Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

اسلامی معاشرہ میں اصلاح رسومات کی ضرورت از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی میں حُسن پیدا کرنے کے لئے مراشہ کی تسکیں پر زور دیا ہے ۔معاشرہ مختلف رسم و رواج کی تعبیر پاتا ہے ۔ ان رسم و رواج میں مذہب کا گہرا دخل ہے ۔دیگر مذاہب اپنے رسم و رواج اپنے مذہب کے مطابق ادا کرتے ہیں جبکہ بچے کی پیدائش ،ختنہ ،عقیقہ ،بسم اللہ خوانی ،شادی بیاہ اور دوسری تمام تقریبات سے لے کر انسان کے آخری انجام یعنی موت تک مسلمان گھرانوں میں طرح طرح کی رسمیں برتی جاتی ہیں ۔ہر ملک میں نئی رسوم ہیں اور ہر قوم و خاندان کے رواج اور طریقے جدا گانہ ۔رسوم کی بنیاد عرف پر ہے یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ شرعاًواجب یا سنت یا مستحب ہیں ۔لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت ،شریعت سے ثابت نہ ہو اس وقت تک اسے حرام و نا جائز نہیں کہہ سکتے ۔کھینچ تان کر اسے ممنوع قرار دینا بڑی زیادتی ہے ۔
در اصل شرع شریف کا ایک کلیۃ قاعدہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا و رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برا فرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلی نہ برائی کہ نہ اس کی ممانعت شریعت مطہرہ سے ثابت ہے نہ شریعت نے اُس کے کرنے کا حکم دیا تو وہ چیز اباحت اصلیہ پر رہتی ہے اور اُسے مباح قرار دیا جائے گا۔ کہ اس کے کرنے میں کوئی ثواب نہیں او رنہ کرنے پر کوئی عذاب و عتاب نہیں۔ یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا ۔آج کل مخالفین حق اور اہلسنت و جماعت سے کٹ کر نئی راہوں پر چلنے والوں نے یہ روش اختیار کر لی ہے کہ جس چیز کو چاہا ،شرک ،حرا م ،بدعت ضلالت کہنا شروع کر دیا ۔اس پر طرہ یہ کہ اہلسنت سے پوچھتے ہیں تم جو ان چیزوں کو جائز بتاتے ہو قرآن و حدیث میں کہا ں جائز لکھا ہے ؟حالانکہ ان کو اپنی خوش فہمی سے اتنی خبر نہیں کہ جائز کہنے والا کسی دلائل کا محتاج نہیں جو ناجائز کہے وہ قرآن و حدیث میں دکھلائے کہ ان افعال کو کہاں ناجائز لکھا ہے ۔ورنہ شریعت کسی کی زبان کا نام نہیں کہ جسے چاہے آدمی بے دلیل حرام و ناجائز و ممنوع کہہ دے ۔
اور جو لوگ اس قسم کے مسائل میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں ۔من احدث فی امرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رد ۔’’یعنی جو شخص دین میں نئی بات پیدا کرے وہ بات مردود ہے ۔‘‘ تو یہ محض بے محل اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ایک بہانہ ہے ورنہ ان کے بڑے بھی یہ بات خوب جانتے ہیں کہ بدعت ضلالت وہی ہے جو دین میں نئی پیدا ہو اور دنیاوی رسوم و عادات پر حکم بدعت نہیں ہو سکتا ۔مثلاً شروانی پہننا ،بریانی ،متنجن ،شیر ماں وغیرہ لذیذ کھانا ،عالیشان مکانوں ،بنگلوں کے نام تجویز کرنا اور ان میں رہنا سہنا ،دولہا کو عمدہ پوشاک پہنانا ،بنا سنوار کر پورے اہتمام سے دلہن کے گھر لے جانا اور ان کا جائز طریقوں پر استقبال کرنا اور خاطر و مدارات میں پیش پیش رہنا ۔ دلہن کو بوقت رخصت پالکی یا کار وغیرہ میں بٹھانا ۔اسی طرح دلہن اور دولہا کے سر پر سہرا باندھنا ،جبکہ سہرے میں نلکیاں اور پنی وغیرہ نہ ہو کہ کوئی بھی ان چیزوں کو دینی بات سمجھ کر نہیں کرتا ۔نہ بغرض ثواب انہیں کیا جاتا ہے ۔بلکہ سب ایک دنیاوی رسم ہی جان کر کرتے ہیں ۔ہاں اگر کوئی جاہل اور ناواقف محض ایسا ہو کہ انہیں دینی بات جانے اور نہ کرنے کو شرعاً برا یا گناہ مانے تو اس کی اس بے ہودہ سمجھ پر اعراض صحیح ہے ۔
یونہی دولہا و دلہن کو ملنا ،خوشبو لگانا ،دلہن کو مائیوں بٹھانا اور بری کی رسم کہ کپڑے وغیرہ بھیجے جاتے ہیںجائز ہے ۔اسی طرح دولہا دلہن کے گلوں میں خالص پھولوں کے ہار پہنانا کہ ان میں پھولوں سے بس اتنی بات زائد ہے کہ انہیں ایک ڈور ے میں پرولیا ہے اور گلے میں ڈالنا خوشبو سے خود فائدہ لینا اور اپنے ساتھیوں کو فرحت پہنچانا ہے اور خوشبو لگانا سنت ہے اور خوشبو کی چیزیں پھول پتہ وغیرہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پسند ہیں اور پھول ہاتھ میں لئے رہیں تو ہاتھ بھی رکے اور پھول بھی جلد کملا جائیں ۔اس لئے ڈورے میں پرو کر گلے میں ڈالنے سے کوئی حرج نہیں تو اس میں حرمت یا ممانعت و ناجوازی کس طرف سے آ گئی ۔
اسی طرح شادی بیاہ کے موقعہ پرلکڑی پھینکنا ،بندوقیں چھوڑنا اور اسی قسم کے سب کھیل جائز ہیں جبکہ اپنے یا کسی دوسرے کے نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور ان سے مقصود ،کوئی غرض محمود ہو جیسے فن سپاہ گری میں مہارت اور اگر صرف کھیل کود مقصود ہو تو ضرور ممنوع و مکروہ ہے ۔
تعجب یہ کہ ان جائز رسوم و عادات کو جو بلا دلیل شرعی ناجائز و حرام و بدعت و ضلالت کہتا ہے وہ شریعت مطہرہ پر افتراء کرتا ہے ۔اگر سچا ہے تو بتائے کہ اللہ و رسول نے قرآن و حدیث میں اسے کہا ںناجائز کہا اور کہاں منع فرمایا ہے اور جب اللہ و رسول ﷺ نے منع نہیں فرمایا تو دوسرا اپنی طرف سے منع کرنے والا کون؟مگر یہ ضرور ہے کہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کر سکتا ہے کہ کسی فعل حرام میں مبتلا نہ ہو ۔اس کے بر خلاف بعض لوگوں کو ان رسوم و عادات اور اپنے باپ دادا سے ورثہ میں پائی ہوئی رسم و رواج کی پابندی کا اس حد تک خیال رہتا ہے کہ جائز و حرام فعل کرنا پڑے تو کر گزرتے ہیں مگر خاندانی رسم و رواج کا چھوڑنا گورا نہیں کرتے ۔میں مانتا ہوں کہ رسم و رواج کی جڑیں جب کسی قوم یا خاندان یا اس کے افراد و اشخاص کی رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہیں اور ان رسوم و عادات کے پائوں مضبوطی سے ان میں جم جاتے ہیں تو انہیں ترک کرنا نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے اور آدمی کسی طرح انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرتا ۔لیکن یہ تو سو چو تم مسلمان ہو اور مسلمانی ،اطاعت و فرمانبرداری کا دوسرا نام ہے ۔قرآں کریم کا ارشاد گرامی ہے ۔یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو ا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَۃ ً۔الآیہ
’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائواور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔‘‘تو اسلام کا کلمہ پڑھنے قرآن و حدیث کو اپنا امام ماننے اور خدا و رسول کی کامل فرماں گزاری کا اقرار کرنے کے بعد ،جاہل بے شعور بننا اور اپنی جھوٹی عزت و ناموس اور خاندانی عزت وقار کا ایسی رسوم و عادات کے درمیان نام لانا اسی شیطان لعین کے قدموں پر چلنا ہے جس سے دور رہنے کا قرآن عظیم حکم دیتا ہے ۔لہٰذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات پر قرآن عظیم و حدیث کریم کے احکام کو حاکم بنائیں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کی رضا و خوشی کے طالب رہیں اسی پر جئیں اسی پر مریں اور ہمیشہ اسی کا دم بھریں۔
یہ جو کچھ لکھا گیا ہے ’’رسوم و عادات ‘‘ کے بارے میں ایک بنیادی چیز تھی ۔اب ہم اپنے عنوان ’’اصلاح رسوم‘‘ کی طرف آتے ہیں اور جند رسوم کا ذکر کرتے ہیں جن کی پابندی سے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔
جوان لڑکی کی شاد ی میں ٹال مٹول:مثلاً لڑکی جوان ہے مناسب رشتہ بھی مل رہا ہے لیکن رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تویہ نہ ہو گا کہ رسوم چھوڑ دیں ۔لڑکی کی شادی کر کے اس کے ہاتھ پیلے کر کے اس بوجھ سے سبکدوش ہو جائیں اور فتنوں کا دروازہ بند ہو ۔ اب خاندانی رسوم کے پورا کرنے کو ،بھیک مانگنے کو طرح طرح کی فکریں کرتے ہیں اور اس خیال میں کہ کہیں سے کچھ مل جائے تو لڑکی کا بیاہ رچائیں ،شادی کی خوشیاں منائیں تاکہ برادری میں نام پائیں ، کئی سال اسی طرح گزار دیتے ہیں ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکی کی تندرستی بگڑتی ہے اس کی جوانی ڈھلتی ہے ۔اس کا دل بجھ جاتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ طرح طرح کی باتیں اڑائی جاتیں ہیں اور افواہیں پھیلائی جاتی ہیں ۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب ایسا شخص پیغام بھیجے جس کے خلق اور دین کو تم پسند کرتے ہو تو نکاح کر دو اگر نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا ۔ایک اور حدیث شریف میں فرمایا کہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کروے (دیر نہ لگائو) نماز کا جب وقت آ جائے ،جنازہ جب موجود ہو ،جوان لڑکی کا جب کفو ملے ۔(ترمذی)
کفو کے یہ معنی ہیں کہ مرد ،عورت سے نسب وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح عورت کے ورثا کے لئے ننگ و عار کا باعث ہو ۔
ادائیگی رسوم کے لئے قرض کی عادت:ضرورت اگر واقعی ہو تو قرض لینے میں کوئی گناہ بھی نہیں بشرطیکہ اس کی ادائیگی بآسانی ہو سکے ۔لیکن بعض لوگ قرض لیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ ان رسوم کو انجام دینا ہے ۔اگر قرض نہ لیں گے اور ان رسوم کو ادا نہ کریں گے تو خاندانکی عزت اور ہمارے نام کو بٹہ لگ جائے گا ۔غرض اسی قسم کے حیلے بہانے کو قرض کا ذریعہ بناتے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ مفلس کو قرض کون دے ۔جب یوں نہیں ملتا تو سودی قرض لیتے ہیں جو آسانی سے دستیاب ہو تو جاتا ہے ۔مگر جس طرح سود لینا حرام ،یونہی دینا بھی حرام ۔حدیث شریف میں دونوں پر لعنت آئی ہے ۔اس سودی قرض سے رسوم تو انجام پائیں لیکن نہ سوچا کہ شریعت کی مخالفت کے ساتھ اللہ و رسول کی لعنت بھی خریدلی اور اس کے نتیجے میں دنیا میں بھی بربادی آخرت میں بھی رسوائی ،اگر باپ دادا کی کمائی ہوئی کچھ جائیدا د ہے تو اسے سودی قرض میں بہا دیا اور رہنے کا جھونپڑا ہی گروی رکھ دیا ۔ تھوڑے دنوں کا سیلاب سب کو بہا کر لے گیا ۔جائیداد نیلام ہوئی، مکان سود خور کے قبضے میں گیا ۔ اب دربدر مارے مارے پھرتے ہیں ۔نہ کھانے کا ٹھکانہ نہ رہنے کی جگہ ۔
اس کی مثالیں بہ کثرت ہر جگہ ملیں گی کہ ایسے ہی غیر ضروری مصارف کی وجہ سے مسلمانوں کی بیشتر جائیدادیں سود کی نذر ہو گئیں ۔پھر قرض خواہ کے تقاضے اور اس کے تشدد آمیز لہجے سے رہی سہی عزت پر بھی پانی پڑجاتا ہے ۔یہ ساری تباہی بربادی آنکھوں دیکھ رہے ہیں ۔مگر عبرت نہیں ہوتی ۔آنکھیں نہیں کھلتیں اور مسلمان اپنی فضول خرچیوں سے باز نہیں آتے ۔پھر ان فضول خرچیوں کا وبال یہی نہیں کہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہو بلکہ آخرت کا وبال الگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی پناہ و عافیت میں رکھے ۔آمین ۔
شادی پر ڈھول تماشہ گانا بجانا:عام طور پر گھرانوں میں رواج ہے کہ محلہ یا رشتہ کی عورتیں جمع ہوتی اور گاتی بجاتی ہیں ۔یہ حرام ہے کہ اولاً ڈھول بجانا ہی حرا م،پھر عورتوں کا گانا مزید برآں عورت کی آواز نا محرموں کو پہنچنا اور وہ بھی گانے کی اور وہ بھی عشق و ہجرو وصال کے اشعار یا گیت ،جو عورتیں اپنے گھروں میں چلا کر بات کرنا پسند نہیں کرتیں گھر سے باہر آواز جانے کو برا اور بڑا عیب جانتی ہیں ۔ایسے موقعوں پر وہ بھی اس محفل میں شریک ہو جاتی ہیں گویا ان کے نزدیک گانا کوئی عیب نہیں ۔گانے بجانے کی آواز کتنی ہی دور تک جائے اس میں کوئی حرج نہیںسمجھتیں۔
نیز ایسے گانوں میں جوان کنواری لڑکیاں بھی ہوتی ہیں ۔ان کا ایسے اشعار پڑھنا یا سننا ،کس حد تک ان کے دبے ہوئے جوش کو ابھارے گا اور کیسے کیسے ولولے پیدا کرے گا اور ان کے اخلاق و عادات پر کہاں تک اس کا اثر پڑے گا ۔یہ باتیں ایسی نہیں جن کے سمجھانے کی ضرورت ہو یا ثبوت پیش کرنے کی حاجت ہو ۔یہ وہ گندی مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اللہ تعالیٰ کی اتر تی ہیں ۔اس کے کرنے والے اس پر راضی ہونے والے ،اپنے یہاں اس کی روک تھام کا کافی انتظام نہ کرنے والے سب گناہ گار ،سخت گناہگار ،کبیرہ گناہوں میں گرفتار اور ناراضگی خدا وندی کے سزاوار ہیں ۔العیاذ با اللہ تعالیٰ۔نبی کریم ﷺ نے ناچ گانے کو حرام فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت بخشے ۔آمین
شادی پرناچ باجا:شادی بیاہ میں عموماً ناچ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔گھروں میں نقالوںاور میراثیوں کا اور گھر سے باہر مرداں کی محفلوں میں بازاری فاحشہ عورتوں یا پھر دونوں جگہ ہجڑوں کا ایسی محفلوں میں شریف زادیوں کا خواہ کنواری ہوں یا بیاہی ،شوہر والی ہوں یا بیوہ ،شریک ہونا درکنار ان کا ان حضرات کے سامنے آنا ہی سخت بے ہودہ پن وگناہ ہے ۔صحبت بد ، زہر قاتل ہے اور عورتیں نازک شیشیاں جن کے ٹوٹنے کو ادنیٰ ٹھیس بہت ہوتی ہے ۔تو ایسوں کو تو گھر میں ہر گز ہر گز قدم نہ رکھنے دیں ۔
ناچ رنگ کی یہ محفلیں جس طرح شریف گھرانوں اور شریف زادیوں کے حق میں زہر قاتل ہیں یوں ہی مردوں اور شریف زادوں کے لئے تباہی و بربادی کا باعث ہیں ۔بازاری عورتوں میں جو بے حیائی ،بے شرمی اور بد لحاظی پائی جاتی ہے ۔اس سے کون واقف نہیں ۔پھر جب یہ بے حیا و بے شرم عورتیں جب مردوں کی محفلوں میں آتی اور کمر مٹکا کر ،آنکھیں چمکا کر نیم برہنہ لباس میں اپنا جوہر دکھاتی اور اپنی رسیلی آواز کارس کانوں میں گراتی ہیں تو وہاں کون سا مرد ایسا ہوتا ہے جو ٹکٹکی باندھ کر اُس کی ادائوں کا جائزہ نہیں لیتا اور اُس کے گانوں کو مزے لے لے کر نہیں سنتا ۔
نا محرم عورت کو مرد دیکھتے ہیں اور گھور گھور کر دیکھتے ہیں ۔یہ آنکھوں کا زنا ہوا ۔نا محرم عورت کی آواز سنتے ہیں اور پوری توجہ سے سنتے ہیں یہ کانوں کا گناہ ہوا اور جب وہ اپنی بے حیائی کا مظاہرہ کرتی ان میں سے کسی کے پاس سے گذرتی ہے تو یہ اس سے باتیں کرنے یا آواز کسنے یا فقرے چسپ کرنے میں نہیں شرماتے یہ زبان کا گنا ہوا ۔پھر ان کی نیم برہنہ جسم کے ساتھ ،فحش حرکتوں کے باعث ان مردوں کے دلوں میں برے خیالات آتے ہیں یہ دل کا گناہ ہوا ۔کبھی کبھی جوش و ولولے میں آکر اس کے جسم کو ہاتھ بھی لگا دیتے یا اپنی طرف سے پوری کوشش اُسے چھونے کی کرتے ہیں اور کبھی با کمال اشتیاق اس کی طرف جاتے ہیں یہ ہاتھ پیروں کا گناہ ہوا ۔
غرض ناچ رنگ کی ان محفلوں میں جن فاحشہ حرکتوں ،بدکاریوں اور دین و اخلاق کو تباہ کرنے والی باتوں کا اجتماع ہوتا ہے ۔یہ ایسی باتیں نہیں جنہیں بتایا شمار کیا جائے ۔ایسی ہی مجلسوں میں شرکت کے باعث اکثر نوجوان بالخصوص وہ جن میں خود سری کا مادہ ہوتا ہے، جنہیں کسی کی پرسش کا خطرہ نہیں ہوتا ،جذبات کی رو میں بے قابو ہو جاتے ہیں ۔طوائفوں کے دام فریب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔آوارگی کو اپنا مشغلہ بنا لیتے ہیں ۔دولت برباد کر بیٹھتے ہیں ۔کمائی لٹاتے ہیں ،بازاریوں سے تعلق ہی میں زندگی کی ساری لذتیں اور مسرتیں ڈھونڈتے ہیں ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر والوں اور پاک دامن بی بیوں سے دور دور رہتے ہیں اور یوں اپنی بربادی و تباہی اپنے ہاتھوں خریدتے ہیں اور اگر ان بے ہودگیوں اور آوارہ گردیوں سے کوئی بندہ خدا بچ بھی گیا تو اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ حیاء و غیرت کی چادر اتار کر سر سے پیر تک بے حیائی اور بے غیرتی کا مجسمہ بن جاتے ہیں ۔
بعض لوگوں کے متعلق تو یہاں تک سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ خود بھی ان مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ جوان بیٹوں اور بیوی بیٹیوں تک کو لے جاتے ہیں ۔ایسی بد تہذیبی کے مجمع میں باپ بیٹے اور ماں بیٹی کا ساتھ ساتھ رہنا جس بے حیائی کا پتا دیتا ہے وہ بیان کا محتاج نہیں ۔
اس سے بڑھ کر رونا اس بات کا ہے کہ اپنی جھوٹی ناموری اور شہرت کو آڑ بنا کر لڑکی والے ،لڑکے والوں پر دبائو ڈالتے بلکہ نسبت کے وقت ہی طے کر لیتے ہیں کہ ناچ باجا لانا ہو گا ورنہ ہم شادی نہ کریں گے ۔لڑکی والا یہ خیال نہیں کرتا کہ بے جا پیسہ صرف نہ ہو تو اسی کی لڑکی کے کام آئے گا ۔ ایک وقت خوشی کے لئے یہ سب کچھ کر لیا لیکن یہ نہ سمجھا کہ لڑکی جہاں بیاہ کر گئی وہاں تو اب اس کے بیٹھنے کا ٹھکانا نہ رہا ۔ایک مکان تھا وہ بھی قرض کا سیلاب بہا کر لے گیا ۔اب تکلیف ہوئی تو میاں بیوی میں لڑائی ٹھنی اور اس کا سلسلہ دراز ہو ا تو اچھی خاصی جنگ قائم ہو گئی اور نتیجہ نکلا ۔دونوں کے درمیان طلاق و جدائی ۔یہ شادی ہوئی یا خانہ بربادی ۔ہم نے مانا کہ یہ خوشی کا موقع ہے اور مدت کی آرزو کے بعد یہ دن دیکھنے نصیب ہوئے ۔بے شک خوشی کرو مگر حد سے گزرنا اور حدودِ شریعت سے باہر ہو جانا کسی عقلمند کا کا م نہیں ۔کام وہ کرو جس سے دنیا میں بول بالا اور آخرت میں منہ اجالا ہو ۔اور وہ ہے ہر کام خدا اور رسول ﷺ کی رضا جوئی کے لئے انجام دینا اور شریعت مطہرہ کا دامن مضبوطی سے تھام کر اپنی ناجائز خواہشوں سے ہمیشہ ہمیش کے لئے دست بروار ہو جانا ۔
افسوس صد افسوس:کہ بعض تو اتنے بیباک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ خرافات نہ ہوں تو اسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے ۔دوسرے تمام شرکت کرنے والوں اور تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے گناہوں کے برابر ۔ اس تنہا پر گناہوں کا بوجھ کہ اگر یہ ان خرافات کی سختی سے روک تھام کر تا اور گناہوں کے یہ سامان اپنے یہاں نہ پھیلاتا تو آنے والے یا تماشائی ان گناہوں میں کیوں پڑتے اور بے حیائیوں اور بے شرمیوں کا یہ بازار کیوں گرم ہوتا جن میں اللہ تعالیٰ کی صد ہا لعنتیں اترتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ہدایت بخشے اور اپنی پناہ و حفاظت میں رکھے ۔آمین
جس شادی میں ایسی ناپاک حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہر گز ہرگز شریک نہ ہوں ۔اگر دانستہ شریک ہو گئے ہیں تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے ۔فوراً فوراً اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی بیویوں ،بیٹیوں ،مائوں اور بہنوں کو گالیاں نہ دلوائیں فحش نہ سنوائیں ورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریک ہوں گے اور غضب الہٰی سے حصہ لیں گے والعیاذ باللہ ۔ہر گز ہر گز اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی بلکہ ماں باپ کی بھی رعایت و مروت روانہ رکھیں کہ خدا کی نا فرمانی میں کسی کی فرمانبرداری نہیں ۔اے رب ہمارے ہمیں قبول حق کی توفیق عطا فرما ۔ آمین ۔
اور اب تو ایک نئی بلا نے گھر گھر جنم لیا ہے اور وہ ہے فلمی گانوں اور فضول آوازوں کی ریکارڈنگ ۔گانے بجانے کی آواز اور ڈھول سارنگی کی ڈھب ڈھب روں روں، تو خیراسی مجلس اسی گھر یا زیادہ سے زیادہ دو چار پاس پڑوس کے گھروں تک محدود رہتی تھی مگر یہ ریکارڈنگ تو خدا کی پناہ۔ فلمی گانے خود اپنی جگہ تنہائی میں جوان لڑکوں اور نوجوان لڑکیوں کے لئے زہر قاتل اور بڑے بوڑھوں کے لئے سوہان روح ہوتے ہیں نہ کہ پورے آواز سے ان کی تشہیر ،نہ یہ خیال کہ نوجوان شریف زادیوں اور شریف زادوں کے جذبات میں ان سے کیسا ہیجان پیدا ہو گا ۔نہ اس کا لحاظ کہ بڑے بوڑھوں کے دلوں میں ان گانوں کا کیا اثر ہو گا ۔نہ اس کا پاس کہ بیماروں غم کے ماروں کو ان سے کیسی تکلیف پہنچے گی ۔ نہ خدا اور رسول ﷺ کا خوف نہ قیامت میں گرفت کی پرواہ۔بلکہ ان شوقین مزاجوں کو نہ اذان کا دھیان آئے نہ نمازوں اور جماعتوں کا احساس ہو ۔ اپنی دھن میں مست ،اپنے ناجائز شوق کی تکمیل میں مصروف ،اپنے پیسے اور وقت کے ضیاع میں مشغول ۔دنیا و مافیہا سے بے خبر خدا اور رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کے باعث عذاب خدا وندی میں مبتلا ہیں ۔لیکن آنکھ نہیں کھولتے ۔خدا اور رسول سے نہیں شرماتے ۔کوئی منع کرے تو اس کی توہین و تذلیل کرتے ان پر آوازے کستے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔
شادی پر آتش بازی:شادی بیاہ کی تقریبوں میں عموماً اور شب برأت کے موقع پر خصوصاً آتشبازی وبا کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔کپڑے جلیں، بدن جھلسیں ،غریب کے چھپروں میں آگ لگے ۔بچے بوڑھے جوان ناگہانی زخمی ہو جائیں ۔جسموں پر آبلے پڑجائیں۔یہ سب کچھ گوارا ہے اور گوارا نہیں تو اس بے ہودہ رسم کو چھوڑنا ۔ گوارا نہیں۔حالانکہ یہ حرام ہے اور سخت حرام کہ اس میں مال بھی ضائع ہوتا ہے اور جان کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور قرآن حکیم کا صاف صاف ارشاد گرامی ہے کہ اپنا مال ضائع کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں جنانچہ فرمایا ترجمہ:’’مال کو فضول کاموں میں نہ اڑائو ،بے شک فضولیات میں اڑادینے والے شیطانوں کے بھائی ہو تے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے ۔‘‘کسی انسان کی برائی اس سے بڑ ھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسے شیطان سے تشبیہہ دی جائے اور اسے شیطان کا بھائی کہا جائے ۔
معزز قارئین! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام دیا ۔عقل عطا فرمائی ۔دولت بخشی تو اسی لئے کہ دولت کو طاعت و بندگی کے کاموں میں صرف کرو ۔ اپنی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف کرو اور اپنے پروردگار کا شکر بجا لائو ۔اب کہ تم اس دولت کو فضول کاموں میں اڑاتے اور خدا کی نا فرمانیوں میں کام لاتے ہو تو تم خود سو چو کہ دولت کو غلط راستوں پر بہانے والے بڑے نا شکرے اور شیطان کے بھائی ہوئے یا نہیں ۔ کہو ہوئے ضرور ہوئے تو پھر فخر ریا و نمائش اور اک ذراسی واہ واہ کے لئے یہ فضول خرچیاں اور مالی عیاشیاں آخر کیوں نہیں چھوڑتے ۔جبکہ ان کا وبال تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔اللہ کے بندو اپنی آنکھیں کھولو اور خدا و رسول کا خوف کرو ۔مائیں اور گھروں کی بڑی بوڑھیاں اگر خد ا و رسول ﷺکے احکام کی تعمیل پر اڑجائیں اور اپنے کو ان تباہی، فضول خرچیوں سے سختی سے روک دیں تو دین و دنیا میں اُن کا بھی بھلا اوران کا بھی بھلا ۔
پھر شب برأت کے موقعہ پر ایسی حرکتوں اور خرافات میں مصروف رہنا ۔اپنا پیسہ اُڑانا بچوں کو آتش بازی کے لئے پیسے دینا ۔جیسا کہ عام رواج ہوتا جا رہا ہے اور بھی زیادہ برا اور بھی گناہ اور بڑی بد نصیبی کی بات ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے ۔آمین
مسئلہ :مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے یا کسی بزرگ کے مزار شریف پر چادر چڑھانے یا گیارہویں کی نیاز دلانے ،یا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا توشہ یا شاہ عبد الحق رضی اللہ عنہ کا توشہ یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے ،یا میلاد شریف کرنے کی منت مانی تو یہ شرعی منتیں نہیں ۔ سب اس میں سے کھاپی سکتے ہیںاور یہ فضول خرچی نہیں۔(بہار شریعت)
مسئلہ: اسی قسم کے دوسرے خیر خیرات ،درود فاتحہ یا نذر و نیاز کے طریقے منع نہیں ہیں ۔کریں تو اچھا ہے البتہ اس کا خیال ہمیشہ رکھنا چاہئے کہ کوئی بات خلاف شرع اس کے ساتھ نہ ملائے ۔
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم نے موجودہ معاشرہ کی رسومات کی اصلاح کے لئے کچھ معروضات نظر قارئین کر دی ہیں تاکہ اسلامی معاشرے میں اسلام کا بول بالا ہو ۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم ﷺ کا صدقہ ہمیں نیکی کی توفیق دے ۔آمین

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: