آزادی صحافت اور جعلی مقدمات از ملک محمد اسلم اعوان

صحافیوں کا پروفیشن جرائم کے خلاف لکھنا ، آواز اٹھانا اور بولنا ہے۔ معاشرے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح انتہائی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ معاشرے میں چھوٹے چھوٹے مافیا سے لیکر بڑے بڑے جغادری مافیا پنپ کر قد آور درخت کی طرح معاشرے کی Texture میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ کسی معاشرے میں اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کے پابند ہوں اور لا اینڈ آرڈر نافذ کرنے میں Sincere ہوں تو جرائم کی شرح کم ہو کر زیرو فی صد تک اگر نہ بھی ہو تو زیرو کی حد تک ضرور پہنچ جاتی ہے۔ یعنی جرم برائے نام رہ جاتا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے یعنی پولیس (نیب ۔ اینٹی کرپشن ۔ FIA۔ پولیس) کی کالی بھیڑیں مجرمان کے ساتھ مل کر ان کے Facilitator کا کردار ادا نہ کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جرائم کی بیخ کنی ممکن نہ ہو۔

میری شعبہ صحافت سے وابستگی ارادتاً نہیں بلکہ اس کا محرک میرے مرحوم دوست ظہیر عباس ہیں جو کہ پہلے پاکستان اور پھر روزنامہ جنگ سے وابستہ رہے اور تا دم مرگ روزنامہ جنگ کے رپورٹر تھے۔ ظہیر عباس نے مجھے شعبہ صحافت Join کرنے میں تحریک دی۔ صحافت کا پیشہ اپنایا ۔ حق اور سچ کی آواز بلند کی اور جرائم سے معاشرے کو پاک کرنے کا تہہ کیا تو اس میدان خار زار کو دنیا کا مشکل ترین Profession پایا۔ جرائم کے خلاف آواز اٹھانا دراصل اپنی موت کی آرزو کرنا ہے۔ جرائم پیشہ افراد گلی محلے ، گائوں سے لیکر شہر تک بلکہ ملکی سطح تک متحرک ہیں اور اپنا کام آزادی سے بلکہ یوں کہیے کہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ بلکہ پوچھنے والے یعنی پولیس میں موجود جرائم پیشہ عناصر جنہوں نے محکمہ پولیس کی سروس باقاعدہ سازش مجرمانہ کر کے سوچ سمجھ کر کی ہوتی ہے کہ محکمہ میں اپنے اختیارات سے مجرمانہ تجاوز کر کے اپنی مجرمانہ سوچ کو عملی جامہ پہنا کر مجرمان یعنی جرائم پیشہ عناصر کے Facilitator بن کر ان سے ناجائز مفادات حاصل کر کے اپنے مفادات کی ترویج کریں گے۔ پولیس کی ایسی کالی بھیڑوں کے مقاصد چند دنوں میں کروڑ پتی ، ارب پتی بنتا ہوتا ہے اور باقاعدہ Target لے کر محکمہ کی سروس کسی نہ کسی طرح Join کر لیتے ہیں اور پھر جرائم پیشہ افراد سے روابط استوار کر کے دولت حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ملکی مفاد سے Conflict of Interest ہو جاتا ہے اور وہ ملکی مفاد پر اپنے ذاتی مفادات پر قربان کر کے کروڑ پتی بننے کا کھیل شروع کر دیتے ہیں۔ اور جرائم کی دلدل میں دھنس کر ملک و قوم سے غداری کا ارتکاب کرتے ہیں۔

جذبہ حب الوطنی سے لبریز ملکی مفاد میں محکمہ جنگلات میں ضلع اوکاڑہ میں کروڑوں کی خرد برد کی خبریں لگائیں جو کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے ماریہ بی بی کی رٹ پٹیشن پر مورخہ 15.09.2020 ڈی جی نیب لاہور کو کارروائی کا حکم صادر فرمایا۔ کرپٹ ٹولے SDFO افتخار جنجوعہ اور DFO گوہر مشتاق نے حسب روایت اپنے جرم کے پارٹنر اور تحفظ کار Facilitator ڈی پی او اوکاڑہ سے ساز باز کی اور SP انویسٹی گیشن اوکاڑہ اور DSP صدر سرکل اوکاڑہ ظفر اقبال ڈوگر سے مل کر تھانہ صدر اوکاڑہ میں جعلی مقدمہ 1378/20 درج کروایا اور FIR میں 0300-4425356 ، 0301-4315111 تحریر کر کے موقف اپنایا کہ مورخہ 19.09.2020 کو ملک محمد اسلم اعوان نے مدعی کے نمبر0300-7538766 پر کال کر کے مبلغ 9,50,000/- روپے بھتہ طلب کیا ہے جو کہ SHO مہر اسماعیل کو کال ریکارڈ ازاں جاز کمپنی حاصل کر کے دے دیا جس کی رو سے مورخہ 19.09.2020 کو کوئی کال مدعی کے مذکورہ نمبر پر نہ پائی گئی۔ مقدمہ جعلی اور جھوٹا ثابت ہو گیا ۔ دوسرا جعلی مقدمہ گوہر مشتاق DFO کی مدعیت میں تھانہ حجرہ شاہ مقیم درج رجسٹر ہوا۔ مقدمہ 938/20 بجرم 25D میں گوہر مشتاق نے FIR میں تحریر کیا کہ فون نمبر0301-4315111 سے بروز 21.09.2020 بوقت تقریباً 11 بجے مدعی کے نمبر0321-4171159 پر کال حسین اسلم نے کر کے دھمکیاں دیکر بھتہ مبلغ 4 لاکھ روپے طلب کیا جو کہ کال ریکارڈ جاری شدہ جاز کمپنی سے ثابت ہوا کہ مورخہ 21.09.2020 کو کوئی کال فون نمبر0301-4315111 سے فون نمبری مدعی 0321-4171159 پر نہ ہوئی۔ ہر دو مقدمات 1378/20 تھانہ صدر اوکاڑہ مقدمہ نمبر938/20 بجرم 25D تھانہ حجرہ شاہ مقیم بروئے کال ریکارڈ جعلی اور جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود ہر دو تھانوں کے SHOsمہر اسماعیل اور ملک ارشد خارج کرنے سے انکاری ہو گئے کیونکہ پولیس کے اعلیٰ افسران DSP ظفر اقبال ڈوگر اور DPO جعلی مقدمات کے مدعیان کا ذاتی طور پر دفاع کر کے نیب اور اینٹی کرپشن کارروائی سے بچانے کیلئے مدعیہ ماریہ بی بی، حسین اعوان کو انکوائری کی پیروی سے جعلی مقدمات میں گرفتاری کی دھمکی دیکر روکنا چاہتے ہیں اور DFO اوکاڑہ گوہر مشتاق اور SDFO اوکاڑہ افتخار جنجوعہ کو گرفتاری اور کروڑوں کی خطیر رقوم کی برآمدگی اور جیل جانے سے بچانے کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں۔ دوسری طرف ہم بھی ہر صورت حق اور سچ کا علم بلند رکھنے کا تہہ کر چکے ہیں اور سچ کی حرمت پر آنچ نہ آنے دینے کا عزم کر چکے ہیں۔ محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں کا محکمہ جنگلات کے کرپٹ مافیا سے گٹھ جوڑ ایک منظم مافیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف پورے مافیا اور نیٹ ورک کی طاقت ہے جو کہ محکمہ جنگلات کی لوٹی گئی کروڑوں کی رقوم کو محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں پر بے دردی سے خرچ کر رہے ہیں۔ ایک طرف محکمہ جنگلات کی کروڑوں کی خرد برد / پیسہ کی اور پولیس گٹھ جوڑ ہے تو دوسری طرف قلم اور جذبہ جہاد ہے۔ امید واثق بلکہ یقین کامل ہے کہ محکمہ پولیس کی کالی بھیڑیں محکمہ جنگلات کے کروڑوں خرد برد مافیا کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہونگی۔ جنگلات کرپٹ مافیا جیل جا کر وطن کی دولت لوٹنے کی سزا ضرور پائیں گے اور حق اور سچ کی فتح کا علم ضرور بلند ہو گا۔

ابھی تک ہے جاری حق و باطل کی جنگ
:
مقتل میں گھمسان کارن پڑا ہے
یزیدی عساکر ادھر بھی ادھر بھی
:
حسینـؓ آج بھی کربلا میں کھڑا ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: