تعلیم اور والدین از عابد محمود عابد

اس سال کے آغاز سے ہی شعبہ تعلیم کواس وقت دھچکے لگنے شروع ہو گئے ،جب کورونا کی آفت کی آمد کے ساتھ ہی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے اور پھر تعلیم چھ ماہ کی بندش کی نذر ہو گئی،چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ آفت بچوں کی تعلیم کا کتنا نقصان کر چکی ہے اور اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ قابل ذکر جو چیز ہے وہ والدین کے رویے ہیں،کئی والدین نے تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران اپنے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے انکو ہنر سیکھنے کے نام پر کسی مشقت پر لگا دیا اور تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد بھی بہت سے بچے واپس تعلیمی میدان میں نہ آسکے اور اس طرح چائلڈ لیبر میں بے پناہ اضافہ ہوا،اسکے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی ادارے اس ساری صورتحال سے بہت زیادہ متاثر ہوئے،جتنی دیر تعلیمی ادارے بند رہے والدین کی اکثریت نے اس دوران پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے بالکل بھی تعاون نہ کیا اور رابطہ کرنے کے باوجود فیسیں جمع نہ کروائیں ،اس سے پرائیویٹ سکول اور کالجز مالی بحران کا شکار ہونے لگے ،ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے پریشان نظر آئے،چھ ماہ کی بندش کے بعد جب تعلیمی ادارے کھلے تو انکے ذمہ داران کو کچھ امید پیدا ہوئی کہ شاید حالات اب سدھرنے لگے لیکن والدین کا رویہ مایوس کن تھا جس سے خاص طور پر چھوٹے پرائیویٹ سکول زیادہ متاثر ہوئے،کیونکہ والدین کی اکثریت نے چھٹیوں کی فیسیں دینے سے انکار کیا اور فیسیں مانگنے کی صورت میں سکول بدلنے کی دھمکی دیتے رہے،پرائیویٹ سکولوں کے مطالبے پر سرٹیفکیٹ کی شرط بھی اس وقت رائیگاں جاتی ہوئی دکھائی دی جب گورنمنٹ سکولوں نے بھی سرٹیفکیٹ کے بغیر ہی داخلے کرنے شروع کر دیے اور اس طرح بہت سے طلباء اپنے بقایا جات کی ادائیگی کیے بغیر ہی دوسرے سکولوں میں چلے گئے جس سے اس ملک کی تعلیمی ضروریات کا بوجھ کم کرنے والا نجی تعلیمی اداروں کا طبقہ بری طرح متاثر ہوا اور اس کے باوجود کہ صرف تعلیمی ادارے ہی ہیں جہاں دیے گئے ایس او پیز پر سب سے زیادہ عمل کیا جارہا ہے جس کا اعتراف بعض حکومتی ذمہ داران نے بھی کیا ہے،لیکن پھر بھی کورونا کی موجودہ صورتحال میں تعلیمی ادارے ایک مرتبہ پھر بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اگر واقعی ایسا ہو گیا تو ولدین کا غیر ذمہ دارانہ رویہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم کا پہلے کی طرح بہت زیادہ نقصان کرے گا اور اب یہ نقصان ایسا ہو گا کہ جس کا کبھی ازالہ نہیں ہو سکے گا،والدین کا کردار اپنے بچوں کی تعلیم میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے ،یہی بات والدین کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے،والدین جب اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو بچے کی تعلیم و تربیت پر منفی اثر پڑتا ہے،اس لیے والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالہ سے سنجیدہ طرز عمل اختیار کرنا ہوگا اور کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال میں اگر تعلیمی ادارے ایک مرتبہ پھر بند کیے جاتے ہیں تو اس چیلنج سے نپٹنے کے لیے بھی والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،بعض تعلیمی ادارے ایسی صورتحال میں آن لائن نظام کو اپناتے ہیں لیکن یہ نظام والدین کے تعاون کے بغیر بالکل ناکام ہو جاتا ہے،،،
بات چل نکلی ہے تعلیم کے حوالے سے والدین کے رویوں اور کردار کی تو چلتے چلتے تذکرہ کروں گا اپنے شہر ڈسکہ کی ایک حالیہ کاوش کی کہ جس نے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں والدین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ڈسکہ کاایک مشہور چوک کالج چوک ہے جس کو اسی لیے کالج چوک کہا جاتا ہے کہ اس کے قریب نہ صرف ایک بڑا گورنمنٹ کالج ہے بلکہ کئی پرائیویٹ کالجز بھی ہیں،اس چوک کی آرائش کا بیڑا ڈسکہ ایک شہری احمد فاروق ساہی نے اٹھایا اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ چوک میں کسی عقاب یا شاہین کو نصب کرنے کی بجائے ایک ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جس میں ایک باپ اپنی بچی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسکو کتابوں کے تحفے سے نوازتے ہوئے یہ واضح کر رہا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے حوالہ سے والدین کا کردار کس قدر اہم ہے،احمد فاروق صاحب کی یہ کاوش قابل ستائش بھی ہے اور قابل تقلید بھی،اس کاوش سے وہ چوک تو آراستہ ہو ہی گیا ہے اور ساتھ ہر دیکھنے والی آنکھ یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتی کہ اگر والدین اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آرستہ کرنے میں اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کریں تو انکے بچوں کی پرواز شاہین اور عقاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔۔۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: