ہمارے قابل فخر ہیرو

پچھلے دنوں مجھے اسلامک اکیڈمی آف سائنسز جس کو اب اسلامک ورلڈ اکیڈمی آف سائنسزکے نام سے بھی جانا جاتا ہے سے ایک نیوز لیٹر موصول ہوا جس میں چند ہونہار مسلمان شخصیات کا ذکر تھا اور ان کے نمایاں جدید کارنامے بتائے گئے تھے۔ ہمارے یہاں عموماً ایسی اچھی اور قابل فخر باتوں کا تذکرہ نہیں ہوتا ہاں البتہ اگر کسی کے بارے میں کوئی بری بات مغربی پریس میں شائع ہو تو یہاں اس سے بھی بڑے اور جلی حروف میں اُس کو اچھالا جاتا ہے۔
پہلے آپ کو اسلامک اکیڈمی آف سائنسز کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ یہ ایک غیرسیاسی، غیر کاروباری فلاحی بین الاقوامی ادارہ ہے جس کے فیلوز (ممبران) اسلامی ممالک کے چیدہ چیدہ اور ممتاز سائنسدان ہیں اور ان کا مقصد اسلامی ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ مسلم ممالک کے قومی اور بین الاقوامی سائنسی ادارے ملک کے بہترین دماغ اکٹھا کرکے عموماً بین الاقوامی اداروں کو اعلیٰ ہدایات بہم پہنچاتے ہیں مثلاً بین الاقوامی ادارے جو اس سے مستفید ہوتے ہیں ان میں ورلڈ بنک (WB) ، آرگنائیزیشن آف اسلامک کوآپریشن(OIC) ، ایف اے او(FAO) ،آئی ایم ایف(IMF) ، اسلامک ڈیویلپمنٹ بنک (IDB) جیسے ادارے ان کی معلومات ، تجربہ اور مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقامی طور پر یہ سائنسدان اور انجینئر عموماً قومی ترقی میں اہم رول

ادا کرتے ہیں۔
اسلامک ڈیویلپمنٹ بنک میں بھی ایک سائنٹیفک کمیشن ہے جس میں مسلمان ماہر تعلیم و ٹیکنالوجی مختلف اسلامی ممالک سے متعین کئے جاتے ہیں جو تمام اسلامی ممالک میں تعلیمی اور فنی اداروں کی بہتری کے لئے سفارشات پیش کرتے ہیں اور بنک ان کو مالی مدد بہم پہنچاتا ہے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کے ساتھ میں کئی برس اس کمیٹی کا ممبر تھا اور ہم ہر سال عموماً دوبار جدّہ میں اکٹھے ہوکر ان معاملات پر غور کرتے تھے اور سفارشات تیار کرتے تھے۔
بین الاقوامی ضروریات کو اور اسلامی ممالک کی ضروریات کو خاص طور پر مدنظر رکھ کر اس اسلامی اکیڈمی آف سائنسز کی بنیاد1986ء میںOIC کی اسٹینڈنگ کمیٹی آن سائنٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل کوآپریشن (COMSTECH) کی سفارش اور کاسابلانکا میں 1984ء میں منعقد چوتھی اسلامی کانفرنس کی منظوری کے بعد وجود میں آئی۔ پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن 16 سال سے کومسٹک کے کوآرڈینینٹ جنرل تھے۔ اسلامک اکیڈمی آف سائنسز کے صدر اردن کے سابق وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر مجالی ہیں اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مونیف زوبی ہیں۔ اکیڈمی کے سرپرست پرنس حسن بن طلال ہیں۔ اکیڈمی کے اس وقت 102 فیلوز ہیں ان میں غیرملکی مسلمان فیلوز بھی ہیں (جو مغربی ممالک میں قیام پذیر ہیں)۔ اکیڈمی ہر سال کسی اسلامی ملک یا ایسے ملک میں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے (مثلاً ہندوستان، روس، چین وغیرہ) میٹنگ کرتی ہے۔تمام فیلوز کو اردن کی حکومت ہوائی ٹکٹ مہیا کرتی ہے اور میزبان ملک رہنے اور کھانے پینے کی ذمّہ داری قبول کرتا ہے۔ جب میں پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کاصدر تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے تھے اور وہ ایک یادگار فنکشن تھا۔ سرینا ہوٹل میں بہت ہی اعلیٰ انتظامات کئے گئے تھے اور صدر مملکت نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس وقت IAS میں 13 پاکستانی یا پاکستانی نژاد ممتاز سائنسدان فیلوز ہیں اور نمایاں اور مثبت رول ادا کررہے ہیں۔ یہ باتیں چونکہ پاکستانی عوام کو نہیں معلوم تھیں اس لئے میں نے ان پر کچھ روشنی ڈال دی ہے تاکہ ان کو علم ہو کہ ہم اسلامی دنیا کے معاملات و مسائل کے حل و ترقی میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستان میں ہمارے معزز اور قابل پروفیسر ڈاکٹر مصباح الحق شامی IAS کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔اس وقت IAS پانچ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے ذریعے اپنے پروگرام چلا رہی ہے اور ان کے ذریعے اسلامی ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں سرگرم ہے۔ یہ کمیٹیاں یہ ہیں(1) سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی کمیٹی (2) سائنس اور ٹیکنالوجی مین پاور ڈیویلپمنٹ کمیٹی (3) نیچرل ریسورسیز ڈیویلپمنٹ کمیٹی (4) ہائی ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ کمیٹی (5) انوائرنمنٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی۔
اب میں اُن چار ہونہار مسلمان شخصیتوں کا تذکرہ کروں گا جس کا ذکر IAS کے نیوزلیٹر میں کیاگیا ہے۔ (1) پہلا انعام 50 ہزار ڈالر کا بنگلہ دیش کے چار موجدوں کو ملا جنہوں نے تعمیرمیں استعمال ہونے والی نہایت سستی جوٹ سے تیار کردہ مٹیریل تیار کیا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کے 4 موجدوں نے گرینوویشن ٹیکنالوجیز نامی فرم سے متعارف کرائی ہے۔ اس کا نام جسٹن رکھاہے۔ فرم کے ڈائریکٹر آف آپریشنز محمد صائموم حسین ہیں۔ یہ بہت ہلکے وزن کا میٹریل ہے اور زلزلہ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بہت تیزی سے پناہ گاہیں، مکانات اور گودام وغیرہ بنانے میں بے حد مفید ہے۔ یہ چناؤ “GIST, I Dare” نامی دبئی میں منعقدہ مقابلہ میں ہوا تھا۔ GIST کاپورا نام Global Innovation through Science & Technology ہے اور یہ ادارہ ہر سال یہ مقابلہ منعقد کرتا ہے۔ Justine نامی میٹریل نہ صرف بہت ہلکے وزن کا ہے بلکہ یہ گرمی اور سردی سے بھی بچاتا ہے اور اس میں زنگ بھی نہیں لگتا۔ یہ نہایت قابل تحسین ایجاد ہے۔ آپ کو بتاؤں کہ ہمارے بنگلہ دیشی ڈاکٹروں نے ہی (Oral Rehydration Salt) ORS ایجاد کیا تھا جس سے دنیا میں کروڑوں مریضوں کی جان بچائی جارہی ہے۔ یہ ڈائیریا (پیچش، دست) میں نہایت موثر علاج ہے۔ اس کے علاوہ چند سال پہلے ایک اور ہونہار، ممتاز نوجوان بنگلہ دیشی پروفیسر ڈاکٹر ابوالحُسام نے پانی کو زہریلی دھات آرسینک سے صاف کرنے کا نہایت سستا (35 ڈالر فی گھر) فلٹریشن سسٹم بنایا تھاجس پر امریکہ میں انہیں ایک گولڈ میڈل اور دس لاکھ ڈالر کا انعام دیا گیا تھا۔ یہ وہ ایجادات و کام ہیں جن سے عوام کی اکثریت براہ راست مستفید ہورہی ہے۔ کاش ہمارے سائنسدان اور انجینئرز بھی ایسے ہی مفید کاموں میں اپنا وقت /قوّت خرچ کرتے اور ہمارے عوام کو ان کے کاموں سے استفادہ ہوتا۔
(2) دوسرا انعام، نہایت ہی قابل تحسین ایجاد پر، پاکستان کے الیکٹریکل انجینئرعلی رضا کو دیا گیا۔ اس انعام کی رقم 25 ہزار ڈالر تھی۔ علی رضا نے گھروں میں استعمال ہونے والا قدرتی گیس کا چولھا (Digester) جو نہ صرف بائیو گیس (Biogas) بلکہ اضافی طور پرکھاد (فرٹیلائزر) بھی بناتا ہے۔ اس کو سادہ الفاظ میں ہمارے معدہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جہاں معدہ کے تیزاب سے کھانا ہضم ہوتا ہے اور گیس اور فضلہ بنتا ہے۔ اسی طرح ڈائجیسٹر ایک برتن یا کنٹینر ہوتا ہے جس کے اندر چند اشیاء کو گرمی یا محلول سے متاثر کیا جاتا ہے جس سے اشیاء مختلف اجزاء میں ٹوٹ جاتی ہیں یہاں وہ بائیوگیس اور کھاد بناتی ہیں۔ علی رضا نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ سرکاری ایوارڈ بھی دے۔
(3) تیسرا انعام نہایت مفید اور اہم ایجادپر ملائیشیا کے خیرالادوان بہارن کو 10 ہزار ڈالر کا دیا گیا۔ انہوں نے ایک نقلی یعنی آرٹیفیشل اِسکن یا جلد بنانے کا طریقہ ایجاد کیا ہے جو کہ معدہ (یا منہ) کے زخم، جلے ہوئے زخموں اور دوسری جلدی بیماریوں کے علاج میں بے حد مفید ثابت ہوا ہے۔
(4) خواتین میں سب سے ممتاز اور بہترین اور باصلاحیت شخصیت کا 15ہزار ڈالر کا انعام ہماری اپنی قابل فخر رومیزہ موہانی اور ان کی ٹیم کو دیا گیا۔ یہ ان کی ایجاد ای۔ایڈ(E-Aid) پر دیا گیا جو کہ ہائی اسکول اور کالج کے طلبہ کو آمنے سامنے (یعنی Face to face) تعلیم دینے کا بین الاقوامی سطح پر طریقہ کار ہے۔ پاکستان کو ان پر فخر کرنا چاہئے کہ ان کو اور علی رضا کو 385/ایجادات (جن کو48 ممالک کے موجدوں نے پیش کیا تھا اور مقابلہ میں حصّہ لیا تھا) میں سے چنا گیا۔ اگر شرمین چَنائے کو ہمارا نفرت انگیز اور بھیانک چہرہ دکھانے پر ہلال پاکستان دیا جاسکتا ہے تو ان محب وطن اور قابل تحسین موجدوں کو بھی ممتاز صدارتی انعامات سے نوازا جانا چاہئے کہ دوسرے طلبہ، انجینئر، ڈاکٹر نئی ایجادات کرنے میں سرگرمی سے حصّہ لیں اور پاکستان کا نام روشن کریں۔
آپ کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ان انعامات کی ابتدا یا آغاز دنیا اور امریکہ کے مشہور ترین تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی MIT یعنی Massachusetts Institute of Technology Forum Of The Pan-Arab Region کے ایما پر کیا گیا ہے۔ جِسٹ (GIST) کی پیروی یا تکمیل امریکہ کیUS Civilian Research & Development Foundation یعنیCRDF- Global کرتی ہے۔ اس پروگرام کے تمام مصارف امریکہ کا محکمہ خارجہ برداشت کرتا ہے۔
اس سال کے مقابلے دبئی میں 28 جون کو منعقد ہوئے تھے اور اکتوبر کے ماہ میں تمام انعام یافتہ افراد نے امریکہ میں منعقد کردہ تقریب میں اپنے انعامات وصول کئے تھے۔
میں نے ان انعامات کا تذکرہ اس لئے کیا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ عموماً بُری باتوں کی بے حد تشہیر کرتے رہتے ہیں اور ان قابل فخر اور قابل تحسین چیزوں کا ذکر نہیں کرتے جن سے ہمارے ملک کانام روشن ہوتا ہے اور ہمارے موجدوں کی ہمّت افزائی ہوتی ہے۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ ان انعام یافتہ قابل فخر پاکستانیوں کو نقد اور صدارتی اعزازات سے نوازے ۔ یہ ہمارے نوجوانوں کے لئے باعث ہمّت افزائی ہوگا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: