گنج ہائے گرانمایہ

فقیدالمثال اسد اللہ خان غالب#کا پورا کلام ، ہر لفظ، ہر شعر، ہر خط ، ہر غزل، ہر قصیدہ ایک انمول ہیرا ہے۔ ان کے پائے کا شاعر نہ پہلے ہوا تھا اور نہ ہی اب تک پیدا ہوا ہے اور غالباً قیامت تک پیدا نہ ہوگا۔ ان کا مندرجہ ذیل شعر پوری دنیا کے مرحوم جواہر پاروں کی عکاسی کرتا ہے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کئے
اور حقیقت کہ اس دنیا میں اتنی بڑی بڑی شخصیات آئیں اور وقت کیساتھ ساتھ انکو یہ زمین کھا گئی اور اب سوائے تاریخ کے اوراق میں ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے اور یہ قدرت کا نظام بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر جاندار کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے اور سب نے اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ میں اس اعلیٰ شعر کی جانب توجہ اس وجہ سے دینے پر مجبور ہوگیا کہ کچھ عرصہ قبل میرے دو نہایت عزیز و محترم دوست اور عالم ہم سے جدا ہوگئے۔ کافی عرصہ تک مجھ میں ہمت نہیں ہوئی کہ ان کی شخصیت کے بارے میں کچھ لکھ سکوں مگر پھر یہ سوچ کر کہ اگر میں نے انکی شخصیت پر روشنی نہ ڈالی تو اپنے فرض و دوستی سے غفلت برتوں گا۔ غالب # نے تو شکایت کردی کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ اس بخیل زمین سے پوچھتے کہ وہ تمام اعلیٰ و قابل فخر شخصیات جو اسکے حوالے کی گئی تھیں، وہ کہاں گئیں، وہ کیوں ناپید ہوگئیں اور

نگاہوں سے اوجھل ہوگئیں۔
آج میں دو گنج ہائے گرانمایہ یعنی جواہر پاروں کا تذکرہ کروں گا۔ سیاسی باتیں روز ہوتی ہیں اور بہت ہوتی ہیں اور کبھی ختم نہ ہوں گی مگر ہمیں وقت نکال کر اپنے جواہر پاروں کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ جو قومیں اپنے عالموں، محسنوں کو بھول جاتی ہیں وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ آج میں مشہور عالم دین ومحقق علامہ سیّد غلام شبیر بخاری مرحوم اور پروفیسر حکیم سیّد محمود احمد سرو سہارنپوری مرحوم کی ذات گرامی کے بارے میں کچھ تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
(۱) علامہ سیّد غلام شبیر بخاری ملک کے ممتاز ماہر تعلیم، محقق، ادیب، شاعر اور مفسر قرآن کا انتقال21 جون 2012 ء کو تقریباً94 برس کی عمر میں ہوا۔ میرا علامہ مرحوم سے اتفاقاً اس طرح رابطہ ہوا کہ مجھے کسی دوست نے کلام مجید کا نسخہ تحفتاًپیش کیا۔ اس کا نام اختصارالبیان مافی القرآن تھا اور یہ کلام مجید کی نہایت اعلیٰ تفسیر ہے۔ اس کی نہ صرف کتابت اور چھپائی بہت اعلیٰ تھی بلکہ اردو میں ترجمہ بھی بہت اچھی اور سادہ زبان میں تھا۔ مجھے یہ نسخہ بے حد پسند آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ چند سو کاپیاں پرنٹ کروا کر اپنی جانب سے کہوٹہ میں اپنے رفقائے کار کو تحفتاً پیش کروں۔ میں نے علّامہ سید غلام شبّیر بخاری کو ایک خط لکھا اور ان سے اس کلام مجید کی طباعت کی اجازت مانگی۔ وہ میرا خط پاکر بے حد خوش ہوئے اور مجھے فوراً اجازت دے دی۔ میں نے اپنے دوست جناب زاہد ملک سے درخواست کی کہ وہ مناسب معاوضہ کے عوض پانچ سو کاپیاں چھاپ دیں جو انہوں نے بخوشی چھاپ دیں اور میں نے اپنے رفقائے کار میں تقسیم کر دیں۔ میں نے علّامہ صاحب سے اجازت لے کر ترجمہ میں استعمال شدہ چند مشکل الفاظ کو آسان زبان میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد میرا علّامہ مرحوم سے باقاعدہ رابطہ رہا۔ میری درخواست پر علامہ نے اپنی زندگی اور اپنی سابقہ مصروفیات کے بارے میں آگاہ کیا۔ جب علامہ صاحب کی زندگی کے حالات پڑھے تو فوراً میر# کا یہ شعر یاد آگیا۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر# سے صحبت نہیں رہی
علّامہ شبیر بخاری نے ابتدائی تعلیم و بی اے کی ڈگری بہاولپور میں حاصل کی اور پھر تقسیم سے5 سال قبل علیگڑھ تشریف لے گئے اور وہاں سے B.T کیا۔ نواب بہاولپور نے وظیفہ دے کر بھجوایا تھا کہ واپس آکر بہاولپور میں تعلیم دیں۔ یہ پاکستان کی تحریک کا گرم ترین وقت تھا اور اس میں علیگڑھ کے طلباء ہراول دستہ کا کام کررہے تھے۔ علّامہ نے بھی اس تحریک میں بہت گرمجوشی سے حصہ لیا۔ علیگڑھ میں قیام کے دوران آپ نے اس وقت کی تمام مشہور سیاسی ہستیوں سے انٹرویو کیلئے ملاقاتیں کیں۔ قائداعظم سے انٹرویو کے بعدآپ نے ان سے مسلمانوں کیلئے کوئی پیغام کی درخواست کی تو قائداعظم نے انکے پیڈ پر لکھ دیا۔ ”یاتو پاکستان حاصل کرو ورنہ تباہ ہو جاؤ“۔ علّامہ شبیر بخاری علّامہ اقبال  کے شیدائی تھے اور ان کے کلام پر بے شمار تقریریں کیں اور مقالے لکھے۔ علم کی جستجو آپ کو ہارورڈ یونیورسٹی بھی لے گئی۔ درس دینے کیساتھ ساتھ آپ نے اردو اور تاریخ میں ایم اے بھی کرلیا تھا۔ آپ کو اردو، انگریزی، عربی اور پنجابی میں مہارت حاصل تھی۔ آپ نے بطور سیکشن آفیسر انسپکٹر آف اسکولز، ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن، ڈائریکٹر ایجوکیشن اور مغربی پاکستان کے ڈی پی آئی اور مشیر اوقاف کے طور پر نمایاں خدمت انجام دی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمائی اور بہت سے نیک کام کرائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،آمین۔ ان کی ملکی اور دینی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
(۲)دوسری اعلیٰ اور نیک شخصیت جن پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں وہ میرے محترم دوست حکیم سیّد محمود احمد سرو سہارنپوری مرحوم کی ہے۔ محترم حکیم صاحب میرے نہایت اچھے دوست اور میرے مدّاح جناب سعود ساحر کے بڑے بھائی تھے۔ میری ان سے ملاقات پہلی مرتبہ ان کی والد محترمہ کی تجہیز و تدفین کے موقع پر ہوئی۔ دبلے پتلے، درمیانہ قد، چھوٹی خوبصورت داڑھی، جناح کیپ و شیروانی میں ملبوس ایک جاذب شخصیت کی عکاسی کرتے تھے۔ میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر تھا اور آپ وہاں پر اعزازی لیکچرار دعوة اکیڈمی تھے اور اکثر تشریف لایا کرتے تھے۔ یہ ہمارے انتہائی عزیز و قابل دوست پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی کے بھی بہت قریبی و عزیز دوست تھے۔ آپ کا انتقال2/اگست2012ء کو پنڈی میں ایک طویل علالت کے بعد ہوا۔ حکیم صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ آپ صاحب علم تھے اور طب کے علم سے بھی پوری طرح واقفیت رکھتے تھے بلکہ اعلیٰ طبیب اور معالج تھے۔ غالباً یہی ان کی کامیاب اور باعزّت زندگی کا راز تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کا سینہ ایمان و علم کی روشنی سے اُجاگر کردیتا ہے تو پھر اس کے ہر کام میں برکت دے دیتا ہے۔ آپ نہایت ایمانداری اور صدق ِ دل سے مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ مریض ان کے پاس بیٹھتا اور ان کی تسلی آمیز گفتگو سے ہی خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بہت شفا دی تھی یہی وجہ تھی کہ ان کے مطب میں ہمیشہ لوگوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ نہایت ہی کم، برائے نام فیس اور دواؤں کی قیمت ایک طرح سے مفت خدمت خلق کا جہاد تھا۔
حکیم محمود احمد سرو سہارنپوری کی علمی قابلیت کے پیچھے ان کی عربی، فارسی اور اردو زبان پر مکمل دسترس تھی۔ آپ نے تمام مشہور تفاسیر کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور تاریخ اسلام پر مکمل عبور حاصل کیا تھا۔ آپ نے حکمت کی تمام اہم کتابوں کا مطالع کیا تھا۔ آپ کا مطب علاج کے علاوہ ایک نہایت مقبول علمی و ادب کی نشت گاہ تھی۔ آپ نے حکمت کی کتب کے مطالعے کے علاوہ منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا تھا۔
حکیم محمود احمد سرو سہارنپوری طویل عرصہ تک درس و تدریس کے شعبے سے بھی منسلک رہے۔ آپ نے کئی برس ریڈیو اور ٹیلی وژن پر درس قرآن، درس حدیث اور فرمان الٰہی کے پروگرامز میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ تقریباً 20 سال مختلف کالجوں میں ایم اے کے طلباء و طالبات کو اردو اور اسلامیات کے درس دیتے رہے۔ اس کے علاوہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، دعوة اکیڈمی انٹرنیشنل، اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، محمد علی جناح  یونیورسٹی کراچی، لاہور کالج برائے طالبات، یونیورسٹی آف لاہور میں اسلامیات پر روح افزا لیکچر دیئے۔ آپ نے لاتعداد سوگوار شاگرد چھوڑے ہیں۔ حکیم صاحب تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن بھی تھے۔ آپ کی وفات پر ملک کے اخبارات میں ملک کے مایہ ناز صحافیوں نے اعلیٰ خراج تحسین پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات شاذ و نادر ہی پیدا ہوتی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کو بلا لیتا ہے تو ان کا نعم البدل ملنا نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ حکیم صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر ہمیشہ ہمیشہ برا جمان رکھے،آمین۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: