پاکستان کی شان ڈاکٹر عبدالباری آپکی عظمت کو سلام از سجاد علی شاکر ( نگاہ سجاد )

پاکستان میں اگر مسیحاوں کی فہرست مرتب کی جائے تو ممکن ہے کہ ڈاکٹرعبدالباری ( بانی آل انڈس ہسپتال ) کا نام سر فہرست ملے۔اہل علم اور شعور رکھنے والی تمام شخصیات ڈاکٹر عبدالباری کے بارے جانتے ضرور ہوں گے۔گذشتہ چند ماہ پہلے انکو صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔راقم نے اپنی سیاسی کئیریر، سرگرمیوں کیساتھ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاہنہ انڈس ہسپتال میں جاب کے لیے اپنے کاغذات جمع کروائے۔یاد رہے کاہنہ ہسپتال مقامی ایم این اے رانا مبشر اقبال اور چئیرمین کاہنہ حاجی بشارت ،وائس چئیرمین ارشد رضا ایڈووکیٹ (مرحوم ) کونسلرز سجاد علی شاکر،ذولفقار قریشی ،سید عرفان شاہ اور دیگر احبا ب کی انتھک محنت کی وجہ سے میاں شہباز شریف کی طرف سے خصوصی فنڈکے اجراء کی بنا پر و جود میں آیا۔اچھے اور معیاری سہولیات کی عوام تک فراہمی کے لیے سرکاری عمارت کو انڈس مینجمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ۔جیسے ہی ہسپتال کی ذمہ داری انڈس مینجمنٹ کے پاس آئی تو عملہ بھرتی کا پروسس سٹارٹ ہو گیا ۔ راقم کو بھی کال وصول ہوئی اور راقم ویل ڈریس ہو کر میاں شہباز شریف ہسپتال بیدیاں میں حاضر ہوا ۔ وہاں پر موجود انٹرویو دینے کے لیے آنے والے لوگوں کو دیکھ کر راقم احساس کمتری کا شکار ہو گیا ۔سوچ میں پڑ گیا کہ اتنی اچھی تعلیم والوں کے ہوتے ہوئے اسکو جاب ملنا مشکل ہے مگر یہ سب و ہم ٹھہرا ۔انٹرویو لینے والی شخصیات میں ایس ایم اے بیدیاں ہسپتال اور ایچ آر منیجر مس صائمہ موجود تھی جو کہ اپنے تجربے کے ساتھ انٹرویو دینے والے تمام لوگوں سے سوال وجواب کر رہے تھے ۔راقم کیساتھ بھی مختلف سوالات پوچھے گئے اور بعد میں سلیکٹ کر لیا گیا ۔بغیر سفا رش اور پیسوں کے جاب مل جانا راقم کے لئے کسی خواب سے کم نا تھا ۔جاب ملنے کے بعد راقم نے انڈس مینجمنٹ کے بانی ڈاکٹر عبدالباری کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور راقم نے ایسے فرشتہ صفت انسان کے لئے دعا ء مانگی اور خود سے عہد کیا کہ انڈس کا حصہ بن کر جیسے بانی انڈس دکھی انسانیت کے لئے دن رات محنت کر رہے ہے انشا اللہ ء راقم بھی محنت کرئے گا،اور ایک اچھی ٹیم کا حصہ بنے گا۔کچھ دن بیدیاں ہسپتال میں ٹریننگ کرنے کے بعد راقم کو ایک دوست محمد عثمان کے ہمراہ کاہنہ انڈس ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔وہاں پر موجو د ایڈمنیسٹریٹر احمد سہیل صاحب ہماری ٹیم کے کمانڈر تھے۔کاہنہ انڈس ہسپتال میں ایس ایم اے کے تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے تمام معاملات احمد سیہل صاحب نہایت پر خلوص جذبے کیساتھ بغیر رات دن کی فکر کئے سر انجام دے رہے تھے ۔کچھ ہی دنوں بعدمیاں شہباز شریف نے ڈاکٹر عبدلباری کی موجودگی میں کاہنہ انڈس ہسپتال کا افتتاح کیا جسکے بعد ہسپتال کو تمام مریضوں کے لئے اوپن کر دیا گیا۔انڈس مینجمنٹ کی موجودگی کاہنہ شہر اور دیگر علاقہ جات سے آنے والے مریضوں کے لیے کسی رحمت سے کم نہ تھا۔یوں مقامی باسی اس نعمت سے مستفید ہونا شروع ہوئے ۔وقت گذرتے ہی ڈاکٹر فرحان فیروز کو کاہنہ ہسپتال میں ایس ایم اے تعینات کر دیا ۔ڈاکٹر فرحان فیروزنے اپنی قابلیت کیساتھ احسن انداز میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دینا شروع کی جیسے ہی میاں شہباز شریف کی حکومت ختم ہوئی اور تبدیلی سرکار کا سورج طلوع ہوا تو جیسے ہمارے ہسپتال کو کسی کی نظر لگ گئی ہو۔ہسپتال کو دئیے جانے والے فنڈ کو کم کر دیا گیا نوبت اس حد تک جا پہنچی تھی کے عملے کو تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ڈاکٹر عبدالباری نے ان حالات میں ذاتی طورپر دیگر ہسپتالوں کے بجٹ لیکراور خصوصی توجہ دے کر نظام دوبارہ بحال کیا ۔ان سخت حالات میں نظام کی بحالی کے لئے کاہنہ ہسپتال میں آنے والے نیو ایس ایم اے ڈاکٹر فیض الحسن ،او پی ڈی کورڈئینیٹر محمد رضوان ،ایڈمنیسٹریٹر حافظ قمر عباس ،احمد سہیل،گائینی کنسلٹنٹ ڈاکٹر رابعہ ،طاہرہ،حسام ،سعدیہ،عمانیوئیل شیراز،اللہ داد،سجاد شاکر،و قاص، مس فرحانہ، مبشر،ایوریش، سمیت دیگر سٹاف نے اہم کردار نبھایا۔ڈاکٹر فیض الحسن اپنے وسیع تجربے کی وجہ سے موجودہ حالات میں بھی نہایت احسن انداز میں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔پاکستان کے مایہ ناز سرجن ہونے کی وجہ ہر روز ان خدمات مقامی لوگوں کے لئے حاضر ہیں۔جناب محترم ڈاکٹر عبدالباری صاحب (سی ای او انڈس )آپکی خدمت میںراقم چند گذارشات اپنی ناقص عقل کی بابت میں پیش کرنا چاہتا ہے۔(۱)کاہنہ ہسپتال دیہاتی علاقے میں بنا ہے جہاں سب سے بڑی علاج کی ضرورت گائنی کی خواتین کی ہے۔کاہنہ ہسپتال میں بیس بیڈ پر گائنی سسٹم رکھا گیا ہے جو ڈاکٹرز حضرات احسن انداز میں اپنی ذمہ داری کیساتھ چلا رہے ہیںمگر اسے آبادی کے لحاظ سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔(۲)کاہنہ ہسپتال میں وینٹی لینٹر مہیا کئے جائے تا کہ آئی سی یو بحال کیا جائے ۔(۳)ہسپتال میں سویپر اور ایس پی ایس سکیورٹی کے اہلکار کی تنخواہ نہایت کم ہے ۔ جس سے بمشکل گزارہ کیا جا سکتا ہے اس پر نطر کرم کی جائے۔(۴)انڈس مینجمنٹ اعلیٰ افسران کو اچھی تنخواہیں مہیا کرتی ہے مگر درجہ چہارم کے ملازم کی تنخواہیں نہایت کم جس سے ایک فیملی کا گزاراہ مشکل ہے اسے بڑھایا جائے اور سالانہ اینکریمنٹ تسلسل کیساتھ لگا یا جائے۔(۵) کاہنہ انڈس ہسپتال کے تما م ریسپشن اوپن ہیں جس وجہ سے کرونا ء کے خطرات لاحق ہیں ان کو کور کیا جائے۔اختتام پر ڈھیڑوں دعائیں آپ اور اآپکی ٹیم ڈاکٹرفیض الحسن کے لئے اللہ تعالیٰ آپکو اورآپکے اہل وعیال کو دنیا کی تمام خوشیوں سے نوازے کوئی بھی غم آپکو چھو کر بھی نہ گزرے۔آمین

Leave a Reply

%d bloggers like this: