Today's Columns

کورونا کے دوران رمضان اور عید کی تیاریاں از راؤ آفاق احمد

رمضان المبارک کا بابرکت مہینے کا آخری عشرہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور شہری عید کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر نے جہاں دنیا کے دوسرے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے وہیں ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت عوام سے مسلسل اپیل کر رہی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے گریز کریں۔ عید بنیادی طور پر اجتماعی جشن کا نام ہے۔ عید کے دن ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینا اور ایک دوسرے کیہاں آنا جانا ہماری روایت ہے، تاہم اس بار عید کی آمد ایسے حالات میں ہو رہی ہے جب ملک میں کورونا وبا کی وجہ سے اموات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے جاری کرونا وبا کے پیش نظر اس عید پر گھروں سے نکلنے، گلے ملنے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے اس کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے تحفہ ہے جو انکو ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ملتا ہے۔ ماہ رمضان کے آتے ہی مسلمان معاشرے کا ہر فرد اپنے اپنے طریقے اور استطاعت کے مطابق اسکی تیاری کرتا ہے چاہے امیر ہو یا غریب عیدکی تیاری میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے چونکہ پوری دنیا کا نظام متاثر ہو گیا ہے، مذہبی تہواروں کو منانے کی خوبصورتی بھی ماند اور پھیکی پڑ گئی ہے اور کئی ایک مذہبی تہوار کورونا وائرس کی نذر ہوگئے ہیں۔ اب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوچکا ہے اور ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جلدی جلدی جیسے تیسے ہو بس عید کی تیاری مکمل کر لیں کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں اور تیسری لہر نے لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔ جہاں عید کے دنوں میں حکومت نے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں وہیں بازاروں میں عید کی شاپنگ کرنے والوں کا ایک ہجوم اُمنڈ آیا ہے۔ ہجوم سے بھرے بازار موذی وبا کو کھلی دعوت دے رہے ہیں۔ لوگ عید کی شاپنگ کے چکر میں یہ بھول رہے ہیں کہ صحت و زندگی زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں، زندگی ہوگی تو عیدیں دوبارہ دیکھنے کو مل جائیں گی، نئے کپڑے بھی پہن لئے جائیں گے لیکن اگر اس موذی وبا کی نظر ہوگئے تو اپنی جان تو جانے کے خطرات تو ہیں ہی ساتھ ساتھ آپ کے وہ پیارے بھی آپ سے محروم ہو جائیں گے جن کی زندگی کی خوشیاں آپ کی زندگی سے جڑی ہیں۔ لہذا کوشش کریں کہ جو فضول خرچیاں کی شاپنگ پر کرنی ہے وہ رقم سفید پوش افراد پر خرچ کریں جن کے گھر کے چولہے موجودہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور وہ لوگ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بھی قاصر ہیں۔ سادگی سے عید گھر پر منائیں اس موذی وبا کے خاتمہ کیلئے ہر فرد اپنا کردار ادا کرے لوگوں میں شعور و آگہی بیدار کرے کہ اس وبائی مرض کا وجود ہے اور اس کا دین، مذہب، رنگ و نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ جان لیوا نہیں لیکن خطرناک ضرور ہے ہم نے احتیاط کرکے ہی اس سے بچنا ہے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: