Muhammad Ahmad Kamali Today's Columns

تصوف کا مفہوم اور اس کی اہمیت از محمد احمد کمالی ( کمالیات )

Muhammad Ahmad Kamali
Written by Todays Column

تصوف کیا ہے ؟ تصوف کا اصل مادہ صوف ہے ،جس کا معنی ہے اون۔ اور تصوف کا لغوی معنی ہے اون کا لباس پہننا ،جیسے تقمص کامعنی ہے قمیص پہننا۔ (کشف المحجوب)لیکن صوفیاء کی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا، یعنی اپنے نفس کو نفسانی کدورتوں ا وررذائلِ اخلاق سے پاک وصاف کرنا اور فضائلِ اخلاق سے مزین کرنا۔(تاریخ تصوف)’’تصوف‘‘ اصل میں اخلاق کی پاکیزگی ،باطن کی صفائی،آخرت کی فکر،قلب کی طہارت اور دنیاسے بیرغبتی کا نام ہے ۔تصوف بندہ کے دل میں جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات سے محبت اور رسول اللہؐ کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتاہے، وہیں تحمل ،برداشت، حسن اخلاق،رواداری اور خدمت خلق کی طرف بھی انسان کو راغب کرتا ہے۔تصوف کے کئی نام ہیں (۱)علم القلب (۲)علم الاخلاق (۳) احسان وسلوک (۴)تزکیہ و طریقت وغیرہ۔ قرآن و حدیث میں اس کے لیے زیادہ تر ’’احسان ‘‘کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن ان تمام ناموں کا مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنے نفس کو ’’اخلاق حمیدہ ‘‘سے مزین کرنا اور’’ اخلاقِ رذیلہ ‘‘سے پاک و صاف کرنا۔قرآن و سنت سے ہم آہنگی: تصوف اسلام کے جمالی پہلو کا ترجمان ہے اور اس کے ذریعے بعض اوقات اسلام کی شانِ جمال کا بھرپور ظہور ہوا ہے، اس کا تابناک اور روشن حصہ وہ ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ یا ہم آہنگ ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صادقین، قانتین، مخلصین، محسنین، عابدین، خاشعین، متوکلین، صابرین، اولیاء ، ابرار وغیرہ ناموں سے اپنے نیک اور صالح بندوں کا ذکر کیا ہے۔ صدق، اخلاص، احسان، عبادت، خشوع و خضوع، فقر، توکل، صبر، شکر چونکہ صوفیا کی صفات ہیں ، اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ صوفیہ معنوی طور پر ان میں شامل ہیں۔ اسی طرح قرآن میں توبہ، انابت، اخلاص، صبر، شکر، رضاء ، توکل، قرب، خوف ، رجائ، مشاہدہ، یقین وغیرہ کی تعریف آئی ہے، یہی چیزیں تصوف میں احوال یا مقامات کہلاتی ہیں ، علاوہ ازیں قرآن میں دنیوی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکے کی پونجی کہا گیا ہے، یہ چیز تصوف کی اساس ہے اور قرآن حکیم میں اخلاق حسنہ پر خاص زور دیا گیا ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ تصوف حسن اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی صدیقین، صالحین اور دوسرے ناموں سے مردانِ خدا کی تعریف کی گئی ہے، اس کے علاوہ ارشادات نبویؐ میں صدق، اخلاص، فقر، توکل اور صبر جیسے قلبی اور روحانی اعمال کی تاکید آئی ہے، نیز سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اخلاق عالیہ کو ممتاز مقام حاصل رہا ہے، خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ جس طرح تمام مسلمانوں کیلیے اسوہ حسنہ ہے اسی طرح صوفیہ کیلئے بھی سرچشمہ ہدایت ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ آئمہ تصوف نے اپنے اعمال یا احوال و مقامات کیلئے سنت رسول ؐسے دلیل فراہم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ تصوف کی متعدد کتابوں میں صحیحین کی حدیث جبرئیل کو سلوک کی اساس مانا گیا ہے۔ اس حدیث میں اسلام، ایمان اور احسان کو دل نشیں اور موثر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ حدیث جبرئیل میں احسان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہو تو کم از کم یہ سمجھ لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: خوب سمجھ لو دین کی بنیاد اور اس کی تکمیل کا انحصار فقہ‘ کلام اور تصوف پر ہے اور اس حدیث شریف میں ان تینوں کا بیان ہوا ہے۔ اسلام سے مراد فقہ ہے کیونکہ اس میں شریعت کے احکام اور اعمال کا بیان ہے اور ایمان سے مراد عقائد ہیں جو علم کلام کے مسائل ہیں اور احسان سے مراد تصوف ہے جو صدق دل سے توجہ الی اللہ سے عبارت ہے۔ مشائخ طریقت کے تمام ارشادات کا حاصل یہی احسان ہے کیونکہ کوئی عمل بغیر اخلاص نیت کے مقبول نہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ تیسرا فن مقاصد شرعیہ کے ماخذ کے لحاظ سے بہت باریک اور گہرا ہے اور تمام شریعت کے لئے اس فن کی وہی حیثیت ہے جو جسم کے لئے روح کی ہے اور لفظ کے لئے معنی کی ہے۔‘‘ مطلب یہ کہ تصوف کے بغیر نہ شریعت زندہ رہ سکتی اور نہ دین سلامت رہ سکتا ہے۔تصوف کی اصطلاح کب رائج ہوئی؟عہد صحابہ میں تصوف کی روح اور حقیقت، یعنی زہد وتقویٰ انابت الی اللہ، عاجزی وانکساری وغیرہ روحانی اور باطنی صفات تو پائے جاتے تھے، لیکن اس لفظ کا استعمال عہد صحابہ تک نہیں تھا، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری نے ابو الحسن بوشنجہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تصوف موجودہ زمانے میں صرف ایک نام ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور گذشتہ زمانے میں ایک حقیقت تھی جس کا کوئی (مخصوص) نام نہ تھا، یعنی صحابہ کرام اور سلف صالحین کے وقت میں لفظ صوفی تو بے شک نہیں تھا لیکن اس کی حقیقی صفات ان میں سے ہر ایک میں موجود تھیں اور آج کل یہ نام تو موجود ہے لیکن اس کے معنی موجود نہیں، اْس زمانے میں معاملات تصوف سے آگاہی کے باوجود لوگ اس کے مدعی نہ ہوتے تھے؛لیکن اب دعوی ہے، مگر معاملات تصوف سے آگاہی مفقود ہے۔(گنج مطلوب ترجمہ کشف المحجوب )شیخ ہجویری کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں تصوف کی حقیقت موجود تھی، لوگوں میں زہد وتقوی، خشوع وخضوع ، فکر آخرت اور خوف خدا جیسی صفات تھیں اور ان صفات کے متصف حضرات عابد اور زاہد کہلاتے تھے، لیکن تصوف کا لفظ اس وقت رائج نہیں ہوا تھا۔بقول امام ربانی مجدد الف ثانی ’’تصوف کا تعلق احوال سے ہے‘ زبان سے بیان کرنے والی چیز نہیں‘‘ مگر جہاں تک تصوف کے عملی پہلو کا تعلق ہے‘ صحیح اسلام ی تصوف کے خدوخال کا تعین اور اس کی حیثیت سے علمی حلقوں کو روشناس کرانا بہت ضروری ہے کیونکہ آج کل جس چیز کو تصوف کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے اس کا اسلامی تصوف سے دور کا تعلق بھی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ صحیح اسلامی تصوف کو بھی شک و شبہ کی نظر دے دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ عام? المسلمین کو صحیح اسلامی تصوف سے روشناس کرایا جائے۔ جس کی اساس کتاب و سنت پر ہے تاکہ اس کی روشنی میں اپنی فکری اور عملی اصلاح کر کے ابدی فلاح حاصل کر سکیں۔تصوف وہ علم ہے جس کے متعلق حضرت علامہ اقبال نے نظم و نثر میں اپنے ناقدانہ خیالات کا مفصل اظہار کیا اور وہ فرماتے تھے ’’میرا فطری اور آبائی رجحان تصوف کی طرف ہے۔ ‘‘ تصوف کی اصلاح اور ملت کے احیا کی خاطر اس پر بے دریغ تنقید کی۔حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ تیسرا فن مقاصد شرعیہ کے ماخذ کے لحاظ سے بہت باریک اور گہرا ہے اور تمام شریعت کے لئے اس فن کی وہی حیثیت ہے جو جسم کے لئے روح کی ہے اور لفظ کے لئے معنی کی ہے۔‘‘ مطلب یہ کہ تصوف کے بغیر نہ شریعت زندہ رہ سکتی اور نہ دین سلامت رہ سکتا ہے۔تصوف کے باب میں امام غزالی فرماتے ہیں ’’جیسی باقی علوم فرض ہیں اسی طرح علم سلوک بھی فرض ہے جو علم احوال قلب ہے جیسے توکل‘ خشیت‘ رضا باالقضائ۔دراصل اہل تصوف ہی اہل اللہ ہوتے ہیں:(۱) اولیاء اللہ کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک مجرب ذریعہ ہے۔(۲) اولیاء اللہ کے پاس کامیاب نسخہ ذکر الٰہی کی تلقین اور اس کا طریقہ سکھانا ہے۔(۳) ذکر الٰہی کی کثرت اور اولیاء اللہ کی صحبت سے انسان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کبھی بدبخت ہو کے نہیں مرتا۔(۴) اولیاء اللہ سے دشمنی خدا سے دشمنی ہے۔ علامہ اقبال قرآن مجید کی ابدی حقیقت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ کوئی نظریہ یا عقیدہ یا فلسفہ یا قانون یا کوئی ضابطہ حیات جو قرآن مجید کی تعلیمات سے ذرہ برابر بھی مختلف ہوتا ، وہ اسے نہایت جرات کے ساتھ مسترد کردیتے تھے۔ انہوں نے فلسفہ اور تصوف کے ان تمام مسائل اور نظریات کو جو حریم اسلام میں بعض عقبی دروازوں سے داخل ہوگئے تھے ساقط الاعتبار قرار دیا۔تیرہویں صدی میں جب عالم اسلام پر چنگیز اور ہلاکو کے تباہ کن حملے ہوئے اور اسلامی معاشرہ جو فکری انتشار کا پہلے سے ہی شکار تھا، ذوق عمل سے یکسر محروم ہوگیا اور شکست خوردہ ماحول کے خلاف جلال رومی ایک زبردست ردعمل کے طور پر اٹھا۔ اس نے قرآن کی روح پرور تعلیمات کے مطابق زندگی کو عمل ، حرکت اور جہاد سے تعبیر کیا۔ ایک روشن اور بلند نصب العین کے حصول کے لیے دلوں میں تڑپ پیدا کی اور سخت کوشی کی تعلیم دی۔ عزت و عظمت کا درس دیا، یونانی حکمت کو بے معنی ثابت کیا اور ترک دنیا کو اسلام کے منافی قرار دیا اور کہا:بیسویں صدی میں علامہ اقبال کو بھی رومی جیسے دور سے گزرنا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے کہا ’’ آ ج دنیا کو کسی رومی کی ضرورت ہے جو امید کی شمع جلائے اور زندگی کے لیے آتش شوق فروزاں کرے۔‘‘

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: