کورونا وادی میں اقتدارکی جنگ از غلام مرتضیٰ باجوہ ( ایوان اقتد ارسے )

0 17

کورونا وائرس کی دوسری لہر نہایت ہی خطر ناک ہے‘ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری کے ماحول میں ’28 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کووڈ 19 کی وجہ بننے والا وائرس کسی بھی چیز کی سطح جیسا کہ بینک نوٹ، فون کی سکرین اور سٹین لیس سٹیل پر 28 دن تک رہ سکتا ہے۔یہ نتائج آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی کی تحقیق میں سامنے آئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ سارس کووڈ 2 ہماری سوچ سے زیادہ لمبے عرصے تک زندہ رہتا ہے۔تاہم یہ تجربہ اندھیرے میں کیا گیا تھا۔ الٹراوائلٹ لائٹ سے پہلے ہی سامنے آ چکا ہے کہ اس سے وائرس مر گیا تھا۔کچھ ماہرین نے اصل زندگی میں کسی بھی چیز کی سطح سے وائرس کی منتقلی سے زندگی کو لاحق حقیقی خطرے جس کا اس تحقیق میں بتایا گیا ہے پر شک کا اظہار کیا ہے۔کورونا وائرس عام طور پر اس وقت پھیلتا ہے جب لوگ کھانستے ہیں، چھینک مارتے ہیں یا پھر بات کرتے ہیں لیکن یہ بھی ثبوت موجود ہیں کہ کورونا وائرس ہوا میں معلق ذرات سے بھی پھیل سکتا ہے۔امریکہ میں بیماریوں اور ان پر کنٹرول سے ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کورونا میں تب مبتلا ہو جائے جب اس نے پلاسٹک یا دھات کی کسی ایسی سطح کو چھو لیا ہو جو وائرس سے متاثر ہو۔
دوسری جانب پاکستان میں اب تک درجنوں منتخب ارکانِ پارلیمنٹ سمیت متعدد سیاسی رہنما کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ دو سابق ارکان صوبائی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سات ارکان اس وبا سے ہلاک بھی ہوئے ہیں جبکہ کورونا سے صحت یاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ دوسری جانب ارکان پارلیمان اور سیاست دان سمجھتے ہیں کہ روایتی اور حلقوں کی سیاست میں کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر کوشش کے باوجود عمل ناممکن سا کام ہے۔
گلگت بلتستان الیکشن کے نتائج سے قبل پی ڈی ایم میں شامل سیاستدانوں کے کورونا رزلٹ بھی مثبت ہی آرہے تھے کچھ کورونا سے خوفزدہ کچھ نیب سے پریشان۔ سب قرنطینہ میں بند، سیاست سڑکوں سے ڈرائننگ رومز منتقل تھی، سماجی فاصلے برقرار، نفرتوں کا وائرس گھس گیا ہے تو قربتیں کیسی، دور ہٹ کے بیٹھو بچ کے رہو۔بتایا جاتا ہے کہ بہت پہلے ایک بزرگ نے کہا تھا ”جو بھی نفرت کی ہے دیوار گرا کر دیکھو، دوستی کی بھی ذرا رسم نبھا کر دیکھو“ مگر کہاں کی دوستی کیسی محبت، سیاست نے سماجی فاصلوں کے نام سے نفرت کی دیواریں اتنی اونچی اٹھا دی ہیں کہ فصیل شہر بن گئی ہیں۔
اس پر بھی سیاست حالانکہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا سیاست کا کون سا چیپٹر ہے۔ عالمی وباء کوروناوائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر انسداد کورونا وائرس پر عمل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ جبکہ پی ڈی ایم نے جلسوں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں اس میں سیاست کیسی، مگر شوقین مزاج سیاستدانوں کا کیا کیا جائے کہ وہ سیاست چھوڑنے کو تیار نہیں۔عوام اپنے معاشی مسائل، مہنگائی، ذرائع آمدنی کی بندش اور فاقہ کشی سے نڈھال ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں تعلیم و آگاہی کی کمی، ملاوٹ، آلودگی، گندگی، صاف پانی کا نہ ہونا، ڈاکٹروں، ادویات اور سہولیات کی کمی ہے۔علاج معالجے کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ہر شہری کو علاج معالجے کی یکساں سہولیات میسر ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز کے شہریوں کی اکثریت اس حق سے محروم ہے۔ ہمارے ملک میں بنیادی اور عام بیماریوں سے بھی بے شمار اموات واقع ہو جاتی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے ڈاکٹروں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ڈاکٹر موجود ہیں انکی اکثریت گاؤں میں جانے کو تیار نہیں ہوتی۔ گاؤں اور دیہاتوں میں اتائیت، غیرتربیت یافتہ دائیوں، نیم حکیموں اور جعلی ڈاکٹروں کی بھرمارہے۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ہیں ان میں سہولیات، سازوسامان اور ادویات کا فقدان ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کا منشور اتائیت و نیم حکیمی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ نگرانی اورمانیٹرنگ کا آزادانہ اور شفاف نظام ہونا چاہیے۔ مقامی کمیٹیاں بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ شکایات درج کروانے کے آسان اور سادہ طریقے متعارف کرانا بے حد ضروری ہے۔ اس ضمن میں کمپلینٹ باکس اور آن لائن جیسی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔قارئین، صحت جیسے اہم شعبے میں بہتری لانے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
علاج معالجے کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ہر شہری کو علاج معالجے کی یکساں سہولیات میسر ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز کے شہریوں کی اکثریت اس حق سے محروم ہے۔ ہمارے ملک میں بنیادی اور عام بیماریوں سے بھی بے شمار اموات واقع ہو جاتی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے ڈاکٹروں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ڈاکٹر موجود ہیں انکی اکثریت گاؤں میں جانے کو تیار نہیں ہوتی۔ گاؤں اور دیہاتوں میں اتائیت، غیرتربیت یافتہ دائیوں، نیم حکیموں اور جعلی ڈاکٹروں کی بھرمارہے۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ہیں ان میں سہولیات، سازوسامان اور ادویات کا فقدان ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے پی ڈی ایم اور دیگر جماعتوں کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر نا ہو گی ورنہ کورونا وادی میں اقتدارکے لئے جنگ ”جلسے“ جاری رکھنے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: