مربّی کی گود میں جاکر باقی ماندہ زیست کا مزہ لیں اور جمع کردہ مال و متاع سے بقیہ زندگی کی’مسرتوں‘ کا سامان کریں۔ کوئی غور تو کرے کہ آخر اس سارے ہنگامے کی طنّابیں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں؟ دہشت پھیلانے والوں، خون کی ہولی کھیلنے والوں کو پناہ کہاں مل جاتی ہے؟ ان سارے سوالات کے جوابات بالآخر کسی نہ کسی کو ایک نہ ایک دن بلکہ شاید بہت جلد ہی دینا پڑیں گے۔
لیکن الحمدللہ! اب بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، ایسے لوگ یقینا موجود ہیں جو ملک و ملت کو اس بحران سے بخوبی نکال سکتے ہیں۔ اس بظاہر مایوس کُن صورتحال ہی میں سے مجھے اور بہت سے روشن ضمیر اور کھلی آنکھیں رکھنے والے بے شمار محب وطن لوگوں کو راہِ اُمید نظر آرہی ہے، اس اُمید کی بنیاد اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اوربھروسہ ہے، نئی نسل کا جذبہ اور ان کا شوق ہے، ان کی آنکھوں کی چمک ہے جو دراصل امید کی روشنی ہے لہٰذا ہمارے اور آپ کے اور ہم سے بڑھ کر ہمارے ان بچوں کے سنہرے مستقبل کی نوید مجھے اور میرے مخلص رفقاء کو صاف سنائی دے رہی ہے اور نظر آرہی ہے۔
امریکی صدر نکسن کا قول آپ نے سنا ہوگا کہ ”آپ کچھ لوگوں کو طویل عرصہ تک اور بہت سے لوگوں کو کچھ عرصہ تک بے وقوف تو بنا سکتے ہیں مگر بالآخر پول کھل کر رہتا ہے“ اور بہت جلد جعل ساز چہروں سے نقلی رنگ کو غائب اور ان کا سارا میک اپ اتر جاتا ہے، ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
آج یہ شور شرابہ جو دن رات سنائی دے رہا ہے یہ شکست خوردہ قوّتوں کا آخری نوحہ ہے، فتح پانے والے شور ہنگامہ نہیں مچاتے، فتح حاصل کرنے والے فریق کا اولین مفاد یہ ہوتا ہے کہ اپنے مقبوضہ علاقہ میں جلد از جلد استحکام لایا جائے اور جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی بنیادیں ٹھوس بنائی جائیں اور اپنے نئے حاصل کردہ مقبوضات کو پائیدار اور پُرامن بنا کر دکھایا جائے مگر ایسا تو نہیں ہو رہا۔ پھر ہو کیا رہا ہے؟ یہ ہو رہا ہے کہ ایک نئی تاریخ ہمارے بہت قریب رقم ہونے والی ہے، ایک مشکل باب ہماری زندگی کا اختتام کو پہنچنے والا ہے اور نیا باب سکون و اطمینان، امن و آشتی اور تعمیر و ترقی کا جلد شروع ہونے کو ہے، یہ سارا ہنگامہ اس لئے ہے کہ یہاں کا منظر جس قدر دھندلا دیا جائے اتنا ہی شکست پر پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔ کوششیں تو ہو رہی ہیں، وسائل بھی حد سے زیادہ خرچ کئے جارہے ہیں، خزانوں کے منہ کھلے ہوئے ہیں لیکن ہر زمانہ کے فرعونوں، نمرودوں، قارون و ہامان، ابوجہل اور ابو لہب کے ساتھ جو ہوا ہے وہی آج کے شیاطین کے ساتھ ہونے والا ہے، غالباً اس سارے ناٹک کا آخری سین یہی ہے جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں، ایک بازی گرجس کا ماضی بھی سب کے سامنے ہے اور حال بھی ، جس کی زندگی کا ہر گوشہ اہل بصیرت کے سامنے منکشف ہے، جس نے کرایہ کے قلم کاروں کی ایک کھیپ برسوں سے جمع کررکھی ہے جو دھڑا دھڑ کتابیں لکھ کر اس کے نام سے شائع کررہے ہیں، یہ بھی عجیب کتابیں ہیں جن کا نہ کوئی منفرد انداز دکھائی دیتا ہے نہ خاص اسلوب، نہ ایک ہی شخص سے منسوب ان سیکڑوں تحریروں میں کوئی مانوس لہجہ سنائی دیتا ہے نہ آہنگ، نہ کوئی مربوط نظام فکر جھلکتا ہے نہ تسلسل، مگر خود پسندی کی ایک مزمن بیماری ان سے یہ کار عبث کرائے جارہی ہے جس کا دنیائے علم و فکر میں کوئی نوٹس آج تک نہیں لیا گیا مگر بزعم خود اور بقلم خود علّامہ کہلانے کے جنون نے ’علوم و فنون‘کے ان عالمی ’شہ پاروں‘ کا سیلاب دنیا میں (بقول خود ان کے دنیا کے نوّے ملکوں میں) بہاچلا جارہا ہے۔
مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس طرح کا تشہیری کام کرکے ’تحقیق‘ کا دعویٰ کرنا ان صاحب کی اپنی ایجاد نہیں ہے ماضی کے ہر دور میں ایسے ایسے بیسیوں قسم کے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی ذات کی شہرت اور بلندی کیلئے دولت تو کیا اقتدار کے وسائل کھل کر برباد کئے، کوئی ظلِ الٰہی بن بیٹھا،اور کوئی حماقت کی اس گہرائی میں پڑا کہ خود کو خدا ہی کہنے لگا (انا ربکمُ الاعلیٰ)۔فرعون اسی خدائی کے نشہ میں اپنے انجام کو پہنچ گیا مگر یاد رکھئے کہ یہی انجام آج کل کے فرعونوں کا مقدر بن چکا ہے اس لئے کہ جرم ان کا بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا اگرچہ آج کل کی زبان اور محاورے بدل چکے ہیں نئے نئے وسائل دریافت ہوگئے ہیں مگر اصل دعویٰ آج کے ابوجہل کا بھی وہی ہے جو ماضی کے ابوجہل کا تھا: ہمچوما دیگرے نیست۔
ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے رہنا چاہئے کہ وہ ہمیں نفس کی خباثت اور شیطان کی شرارت سے ہمیشہ بچائے رکھے۔ میں خود بھی یہی دُعا مانگتا ہوں کہ اللہ رب العزّت مجھے اور آپ کو خبط عظمت سے محفوظ رکھے، ساری زندگی اپنا ہی بندہ بنا کر رکھے اور اپنی خوشنودی کے کاموں میں ہم سب کو مل جل کر بھائیوں کی طرح لگائے رکھے کہ یہی مسلمانوں کی قوّت کا اصل راز ہے۔ میں پھر یہ کہوں گا کہ مایوسی کی ہر گز کوئی بات نہیں، انشاء اللہ تعالیٰ یہ اندھیرا جلد چھٹنے والا ہے اور صبح نو طلوع ہونے کو ہے، امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیئے، دنیا میں مایوسی کو گلے لگا کر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ ناامیدی کفر ہے، یہ فرمان ِ الٰہی ہے، آخری فتح حق ہی کی ہوتی ہے، یہ وعدہ الٰہی ہے، ہمیں بطورِ مسلمان اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور انشاء اللہ جلد یہ وعدہ پورا ہوگا۔
حضرت علامہ اقبال  فرما گئے ہیں اور قرآن کی تعلیم ہمیں یاد دلا گئے ہیں:
مِلّت کے ساتھ رابطہ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ
آج کل جس طرح ایک عالم دین اور سیاستدان کی ویڈیوز آ رہی ہیں جن کے مطابق نعوذ باللہ رسول اللہ اس سے کھانا و قیام کے بندوبست و جہاز کے کرائے اور مدینہ کی واپسی کا ٹکٹ مانگ رہے ہیں ۔ ایسی باتیں ناقابل معافی توہین رسالت ہیں۔
اگر بھوپال میں ایسا ہوتا تو دوسرے دن تباہی مچ جاتی آپ سوچئے رسول اللہ کے جوتے کی خاک کے برابر اولیائے کرام پلک جھپکتے ایک جگہ سے ہزاروں میل دور پہنچ جاتے تھے۔ وہ بھی ایک جیتے جاگتے انسان کی صورت میں یہ کرشمہ (نعمت الٰہی ) دکھاتے تھے اور یہاں رسول اللہ کو نعوذباللہ ایک پیر فقیر سے کم رتبہ دینے کی جسارت و بدعت کی جارہی ہے۔
اس موقع کی مناسبت سے آپ کو ایک اہم واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان  کی نہایت افسوسناک اور قابل مذمت شہادت کے بعد مفسدوں نے طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کردی تھیں اور نعوذباللہ حضرت علی  جیسی قابل احترام شخصیت پر بھی الزام تراشی، شک و شبہات پھیلانا شروع کردیئے تھے۔ اس وقت کئی صحابہ کرام  نے زور دیا کہ نئے خلیفہ یعنی حضرت علی  کی سب سے بڑی اور اوّل ذمہ داری حضرت عثمان  کے قاتلوں کو کیفر ِکردار تک پہنچانا ہے، حضرت امیر معاویہ  جو شام کے گورنر تھے وہ ان لوگوں میں شامل تھے اور انہوں نے حضرت علی  کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کردیا۔ حضرت معاویہ  کے اس مطالبہ کے نتیجہ میں نہایت معزز صحابہ میں دو گروپ بن گئے ۔ ایک امیر معاویہ  کی حمایت کر رہا تھا اور دوسرا حضرت علی  کا جو اس وقت کے نازک حالات کو پہلے ٹھیک کرنا چاہ رہے تھے۔ کچھ بزرگ واصحاب عقل و فہم نے مشورہ دیا کہ صبر اور افہام و تفہیم سے یہ تنازع حل کیا جائے اور اُمّہ کو تقسیم و تفرقہ سے بچایا جائے۔ دونوں فریقوں نے مصالحت کو قبول کیا اور حضرت علی  نے جیّد صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری  کو اپنا نمائندہ مقرر کیا اور حضرت معاویہ  نے حضرت عمر بن العاص فاتح مصر کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ اس وقت دونوں گروپوں کے کچھ شرپسندوں نے اپنے لیڈروں کے خلاف باغیانہ روّیہ اختیار کیااور کہا کہ ”بلاشبہ حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے“ (سورة الانعام، آیت 57 ۔ سورة یوسف، آیت 40 )۔ ان مخالفین نے کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے مصالحت قبول کی ہے وہ مرتد ہیں۔ اس وقت حضرت علی  نے یہ تاریخی کلمات فرمائے ” کلمةحق اُریدبھاالباطل“یعنی الفاظ حقیقت میں سچ ہیں لیکن ان کو جھوٹ کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ” باطل کی خاطر حق کا استعمال ہے“۔ جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اس پالیسی پر عمل کیا ہے۔اچھی باتوں کا تذکرہ کرنے کے پیچھے مذموم ارادے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو نیک ہدایت دے، آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: