ویڈنگ دا سیزن ہے، مہنگی ترین شادی اور رکشوں پربارات آخر کس کی از علی جان

0 19

شادی کی بات ہوتوسب کے ذہن میں اپنی شادی کاخیال آتاہے جس کی ہوئی یاجس کی نہیں ہوئی کوئی اپنے گزرے لمحات میں کھوجاتاہے توکوئی آنے والے لمحات میں مگن رہ جاتاہے ارے محترم قارئین آپ کہاں کھوگئے ہم توآج آپکواس شادی کابتانے جارہے جس نے پاکستان میں ہلچل مچاکے رکھ دی جس ایک شادی کے بدلے تقریباًایک لاکھ مڈل کلاس فیملی کی شادیاں ہوسکتی تھیں جی ہاں شادی دوارب کی جس پرایف بی آر نے رپورٹ طلب کی تھی سب حیران تھے کہ اب کیاہوگاشادی رک جائے گی، انکوائری میں کیاہوگا؟ مگرعقل والے لوگ جانتے تھے ارے سب گول مال ہے یعنی جودوارب خرچ کرسکتاہے وہ کچھ اورنہیں خرچ کرسکتااچھاچلوجوبھی ہواس میں خرچ کچھ یوں ظاہرکیاگیاہے روز بلانکا کنٹری کلب کو120روز کیلئے بک کیاگیاتھااورکلب کی ادائیگی میں 15کروڑ اداکیئے گئے تھے اوربحریہ گرین گرینڈہوٹل میں ولیمہ کی تقریب رکھی گئی اوراس کی تفصیل کچھ یوں ہے راحت فتح علی خان کو55لاکھ روپے اورعاطف اسلم کو50لاکھ روپے اداکیے گئے ایونٹ منیجمنٹ کودوکروڑ اداکیے گئے آتش بازی کیلئے ایک کروڑ خرچ کیاگیاڈیکوریشن کیلئے دوکروڑ احسن حبیب اورفوٹوگرافرکوایک کروڑچالیس لاکھ مبین سٹوڈیوکو20لاکھ مغل شاٹس کو 35لاکھ مولاناطارق جمیل کو نکاح کیلئے 10لاکھ روپے اداکیے گئے مگرمولاناطارق جمیل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ میرے لیے لمحہ فکری ہے کہ میں نے اپنی دوستی کی بناپر شرکت کی نہ پیسوں کیلئے اورنہ ہی کچھ لیاجب مولاناصاحب نے واضع کردیاپھریہ ایف بی آروالوں نے انکوائری ٹھپ کردی کچھ سمجھ آئے توناچیز کی مددفرمادیجیے گا۔محترم قارئین ایک توکرونانے جان پربنائی ہوئی ہے بجائے اس کے کہ لوگ اپنی دولت کی منہ دکھائی کراتے رہیں انہیں چاہیے کہ ان دنوں ملک وقوم پرکچھ خرچ کریں تاکہ آخرت کے وقت یہ رقم ان کے کام آسکے قارئین جب ہماری شادی ہوئی تھی توچارپانچ لاکھ خرچ ہواتھاجسے گائوں والوں نے کہا بڑاخڑچ کردیااوریقیناً میری فیملی نے لائٹنگ اورڈیکوریشن اورمہمانوں کی خاطرتواضع بھی کمال کی تھی خاطرتواضع سے یاد آیارواں ہفتے ایک شادی میں ہماری بھی خاطرتواضع ہوئی اوراس شادی کی حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی بارات ہزاروں رکشوں اورسینکڑوں گاڑیوں پرآئی جی ہاں میں کسی اورشادی کی نہیں صدرلاہورعوامی رکشہ یونین ذیشان اکمل کی شادی کی ہی بات کررہاہوں شادی کاعلم توتقریباً ایک ماہ سے تھامگرپھربھی رسماً مجیدغوری چیئرمین عوامی رکشہ یونین وعوامی پاسبان نے کال کی کہ کل تیل مہندی کی رسم ہے توفیملی سمیت آناہے اگلے روز ہم بتائے گئے ایڈریس پرپہنچے توایسی خوبصورتی کہ جوبھی دیکھتاوہ دیکھتے ہی رہ جاتا۔ باہرممالک سے دوست ورشتہ دارآئے تھے جن سے ملاقاتیں ہوئیں شادی کی رسم پوری ہونے کے بعدہم گھرآئے پھراگلے روز بارات پرگئے توذہن وگمان میں نہ تھاکہ عوامی رکشہ یونین کے عہدیداران وذمہ داران سینکڑوں رکشووں کوسجائے برات لیے ساتھ چل پڑے مجیدغوری کے سیاسی کاروباری دوست اپنی اپنی گاڑیوں میں ساتھ روانہ ہوئے معاملہ صرف یہاں تک نہ رکابلکہ ایک بگھی کی طرح سجاہوارکشہ آیاتواس میں مجیدغوری اوردولہاذیشان اکمل اوردوست واحباب موجود تھے جسے دیکھ کے ہرایک کی نگاہ جم سی گئی میڈیارپورٹرزتھے کہ آگے پیچھے بھاگ رہے تھے سوشل میڈیاورکرز کیمرہ مین ہرایک یہ منظرقیدکرناچاہتاتھا سب بارات چلتی اپنی منزل کوپہنچی دلہن کے گھرساری رسم ہورہی تھی لوگ تبصرہ کررہے تھے کہ اب دلہن ہے تواب گاڑی میں جائیں گے ان کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں مگرجب دلہن آئی توہمیشہ کی طرح مجیدغوری صاحب نے سب کو حیران کردیادلہادلہن کورکشے میں بٹھایااوررکشہ چلاکربارات وگھرکی طرف لے کے روانہ ہوئے اپنے لیڈرکی رکشہ برادری سے محبت دیکھ کرہررکشہ والا اشک بارتھاکیونہ مجیدغوری نے رکشہ برادری کوعزت دلوائی ۔ بارات کے بعد ہفتہ کے روز دعوت ولیمہ تھی جس میں سیاسی سماجی صحافتی برادری کے علاوہ رکشہ برادری کی بڑی تعدادموجودتھی شادی کی تقریب کو ایونٹ منیجمنٹ ایسوسی ایشن نے اریج کیااوران کانام نہ لکھناسراسرناانصافی ہوگی کیونکہ اتنی خوبصورتی اورمنیجمنٹ سے نبھایاکہ ہرایک تعریف کرتانظرآیاچیئرمین ذیشان وعلی ہاشمی سے بات ہوئی تو کہاکہ ہم پیسے کے بجائے معیارکوترجیح دیتے ہیں ولیمہ کی تقریب میں صوبائی وزیرمیاں محمودالرشید، نائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ، فریدپراچہ، صدرملی یکجہتی کونسل میاں مقصود احمد، گلوکارعارف لوہار، ایم پی اے ندیم عباس بارا، سابق ایم پی اے چوہدری شوکت،چیئرمین ایونٹ منیجمنٹ ایسوسی ایشن ذیشان علی ہاشمی، صہیب شریف صدریوتھ ونگ جماعت اسلامی، احمدسلمان بلوچ، چوہدری محمودالاحد، مسلم لیگ فنکشنل پنجاب کے جنرل سیکرٹری میاں مصطفی رشید، عابدمیر، وائس چیئرمین پی ایچ اے ذیشان رشید، چیئرمین زکوۃ عشر شبیرسیال، چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرایسوسی ایشن عرفان کھوکھر،،صحافیوں میںزوہیب بٹ، رضوان نقوی،محمد فہم، نجم ولی خان، شفیق چوہدری، علی جان میگزین ایڈیٹردھنک رنگ،، چیئرمین پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل تنویرخان، حافظ ولید مرکزی رہنماجماعت الدعوۃ ، حافظ اللہ یارسپرافنانس سیکرٹری ہائی کورٹ لاہورو معززین دیگرنے شرکت کی محترم قارئین میں جیسے ہی شادی کے پنڈال میں پہنچاتوایک آڈمی نے مجھے آکے گلے لگایاکہ ہم آپکے کالم پاکستان سے باہر بیٹھ کرپڑھتے ہیں آپ بہت کمال لکھتے ہیں اوراس شادی کی تقریب پربھی آپ نے لکھناہے اورمیراحوالہ ضرور دیناہے کہ ہم بھی آپ کے قارئین میں شمارہیں میں نے انہیں دیکھابہت ہی سلجھے ہوئے اوربزرگ انسان تھے مگرمیں جانتانہیں تھاان کے جانے کے بعد میں نے فیاض شاہ مرکزی سیکرٹری جنرل عوامی رکشہ یونین سے پوچھاکہ یہ کون صاحب ہیں تومجھے بتایاکہ یہ ہمارے چیئرمین مجیدغوری صاحب کے بھائی ریاض غوری صاحب المعروف صوبہ صاحب ہیں میری بے اختیارہنسی نکلی کہ سات سال سے نام سنتے رہے ہیں فون پربیسوں مرتبہ بات بھی ہوئی مگرملاقات پہلی مرتبہ ہوئی اسی وجہ سے ان کانام الگ لکھا۔شادی سے واپسی پرمجیدغوی صاحب سے اجازت لی توانہوں نے کہا دیکھاہم آپ کونہیں بھولے توراقم نے یہی کہاکہ اگرآپ نہ بھی بلاتے تومیں نے ضرورآناتھاکیونکہ یہ شادی میرے لیے اہم تھی اورمیں نے یہ بات صر ف کہی نہیں یہ حقیقت ہے کیونکہ ذیشان صاحب سے بھائیوں اوردوستوں والاتعلق ہے اوربھائی کی شادی کوئی کیسے مس کرسکتاہے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: