اغراض کے لیے جڑی پارٹنرشپ از اے آر طارق ( بے تکی باتیں )

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دو حریف اور الیکشن میں ایک دوسرے کے مدمقابل جماعتیں ہیں۔کبھی بھی ایک دوسرے کے حق میں اچھی نہیں رہی ہیں۔ اگر کبھی کوئی لمحہ ساتھ جڑے رہنے کا آیا بھی تواغراض نے ان کو جوڑ رکھاوالی بات ہی ہوئی ورنہ ایک دوسرے سے مخلص کبھی بھی نہیں رہی ہیں۔ ایک دوسرے کوگرانا،پر سنگ باری اور مخالفت معمول کی بات ہے جس میں ان دونوں جماعتوں میں سے کوئی جماعت بھی ایک دوسرے سے پیچھے نہ ہے جس کا جہاں تک دائو لگا،اس نے اتنا ہی دوسرے کو نقصان پہنچایاہے۔ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے ، شدید ترین مخالفت اوردونوں اطراف سے اشتعال انگیز تقریریں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیںسب پر پوری طرح عیاں ہے کہ زرداری ،نواز، شہبازو مریم کے ایک دوسرے کے بارے خیالات وتاثرات کیا ہیںاور سیاسی کھینچا تانی کا سلسلہ کس حد تک دراز ہے۔کون کس کا کتنا وفادار اور کون کس سے کتنا مخلص،کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیںہے۔ان سب باتوں کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت رہی ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے دروازے اپنے اپنے مفادات اور اغراض کے لیے ایک دوسرے پر ہمیشہ کھلے رہے ہیںمگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بن کبھی نہیں پائی ہے۔اس کی وجہ ایک دوسرے پر اعتماد کا بھرپورفقدان اورسیاسی چپقلش ہے۔کوئی بھی جماعت ایک دوسرے پر اعتبار کرو کی پالیسی پر کبھی بھی کاربند نہیں رہی ہے۔پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے ہی یہی موقف رہا جس کا اظہار گاہے بگاہے میڈیا پر بھی ہوا کہ’’ میاں برادران مطلب کے ہیں۔مطلب نکلتے ہی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں‘‘جبکہ مسلم لیگ ن والوں کو ہمیشہ یہی گلہ رہا کہ’’ پیپلزپارٹی والے سیاسی گیمرز،اِن کی پرخلوص دعوت پر ہربار اِن سے ہاتھ کرجاتے،پچ کے دونوں اطراف کھیلتے ،عین بیچ دوراہے پر آکر چھوڑجاتے،کبھی بھی لائق تحسین کردار ادا نہیں کیاہے‘‘۔تمام گلے شکوے اپنی جگہ بجاء مگر حقیقت یہی ہے کہ دونوں پارٹیز ایک دوسرے کے حق میں کبھی بھی اچھی نہ رہی ہیں ۔دونوں جماعتیں کبھی بھی ایک دوسرے سے مخلص ہوکر نہیں چلی اور نہ ہی چل سکتی ہیں اِس لیے کہ دونوں جماعتیں ہی ایک دوسرے کے خلاف اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچے ہوئے ہے۔آصف علی زرداری سیاست کی راہداریوں میں موجود میاں برادران کے ہی خلاف ہیں۔وہ ہمیشہ ہی میاں برادران کے ساتھ چل کر اِن کی کمزوریوں سے کھیل کر اِن کے ساتھ ہونے کا ناٹک رچا کر خود پیچھے اور دوسروں کو آگے لگا کر گیم کرتے وہ سیاسی اہداف جو حاصل کرنا چاہتے کرلیتے ہیں لیکن جب اس کا فائدہ ن لیگ والوں کو پہنچنے کی طرف صورتحال آجائے توہمیشہ کی طرح کوئی یوٹرن یا ہاتھ کھینچ لیتے ہیںکہ دیکھنے والا بس دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور بازی کوئی دوسرا لے جاتا ہے جس میں نقصان ن لیگ کا اور فائدہ پی پی پی کا ہوتا ہے جس کا انعام اُن سے بعد میں مل جائے گاجن کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔آصف زرداری بہت شاطر قسم کے سیاستدان ہیں۔دوسروں کے لیے مہرے کا کردار ادا کرتے ہیں اکثر اپنے مہرے بھی بمطابق وقت وضرورت ٹھیک ٹھیک استعمال کرتے ہیں۔ا نتہائی گھاگ انداز اپنائے اپنے مخالف کو ایسے چت کرتے ہیںکہ اُسے اپنے ہارنے کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے ہیں اورآنا فانا سیاسی پانسہ پلٹ کے رکھ دیتے ہیں۔جب تک دوسرے کو اِس کا احساس ہوتا ہے گیم اُس کے ہاتھ سے تب تک نکل چکی ہوتی ہے۔ایسے چالاک وشاطر سیاستدان جو ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ،کم کم ہی پائے جاتے ہیں۔کبھی کسی کے لیے مہرے کاکردار اور کبھی خود کسی کے لیے مہرہ کا کردار اتنا احسن طریقے سے نبھاتے ہیں کہ انہیں داد دئیے بغیر رہا نہیں جا سکتاہے۔آصف علی زرداری کبھی بھی میاں برادران کا خیر خواہ نہ تھا،نہ ہے اور نہ رہے گا۔مفاہمت اور تعاون کی آڑ میں جتنا نقصان میاں صاحب کو زرداری نے پہنچایا ہے کوئی دوسرا نہیں پہنچاسکتاہے۔میری ناقص رائے کے مطابق صحیح بات تو یہ ہے کہ آصف علی زرداری ہی وہ شخص ہے جو مدد اور ساتھ دینے کی کوششوںمیںبلا کر اور ہمدردیاں سمیٹ کر میاں فیملی کی کمزوریوں کو بھانپ کر اُن کا فائدہ اٹھاکراُن کو اِس حال تک پہنچانے کا موجب بنا ہے ۔کوئی مانے یا نہ مانے مگر حقیقت یہی ہے ۔اسی طرح نوازشریف کی صورتحال بھی یہ ہے کہ جب وہ برسراقتدار ہوتے ہیں توپھر اقتدار اور اختیار کے نشے میں دھت ہوئے انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتاہے ۔دشمن کوتو رگیدتے ہی ہیں اپنے محسنوں پر بھی سنگ باری کرنے اور اُن سے منہ موڑنے سے باز نہیں آتے ہیں۔اقتدار پر فائض ہوکر تکبر ورعونت کے ساتھ دشمن کو للکارے،اپنوں کو بھی تختہ مشق بنائے ،جو اچھی کھری بات کرتے اِن کی محبت میں، کوسانپ اوربچھو بنانے پر تل جاتے ہیں اور جواِن کی فطرت سے واقف ،اِن کے سامنے خوشامد اور چاپلوسی کا مظاہرہ کرتے ،انہیں بڑالیڈر شو کرتے اور قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمھارے ساتھ کا نعرہ لگا کرافراد اور اداروں سے ٹکرانے اور ملک کے کاز کے خلاف بیان بازی کا مشورہ دیتے اور بلے بلے میرے شیر نواز کہتے نہیں تھکتے،بلاشبہ پس پردہ جڑیں ہی کاٹ رہے ہو،اِن کے مرنے اور کفن دفن کا پورا سامان تیار کیے بیٹھے ہو،کواپنی ’’عقل مندی‘‘سے اپنا ہمدرد سمجھ بیٹھتے ہیں۔بے وقت اورغیر مناسب حالات میں دوسروں پر اندھا دھند اعتبار کرکے اپنی نیا اپنے ہی ہاتھوں ڈبونے کے فن سے بخوبی واقف بلکہ ماہر کاریگر کی طرح اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ڈبو دینے کی حد تک قابلیت رکھتے ہیں۔ساتھ دینے والے مداری حالات خراب کرکے ،اِن کی نیا ڈبو کر ،اپنا مقصد حاصل کیے نودو گیارہ ہوجاتے ہیںاِنہیں یہ پوچھنے کے لیے کہ مجھے کیوں نکالایامیرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے؟ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔اِن کی بے بسی ،لاچارگی ،مت ماری صورتحا ل میںاب بھی بہت سے لوگ اِن کے گرد جھمگٹا بنائے اِن کو ہمدردی کے نام پر گھیرے ہوئے اِنہیں سکون سے نہیں رہنے دے رہے ہیں۔نواز کی عقل پر بندھ باندھے ن لیگ اور میاں فیملی دونوں کے لیے قبریں کھود رہے ہیںجن کا احساس شاید ہی اِن کو خوشامدیوں اورمفادپرستوں کے جھمگٹے میں ہورہا ہو۔اکثر مخالفین پر سنگ باری کرکے نقصان اٹھاتے مگر اتنا نقصان دوسروں سے نہیں اُٹھاتے ،جتنا خود اپنی ہی حماقتوں سے خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار کے اٹھالیتے ہیں۔ اکثر خسارے کا سفر ہی طے کرتے ہیں۔تمام تر’’ بلندیوں ‘‘پر ہونے کے باوجود بھی اپنی بے وقوفیوںاورخوشامدی افرادکی بیٹھک کے دلدادہ ہونے اور واہ واہ سننے کی خواہش میں ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر جاتے ہیں اور پھر روتے ،چیختے چلاتے ہیںمگر پھر اِس’’ آواز تلخ‘‘ کو سننے والا کوئی نہ ملتاہے اور کچھ باقی نہ رہ جاتاہے حسرتوں اور ناکامیوں کے علاوہ ایک عبرت کی جا کے طور پر۔ مفاد پرستوں اورخوشامدیوں کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے وہ اُمید بھی دم توڑ جاتی ہے جو کارگر ثابت ہوجائے۔اکثراپنی ہی نالائقییوں سے اُس مقام کو بھی دیکھ لیتے،جو نہیں دیکھنا ہوتا اور پھر پچھتاتے ہیں۔اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ جائیں کھیت۔اکثر ایک دوسرے کے ساتھ محض اغراض ومفادات کے لیے جڑے ہوتے،آپس میں ایک دوسرے سے مخلص ہرگز نہیں ہوتے ہیں۔ اب بھی سامنے واہ واہ اورپیٹھ پیچھے ٹھاہ ٹھاہ کرتے نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: