مہنگی روٹی سستا انسان ، بن رہا ہے نیا پاکستان از محمد ریاض

0 14

آج پاکستانیوں کی اکثریت کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی نظر آ رہا ہے۔ ہر طرف ، ہر روز ۔مہنگائی، مہنگائی ، مار گئی مہنگائی کی آوازیں اپنے گلی محلے، شہر میں سننے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کیا واقعی پاکستان میںـــ’’ مہنگائی کا جن‘‘ سب پاکستانیوں کو چمٹ چکا ہے یا ہم لوگ ایسے شوقیہ ہی حکومت وقت کی مخالفت میں مہنگائی مہنگائی کا رونا پیٹنا کررہے ہیں۔اگر غیر جانبدر ہوکر سوچا جائے تو پاکستانیوں کی اکثریت کا مہنگائی کا رونادھونا غلط بھی نہیں ہے، کیونکہ ضروریات زندگی کی تمام بنیادی اشیاء کی قیمیتں اس وقت عام پاکستانی کی جیب میں موجود آمدنی سے کوسوں دورتک جاچکی ہیں۔
اک عام متوسط پاکستانی کی آمدن کا موازنہ اگر انسانی بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں سے کیا جائے تو بقول وزیراعظم صاحب کہ ’ ’سکون تو صرف قبر میں ہی ہے‘‘
ٓآئیے اک نظردیکھتے ہیں کہ وہ کون کون سی انسانی بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء ہیں جن کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں:
ٓگندم آٹا:
پاکستانیوں کی سب سے بنیادی غذا گندم کی روٹی ہے، جس کے بغیر اک پاکستانی کا زندہ رہنا بہت مشکل ہے۔ نئے پاکستان میں حالت یہ ہوچکی ہے کہ گندم کی کٹائی کے وقت جس گندم کی قیمت 1400 روپے فی 40 کلوگرام تھی آج ٹھیک چھ ماہ بعد وہی گندم 2300 روپے فی 40 کلوگرام میں بھی نہیں مل رہی۔ اور ابھی نئی فصل اگنے ، پکنے، اور مارکیٹ میں آنے میں تقریبا چھ ماہ باقی ہیں۔ آٹے کی قیمت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں کہ وہ فی کلوگرام کتنے روپوں میں مل رہا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔
گنا، چینی:
پاکستان میںگندم اور چاول کے بعد کماد یعنی گنا تیسری بڑی فصل ہے جوکہ پورے پاکستان میں کاشت کی جاتی ہے ، پرانے پاکستان اور نئے پاکستان میںچینی کا فی کلوگرام کاریٹ تقریبا ڈبل ہوچکا ہے، پرانے پاکستان میں جو چینی 55 روپے فی کلوگرام کے حساب سے مل رہی تھی (حالانکہ پرانے پاکستان کے حکمران چور، لٹیرے اور ڈاکو تھے) مگر نئے پاکستان میں کرپشن فری حکمرانوں کے دور میں وہی چینی 100 روپے سے زیادہ فی کلوگرام کے حساب سے مل رہی ہے۔
گھی:
گھی روزمرہ بنیادی غذائی ضروریات میں سے اک بہت ہی اہم جزء ہے، جسکے بغیر کوئی کھانا تیار نہیں ہوسکتا، اپنی جیب سے خرچ کرنے والے پاکستانی پرانے اور نئے پاکستان میں گھی کی فی کلوگرام قیمت کا اندازہ خوب جانتے ہیں۔
گوشت، انڈے، دالیں:
موسم سرما آنے میں ابھی دو ماہ باقی ہیں جبکہ انڈوں کی قیمت نے عام پاکستانی کے ہوش اُڑادیے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گوشت کی قیمتوںنے عام پاکستانی جو پہلے ہفتہ میں اک دن گوشت کھالیتا تھا، اب وہ مہینہ میں اک دن گوشت خرید کر کھانا برداشت کر رہا ہے۔ پرانے پاکستان اور نئے پاکستان میں دالوں کے ریٹ تقریبا ڈبل ہوچکے ہیں۔ حق حلال کی کمائی سے خرچ کرنے والوں کو تو دالوں کو خریدنا دیوانے کا خواب لگ رہا ہے۔ہاں اگر آپ اپنی جیب سے کچھ نہیں خریدتے تو پھر مہنگائی کا رولا ڈالنے والوں کو رولا ڈالنے دیں۔
بجلی، گیس:
جدید دینا کی ایجادات میں بجلی و گیس کی پیداوار نے جہاں بیرون دنیا کے انسانوں کی زندگیوں کو سہل بنا دیا ہے اور انکی زندگیوں میں انقلاب بھرپا کردیا ہے وہیں پر نئے پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتوں نے پاکستانیوں کی زندگیوں کو ڈارونا خواب بنا کر رکھ دیا ہے، آئے روز بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نئے پاکستانیوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پاکستانیوں کی اکژیت کو ایسا لگ رہا ہے کہ کہ انکی زندگی کا مقصد صرف اور صرف بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے دن رات محنت مزدوری کرنا ہی رہ گیا ہے۔
ُپٹرولیم مصنوعات:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری بھر کم لگنے والے ٹیکسوں نے پاکستانیوں کی زندگی میں ’’ سکون ‘‘ چھین لیا ہے۔ یاد رہے پرانے پاکستان کی ڈاکو حکومت میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 66 روپے پر بھی نئے پاکستان کے متوالے شورشرابہ کیا کرتے تھے اور آج نوے نکوڑ پاکستان میں پٹرول 100 فی لیٹر سے زیادہ رقم پر مل رہا ہے۔
ادویات:
اک پاکستانی جب مہنگائی کی چکی میں پسنے کے بعد بیمار پڑجائے تو ڈاکٹر کی بھاری بھر کم فیس ادا کرنے کے بعد جب میڈکل اسٹور پر دوائی لینے جاتا تو اسکو دن کی روشنی میں ہی تارے نظر آنے شروع ہوجاتے ہیں۔پرانے پاکستان اور نئے پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ خود حکومت وقت نے یہ کہ کر دے دیا ہے کہ ـ ’’پرانے پاکستان کے ڈاکو اور ظالم حکمرانوں نے پچھلے پندرہ برسوں سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں ‘‘۔ پہلے دوائی کی ڈبی اور شیشی پر لکھا ہوتا تھا کہ دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، اب تو یہ حالت یہ ہوچکی ہے کہ ’’دوائیں بچوں کے امی ابا کی پہنچ سے بھی دور ہو چکی ہیں‘‘
حالت زار یہ ہو چکی ہے کہ نام نہاد یا برائے نام مافیا کو شکست دینے کے لئے دنیا کے بہترین زرعی ملک پاکستان کو بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء بیرون ملک سے درآمد کروانی پڑ رہی ہیں۔ گندم باہر سے درآمد، چینی باہر سے درآمد، پیاز باہر سے درآمد، ٹماٹر باہر سے درآمد، لہسن باہر سے درآمد، سرخ مرچ باہر سے درآمد
خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سردیوں میں انڈے اور مرغی بھی باہر سے درآمد نہ کروانے پڑجائیں۔ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چاول بھی باہر سے درآمد کروانے پڑجائیں۔ یہ کیسا نیا پاکستان بن رہاہے کہ جس میں روزمرہ ضروریات کی اشیاء باہر سے منگوانی پڑ رہی ہیں۔
درحقیقت اس وقت پاکستان میں اشیاء مہنگی سے مہنگی ہو رہی ہیں جبکہ انسان سستے سے سستا ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ اک فلاحی ریاست میں عام انسان کی سب سے زیادہ قدر ہوتی ہے، ہر فرد کی بنیادی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ نئے پاکستان میںاشیاء کی قیمت روزبروز بڑھ رہی جبکہ اسکے برعکس اک انسان کی قدر و قیمت روزبروز کم سے کم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ، بدقسمتی سے ایسا نئے پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
حکومتی وزیرنئے پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا ذمہ دار بھی اپوزیشن کو قرار دے رہے ہیں، حکومتی حلقے ابھی تک مہنگائی کی وجہ ’’مافیا‘‘ پر ڈال کر جان چھڑانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ مہنگائی کی تمام تر ذمہ داری اگر نام نہاد مافیا اور اپوزیشن پر ہے تو حکومت کیا کر رہی ہے؟ حکومت کیوں ان مافیاز کو کھل کر پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت دے رہی ہے؟ یاد رہے ریاستی امور کو چلانے کا نام حکومت ہے۔ اگر حکومت وقت ریاستی امور کو چلانے اور عوام الناس کی بنیادی انسانی ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عوام الناس جس کا پہلے ہی نئے پاکستان کی حکومت سے اعتماد اٹھنا شروع ہو چکا ہے ، کہیں یہ نہ ہو جائے کہ اپوزیشن کی اٹھنے والی تحریک میں عوام الناس شامل ہوکر حکومت وقت کو جھنڈی کروادیں۔کیونکہ کسی بھی حکومت کے خلاف اٹھنے والی کا۔میاب تحریک وہی ہوتی ہے کہ جس میں عوام الناس حکومت وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔یاد رہے کہ گرتی ہوئی حکومت کے خلاف آخری دھکا عوام الناس کا ہی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: