محبت کا کعبہ گُنبد خضراہے از محمد طاہر تبسم درانی ( دن نہیں ہور ہا )

شاعر نے کیا خُوب اپنی عقیدت اور محبت کا والہانہ اظہار کیا ہے!
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں
میرے آقا ﷺ کا روضہ مدینہ میں ہے !
نبی محتشم آقا کریم فخر موجودات حضرت محمد مصطفی ﷺ سے والہانہ محبت اور عقیدت ہی اصل ایمان ہے اگر اس میں ذرہ برابر بھی جھول ہو تو ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔کعبہ اللہ کا گھر ہے تو مدینہ میرے حضور پُر نور خاتم الانبیاء ﷺکا گھر ہے ۔ کعبۃ اللہ کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے اسی رُخ ہر کلمہ گو منہ کر کر نماز ادا کرتا ہے اس لیے کعبہ شریف کی اہمیت روئے زمین پر تمام جگہوں سے زیادہ ہے یہی وہ عظمتوں والی جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کے بیٹے اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام نے ایڑیاں رگڑیں اور وہ پانی کا چشمہ جاری ہوگیا جسے آب ِ زم زم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسے اتنی عظمتوں سے نوازہ کہ آج تک نہ پانی کی مٹھاس میں کمی آئی نہ اس کے خواص بدلے اور نہ ہی اس کی رنگت میں فرق آیا۔یہ عظیم چشمہ اللہ کے پیارے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسبت سے نصیب ہوا۔کعبہ شریف میں وہ عظیم پہاڑی صفہ اور مروہ ہے جہاں بی بی حاجرہ علیہ السلام پانی کی تلاش میں دوڑیں اور اللہ کو یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اسے عمرہ اور حج کا لازمی رکن قرار دیا۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے پیارے حبیبﷺ نے اپنے دست ِمُبارک سے جنت سے آئے پاک اور قدس پتھر (حجر اسود) نصب کیا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مولا علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت بسعادت ہوئی۔یہی وہ شہر ، شہرِمکہ جس کی قسمیں میرے اللہ نے قرآن میں کھائیں ۔ عبادت کا کعبہ کعبۃاللہ ہے لیکن محبت کا کعبہ گُبند خضرا ہے ۔
مدینہ منورہ سے عقیدت ہر مسلمان کے ایمان کاجزو ہے ۔ جسے ہر مسلمان اپنے دل و جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے ۔کعبہ میں آبِ زم زم ہے تو مدینہ میں ریاض الجنۃ ہے ۔ریاض الجنۃ کے بارے پیارے کریم آقا ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ۔ ترجمہــ’’ روضہ رسول سے لے کر ممبر تک کی درمیانی جگہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیار ی ہے ‘‘ اسی پر اہلِ ایمان لکھتے ہیں !
کبھی روضے سے ممبر تک
کبھی ممبر سے روضے تک
ا ِدھر جائوں اُدھر جائوں
بس اسی حالت میں مرجائوں
مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ ہے تو گنبد خضرا کے ساتھ جنت البقیع ہے جہاں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات آرام فرما رہی ہیں ۔مدینہ منورہ یعنی نور والی بستی ، یہ شہر اسلام کا دوسرا بڑا مقدس ترین شہر ہے ۔ نبی کریم ,ﷺ کے ہجرت سے پہلے یہ شہر کو یثرب کے نام سے جانا جاتا تھا ، یہ شہر بیماریوں کا گھر ہوتا تھا لیکن آمد رسول ﷺ کی برکت سے اللہ کریم نے اسے محبتوں چاہتوں اور خوشیوں کا شہر بنا دیا ۔اس شہر کے بارے پیارے نبی کریم ﷺ نے خصوصی دعا فرمائی ،جب یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت بلا ل ر ضی اللہ تعالی عنہ کو سخت بُخار ہو گیا تو پیارے نبی آخرالزماں ﷺ نے اللہ کریم سے دعا فرمائی ’’ اے میرے پیارے اللہ اس وبا کو اس شہر سے کسی دوسری طرف موڑ دے اور ہمارے دلوں میں مدینہ کی ایسی محبت ڈال دے جیسے تُو نے مکہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی تھی‘‘۔اس کے بعد حضور ﷺ کے دونوں عظیم صحابہ کی صحت یابی ہوئی اور بیماری جاتی رہی اور آج تک مدینہ محبتوںکا گہوارہ بن گیا ۔اس کے باسیوں یعنی انصار نے الفت اور محبت کی ایسی فضا قائم کی کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ یہ شہر شروع سے ہی اہم تجارتی مرکز تھا۔
حضور پاک ﷺ فخر دو عالم اور اُن کے ساتھی مہاجر جب کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اللہ کی ہدایت کے مطابق ہجر ت کر کے اس شہر آئے تو اس شہر کا نام یثرب سے بدل کر مدینہ النبی ﷺ رکھ دیا گیا جو بعد میں صرف مدینہ منورہ سے جانا جاتا ہے ۔مسلمانوں کے پہلے دارلخلافہ کا شرف بھی اسی مقدس شہر کو حاصل ہے اسی شہر میں میثاقِ مدینہ ہوا، اور انصار نے ایسی قربانیاں دین جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی ۔پیارے آقا کریم ﷺکو اس شہر سے اتنی محبت تھی کہ جب آپ ﷺ سفر سے واپس تشریف لاتے تو شہر کے قریب آتے ہی اپنی سواری تیز کر دیتے ۔ اس شہر سے محبت اور عقیدت کے بارے نبی محتشم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جو شخص مدینہ کی پریشانیوں اور مصیبتوں کو برداشت کر ے گا قیامت والے دن میں اس کی سفارش یا گواہ ہوں گا‘‘۔نبی کریم ﷺ وہ ید اللہ کے ہاتھوں والے، ولیل کے ذُلفوں والے ، اُمتیوں کے رکھوالے، وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے ، وہ یسین ، وہ طحہٰ، وہ قاسم ، وہ حاشر، وہ کملی والے ، جس نے مدینہ کو مکرم و محترم قرار دیا۔مدینہ سے اس قدر محبت کہ خاردار درختوں کے کاٹنے اور شکار کرنے سے بھی منع فرمایا۔

نبی مکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے ’’ مجھے اُحد پہاڑ سے محبت ہے اور یہ مجھ سے محبت کرتا ہے ‘‘ اس حدیث کی روشنی میں اہلِ علم نے اُحد پہار سے محبت کا مطلب اس کے قرب و جوار میں رہنے والے یعنی اہلِ مدینہ سے محبت کرو۔مدینہ منورہ یعنی نور والی بستی جہاں میرے آقا کریم ﷺ کا روضہ مبارک ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’ میری اس مسجد میں نمازکا ثواب دوسرے مساجد سے زیادہ ہے ، سوائے مسجد حرام ۔ بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ مسجد نبوی شریف میں نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے ۔یقنیاََ جس قدر خلوص اور نیت کے ساتھ حاضر ہو کر نماز پڑھیں گے اجرو ثواب کا پیمانہ بھی اسی قدر زیا دہ بھرے گا۔اس عظمتوں والے شہر میں مسجد قبلتین ہے یہ وہی مسجد ہے جہاں آقا دو عالم ﷺ کی خواہش کی تکمیل میں اللہ جلہ شانہ نے قبلہ کا رخ موڑ کر بیت اللہ شریف کو مسلمانوں کا قبلہ بنا دیا۔اسی شہر میں وہ تاریخی مسجد قبا ہے جو مسجد نبوی شریف سے کوئی ۴ (چار) کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے اس مسجد مبارک کی بنیادیں پیارے کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے مل کر اپنے دستِ مُبارک سے رکھیں ۔ مدینہ منورہ ،مدینہ النبی ﷺکے بارے آ پ ﷺ نے فرمایا’’ مدینہ کا ہر شہری
میر ا ہمسایہ ہے ‘‘۔
انصار ِ مدینہ کی محبت خلوص اور بھائی چارے کی مثالیں آج تک زندہ و جاوید ہیں ، قُرآن مجید فرقان ِ حمید نے انصار کے کچھ اوصاف یوں بیان کیے ہیں ۔۱) انصار و ہ ہیں جن کے دِ ل میں مہارجرین کی محبت ہے ۲) انصار وہ ہیں اگر مالِ غنیمت میں سے مہاجرین کے فقر اور غربت کی وجہ سے اگر کچھ زیادہ عطا کر دیں تو اِ ن کے دل تنگ اور پریشان نہیں ہوتے ۳ )انصار ہمیشہ خود سے زیادہ مہاجرین پر ترجیح دیتے اگر چہ کہ خود اِن کو فاقہ ہی کیون نہ کرنا پڑے!
حضور پُر نور نبی محتشم محمد عربی ﷺ مدینہ منورہ کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے جب کبھی سفر سے تشریف لاتے تو چہرہ انور پر خو شی کے آثار ظاہر ہوتے آپ ﷺاپنی چادر مبارکہ کو بازوسے ہٹا دیتے اور وضحٰی کا مکھڑا صاف نہ فرماتے اور ارشاد فرماتے ــ’’ مدینہ کی خاک میں شفا ہے ‘‘ آپ ﷺ کو مدینہ سے اس قدر محبت تھی کہ رسول ِ خدا آخرالزمان فرماتے ’’ جس سے ہو سکے کہ مدینہ میں مرے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا تو میں اس کی شفاعت کروں گا‘‘ تو پھر کیسے ممکن ہے کہ میری محبت کا کعبہ مدینہ نہ ہو۔ اس لیئے توشاعر نے کہا!
پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہوموت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو
کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں اب تیر ا مرنا جینا مدینہ میں ہے !

Leave a Reply

%d bloggers like this: