تنگ نظر بھارت از مہک سہیل

پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسلسل کشیدگی ہے۔ پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرنے کے لیے بھارت ہمہ وقت کوشاں ہے۔اقوام عالم کو فوری طور پر بھارت کے خلاف اہم اقدامات اور کارروائیاں کرنے میں اب مزید تاخیرنہیں کرنی چاہئے۔کئی طاقتوں کا بہت زور کے بعد بھی پاکستان کو بلیک لسٹ میں تو نہیں ڈالا گیا لیکن پوری کوششوں اور شرائط پر عمل کے باوجود گرے لسٹ سے بھی نہیں نکالا گیا۔کرپٹ سیاست دان اور وہ لوگ جو اپنی کرنی چھپانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے نظر آتے ہیں یہی وہ لوگ ہے جو دشمانانِ پاکستان کو موقع دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف پوری دنیا کے سامنے زہر اگلے۔ ان لوگوں کی وجہ سے بھارت کے تنگ نظر اور مفلوج سوچ کے حامل سیاست دان پاکستان کے خلاف سازشی عناصر رَچتے ہیں۔بھارت خود کو دنیا کے آگے بڑا بنانے کے بجائے ہر اس ریس میں پاکستان کو چھوٹا دکھانے کی کوشش میں لگا رہتاہے جہاں بھارت کو خود کے لالے لگتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی پاک سرزمین کو خون کے رنگ سے رنگنے کی ایسی آزمودہ سازشوں کا پتا ابھی کچھ دن پہلے ہی بریفنگ سے لگا۔تو سوچ میں پہلے یہ نہیں آیا کہ اگر یہ کامیاب ہوجاتے تو کیا ہوتا البتہ خون جوش اس بات پر مار گیا کہ اگر وہ پاک فوج کے ہاتھ لگ جاتے تو اس بار پچھلی بار کی طرح بات چائے کے ایک کَپ تک محدود نہیں رہتی۔ پی ڈی ایم کی یکجہتی جو اس وقت ملک کو اور مسئلوں اور آزمائشوں کی جانب لیکر جانا چاہتی ہے اس سے نہ ملک کا فائدہ ہے اور نہ ان جماعتوں کا۔بظاہر ان جماعتوں کے ایک دوسرے کے خلاف تحفظات ہیں،اپنے اپنے مفادات کی بھی بھیڑچال ہے لیکن انہوں نے حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ٹف ٹائم دینے پر اتفاق کیا۔دیکھنا ہے کہ اب جس طرح کورونا نے چاروں جانب سے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس صورتِحال میں ان کا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے۔دوسری جانب این سی او سی کی ہدایات کا مقصد لوگوں کو وبا کی دوسری لہر سے بچانا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ عوام کورونا سے محفوظ رہنے کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں اس کے برعکس سیاست کا ماحول بھی گرم ہے۔جن حالات سے ملک اس وقت گزر رہا ہے ایسے میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک آواز ہوکر پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے سختی سے آواز ہر فورم پر اٹھانی چائیے ،فوج مخالف بیانات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے کیونکہ ایسے بیانات سے ملک کی امیج دنیا بھر میں ایک سوالیہ نشان کے ساتھ دکھائی جاتی ہے۔اس وقت سیاسی صورتِ حال میں توازن کی ضرورت ہے۔ اب دھرنا دھرنا کھیلنے کا وقت نہیں ہے اور اگر ایسا زبردستی کیا جائیگا تو اس سے سراسر صرف حکومت کو نہیں ملک کی معشیت اور سلامتی کو بھی بہت بڑا نقصان ہوگا۔ضروری ہے کہ جزبات کو قابو رکھ کر الفاظ کا استعمال کیا جائے دشمن تو طاق میں بیٹھا ہے الفاظ کو ہتھیار میں بدلنے کے لیے۔ ہماری فوج کو ہمارے اعتماد اور ساتھ کی ضرورت ہے۔ملکی سلامتی ہمارا اولین فرض اور مقصد ہونا چائیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: