دور حاضر میں انقلاب اور حائل رکاوٹیں از پروفیسر شمشاد اختر

نظام طب میں جس طرح السر کی کئی اقسام ہیں اسی طرح نظام معاشرت میں بھی السر کئی طرح کا ہوتا ہے اقتدار کا السر ،جاگیرداری کا السر،زر پرستی کا السر،اباحیت کا السر قانون شکنی کا السر،لہذا ان سب کے علاج کے لئے ایک بہت بڑا آپریشن کرنا پڑے گاجو اس مرض کے پھیلے ہو ئے ریشوں کو اس معاشرتی جسم سے ختم کر دے اسی آپریشن کا نام انقلاب ہے جب انقلاب اپنے عمل کا ، مشن کا آغاز کرتا ہے تو اس سوسا ئٹی میں موجود مزاحم قوتیں آنََا فا نََا حرکت میں آجاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک محاذ جنگ کھل جاتا ہے ،ہر مخالف اور مزاحم قوت جب اپنے بھیانک اور خطر ناک انجام کا تصور کرتی ہے تو اس کے منہ سے خو فناک چیخ اور طرح طرح کی آوازیں نکلتی ہیں اور پھر ہر طرف شور اور چیخوں کا طوفا ن برپا ہو جاتا ہے ہر انقلاب کو کسی نہ کسی قسم کی مزاحمتوں اور رکاوٹوں کا سا منا کرنا پڑتا ہے، نہ انقلاب ’’ ریڈ کارپٹ ‘‘ سے گزر کر آتا ہے اور نہ ہی مزاحم قوتیں اس کا ’’ خندہ پیشانی ‘‘ سے استقبال کرتی ہیں ’’ جگر ‘‘ اور ’’ ہنر ‘‘ بالآخر مد مقابل آہی جا تے ہیں ’’ سینہ ‘‘ اور ’’ تیر ‘‘ تاریخ میں ہمیشہ آمنے سا منے نظر آئے ہیں ۔انقلاب کی آواز سنتے ہی حکمرانوں کو حیلہ و مکر کے زور پر قائم اپنا اقتدار ڈولتا نظر آتا ہے ، ارباب جا گیر کو مفت میں ہا تھ آئی جا گیریں چھِنتی ہو ئی نظر آتی ہیں ، وڈیروں، خوش فکروں کو اپنے عیش کدوں کے چراغ گل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ،ظالموں کو خود ان کا گریبان پھا نسی کا پھندا بنتا نظر آتا ہے ، بد عنوانوں کو اپنا سب کچھ نگلا ہوا اگلتا نظر آتا ہے ،خود غرض اور مفاد پرست سیاسی جغادری اپنی قبر کا گڑھا دیکھ رہے ہوتے ہیں ،وڈیروں کو اپنی حویلیاں مسمار ہوتی اور جرائم پیشہ لوگوں کو اپنی عمر گھٹتی ہو ئی نظر آتی ہے اور پھر ساری انقلاب دشمن قوتیں اپنے پھیپھڑوں کا سارا زور لگا کر دھاڑتی ، چیختی چنگھاڑتی اورواویلا کرتی نظر آتی ہیں ۔
اس سارے شور شرابے، ہائو و ہو کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بہت بڑی تبدیلی رونما نہ ہو نے پا ئے ، سرمایہ دار اپنی مالی طاقت کے ساتھ زمین پر کود پڑتے ہیں ، ان لوگوں کے پاس زر ، زمین ، قا نون ،سپاہ،حیلے،چالیں منا فقانہ زبا نیں ، شہ دماغ، ذرائع ابلاغ، منڈیاں ،آڑتیں۔عہدے اور نہ جا نے اس کے علاوہ بھی خفیہ اور علا نیہ کیا کچھ ہوتا ہے ،اور دوسری طرف دامن انقلاب میں ایک واضح پروگرام ،ارفع نصب العین،دولت اخلاص،بلند حوصلگی،صبر و ایثار،عزم و حو صلہ ، جرات رندانہ، شمع امید ، روشنی فکر اور جوہر کردار ایسے اوصاف اور وسائل ہوتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ بالآخر زندگی موت پر غالب آجاتی ہے ،جدو جہد جمود کو توڑ دیتی ہے ،استقامت مزاحمت کو راستے سے ہٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور نظریاتی تیقن مفاداتی تعفن کو نابود کر دیتا ہے اور جہاں بھی صور انقلاب پھو نکا جا ئے گا تو ادھر ادھر کونوں کھدروں میں چھپے اور دم سادھے ٹڈے، ، مینڈک ، کیڑے مکوڑے ،سا نپ، بچھو، اور کیکڑے آنََا فانََا باہر نکلنے ،چیخنے،چلانے، ٹرانے،پھنکارنے اور دم اٹھانے لگتے ہیں ۔
یہ ناممکن ہے کہ مکمل تبدیلی کا پروگرام کسی ردعمل کے بغیر کامیابی سے ہمکنار ہو جا ئے ، نہ ایسا قبل مسیح کے دور میں ہوا ہے اور نہ عصر حاضر میں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واجب ہے کہ معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح محض پیوند کاری سے نہیں پتہ ماری سے ہوتی ہے ،جب تک ساز ہم آواز نہ ہو تو نغمے کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا ، عشق کو ضرور ان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جہاں وہ حسن کو بھی نظر اندازکر دیتا ، سیاست کو با اصول بنانے کے لئے مفاد عاجلہ سے صرف نظر کرنا پڑے گا س ، معیشت کو انصاف کے دائرے میں لا نے کے لئے ترک و ایثار کا اصول اپنانا پڑے گا ، معاشرت کو بے لگامی سے بچانے کے لئے ضبط نفس کا مظا ہرہ کرنا پڑے گا ،مذہب کو فرقوں کی یلغار سے محفوط کرنے کے لئے پندار نفس کو دائو پر لگانا پڑے گا ، تب جا کر روز روز کی ’’ چخ چخ‘‘ سے نجات ملے گی ۔
چند آدمیوں نے جو پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے ،اس کا علاج دم درود اور جھاڑ پھونک سے نہیں ’’ غزوہ تبوک ‘‘ جیسی حکمت عملی سے ممکن ہے کہ کچھ روز کی اختیاری بھوک ہی عالمی اور مقامی چودھریوں کی ’’ پھوک ‘‘ نکال سکے گی ؟غزوہ خندق میں پیٹ پر پتھر با ندھناایک استعارہ ہے جس سے پتھر دلوں کو موم کیا جا سکتا ہے ، احد میں اس لئے دانت شہید کروائے گئے تاکہ عالمی کفر کا حصار توڑا جا ئے ،حدیبیہ کی صلح کو فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ اس سے عالمی اصلاح کا پروگرام روبہ عمل ہونا تھا ، آج کے حالات کسی ’’ پر ہیز ی غذا‘‘ کا نہیں ’’ فل ڈوز‘‘ کا تقاضا کر رہا ہے ۔ اس انقلاب کا مطلب ایک ایسا دو طرفہ عمل ہے کہ ایک طرف ’’ ابو لہب‘‘ کے ہاتھ ٹوٹیں اور دوسری جانب ’’ بلال ؓ ‘ ‘‘ کے پا ئوں میں پڑی زنجیر غلامی بھی ٹوٹ جا ئے ۔ اندرون ملک بھی مسائل کا اژدہا منہ کھولے پھنکار رہا ہے ، اور اس کے زہر سے پوری فضا مسموم ہے ،بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں فرسٹریشن اور ڈپریشن ، جس سے قوت برداشت روز بروز کم ہو رہا ہے ،علاقائی اور صوبا ئی تعصبات، سیاسی عدم استحکام ، سیاسی عناصر کا انتظامی اداروں میں غیر ضروری دخل اور اثر و نفوذ ، سیاست کے نام پر ہلڑ بازی، اور مذہب کے تقدس اور تحفظ کی آڑ میں فتوی طرازی اور اس نوع کے بے شمار مسا ئل ہیں جو آکاس بیل بن شجر وطن کو بری طرح لپٹے ہو ئے ہیں ،دوچار ہری شاخیں رہ گئی ہیں تو وہ بھی بڑی تیزی کیساتھ مسائل کی آکاس بیل کی لپیٹ میں آرہی ہیں یہ مسائل اگرچہ بہت سنگین ہیں اور روز بروز سنگین تر ہو تے جا رہے ہیں لیکن ہمارے نزدیک ان جملہ مسائل کی جڑ ’’ کرپشن ‘‘ ہے جس نے سرطان کی طرح تمام اداروں اور محکموں میں اپنے رگ و ریشے پھیلا رکھے ہیں ،لہذا اس کا حل ایک ہی صورت میں ممکن ہے وہ ہے ہمہ گیر مصطفوی انقلاب ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: