کچرا صاف کرتے رہیں از رمشا یاسین

ایک وقت تھا جب ماضی میں لگے زخم میرے حال کو خون آلود کررہے تھے۔ مجھے خوش رہنے سے روک رہے تھے۔ میرے اندر کی الجھنیں اتنی بڑھ گئیں تھیں کہ میں اپنے آپ سے ہی تنگ آچکی تھی۔ اور جو انسان خود سے تنگ ہو، وہ دوسروں سے بھی تنگ آ ہی جاتا ہے۔ مجھے ہجوم سے گھبراہٹ ہونے لگی تھی، تنہایٔ کاٹنے کو دوڑ اکرتی تھی۔ جہاں خوش ہونا ہوتا، وہاں مجھے کوئی خوشی میسر نہ آتی، ہنستی تو پتا نہ ہوتا کہ کیوں ہنس رہی ہوں، اور روتی تو سمجھ نا پاتی کہ کیوں رورہی ہوں۔
ماضی نے میرے اندر ایک طوفان برپا کیا ہوا تھاجو اب امڈ امڈ کر باہر آرہا تھا۔ میں نے اپنے غموں اوردکھوں کو چھپانا بھی چھوڑ دیا تھا، مجھے فرق ہی نہیں پڑتا تھا کہ لوگ کیا سوچیں گے، بس بھری محفل میں رونے لگ جاتی تھی۔ میں تھک چکی تھی، دنیا سے چھپاتے چھپاتے۔ تنگ آچکی تھی۔ میری بس ہوچکی تھی۔ میں برداشت کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔ میرا اندا خالی ہونا بہت ضروری تھا۔کیوں کہ جب پانی کا گلاس بھر جاے ٔ، اس کے بعد اگر ہم اس میں مزیدپانی ڈالنے کی کوشش کریں تووہ باہر گرنے لگتا ہے۔ پھر بھی اگر ہم اس میں پانی ڈالتے رہیں تو وہ بہتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے اطراف کو بھی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آپ اپنے زخموں پر مرہم نہ لگائیں، تو خون بہتا جاتا ہے اور اس خون کی چھینٹیں دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ میں خود تو تکلیف میں تھی ہی مگر اپنے قریبی رشتوں کو بھی تکلیف دے رہی تھی۔ مجھ سے کوی خوش ہو کر بات کرتا تو میں اسے جھڑک کر جواب دیتی۔ کوئی ہمدردی کرتا تو اس سے ایسا برتاؤ کرتی، جیسے اس نے ہمدردی کرکے کویٔ بہت بڑا گناہ کردیا۔ مگر میں یہ جان ہی نہیں پارہی تھی کہ آخر کس بات سے پریشان ہوں۔ ماضی کی ایسی کون سی یاد ہے جس نے مجھے اس حال میں رکھا ہوا ہے۔
میرے کچھ دوست مجھے مشورہ دیتے کہ جو بھی بات تمہیں تنگ کررہی ہے، اسے لکھو۔ کیوں کہ لکھنے سے انسان کو روشنی ملتی ہے۔ وہ سمجھ پاتا ہے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اس کے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔ میں لکھنے کی کوشش بھی کرتی مگر ہمت جواب دے جاتی۔ تکلیف کی شدت اس قدرہوتی کہ سمجھ ہی نہیں آتا اسے لفظوں میں کیسے اتاروں۔ آخر کار ایک دن مجھے ہمت جتانی ہی پڑی۔
مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن۔ مغرب کا وقت تھا اور میری یونیورسٹی میں اکا دکا لوگ ہی تھے۔ لہٰذا مغرب کی نماز ادا کرنے کی غرض سے میں گرلز ہال میں چلی گیٔ۔ وہاں پر بھی کویٔ نہیں تھا۔ مجھے تنہائی اس وقت بہت اچھی لگ رہی تھی۔ آذانوں کی آوازیں اس تنہایٔ میں میری بہت بڑی ساتھی تھیں۔ گرلز ھال میں دو کمرے تھے، ایک ذرا کشادہ اور دوسراتھوڑا سا تنگ۔ میں نے چھوٹے والے کمرے میں جاکر خود کو بند کرلیا۔ وہاں شیلف میں کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک نوٹ بک اور پین اٹھایا۔اورقالین پر بیٹھ گیٔ۔ ابھی اذانیں ہو ہی رہی تھیں، میں نے اپنے آنسوؤں کو بہ جانے دیا اور لکھنا شروع کردیا۔میں آہیں بھرتی ہویٔ تیز رفتاری سے لکھے جارہی تھی، یہاں تک کہ میری سانسیں بھی اکھڑنے لگیں، مجھے اندازہ ہی نہ ہو پایا کہ کتنے ہی صفحے میں نے بھر دیے تھے۔ جب ہوش آیا تو دل میں ایک مسرت تھی۔ اسی مسرت کو برقرار رکھتے ہوے ٔ میں نے اپنے لکھے ہوے ٔ کو پڑھا۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ دراصل کویٔ ایک بات تھی ہی نہیں، پورا کا پورا ماضی میرے اندر غوطے ماررہا تھا۔ میں نے وہ صفحات بار بار پڑھے، وہ زندگی کے بائیس سال تھے جو میں نے ان چند صفحوں میں اتار دیے تھے مگر میں اپنی کیفیات جان چکی تھی۔
اس دن کے بعد مجھے اپنے ماضی سے باہر نکلنے میں بہت مدد ملی اور میں نے حال میں رہنا سیکھا۔ تب سے میں ایک بات جان چکی ہوں، کہ اگر آپ کے اندر گند بھر رہا ہے تو اسے ساتھ کے ساتھ صاف کرتے رہیں، کیوں کہ کچرے کے ڈبے کو اگر وقت پرخالی نہ کیا جاے ٔ تو وہ بدبو چھوڑ دیتا ہے جو آپ کے پورے وجود کو سڑا نے کے لیٔ کافی ہوتی ہے۔ اور اگر کچرا بھرتا جاے ٔ، یہاں تک کہ باہر گرنے لگے تو وہ آپ کو تو گندا کرتا ہی ہے، آپ سے منسلک لوگوں کو بھی نہیں بخشتا۔ اس لیٔ اپنا آپ صاف کرتے رہیں ورنہ چھوٹے سے چھوٹا زخم بھی اتنا بڑا ہوجاے ٔ گا کہ اس کے خون کی چھینٹوں میں آپ دوسروں کو بھی نہلائیں گے۔ نہ خود خوش رہیں گے اورنہ ہی دوسروں کو رکھ سکیں گے۔ آپ کا وجود بھیانک ہوجا?ے ٔگا جس سے ہر کویٔ ڈرنے لگے گا۔اگر خود اپنی کیفیات سمجھنے سے قاصر ہیں تو دوستوں سے شیئر کریں، کسی ماہر کی مدد لیں، لیکن خود کو تنہا نہ کریں۔ اگر دل کی باتیں ساری زندگی دل میں دبا کر رکھیں گے تو جیتے جی مر جائیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: