سیاست، قوّت برداشت، ہلچل

0 2

23 دسمبر کو لاہور میں مینارِ پاکستان کے مقام پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ حسب توقع بہت شوروغل ہوا، شعلہ بیانی ہوئی اور ناقابلِ فہم ایک چیلنج بھی داغ دیا گیاکہ حکومت 10 جنوری تک ٹھیک ہوجائے ورنہ چالیس لاکھ رضاکار اسلام آباد کا رُخ کرلیں گے۔ میں نے آج تک کسی قافلے کو اسلام آباد آنے میں کامیاب اور حکومت کا تختہ اُلٹتے نہیں دیکھا، صرف عدلیہ کی تحریک کامیاب ہوئی اور وہ اس وجہ سے کہ اس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا نہیں تھا بلکہ چیف جسٹس اور عدلیہ کی بحالی تھی۔ چونکہ تمام معزز جج صاحبان جنہوں نے مشرف کا بدنام پی سی او نہیں مانا تھا ان کی چھٹی کردی گئی تھی۔ چونکہ تمام جج صاحبان کبھی نہ کبھی وکلاء برادری کے اہم رکن رہے تھے اس میں ملک کے تمام وکلاء نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور زرداری کی تمام قلابازیوں اور دروغ گوئی اور وعدہ خلافی کے باوجود عدلیہ کو بحال کراکے ہی چھوڑا۔ عدلیہ نے اپنے اوپر اعتماد اور اپنے لئے کی گئی قربانیوں کا حق ادا کردیا اور نئی تاریخ تحریر کردی۔ حکومت اور حکمرانوں نے پوری کوشش کی کہ عدلیہ کی توہین اور تضحیک کی جائے اور اسکے فیصلوں کو متنازعہ بنا کر ان پر ہر طریقے سے عمل درآمد نہ کیا جائے۔ اس ناجائز حرکت میں وہ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں کچھ تاخیر کرانے میں تو کامیاب

ہوئے مگر عدلیہ نے ان سے عمل درآمد کرا کے ہی چھوڑا۔ امید ہے کہ انشاء اللہ وہ سرخرو ہی رہیں گے۔
جیسا کہ متوقع تھا ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسے اور متنازعہ بیانات کے فوراً ہی بعد اخبارات میں ان کی حمایت اور مخالفت میں مضامین چھپنے لگے اور ٹی وی پروگراموں میں بھی تبصرہ نگاروں نے صفیں آراستہ کرلیں۔ دو بیانات قادری صاحب کے عوام کی اکثریت کو اچھے نہ لگے۔ ایک تو یہ کہ حکومت 10 جنوری تک قبلہ ٹھیک کرے ورنہ وسط ماہ تک لاکھوں کا مجمع اسلام آباد کا رُخ کریگا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں یہاں اسلام آباد کی طرف دوڑنے سے حکومت نہیں ملتی یہ سہولت صرف اور صرف 111 بریگیڈیر کو ہے۔ یہاں جماعت ِ اسلامی، پاکستان دفاع کونسل وغیرہ کے کئی جلوس آئے، محفل سجی، اُجڑی اور قصہ پارینہ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے آکر ملک میں تبدیلی لانی ہے تو وہ پُرامن طریقے سے اور صرف ووٹ کے ذریعہ لانا ہوگی۔ کوئی بھی غیرقانونی، غیردستوری اقدام ملک کیلئے مضر ہوگا۔ نواز شریف کو پچھلے الیکشن کے بعد ایک سنہری جمہوری طریقہ کار ملا تھا کہ چوہدری برادران سے مل کر ایک جمہوری طریقہ کار سے حکومت بناتے اور ملک کی اور عوام کی خدمت کرتے مگر” پروفیسر “ (یاچانکیہ کہیں؟)زرداری نے نواز شریف کو بے وقوف بنایا بلکہ بکری بنا دیا۔ تعجب ہے کہ نوازشریف جو پنجاب کے چیف منسٹر رہ چکے تھے، دو بار وزیر اعظم رہ چکے تھے انھوں نے جس عقل و فہم کا مظاہرہ کیا وہ ایک اسکول کے ٹیچر سے بھی کم تھی، پھر خود کو دھوکہ دیتے رہے اور سب کو قائل کرنے کی ناکام کوشش کی کہ یہ جمہوریت کی خاطر کررہے ہیں۔ دنیا(میرا مطلب ہے کہ سمجھدار سیاست داں) جانتے ہیں کہ سیاست میں جہاں کئی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مخالفت، تنقید اور اعتراضات کو برداشت کرنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ مخالفین کی عیاری اور شاطرانہ چالوں کوبھی سمجھنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ گرم مزاجی اور غصہ مخالفین کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اور یہی نہیں بلکہ نرم مزاجی اور لچک کا فقدان ناقابل تلافی نقصان بہم پہنچاتے ہیں۔ نواز شریف کو چوہدری برادران ناقابل قبول تھے مگر ان کی باقیات ماروی میمن، امیر مقام بہت عزیز ہیں۔
عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ برداشت ، صبر و تحمل پختہ سیاستدانوں اور ذی فہم افراد کا خاصہ ہے لیکن بہت سے سیاست داں برسوں کے بعد بھی اس سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاستدانوں کو زرداری سے سبق سیکھنا چاہئے وہ سیاست کو سیاسی کھیل سمجھ کر کھیلتے ہیں اور اس مقولہ پر یقین رکھنے ہیں کہ جنگ، محبت اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ کوئی اور کتنے ہی لوگ کتنی ہی سخت تنقید کرتے رہیں، الزامات لگاتے رہیں انکی جانب سے کوئی ردِّ عمل نہیں ہوتا۔ ان کی پارٹی کے لوگ سوال جواب کرتے رہتے ہیں، اسی طرح ایم کیو ایم اور ق۔لیگ سے مفاہمت اور لچک دار پالیسی نے انکی حکومت کو ملک میں پہلی بار پانچ سال کا مقررہ وقت پورا کرنے کا سہرا باندھ دیا۔ اگر کوئی کارکن اور عہد یدار اس مفاہمت لچک کی پالیسی سے انحراف کرتا ہے تو اس کو سزا مل جاتی ہے اور زرداری اس کو نہیں بچاتے۔ بہت بڑی مثال بابراعوان، ذوالفقار مرزا اور یوسف رضا گیلانی کی ہے۔ انہوں نے جذباتی بیانات دےئے، خاموشی کی پالیسی کو خیرباد کہا اور اپنے سیاسی کیریئر کو بھی خیرباد کہنے پر بھی مجبور ہوگئے۔ ان تمام واقعات میں گیلانی نے کم عقل و فہم اور کم پختگی کا مظاہرہ کیا۔ سپریم کورٹ کی لچک اور نرمی کو اس کی کمزوری سمجھ کر آپے سے باہر ہوگئے اورا سپیکر کی طرف ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر کہا کہ سوائے آپ کے مجھے کوئی نہیں ہٹا سکتا جب اسپیکر نے چمچہ گیری کرکے ریفرنس الیکشن کمشنر کو نہیں بھجوایا تو آپ اکڑ گئے اور کہنا شروع کردیا کہ توہین عدالت کا معاملہ ختم ہو چکا ہے، قصّہ پارینہ ہے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ ایک 15 سیکنڈ کے فیصلے نے ان شیر نما بکری کو ایک بھیگے چوہے میں تبدیل کردیا۔ یہی حال بابر اعوان کا ہے، نہ وہ بھنگڑے مارے جارہے ہیں اور نہ ہی گانے سنائے جارہے ہیں غالباً مرثیہ گوئی میں مہارت حاصل کررہے ہیں۔ اسکے برخلاف ہمارے سامنے موجودہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور اٹارنی جنرل فاروق نائیک کا مفاہمانہ اور لچک دار روّیہ موجود ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار بھی جارحانہ روّیہ اختیار نہیں کیا اور فاروق نائیک نے نہایت سمجھداری سے معاملہ کو مفاہمت اور قانون کی پاسداری کو ملحوظ رکھ کر نمٹا دیا۔ عدلیہ کا وقار قائم رہا اور وزیر اعظم اپنا مقررہ وقت پورا کرلیں گے۔ اس سے پیشتر ہم دیکھ چکے تھے کہ بینظیر اور نواز شریف کے جارحانہ رویّہ کی وجہ سے دونوں کی حکومتیں ختم کردی گئی تھیں۔
جناب الطاف حسین صاحب نے بہت جارحانہ رویّہ اختیار کرکے فوراً ہی محسوس کرلیا کہ ان کے پاس سوائے لا اور آرڈر حالات پیداکرنے کے اور کوئی کارڈ نہیں ہے۔ الطاف حسین نے سمجھداری سے کام لیا اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو لگام ڈال دی۔ اگر کراچی کی حد بندیوں پراعتراض ہے تو فوراً عدالت ِ عالیہ رجوع کرتے اور حکم امتناعی لے لیتے اور کیس لڑتے رہتے۔ سڑکوں پر غیر تعلیمیافتہ لوگوں کے جذبات بھڑکا کر انہیں قانوں توڑنے پر اُکسانااپنے لئے گڑھا کھودنے مترادف ہے اور یہ اسی طرح کا گڑھا ہوگا جس میں گیلانی گرے ہیں۔ جذباتی نعرے لگانے اور ہلچل مچانے کے دعووں سے کسی کو کچھ نہیں ملتا۔ یہ سستی شہرت اور سیدھے سادھے عوام کو دھوکہ دہی کا ذریعہ ہے۔ ہمارے قائد اعظم نے نہ اس قسم کی حرکات کیں اور نہ ہی کبھی جھوٹ و منافقت کا سہارا لیا اور آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوا اور شاید ہی پیدا ہو۔
اب میں کچھ تبصرہ لاہور میں محترم ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسہ اور اس پر سیاسی گروز کے بیانات پر کرنا چاہتا ہوں۔ اس جلسے کا وہی ردِّ عمل ہوا جو ضیاء الحق کے دور میں بینظیر کے لاہور آنے پر تبصرہ نگاروں نے کیا تھا۔ بینظیر تو جذبات میں اتنی بہک گئیں کہ کہہ دیا کہ اگر میں چاہتی تو حکومت پر قبضہ کرلیتی۔ اس جلسہ و جلوس کے دو تین دن بعد جنرل ضیا ء کہوٹہ آئے۔ میرے ڈرائیور کے علاوہ صرف وہ جنرل علی ضامن نقوی جو ایٹمی معاملات (سیکیورٹی) پر ان کے مشیر تھے اور انڈین آرمی کے وقت سے ان سے بے حد قابل اعتماد اور قریبی دوست تھے اور میں موجود تھے، نہ سیکیورٹی افسر اور نہ ہی ایسکورٹ گاڑیاں۔ راستے میں جنرل نقوی نے کہا کہ بینظیر کا جلسہ بڑا تھا، حالات خراب ہو سکتے ہیں جنرل ضیاء نے مسکرا کر کہا، ضامن صاحب ہوا بھرا غبارہ بڑا نظر آتا ہے، ہوا نکل جائے تو مٹھّی بھی بہت بڑی ہوتی ہے ، آپ نے دیکھا نہیں تھا بھٹو کی پھانسی کے بعد کچھ ہوا تھا۔ یہ لاہور کا جلسہ زور و شور سے ہوا مگر ڈاکٹر صاحب کا الٹی میٹم اور اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی بات قانون، دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے مجھے بھی کینیڈاسے فون کیا تھا اور آنے کی دعوت دی اور ان کے دو وفود میرے پاس تشریف لائے اور لاہور آنے پربہت اصرار کیا۔ میں نے کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز کے کنونشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی اور مجھے وہاں ضرور جانا تھا۔ دوئم یہ کہ میں نے لاہور جاکر ان سے ملنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا البتہ دعوت دی کہ وہ جب اسلام آباد تشریف لائیں تو آکر میرے ساتھ ضرور چائے نوش کریں۔ لاہور میں تحریک تحفظ پاکستان کے عہدیداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جلسہ میں شرکت کرکے ڈاکٹر صاحب کے خیالات اور پروگرام سے مجھے آگاہ کریں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: