جنت نظیر وادی ۔۔۔ ظلم وستم کی زد میں از حنا ثروت

کہتے ہیں واقعہ کربلا صرف ایک دفعہ ہی پیش آیا لیکن جب نظر کشمیر پر پڑتی ہے تو پھر سے واقعہ کربلا زندہ ہو جاتا ہے۔آج میرا کشمیر لہو لہو ہے،وہاں ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں یہاں تک کے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کھیلا جا رہا ہے۔اے میرے مالک آج تیرے وہ بندے بے بس اورلاچار نظر آ رہے ہیں جوتجھ پر اور تیرے نبی محمدﷺ پر دل و جان سے ایمان رکھتے ہیں۔آج تیری امت کا کافروں نے جینا حرام کر دیاہے۔مالک توں تو اپنے بندے سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے آج کوئی معجزہ ہی کر دے،ہمارے کشمیر،ہماری جنت نظیر وادی کو حق خود اردادیت عطا کر دے۔
اس قدر ظلم کہ نہ تو رشہ داروں کو آپس میں ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی انٹر نیٹ جیسی کوئی سہولت ہے کہ کشمیر ی اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم سے دنیا کو آگاہ کر سکیں۔جموں کشمیر کی تمام سیاسی قوتوں کو گھروں میں قید کردیا گیا،معصوم بچے بھوک اور پیاس سے بلک رہے ہیں اور نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بنا دیا گیا،کب تک ہم یونہی خاموش تماشائی بنے رہیں گے،کب تک ہمارا لخت جگر کشمیر یونہی آگ میں جلتا رہے گا۔اقوام متحدہ اور تمام عالم اسلام نے منہ پر تالے لگا لیے ہیں۔آج ایسا کیوں ہو رہا ہے ہمیں کشمیریوں کا درد کیوں نہیں محسوس ہو رہا۔کیا ساری زندگی ہم یہی سوچتے رہیں گے کہ ہمارا فلاں ملک سے تجارتی اور فلاں سے سفارتی تعلق ہے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ہر سال یوم یکجہتی کشمیر پر بس ایک تقریر کر دیتے ہیں اور دوم منٹ کی خاموشی اختیار کر کے یہ کشمیریوں کو پیغام دے دیتے ہیں کہ ہم آخری سانس تک آپ کی حمایت جاری رکھیں گے۔خان صاحب اب کشمیر آپ کی تقریروں سے آزاد نہیں ہو گا بلکہ آپ کو کوئی عملی اقدام کرنا ہو گا۔آج ہم خود کو بھارت کے سامنے کمزور کیوں ثابت کر رہے ہیں،ہم ان کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے،اب ہم کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔نہیں بلکہ اب ہمیں دو قدم آگے کا سوچنا ہو گا،جب آذربائیجان جیسا ملک آرمینیاں کو شکست دے سکتا ہے،جب چین کی فوج بھارتیوں کو دھول چٹا سکتی ہے اور انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے پھر ہم کچھ کیوں نہیں کر سکتے۔الحمدو للہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے،جذبہ جہاد رکھنے والی بائیس کروڑ عوام ہے اور سب سے بڑی بات ہمارے پاس ایمان کی طاقت ہے جو اللہ کے حکم سے ہمیں کامیاب کرے گی۔ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں مسلم ممالک نے اگر آزادی حاصل کی ہے تو وہ ان کو بیٹھے بٹھائے نہیں مل گئی نہ ہی اس کیلیے انہوں نے تقریریں کی ہیں بلکہ انہوں نے عملی جدوجہد اور جہاد کیا تبھی جا کر انہوں نے آزادی حاصل کی۔
آج ہم کشمیر کو خود سے جدا کیوں سمجھ رہے ہیں اگر غور کیا جائے تو لفظ ”پاکستان” میں کشمیر ہمارے ساتھ جڑا ہوا ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح
رحہ نے بھی یہ واضح پیغام دیا تھا کہ ہماری آزادی تب تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا۔وزیراعظم صاحب آپ کو ٹیپو سلطان،خالد بن ولید،محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی جیسی سوچ بحال کرنی ہوگی اور ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں کہ کیسے انہوں نے فتح حاصل کی۔ہمیں بہادر شاہ ظفر نہیں بننا جنہوں نے دشمن کے آگے ہتھیار ڈال کر شکست تسلیم کر لی تھی بلکہ ہمیں ٹیپو سلطان کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا جنہوں نے خود کو دشمن کے سامنے نہیں گرایا بلکہ دشمن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔پہلے تو جموں کشمیر اور اب وہ آزاد کشمیر کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں،اگر ہم یونہی خاموش رہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ آزاد کشمیر کو بھی ہم سے چھین لیں۔جب سے ہم نے گلگت بلتستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے تب سے انڈیا مسلسل ایل او سی پر ہمارے معصوم شہریوں پر گولہ باری کر رہا ہے۔ابھی دو دن پہلے آزاد کشمیر کے شہریوں پر ظلم ہوا جس میں ہمارے معصوم بچے زخمی ہوئے اور 5 کے قریب شہری شہید ہو گئے متعددکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اب بھارت کو ایک ہی چیز تکلیف دے رہی ہے کہ گلگت تو پاکستان کا حصہ بن گیا اور کل اس میں انتخابات بھی خیرو عافیت سے ہو گئے۔اب وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے اندر بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کیلیے وہ پاکستان مخالف قوتوں اور داعش کو استعمال کریں گے۔جیسا کہ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے کل اپنی پریس کانفرنس میں دنیا کے سامنے بھارت کو دہشتگرد ثابت کیا اور داعش اور بھارتی دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ کا پلندہ بھی کھول کر رکھ دیا،اب اقوام متحدہ کو بھی اس کا جائزہ لینا ہو گا کہ بھارت خطے کا امن تباہ کر رہا ہے اور کشمیری عوام پر بھی جو ایک طویل عرصے سے دہشتگردی جاری ہے اس کو اب ختم کروانے کیلیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔پاکستانی عوام کشمیر کو لے کر بہت جذباتی ہو رہی ہے،اب ریاست پاکستان کو عوام کو اعتماد میں لے کر جہاد کی کال دینی ہو گی۔ہمارے حکمرانوں کو اپنی کرسی اور اقتدار کی فکر چھوڑنی ہو گی اور کشمیر کیلیے اس حد تک ایکشن لینا چاہئیے جس سے ان کو آزادی نصیب ہو سکے۔خان صاحب اور آرمی چیف صاحب اگر آپ نے بر وقت کشمیر کیلیے کوئی ایکشن نہ لیا تو پھر پاکستانی عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی آزادی کیلیے ایل او سی بھی پار کر سکتی ہے،اس لیے بہتر ہے عوام کو اس حد تک مجبور نہ کیا جائے کہ بعد میں حالات آپ کے کنٹرول میں نہ رہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: