نواز شریف کی مت سنیں از انجم فاروق ( خیالِ ممنوع )

کتنا بدقسمت ہے وہ پھول جس کی پتیوں پر سحرنے شبنم کے موتی نہیں بکھیرے۔ کتنا بدنصیب ہے وہ ساون جو بنا بارش کے گزر جائے اور کتنی حرماں نصیب ہے وہ ندی جس کے مقدر میں بحر بیکراں کا وصال نہیں۔ کتنا قابلِ رحم ہے وہ سیاسی ورکر جو گھر سے ”آقاؤں‘‘ کی خوشنودی کے لیے نکلے اور واپسی پر کورونا وائرس کا شکار ہو جائے اور کتنا کم نصیب ہے وہ شخص جو مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ بنے اور موذی مرض ساتھ لے آئے۔ پھر یہ جان لیوا وائرس بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے یا بوڑھوں کو‘ عورتیں اس کی زد میں آئیں یا مریض‘ بھلا اقتدار کی غلام گردشوں سے بھٹکے ہوؤں کو کیا غرض؟ احسان دانش یاد آتے ہیں ؎
کسے خبر تھی کہ یہ دورِ خود غرض اک دن
جنوں سے قیمتِ دار و رسن چھپائے گا
حکومت نے کورونا وائرس کے باعث جلسے جلوسوں پر پابندی لگائی اور اگلے ہی دن پی ڈی ایم کی قیادت نے اسے ہوا میں اُڑا دیا۔ ساری اپوزیشن نے کورونا کو ڈرامہ اور وائرس کی موجودہ لہر کو سیاسی کھیل قرار دیا۔ اتنی بڑی بڑی جماعتوں کا اتنا غیر سنجیدہ اور بے منطق رویہ؟ یقین مانیں‘ جب سے پی ڈی ایم حکومت کی ”محبت‘‘ میں کورونا کے وجود سے انکاری ہوئی ہے‘ مجھے رہ رہ کر عوام کا خیال ستا رہا ہے۔ صبح و شا م‘ یہ غم مجھے یوں نوچ رہا ہے جیسے باز اپنے شکار کو نوچتا ہے، جیسے شدتِ گریہ سے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں۔ سنا تھا سیاست کے سینے میں دل ہوتا ہے نہ آنکھوں میں بینائی۔ جب سیاست کرنا مقصود ہو تو اپنا نظر آتا ہے نہ پرایا، دوست دکھائی دیتا ہے‘ نہ دشمن۔ حکومت کا مہنگائی بم عوام کے لیے کم تھا کہ اپوزیشن انہیں اب کورونا کے طوفان میں دھکیل رہی ہے؟ جہاں دو سال مسلسل چپ کا روزہ رکھا‘ وہاں دو ماہ اور سہی۔ آخر اتنی جلدی کس بات کی ہے؟ احتجاجی تحریک مؤخر کرنے میں قباحت ہی کیا ہے؟ ہم مانتے ہیں کوئی فاقہ کش اپنی روٹی دوسرے بھوکے کو نہیں دیتا، ہم اس بات سے بھی متفق ہیں کہ کوئی مریض اپنے حصے کی دوا دوسرے بیمار کی نذر نہیں کرتا مگر عوام کی صحت کے لیے تھوڑی قربانی تو بنتی ہے۔ خدارا! زیادہ نہیں تو چند ہفتوں کے لیے سیاست کے سٹیج کو خالی چھوڑ دیں، کورونا کی موجودہ لہر گز ر جائے‘ پھر جی بھر کر سیاست کیجیے گا۔ حکومت بھی یہیں ہو گی اور مہنگائی بھی۔ دھاندلی کے الزامات بھی ویسے ہی رہیں گے اور معیشت کے حالات میں بھی اچانک بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ نواز شریف کا بیانیہ بھی تر و تازہ رہے گا اور مولانا فضل الرحمن کے ارمان بھی۔ وزرا کی شعلہ بیانی ماند پڑے گی نہ ہی بلاول بھٹو کی گھن گرج۔ وفاقی حکومت بھی طعنوں کی زد میں ہو گی اور سندھ سرکار بھی۔چند ہفتے صبر کرنے سے سیاست کا توکچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ ہاں! شاید سینکڑوں زندگیاں ضرور بچ جائیں۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو چند گھڑیاں سکون کی ضرور میسر آ جائیں گی۔
جیسے غار میں اُگے ہوئے پودے سے پھل کی تمنا کرنا عبث اور قفس میں قید شاہین کی آسمان کو چھونے کی خواہش کرنا لایعنی ہے ویسے ہی سیاستدان سے سیاست ترک کرنے کی بات لاحاصل لگتی ہے مگر یہاں مسئلہ سیاست سے زیادہ عوام کی زندگیوں کا ہے، شاید کسی کا دل موم ہو جائے، شاید کسی جماعت کو اپنے ورکرز پر رحم آ جائے۔ خیر! سیاسی پارٹیوں کے تو کیا کہنے، عوام کا بھی یہی حال ہے۔ آپ بازارو ں کا رخ کریں یا پارکس کا، شادی کی تقریبات میں جائیں یا کسی غمی میں۔ کسی جگہ بھی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ کسی کے پا س سینی ٹائزر ہوتا ہے نہ ماسک۔ کوئی ہاتھ ملانے سے معذرت کرے تو اسے بزدل کا لقب ملتا ہے جبکہ گلے ملنے سے گریز پر گھمنڈی خیال کیا جاتا ہے۔ خلقِ خدا کوکون سمجھائے کہ وائرس کتنا خطرناک ہو چکا ہے؟ چھوٹی سی لاپروائی کتنی مہلک ثابت ہو سکتی ہے‘عوام کو کون بتائے کہ سڈنی یونیورسٹی اور شنگھائی کی فوجان یونیورسٹی کے سائنسدان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کووڈ 19 ایک سیزنل بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہ اُن دنوں نمودار ہوا کرے گی جب ہوا میں نمی کی سطح کم ہوتی ہے۔ ہوا میں ایک فیصد نمی کی کمی سے کیسز میں چھ فیصد اضافہ ہو گا اور یہ مرض سردی کے ساتھ مزید بڑھتا جائے گا۔
افسوس! ہمارے عوام کسی طور کورونا وائر س کوسنجیدہ نہیں لے رہے۔ موسمِ سرما اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا ہے اور عوام کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی۔ریسرچ کمپنی آئی پی ایس او ایس کے تازہ سروے نے تو حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد پاکستانی کورونا وائرس سے واقف ہیں مگر ستم یہ ہے کہ صرف 35 فیصد لوگ اسے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اپریل 2020ء میں کورونا کو خطرہ سمجھنے والوں کی شرح 50 فیصد تھی۔ آپ خود فیصلہ کریں جب 65 فیصد عوام کورونا کو خطرہ نہیں سمجھیں گے تو ہماری قومی صحت کا کیا حال ہو گا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال سب کے سامنے ہے‘ ایک شخص کی لاپروائی کی قیمت پورے امریکا کو چکانا پڑ رہی ہے۔ ٹرمپ ماسک نہیں پہنتے تھے تو عوام کیوں پہنتے؟ ٹرمپ وائرس کو خطرہ نہیں سمجھتے تھے تو عوام کیسے سمجھتے؟ ٹرمپ کی غیر سنجیدگی لاکھوں زندگیاں نگل گئی اور کروڑوں کو خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھکیل گئی۔ اب ٹرمپ رہیں یا جائیں‘ جو نقصان ہونا تھا‘ سو ہو چکا۔ اگر آپ کو اپنے خاندان اور ملک سے پیار ہے تو کورونا کی دوسری لہر کو ٹرمپ جیسی نظروں سے مت دیکھیے۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ انہوں نے دکھوں کی گٹھڑی اٹھائے زندگی کے خاردار راستے پر چلتے ہوئے جہالت کے بھیڑیوں کا شکار بننا ہے یا روشنی کے پیچھے چلتے ہوئے بے آب و گیاہ صحرا کو پار کر کے ان سرسبز وادیوں میں اپنا مسکن بنانا ہے جہاں زندگی پھولوں کی مانند مسکراتی ہو اور خوشبو کی طرح مہکتی ہو۔
کورونا وائرس کی دوسری لہر صرف ہمارا مسئلہ نہیں‘ دنیا بھر میں موجودہ لہر شدت اختیار کر رہی ہے۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، سپین، پولینڈ، آسٹریا، اٹلی،بلجیم اور پرتگال ایک بار پھراس کے نشانے پر ہیں۔ شہر‘ شہر لاک ڈاؤن کیے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں جگہ روز بروز کم پڑ رہی ہے۔ امریکا، بھارت اور برازیل تو وہ ممالک ہیں جہاں کورونا کی پہلی لہر کے زخم ابھی تک ہرے تھے کہ اب دوسری لہر حملہ آور ہو گئی ہے۔ دہلی اور نیویارک کو بند کرنے کے لیے تجاویز لی گئی ہیں۔ جاپان پریشان ہے کہ کورونا کی دوسری لہر ایسے ہی قہر ڈھاتی رہی تو اولمپکس کا کیا بنے گا۔ جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی کورونا وائرس ایک بار پھر پنجے گاڑ چکا ہے۔ جنوبی آسٹریلیا میں چھ ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ بازار، ریسٹورنٹس، عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے اور پبلک پارکس کو تالے لگا دیے گئے ہیں اور باقی آسٹریلیا کو بھی بند کرنے کی تیاریا ں کی جا رہی ہیں۔
ہمیں یہ ماننے میں کیا عار ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں لاک ڈاؤن کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ پہلے سے بدحال معیشت مزید بے حال ہو جائے گی اور بھوک کپڑے پھاڑ کر گلیوں اور چوراہوں میں رقص کرے گی۔ لاک ڈاؤن نہ سہی‘ کیا ہم فن لینڈ اور ناروے کی طرح ایس او پیز پرعمل درآمد بھی نہیں کر سکتے؟ ان دونوں ممالک میں سیاسی اتفاقِ رائے اتنا مثالی ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑ رہی۔ عوام بھی حکومت کا بازو بنے ہوئے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی۔ معیشت بھی چل رہی ہے اور وبا کی روک تھام بھی ہو رہی ہے۔ کیا ہماری حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں فن لینڈ اور ناروے سے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا سلیقہ بھی نہیں سیکھ سکتے؟ پی ڈی ایم چیئرمین اور نواز شریف چاہتے ہیں کہ آندھی آئے یا طوفان، وبا پھیلے یا بھوک‘ حکومت مخالف احتجاجی تحریک نہیں رکنی چاہیے۔ میری عوام سے التجا ہے اس بار نواز شریف کی مت سنیں‘ اپنی زندگیوں پر خود پہرے دیں۔ جان ہو گی تو کارِ جہان بھی چلتا رہے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: