کشمیر لہو لہو ہے از مہر اشتیاق احمد

تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ و واقعات ، خونچکاں حوادث ،جانکاہ المیون ، قتل و غارت گری کی دلدوز آہوں اور دل دہلا دینے والی سسکیوں سے لبریز ہے۔ کشمیری قوم کا تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور وہ کئی دھائیوں سے بھارتی جبر و استدار کا بڑی پامردی سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔ قیام پاکستان کے وقت ہندوئوں اور انگریزوں نے ایک سازش کے تحت مسلم اکثریتی علا قے کشمیر کو بھارت میں شامل کر وا دیا ۔ اس پر کشمیری مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور آزادی کی تحریک شروع کر دی ۔ 6دہائیوں سیز ائد عرصہ گزر جانے کے باوجد کشمیری آج بھی اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ بھارت نے آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں 7لاکھ سے زائد فوج تعینات کررکے کرفیو لگارکھا ہے۔ جس نے انسانی تاریخ میں جنگی جرائم اور مظالم کی نئی تاریخ رقم کی ۔ 1989ء سے 2019کے آخر تک کے دوران ب بھارتی فوج نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہیدکر دیا ہے ۔ 2لاکھ کے قریب کشمیری اب بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ۔ جبکہ ہزاروں کشمیری خواتین کو زیادتی کانشانہ بنا یا گیا ۔، تاہم تمام مظالم کے بعد بھی یوم شہدائے کشمیر پر کشمیری اپنی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں ۔
بابائے قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کشمیر کا پاکستان کی شہ رگ اس لیے قرار دیاتھا کہ وہ کشمیر کی پاکستان قوم کیلئے اہمیت کو سمجھتے تھے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو اہل جموں و کشمیر سے بے حد محبت و عقیدت تھی اور اسی طرح باشندگان ریا ست کو بھی قائد اعظم کی ذات والا مفات سے بے پناہ عشق تھا اور یہ اسی عشق کا اعجاز تھا کہ انہوں نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فمن میں علم بغاوت بلند کر دیا اور اب تک انکی تحریک جاری و ساری ہے اور اُس وقت تک جاری رہے گی ۔ جب تک ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں ہو جاتا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں چار مرتبہ کشمیر کا سفر کیا ۔ پہلے سفر میں انکی اہلیہ مریمجناح بھی انکے ساتھ تھیں ۔ دوسرے سفر میں آپ اکیلے تھے ۔ البتہ تیسرے اور چوتھے سفر میں آپکی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی آپکے ہمراہ تھیں ۔
دیکھا جائے تو کشمیر آج ہی لہو لہو نہیں ہے ۔ اسکی وادی یہ منظر سالہا سال سے دیکھ رہی ہے ۔ اس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے ۔ لیکن حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظر انداز نہیں کر سکتا کہ کشمیر تمدنی ،ثقافتی ، مذہبی ، جغرافیائی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ جب بھی اور جس نقطہ سے بھی نقشہ پر نظر ڈالی جائے گی ۔ یہی حقیقت واضع ہو جائیگی کہ کشمیر سیاسی اور دفاعی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کوئی ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے نیچے دے دے ۔ کشمیر پاکستان کا ایک حصہ ہے ۔ جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ مجھے یہ کہتے ہوئے قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریڈ کلف ایوارڈ مسلمانوں کے ساتھ فراڈ کیا گیا ۔ گوادر پورٹ کے ایک ایسے حصے کو جو آبادی کے لحاظ سے مسلم اکثریت کا حصہ /علاقہ تھا ۔ محض اس لیے ہندو ستان کے حوالے کیا گیا کہ ہندوستان کو کشمیر کے معاملات میں مداخلت کی آزادی مل سکے ۔
پاسکتان نے ریڈ کلف ایوارڈ کو دیانتداری سے تسلیم کیا تھا لیکن ہندوستان کی نیت میں شروع سے ہی فتور تھا اور اسی فتور کا مظہر کشمیر کا جھگڑا ہے ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں دنیا کو باور کر وائیں کہ مقبوضہ وادی کے عوام آزاد فضائوں میں رہنے کا حق مانگتے ہیں۔ آج وادی کشمیر کی جو صورت حال ہے ۔ اس میں بین الاقوامی فورم پرصحیح انداز مین اجاگر کرنے اور بھارت کے منفی پر وپیگنڈے کا موثر جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ مقام افسوس تو یہ ہے کہ آج الیکٹرانک میڈیا کی بدولت دنیا گلوبل ویلج بن چکی اور غلامی کا تصور ختم کر دیا گیا ۔ آج سپر پاور امریکہ کا ایک عام شہری کسی ملک میں مشکلات کاشکار ہو تو دنیا بھر میں واویلا مچادیا جاتا ہے اورکسی ایک فردکیلئے آپریشن کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں وہ مظلوم کشمیری عوام کی پکارپر کیوں توجہ نہین دیتے ؟ جو صرف اور صرف اپنا حق مانگتے ہیں۔ آج وادی کشمیر لہو لہو ہے اور ہاں کے رہنے والے کشمیری اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ اور اقوامِ عالم خاموش تماشائی بنی کب تک بے گناہوں کے بہتے خون کودیکھ کر مہر بہ لب رہے گی ۔ ؟
مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک اہم سوال پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بھی ہے کہ 1947ء سے لے کر اب تک کتنے موثر طریقے سے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے پر کامیاب ہو سکتا ۔ کیا یہ صرف بھارت کی ہٹ دھرمی ہے یا اقوام متحدہ کی بے حسی یا پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے غیر موثر ہونے کاعندیہ ؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کی اندرونی حکمت عملی اس ملک کی بیرونی حکمت عملی کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ معاشی ، سیاسی طور پر ایک مضبوط ملک کی خارجہ پالیسی بھی موثر ہوتی ہے ۔ ہمیں یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت قوم ہم لوگ کہاں کھڑے ہیں ؟کیا ہم اتنے مضبوط ہیں کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی سے کشمیر کے مسئلے کو عالامی سطح پر اجاگر کر سکیں اور اس مسئلے کو عملی طور پر حل کرانے میں کامیاب ہو سکیں ۔ اب تو پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے ۔ کہاں ہے ہماری خارجہ پالیسی ؟ تقریریں تو پورے دھوم دھڑکے سے ہوئی تھیں عالمی فورم پر ؟عمل کس نے کروانا تھا ؟ جبکہ دوسری طرف تو تمام جماعتیں خود کاا بااختیار بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں دھر نے اور احتجاج کی سیاست نے پاکستان کو معاشی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر کافی نقصان پہنچایا ہے ۔
ہمیں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے کشمیر پالیسی پر اسکا ساتھ دینا چاہیے حکومت اور فوج کی کوششوں کو مضر کرنے کی بجائاے ہمیں کشمیر پالیسی پر توجہ دینے اور کشمیر پالیسی کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: