Today's Columns

میری مرضی از بلال شیخ

مومنہ ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح لیے یونیورسٹی بلڈنگ کی بالکونی میں ملائقہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ہلکی ہوا چل رہی تھی مومنہ منہ میں کچھ پڑھتی رہتی تھی اور ساتھ میں ملائقہ کی باتیں سنتی رہتی۔مومنہ سادہ مزاج لڑکی تھی۔ملائقہ سے دوستی اس وجہ سے تھی کیونکہ ملائقہ اس سے دوستی رکھنا چاہتی اس کا ماننا تھا کہ اس کو کوئی زیادہ سن سکتا ہے تو وہ مومنہ ہے۔مومنہ کم بولنے اور کم دوست رکھنے والی لڑکی تھی۔
” پتہ نہیں ہر وقت کیا پڑھنے کی عادت ہے تم نے کبھی بتایا نہیں تم کیا پڑھتی رہتی ہو خیر مجھے کیا یونیورسٹی کے آخری دن چل رہے تم آگے کیا کرو گی چار سال تو تم نے اس تسبیح کے ساتھ گزار دیے نہ اتنے دوست بنائے اور نہ ہی تمہیں اس یونیورسٹی میں کوئی جانتا ہے وہ تو میں ہی تھی جو تمہارے ساتھ رہی اب پتہ نہیں آگے تمہیں کوئی منہ لگاتا ہے یا نہیں تم ویسے ناکام ہی رہو گی تمہارے پاس تو بولنے کے لئے الفاظ ہی نہیں ہوتے چلو ویسے آج ہی بتا دو تم آگے کیا کرو گی”ملائقہ نے اْڑتے بالوں کو آںکھوں سے پیچھے کیا۔
مومنہ نے مسکراتے ہوئے کہا”دیکھو اللہ نے ہمارے لئے کوئی بہتر معاملہ رکھا ہوگا اب میں گھر کی طرف توجہ دوں گی امی کے ساتھ گھر کے معاملات دیکھو گی ان کو بھی میری ضرورت ہے”مومنہ کہتے ہوئے پھر تسبیح کرنا شروع ہو گئی۔ملائقہ نے گہری سانس لی اور چیخ کر کہا”اف۔۔۔۔ تم کب سدھرو گی مومنہ اتنی تعلیم حاصل کر کے بھی تمہاری سوچ چھوٹی رہ گئی ہے ہمیں آگے اپنے بارے میں سوچنا ہے اب ان ماں باپ بزگوں کے پیچھے نہیں چلنا انہوں نے ویسے ہی ملک کے حالات کا بیڑا بیٹھا دیا ہے اب ہماری باری اپنی تعلیم کو گھر کی چار دیواری میں دفن مت کرو اور باہر نکلو اپنے لئے یہ ہماری زندگی ہمیں اپنے متعلق سوچنے کا پورا حق دیتی ہے تم دیکھو ان چار سالوں میں یہ سکارف تمہارے سر سے نہیں اترا کیا تمہیں گرمی نہیں لگتی مجھے دیکھو میں ایک سکون کی زندگی گزار رہی ہوں میں کسی کی پابند نہیں ہو میرے ابو بھی میرے معاملے میں نہیں بولتے”ملائقہ کہتی ہوئی رکی تو مومنہ نے پوچھا”تو کیا یہ تمہیں اچھا لگتا ہے یہ سب اور تم ان سب میں اپنا مستقبل کہا دیکھتی ہو”۔
ملائقہ مومنہ کے سوال پر پرجوش ہو کر بولی”میں اپنا مستقبل شاندار دیکھتی ہوں دیکھو اگر میں لڑکی ہو تو کیا اب میں اپنے آپ کو کفن دفن میں رکھو نہیں میں آزاد ہو میں ہر اس لڑکی کی آواز بنوں گی جو اس خاندانی قید سے آزاد ہونا چاہتی ہے ہم خواتین ہے کسی کی غلام نہیں،ہمارا جو دل چاہے ہم پہن سکتی ہے ہمارا جو دل چاہے ہم بن سکتی ہے ہم مردوں سے آگے نکل سکتی ہم اپنی مرضی کر سکتی ہے،شادی پر بھی ہماری مرضی اور شادی کے بعد بھی برابری کے حقوق،کام کرنے کی آزادی ملائقہ ایک آواز ہے جو پورے ملک میں گونجے گی،مومنہ تم جیسی لڑکیوں کی وجہ سے ہم اس غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتی ہمیں انہوں نے سمجھ کیا رکھا کھلونا نہیں ہم کھلونا نہیں یہاں پر صرف ہماری مرضی چلے گی ہم لڑکیاں گھر سے ریاست تک حکمرانی کر سکتی ہے ہم نے حیا کی کوئی ٹھیکے دار نہیں اور تم دیکھنا ایک دن ملائقہ یہ مرضی کا قانون پورے ملک پر لاگو کرے گی”ملائقہ خاموش ہو گئی مگر مومنہ اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
“کیا کہتی ہو مومنہ بنو گی میرے سفر میں ہم سفر”ملائقہ نے کہا۔”نہیں ملائقہ میرے اوپر صرف اللہ کی مرضی چلتی ہے”مومنہ نے کہا۔”اف۔۔ یار پتہ نہیں تم کب بدلو گی اللہ ہی تمہارا مالک ہے”ملائقہ نے کہا تو مومنہ نے فوراً کہا “اور محافظ بھی”جس پر مومنہ مسکرا دی اور ملائقہ نے قہقہ لگایا اور دونوں کلاس میں چلی گئی۔یونیورسٹی کچھ دنوں بعد ختم ہو گئی۔ملائقہ نے جو کہا وہ کر کے دکھایا۔دن اور راتوں کا سفر چلتا رہا اور ملائقہ لڑکیوں کی فوج بناتی رہی ملائقہ نے تحریک چلائی دنیا میں جہاں تک ہو سکا اس نے اپنی آواز پہنچائی بہت سی ملائقہ کی ہم خیال خواتین اس کے ساتھ سفر میں نکل پڑی۔اس نے یہ ثابت کرنے کے لئے دن رات ایک کیا کہ خواتین اپنی مرضی کی مالک اور اس مرضی پر کوئی مالک نہیں رہ سکتا۔ملائقہ کو کون پسند کرتا تھا یا کون نہیں اس سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ہر جگہ اس کے نظریے کو دکھایا جاتا اسے سوالات کیے جاتے اور وہ بے دھڑک جواب دیتی۔وہ ایک باغی عورت کے طور پر سامنے آئی تھی۔
ملائقہ اب اپنا منہ چھپا کر رکھتی تھی۔اس کے ہم سفر بھی اس سے کنارہ کر چکے تھے۔ اس کو اپنا چہرہ چھپانے کے لئے پورا شہر تنگ نظر آنے لگا تھا۔اپنے قبول کرنا نہیں چاہتے تھے اور کسی کو اس نے اپنا بنایا نہیں تھا۔اس کا نظریہ اس کے لئے گالی بن چکا تھا۔جو دیکھ رہے تھے وہ ہنس رہے تھے اور جن کو وہ دیکھنا چاہتی وہ اس کی شکل سے تھک چکے تھے۔عمر زوال کا شکار تھی۔ایک دن اس نے اپنی جاننے والی سے کہا”مجھے کوئی حل بتاوں میں کیا کروں” اس نے ایک عورت کا نمبر دیا اور کہا “جاو اس سے ملو شائد کوئی راستہ مل جائے”۔لمبے انتظار کے بعد ملائقہ کمرے میں داخل ہوئی۔ داخل ہوتے ہی اس کا جسم ہلکا محسوس ہونے لگا اس نے سامنے بیٹھی شہر کی نامور اور معزز خاتون کا چہرہ دیکھا جس کا پتہ رکھنے اور بتانے میں لوگ فخر محسوس کرتے ہیں تو ملائقہ کی آنکھیں نم اور دل مٹھی میں آ گیا۔”مومنہ تم آج بھی اس شہر میں کوئی مجھے نہیں سننا چاہتا آج میں تم سے فریاد کرتی ہو مجھے بچا لو”۔
مومنہ آج بھی تسبیح لیے بیٹھی تھی۔اس نے ملائقہ کو اسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا۔”عورت کا مقام واضح ہے دین میں مکمل طور پر عورت کو حقوق حاصل ہے دین ہی ہے جس نے عورت کو وہ مقام اور مرتبہ عطا کیا جو پہلے حاصل نہیں تھا،جو حد اللہ پاک نے مقرر کر دی ہے اس پر ایک عورت ہی کیا مرد کو بھی اجازت نہیں کچھ کہنے کی تم چاہتی تھی تمہاری مرضی چلے تمہیں کھلی اجازت ملی تھی اپنی مرضی کرنے کی تم کامیاب ہو گئی ملائقہ مگر نتیجہ وہی ہو گا جو اللہ کی مرضی ہوگی،ہماری مرضی کا ایک ہی مالک ہے اور وہ اللہ ،حیا ہمارا لباس ہے،عورت اپنی مرضی سے عورت نہیں بنتی اللہ کے حکم سے بنتی ہے اس کے بننے کے بعد بھی اللہ کا ہی حکم اس پر چلتا ہے تمہارے نظریے نے کتنوں کی زندگیاں گناہوں کی نظر ہوئی ہوگی اب بتاوں کیا چاہتی ہو تم مجھ سے میں تمہیں دے بھی کیا سکتی تم پر تو میری مرضی نہیں چل سکتی نا”مومنہ خاموش ہو گئی۔
“مجھے دعا چاہئے تم سے،تمہاری سنتا ہے اللہ مومنہ میری زندگی بچا لو مجھے راستہ دیکھاو “ملائقہ رونا شروع ہو گئی۔مومنہ نے دراز کھولا اور اس میں سے ایک تسبیح نکالی اور ملائقہ کی طرف کی اور کہا”یہ استغفار کی تسبیح کرو اور ان سب سے معافی مانگوں جن کو تم نے اس راستے میں ہم سفر بنایا اور اب یاد رکھنا جس کی زندگی ہے اس زندگی میں قانون بھی اس کا ہو گا اور مرضی بھی اس کی ہو گی تو اس کی مرضی پر زندگی گزارنے والوں کو وہ کبھی مایوس نتیجوں کا سامنا نہیں کرواتا”مومنہ کہتی ہوئی خاموش ہو گئی۔کمرے سے باہر آتے ہوئے ملائقہ نم آںکھوں سے تسبیح پر انگلیاں پھیر رہی تھی اور زبان ایک ہی ورد میں مصروف تھا “استغفراللہ۔۔۔”۔
Bilalsheikh232@gmail.com
03364989926

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: