انفرادی رویے از الیاس محمد حسین ( دھوپ چھاوں )

کئی سالوں پہلے امام صاحب روزگار کیلئے لندن پ ±ہنچے.روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا انکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے،ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر نشست پر بیٹھ گئے۔ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔
پہلے امام صاحب نے سوچاکہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ انکا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے.ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاونڈ کماتی بھی تو ہے،ان تھوڑے سے پیسوں سے انکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر ر کی تو امام صاحب کے ضمیر نے گوارانہ کیا کہ وہ اضافی پیسے رکھ لیں وجود میں ایک کشمکش ہونے لگی لیکن پھر وہ پرسکون ہوگئے انہوں نے ا ترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مجھے زیادہ دے دیئے تھے۔
ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے م ±سکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں ناں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔ یہ سن کر امام صاحب کو ایک چکرساآگیا وہ ایسے جیسے تیسے ہی بس سے نیچے اترے، انہیں ایسے لگا جیسے انکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہو، گرنے سے بچنے کیلئے انہوں نے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اٹھا کر روتے ہوئے د عا کی، یا اللہ مجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔
یاد رکھیئے بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔ یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے۔اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریںہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دورسے نظرآجاتا ہے۔“

Leave a Reply

%d bloggers like this: