Today's Columns

تحویل قبلہ از ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(10شعبان المعظم2ھ،قبلہ تبدیل ہونے کے موقع پر خصوصی تحریر)
فردیاگروہ،ہرکوئی اپناایک قبلہ رکھتاہے اوراس کی طرف منہ کر کے مراسم عبودیت بجالاتاہے۔کچھ لوگ دولت کے پجاری ہوتے ہیں اور ان کاقبلہ ان کی دوکان،کاروباری ٹھیہ،تجارتی اڈہ ،کارخانہ یااسی طرح کی کوئی اورجگہ ہوتی ہے۔کچھ لوگ شہرت کے پجاری ہوتے ہوتے ہیں اوراشتہاری ادارے جہاں سے انہیں اجتماعی پہچان اور ہواکے دوش پر اپنی شخصیت و فن کو وسیع پیمانے پر تشہیرکے مواقع میسررہتے ہیں،وہ مقامات ان کاقبلہ ہوتے ہیں۔کچھ لوگ اقتدارکے پجاری ہوتے ہیں اور ایوان ہائے اقتداران کے مراکزہائے طواف بن جاتے ہیںاوران کا سکون قلب صرف اقتدارکی عمارتوں میں پنہاں ہوتاہے اوراختیارات کی انہیں بلندوبالافصیلوں میں گرفتاررہناہے ان کا نصب العین بن جاتاہے۔حوس نفس کے پجاری اپنے اس قبلہ کی طرف رخ کیے رکھتے ہیں جہاں شرب وغناکی ہاؤ ہوان کے کانوں میں رس گھولتی ہے اوردیدہ زیب نظاروں کے احرام ان پر فریفتہ ہوئے رہتے ہیں۔علم و ادب کوجولوگ اپنا قبلہ بنالیتے ہیں وہ سفروحضر،بیماری و صحت اوردن اوررات ،ہر وقت اسی میقات میںکتابوں کے سامنے ہمہ وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے موجودرہتے ہیں۔پس ہر فردیاہرگروہ کاکوئی نہ کوئی کوئی قبلہ ہوتاہے اوروہی قبلہ اس کی شناخت اور اس کی کل سرگرمیوں کا مرکزو محورہوتاہے۔
’’ختم نبوت‘‘امت مسلمہ کی طرح گزشتہ تمام امتوں کاعقیدہ رہاہے۔اللہ تعالی نے اپنی ہر شریعت میں اوراپنی ہرکتاب میں انبیاء علیھم السلام سے وعدہ لیاتھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے یاآپ کے بعد جب کبھی بھی میراآخری نبیﷺاس دنیامیں تشریف لائے توآپ اورآپ کی امت پرانﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہوگی۔چنانچہ گزشتہ کتب میںآخری نبی ﷺکی نشانیاں بھری تھیں تاکہ انسانوں کو ان کی پہچان میںکوئی دقت نہ ہو۔ان نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی تھی کہ آخری نبیﷺ اوران کی امت کا قبلہ تبدیل کر دیاجائے گااوربیت المقدس کی بجائے مسجد حرام ،خانہ کعبہ ان کاقبلہ مقررکر دیاجائے گا۔اسی بات کو قرآن مجید نے یوں بیان کیاکہ ’’ قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا فَوَلِّ وَجَْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کَنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہ‘ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ أَنَّہ‘ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ{۲:۱۴۴}‘‘ترجمہ:’’(اے پیغمبرﷺ)ہم نے آپ کے چہرے کوباربارآسمان کی طرف اٹھتے دیکھ رہے ہیں،لیںہم اسی قبلے کی طرف آپکوپھیرے دیتے ہیںجسے آپ پسندکرتے ہیں،(اپنا)چہرہ انورمسجدحرام کی طرف پھیرلیں جہاں کہیں بھی آپ ہوں تواسی کی طرف منہ کرکے نمازپڑھاکریں۔جن لوگوں کو (آپ سے پہلے)کتاب دی گئی تھی وہ سب کچھ جانتے ہیں کہ ( تحویل قبلہ کا)یہ حکم ان کے رب کی طرف سے ہے اوربرحق ہے اورجوکچھ یہ کررہے ہیں اللہ تعالی ان سے غافل نہیں ہے‘‘۔عام طورپر تمام گزشتہ مذاہب اورخاص طورپر یہودونصاری اس حکم کو اچھی طرح جانتے ہیں اورپہچانتے ہیں۔اورمدینہ میں بسنے والا یہودکاگروہ جو عربی زبان سے اچھی طرح واقف تھا توقرآن مجیدنے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ:’’ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہ‘ کَمَا یَعْرِفُوْنَ أَبْنَآئَ ہُمْ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ{۲:۱۴۶}‘‘ترجمہ:’’جن لوگوں کو ہم نے (اس سے قبل)کتاب دی وہ اس مقام(قبلہ)کوایسااچھی طرح پہچانتے ہیںجیسااپنی اولادکوپہچانتے ہیں،مگریقین جانوان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپارہاہے‘‘۔تب سے اب تک اہل کتاب کا یہ تکلیف دہ رویہ رہاکہ انہیں حسد کھائے جارہاہے کہ اللہ تعالی نے اتنی شان والا آخری نبیﷺ اوراتنی برکت والی آخری کتاب بنی اسرائیل میں نازل کرنے کی بجائے بنی اسمئیل میں کیوں اتاردی اور فضیلت علی العالمین کا منصب بنی اسرائیل سے چھین کر امت مسلمہ کوکیوں دے دیا۔اب جب کہ ان کی ناشکریوں اور نافرمانیوں کے باعث ان کواس منصب اعلی سے برخواست کیاجارہاتھاتولازم تھا کہ ان کی عبادت گاہ کی مرکزیت بھی معطل کردی جائے۔
قیام مکہ مکرمہ کے دوران جب بھی آپﷺ نمازاداکرتے تو مسجدحرام کی طرف منہ کرتے ہوئے خانہ کعبہ کودرمیان میں لے لیتے تھے اس طرح کہ سامنے خانہ کعبہ ہوتاتھااوررخ بیت المقدس کی طرف ہوتاتھا۔جب مدینہ طیبہ میں پہنچ گئے تو یہ دونوں مقامات ایک دوسرے کے بالکل کے مخالف سمت میں تھے ،فلسطین مدینے سے شمال میں ہے اور مکہ مکرمہ جنوب میں۔کم و بیش سولہ یاسترہ ماہ آپ نے مسجداقصی کی طرف رخ انورکرکے نمازاداکی۔آپﷺکو دوسرے مذاہب سے مشابہت بالکل بھی پسند نہیں تھی اوراس پر مستزادیہ کہ یہود کی لمبی لمبی زبانیں صبح شام یہ درازیاں کرتی تھیں کہ دیکھوتو نمازتوہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے پڑھتے ہیں اورساتھ میں ہماری مخالفت بھی کرتے ہیں۔یہ باتیں آپﷺ کے لیے باعث تکلیف تھیں اورآپ منتظرتھے کہ کب تحویل قبلہ کاحکم نازل ہوجائے اورآپ اپنا چہرہ مبارک مسجدحرام کی طرف کرلیں۔ 10شعبان کی تاریخ اور ہجرت کادوسرا سال تھاجب آپﷺ بشربن براء رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں گئے تھے کہ ظہر کی نمازکاوقت ہوگیا۔یہ قبیلہ بنوسلمہ کی مسجدتھی جواب ’’مسجدقبلتین‘‘کے نام سے مشہور ہے۔اس میں آپ ﷺ نے دورکعتیں پڑھالی تھی اور درج بالا آیات نازل ہوئیں،چنانچہ آپ گھوم کرعقب میں تشریف لے آئے اورآپ کے معتقدین صحابہ کرام بھی آپ کے پیچھے اپنارخ تبدیل کر کے صف بندرہے اوربقیہ دورکعتیں مکمل کیں۔اس طرح گزشتہ کتب میں لکھی گئی آخری نبیﷺ کے بارے میں ایک اور پیشین گوئی بھی پوری ہوکر آپ کی نبوت پر مہرتصدیق ثبت کرگئی۔
تب سے تاقیامت نبی ٓخرالزمان اور ان کی امت مسلمہ کے لیے مسجدحرام قبلہ مقررہو گیااوراللہ تعالی نے حکم دے دیاکہ ’’ وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہُ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَ اخْشَوْنِیْ وَ لِاُ تِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ {۲:۱۵۰}‘‘ترجمہ:’’اورجہاں سے بھی آپﷺکاگزرہواپنارخ مسجدحرام کی طرف پھیرلیاکریں،اورجہاں بھی آپ ہوں اسی کی طرف طرف منہ کرکے نمازپڑھیں تاکہ لوگوں کوآپ کے خلاف کوئی حجت نہ ملے ہاں جوظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بندنہ ہوگی اورآپ ان سے نہ ڈریں بلکہ صرف میراہی خوف رکھیں اس لیے کہ میں آپ پراپنی نعمت پوری کردوں اوراس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے آپ لوگ اسی طرح فلاح کاراستہ پاؤگے۔‘‘اب نمازکے علاوہ بھی قبلہ کی طرف رخ کرتے رہنا مستحب ہے۔میدان عرفات میں وقوف کرتے ہوئے قبلہ کہ طرف منہ کیاجاتاہے،سوتے ہوئے دائیں کروٹ پر سونا اوراپنے سینے کارخ قبلہ کی طرف رکھنا سنت ہے۔اسی طرح جب مردے کو قبر میں رکھاجاتاہے تو شریعت محمدیﷺکے مطابق اس کے سینے کارخ قبلہ کی طرف کر دیاجاتاہے۔اس کے علاوہ بھی جہاں کہیں بہت دیرتک انسان کو بیٹھناہو تو نیک لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے سینے کارخ قبلہ شریف کی طرف رہے تاکہ خانہ کعبہ سے پھوٹنے والی برکات ان کے قلب تک پہنچتی رہیں۔آپﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشادفرمایاکہ ایک مسلمان کی عزت خانہ کعبہ سے زیادہ ہے۔اس ایک جملے میں اللہ تعالی کے آخری نبی علیہ السلام نے انسانیت کاساراسبق مسلمانوں کو ازبر کرادیا۔قبلہ کی طرف منہ کر کے عبادات کرنے والوں پر لازم ہو گیاکہ وہ قببلہ سے کہیں بڑھ کر ایک مسلمان کی عزت و توقیرکریں،اس کی ضیافت کااہتمام کریں،اسی عیادت کو جائیں،اس کی مزاج پرسی کیاکریں اور اس کی دل شکنی سے پرہیز کریں۔قبلہ کی طرف منہ کرکے تو ماتھے رگڑتے رہنالیکن مسلمانوں کے خلاف صف آرارہنا،ان کے خلاف دشمنوں سے مل کر سازشیں کرنااور نمازیں پڑھ پڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں انتشارپیداکرنا احترام کعبہ کے کلیۃ برعکس ہے۔
جن اقوام کا قبلہ خانہ کعبہ نہیں ہے تو بھی وہ کسی نہ کسی قبلے کے پجاری ضرور ہیں۔ان کے کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا’’ اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ‘ ہَوٰہُ اَ فَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًا{۲۵:۴۳}‘‘ترجمہ:’’کیاآپ نے اس شخص کے حال پرکبھی غورکیاہے جس نے اپنی خواہش نفس کو معبودبنارکھاہو؟؟کیاآپ ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کاذمہ لے سکتے ہیں؟؟‘‘۔یہ وہ لوگ ہیں جن کاقبلہ،کعبہ،جن کا مسجودومعبود،جن کا خداوالہ اور جن کا مقصدزندگی و محورحیات صرف اورصرف خواہشات نفسانی ہیں۔یہ لوگ اپنی سیاست کے لیے واشنگٹن کاطواف کرتے ہیں،اپنی معاشرت کے لیے لندن اور پیرس کی زیارات کو جاتے ہیں،اپنی تعلیم کے لیے انہیں آکسفورڈاورکیمرج کااستلام بہت محبوب ہے،اپنی تجارت کے لیے انہیں بنک کے میقات میں سودکے احرام کے ساتھ داخل ہوناپڑتاہے، اوراپنے منافع کے تیقن کے لیے اسٹاک ایکسچینج کی طرف وقوف کرناان کی مجبوری ہے اورسال کے آخری مہینے میں انہیں شہرت ،نیک نامی،مذہبی لبادے اور فرعونیت کی اوڑھنی کے لیے لبیک اللھم لبیک کی صدابھی لگانی ہی پڑتی ہے۔یہ دورغلامی کاپروردہ اورسیکولر فکرکاحامل وہ طبقہ ہے جس نے امت مسلمہ سمیت کل عالم انسانیت کو ’’ان الانسان لفی خسر‘‘کے انجام سے دوچارکررکھاہے۔لیکن ’’ادخلو فی السلم کافۃ‘‘(اللہ تعالی کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ)کے ایک جھٹکے کے ساتھ ہی ریت کی یہ دیواریں پلک جھپکنے میں زمین بوس ہو چکیں گی اور آنے والی نسلیں ہم پرحیران ہواکریں گی ہم نے کس طرح کے لوگوں کی قیادت کو برداشت کررکھاتھا،ان شااللہ تعالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: