Today's Columns

فکری مسائل از ملک محمد ظہور گڈ گور

ہمارا مذہب دین اسلام روز اول سے ہی انسان کو سادہ معاشرت اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام اور اسلاف عظام کے طرزعمل سے ان باتوں کا ثبوت ملتا ہے جب حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اس وقت معاشرہ انتہائی بگڑا ہوا تھا وہ کونسی برائی تھی جو مشرکین میں نہ تھی چوری غارت گردی ان کا عام شیوہ اور شراب نوشی زناکاری دن رات کا مشغلہ تھا باہمی لڑائیاں اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ غیروں کو تو چھوڑ دیے خود اپنی اولاد پر رحم نہیں آتا تھا وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ کوئی بڑی برائی نہ تھی زندہ جانوروں کا گوشت کاٹ لیتے تھے عورتوں سے بڑا بے بیہمانہ سلوک کرتے تھے فحش عورتوں کے بازار بنے ہوئے تھے اور نشان کے طور پر اپنے گھروں کے سامنے جھنڈیاں لگا کر بیٹھی تھی خانہ کعبہ تک کاطواف برہنہ حالت میں کیا جاتا تھا وقت طواف عورت بھی ننگی ہوتی تھی سود خوری عام تھی حلال حرام میں کوئی تمیز نہ تھی غلاموں کی خرید وفروخت کا کاروبار سرعام آتا تھا چنانچہ اللہ تعالی نے کفر وشرک ظلم و عداوت سے نجات دلانے کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا جس کی مثال کسی گزشتہ ادوار میں نہیں مل سکتی اور نہ ہی آئندہ مل سکے گی یہی وجہ تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہو کر جوق در جوق مسلمان ہونے لگے غرض کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات حسنہ کی بدولت بنی نوع انسان کے لیے سلامتی کی راہ ہموار ہوگی اسلامی تعلیمات کی بدولت مسلمانوں نے اپنے لیے سماجی اور اقتصادی اصول متعین کیے اس طرح اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا جو ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھنا چاہتے تھے شیروشکر ہو گئے ترکی میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی مسلمانوں کے لیے زوال کا باعث بنا چند ایک ممالک کو چھوڑ کر دنیا کہ مسلمان اہل مغرب کے غلام بن گئے اس طرح ان ممالک میں کسی غیر استحصالی اور حقیقی اسلامی معاشرے کی تعمیر کے تمام تر امکانات معدوم ہو کر رہے مسلمانوں کو ایک طویل عرصے کے لئے ایک تاریک غار میں دھکیل دیا برطانیہ ان دنوں میں دنیا کا سب سے بڑا فاتح تھا برطانوی حکومت کو قرآن و سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے خصوصی دشمنی تھی عرب قوم اور ان کے حامی اقوام کو ایسے فکری اور سیاسی مسائل میں مبتلا کر دیا کہ وہ دعوت اسلامی کی جانب توجہ نہ دے سکے اسلامی معاشرے میں تعیش اور راحت پسندی کو فروغ دیا گیا مغربی اقوام کی عیش و عشرت نے مسلمانوں کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا انہوں نے ریڈیو سینماٹوگرافی کے ذریعے مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے دور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں مسلمان بھی ان کی تقلید کرنے لگے اب جبکہ دنیا بھر میں ماسوائے چند ایک ممالک کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود انگریزوں نے مختلف ہتھکنڈوں میں جکڑے رکھا اور اسی بنا پر مسلمانوں نے انگریزی طور طریقے کو چھوڑنا گوارا نہ کیا یہی وجہ ہے کہ اہم اسلامی ممالک میں عورتوں کے پردے کا رواج ختم ہو گیا حالانکہ عورت نام ہی چھپی ہوئی شے کا ہے اسے باہر نکال کر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسلامی تعلیمات مردوں اور عورتوں کے آزادانہ میل جول کے خلاف ہے جب کہ اس وقت اسلامی دنیا میں اسے برائی نہیں سمجھا جاتا ریڈیو ٹی وی فحش فلمیں بے ہودہ گانے اخلاق سے گرے ہوئے ڈرامے گلیوں اور اور بازاروں میں نمائشی فلموں کے پوسٹر ان کی نشر و اشاعت کا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے تمام اسلامی ممالک میں بینکوں میں سودی کاروبار جاری ہے اسلام سود کی ممانعت کرتا ہے اس طرح رشوت کے بغیر کسی کا جائز کام نہیں ہوتا رشوت سے تمام ناجائز ہو جاتے ہیں اسلام کے نزدیک رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں کذب بیانی عام ہے اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں اسلام کے ابدی اور مجسم خیر نظام حیات کی جگہ مغربی اقدار کو فروغ دیا جا رہا ہے جارہا ہے عورتوں نے عریانی لباس پہن کر اپنے سر کو ننگا کیے ہوئے بازاروں میں گھومنا شروع کیا ہوا ہے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں عورتوں کے فیشن غیر مردوں کے سامنے دین اسلام کے خلاف ہیں یہ سب مردوں کا قصور کیا ان کو پتہ نہیں ہے کہ ہماری مائیں۔ بہنوں بیوی بیٹیوں نے کون سا لباس پہن رکھا ہے۔بظاہر لباس ہے لیکن جسم ننگا ہونے کے برابر ہے عریانی کا جو پرچار ہو رہا ہے اس نے سارے حدود ختم کر دیے ہیں یہ صورتحال ان تمام ممالک میں جاری و ساری ہے جہاں کا تعلیمی و تربیتی نظام مغربی تعلیم پر قائم ہے جہاں کا تعلیمی اور تربیتی امور کا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے زہنوں فکر استعماری فکر سے مسموم اور زہر آلودہ ہو چکے ہیں جن کو ڈالر بنگلے عیاشی کے لیے شراب شباب اور کباب مل رہے ہیں ان کو اس کی تباہی کے بارے میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے امریکی برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں نے اب ان تمام ملکوں میں اسلام کے خلاف فضا پیدا کر دی ہے جو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ان کے زیر اثر ہیں لادینیت کی طرف مائل کیا گیا ہے اور مسلمان ممالک کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں موجودہ حالات میں مسلمانوں پر مسلسل فتنوں کے طوفان اور تمام شعبہ ہا ئے زندگی میں علمی عملی اخلاقی معاشرتی سیاسی اور مذہبی رویوں میں تبدیلی کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چودہ صدیاں قب
ل کی اسلامی تعلیمات سے روشناس مسلمانوں سے آج کے مسلمانوں کا کوئی رشتہ نہیں ہے جب دنیا کے کسی حصے میں مسلمانوں پر کسی قسم کی افتاد کی خبر آتی ہے تو وقتی طور پر مسلمان مضطرب وبیقرار دکھائی دیتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ پر اقوام عالم کی اس طرح یلغار ہے جیسے بھوکے بھیڑیے کسی شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں بقول اقبال اگر آج کی اسلامی دنیا اپنے مسائل کوحل کرنا چاہتی ہے تو اسے چیتے کا جگر شاہیں کا تجسس اور اپنے اندر ایسے اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کی سابقہ روایات کا حصہ ہیں

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: