Prof Abdullah Bhatti Today's Columns

میراثیوں کا راج از پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ( بزمِ درویش )

Prof Abdullah Bhatti

نورا میراثی پچھلے کئی سالوں کی طرح آج بھی عید ملنے میرے پاس آیا ہوا تھا یہ میرا پسندیدہ کریکڑ تھا خوب باتیں کرتا اب یہ بوڑھا ہوا گیا تھا میں پچھلے پندرہ سالوں سے اِس کو جانتا ہوں یہ لفظوں کی جادوگری کے فن کا مسٹر تھا انسانی نفسیات خوب جانتا تھا حضرت انسان میرا بھی پسندیدہ مشغلہ ہے میں جب بھی کسی باصلاحیت انسان کو دیکھتا ہوں جس میں حق تعالیٰ نے کوئی خوبی کوٹ کوٹ کر بھری ہو اور پھر اُس میں دھوکا فریب منافقت فریب منفی پن نہ ہو تو مجھے اچھا لگتا ہے اور اگر کسی میں انسان دوستی ہو تو وہ جلد ہی میرے قریب بھی ہو جاتا ہے نور ا میراثی جب بھی آتا مجھے دیکھتے ہی ماتھے پر سیلوٹ کا ہاتھ لے جا کر میری تعریفیں شروع کر دیتا بھاگ لگے رہن جوانیا ں قائم رہن نسلیں آباد رہن ڈیرہ پر رونق رہے بادشاہت قائم رہے اِس طرح کے بہت سارے تعریفی کلمات اور دعائیں دیتا یہ اُس کا خاندانی پیشہ ہے وہ اور اِس کا خاندان نسل در نسل صدیوں سے میراث بن کر کے لوگوں کے گھروں ڈیروں پر جا کر اِسی طرح تعریفیں دعائیں دے کر لوگوں کو خوش کر کے پیسے لے کر اپنی زندگی کی گاڑی کو چلاتے ہیں ‘ نورا بھی خاندانی میراثی تھا اِس کے انگ انگ سے خو شامد چاپلوسی کی شعاعیں نشر ہوتی تھیں اُس کو انسانی نفسیات کی بھی خوب آگاہی حاصل ہے کس بندے پر کن الفاظ کا جادو جگایا ہے اِس ہُنر کو آزمانا خوب جانتا ہے اُس پتہ ہے میں عشق الٰہی حق تعالیٰ کے عشق کا مسافر ہوں تو مجھے فقیری قائم رہے درویشی کے دریا بہتے رہیں کامل درویشی کے اعلیٰ مقام یعنی وہ میرے حساس پسندیدہ حصوں کو ہٹ کر کے مجھے خوش کر نے کا آرٹ جانتا تھا میں نے ہمیشہ کی طرح اُس کو بٹھا لیا اِس لیے نہیں کہ وہ میری مدح صرائی کر ے بلکہ اِ س لیے کہ اُس کی باتوں کا فن اور لچھے دار گفتگو کو انجوائے کر سکوں اُس کے ساتھ گپ شپ لگانا اچھا لگتا تھا وہ ذہین ترین انسان تھا میں اُس کے لیے چائے بسکٹ مٹھائی کا کہا تاکہ اُس کے ساتھ گفتگو کا مزہ آتے ہیں جب اُس کی خاطر مداری کر تاتو وہ ممنون نظروں سے میرا شکریہ کرتا اور کہتا جناب ہم اکبر اعظم کے درباری میراثی ہیں یہ ہمارا خاندانی کام ہے اب تو ہمارا یہ آرٹ بھی زوال کا شکار ہے اب لوگ ہماری قدر نہیں کرتے جو پرانے وقتوں میں کرتے تھے جب وہ اکبر اعظم کا ذکر کر رہا تھا تو میں نے پوچھا اکبر کے دربار میں کون لوگ تھے تو وہ بولا اکبر بہت ذہین مغل بادشاہ تھا اُس نے اپنی سلطنت کو کامیابی سے چلانے کے لیے مختلف امور کے ذہین ترین انسان اپنے وزیر مشیر رکھے ہوئے تھے جو اکبر کے نورتن کے نام ہے مشہور ہیں ان میں راجہ بیربل بھی تھا جو ذہین ترین تھا ہر وقت بادشاہ کے ساتھ رہتا وہ برہمن تھا اور بادشاہ کا دوست بھی ‘ سنسکرت کا عالم بھی تھا اصل نام مہیش داس نہایت چالاک وفا داار اور مزاح سے بھرپور تھا اکبر اعظم نے اُس کو ویروار کا خطاب دے رکھا تھا بیربل نے بادشاہ کے ساتھ تقریبا 30سال کامیابی سے کام کیا جب نورا میراثی فر فر بیربل کا ذکر کر رہا تھا تو میں نے اُس کا امتحان لینے کی خاطر کہا اُس کی کوئی بات کہانی تو سنا ئو تو اُس نے کہانی شروع کر دی کہ ایک دن بیربل اکبر بادشاہ کے ساتھ باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا اور اکبر کو مزاحیہ کہانی بھی سنا رہا تھا جس سے اکبر لطف اندوز ہو رہا تھا اچانک اکبر کو زمین پر بانس کی چھڑی پڑی نظر آئی تو بیر بل کا امتحان لینے اور تنگ کر نے کے لیے چھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا بیربل کیا تم اِس چھڑی کو کاٹے بغیر چھوٹا کر سکتے ہو بیربل نے اکبر کی طرف دیکھا اور سمجھ گیا کہ بادشاہ اُس کو مزاق اور امتحان لینا چاہتا ہے اب بیربل کی ذہانت کا امتحان تھا بیربل نے اِدھر اُدھر دیکھا تو مالی کو گھو متے دیکھا جس کے ہاتھ میں لمبی بانس کی چھڑی تھی بیربل نے مالی کو اشارہ دے کر اپنے پاس بلایا اور اُس سے چھڑی پکڑلی ساتھ ہی زمین پر پڑی بانس کی چھڑی کو بھی پکڑ لیا اب دونوں چھڑیوں کو زمین پر کھڑا کر دیا اور شرارتی نظروں سے بادشاہ کی طرف دیکھا اورکہاجناب اب ان دونوں کو دیکھیں آپ کی چھڑی اب چھوٹی دکھائی دے رہی ہے جبکہ میں نے اِ س کو کاٹا بھی نہیں اوریہ چھوٹی بھی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ اِس کے مقابلے پرمالی کی دراز چھڑی آگئی ہے یہ دیکھ کر اکبر بیربل کی ذہانت اور حاضر دماغی سے بہت خوش ہوا اور بیربل کی کندھے پر شاباش کی تھپکی دی پھر نورا بہت ساری باتیں کر کے چلا گیا تو میں سوچھنے لگا جس طرح اکبر اعظم کے دربار میں ذہین حاضر دماغ شاطر میراثیوں کا راج تھا صدیوں سے آج اقتدار کی راہداریوں میں بھی ایسے ہی مخلوق کا راج دیکھتے ہی جو دن رات حکمرانوں کی چھوڑی ہوئی جھوٹی ہڈیاں چوستے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے میراثی پن کا ریکارڈ توڑتے ہیں آپ میڈیا پر مختلف ٹی وی چینلز پر ایسی مخلوق کا مشاہدہ روزانہ کر تے ہیں جو دن رات بادشاہ کی چھڑی کو لفظوں کی جادوگری سے ہاتھ لگائے بغیر ہی چھوٹا کر تے نظر آتے ہیں نورا میراثی تو بیچارہ ان پڑھ تھا دیہات میں ہی چھوٹے زمینداروں وڈیروں کے ڈیروں پر اپنا فن سستے داموں بیچ رہا ہے جب کہ پڑھے لکھے درباری طوطے چاپلوس مشیر کس طرح حکمرانوں کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے لفظوں کی جادوگری کے ساتھ اپنی ذہانت چالاکی کو استعمال کر کے ذاتی فائدے حاصل کر تے ہیں آپ دنیا جہاں میں ایسے میراثیوں کو کامیابی کے چبوتروں پر قابض دیکھتے ہیں زندگی کے ہر شعبے میں یہ لوگ کامیاب ہیں جتنا بڑا میراثی ہے الفاظ کی جادوگری جانتا ہے وہ اتنے ہی بڑے عہدے پر قابض نظر آتا ہے بلکہ اگر آپ ایسے لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ ہوائوں کا جیسے رخ بدلتا ہے یہ پھُر سے اڑ کر آنے والے حکمرانوں کے جوتے پالش کرتے نظر آتے ہیں آپ کسی بھی سیاسی جماعت کو دیکھ لیں حکمرانوں کے قریب وہی ہوتا ہے جو بڑالفظوں کا جادوگر ہے اور جو دوسروں کو لفظوں سے شکست دینے کے آرٹ کو استعمال کر نا جانتا ہے حقیقت میںآپ کو ہر طرف میراثیوں کا راج نظر آتا ہے ۔

About the author

Prof Abdullah Bhatti

Prof Abdullah Bhatti

Leave a Comment

%d bloggers like this: