Today's Columns

سرسید احمد خان کی خدمات از نبیلہ شہزاد

محمد بن قاسم کی فتوحات کے بعد برصغیر میں مسلمانوں کا شروع ہونے والا عروج سینکڑوں سال جوان رہنے کے بعد مغلیہ حکمرانوں کی عیش و عشرت کی تاب نہ لاتے ہوئے تنزلی کا شکار ہونے لگا۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب 1857ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں کو بالکل بے بس ہی کردیا گیا۔ مسلمان سیاسی لحاظ سے کمزور ترین ہو گئے۔ تعلیمی اداروں کے دروازے ان پر تقریباً بند کردیئے گئے۔ مظلومیت کا شکار مسلمان غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ایسے دلگیر اور دلسوز حالات میں مسلمانوں کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دینے کے لئے درد دل رکھنے والے جو چند مخلص لوگ آگے بڑھے، ان میں ایک نام سرسید احمد خان کا بھی ہے۔ جنہوں نے مسلمانوں کی حمایت کے لئے اپنی زندگی میں تعلیمی، تحقیقی، ادبی، سیاسی، سماجی زندگی کے ہر قسم کے علمی اور قومی مشاغل میں حصہ لیا۔ان کا نام “سید محمد خان” تھا۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں “سر” کا خطاب دیا۔ پھر یہ لفظ “سر” ہمیشہ کے لیے ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ سر سید احمد خان نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت انگریزوں کا سیاسی اقتدار پورے ہندوستان پر چھا چکا تھا۔ مغلیہ حکومت زوال کی انتہا تک پہنچ چکی تھی اور صرف لال قلعہ تک محدود تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ برائے نام حکومت بھی نہ رہی۔چلاک اور موقع پرست قوم، ہندوؤں نے اپنی صفائی پیش کر کے انگریزوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیں۔ لیکن مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ بغاوت اور مقابلہ کے لئے آمادہ، جبکہ دوسرا مفاہمت اور صلح پسندی کا خواہشمند تھا۔ اس وقت انگریزوں کے ساتھ مفاہمت وصلح پسندی کا آغاز سرسید احمد خان کی طرف سے ہوا۔ان کا یہ قدم حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ان کا خیال تھا کہ چلاک و عیار انگریز کے ساتھ مفاہمت کر کے مسلمانوں کو پہلے تعلیمی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے پھر مسلمان اپنا کھویا ہوا تشخص وعہد واپس چھین لیں۔ سب سے پہلا کام تو یہ کیا کہ انگریزوں کی طرف سے لگایا گیا مسلمانوں پر غدر کے الزام کا دفاع کرنے کے لیے 1859ء میں ایک کتاب “اسباب بغاوت ہند” لکھی اور یہ کتاب ارکان پارلیمنٹ تک بھی بھجوائی۔ 1869ء میں اپنے بیٹے سید محمود کے ہمراہ انگلینڈ گئے۔ وہاں آکسفورڈ و کیمرج یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم کا مشاہدہ کیا اور ہندوستان میں بھی اسی طرز کی یونیورسٹی اور کالج قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ 1870ء میں رسالہ “تہذیب الاخلاق” لکھا. جس میں مسلمانوں کی مطلوب اصلاح معاشر تی پہلوؤں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی خامیوں کو فوری دور کرنے کی کوشش کریں۔ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے “انجمن ترقی مسلمانان ہند” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ 1875ء میں اس ادارے نے “ایم اے او” ہائی سکول قائم کیا۔ جس میں جدید اور مشرقی علوم کا بندوبست کیا گیا۔ 1877ء میں اس سکول کو کالج کا درجہ دیا۔ اور 1898ء میں اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔ یہ یونیورسٹی اپنی تاریخ میں مسلمانوں کی ثقافت، تہذیب، اور شناخت کا اہم مرکز رہی ہے۔ اور آج بھی بھارتی حکومت کی مخالفت کے باوجود علم کی کرنیں بکھیرنے میں مصروف عمل ہے۔
سرسید احمد خان ترقی کے لیے مسلمانوں کے انگریزی سیکھنے کے خواہاں تھے۔ لیکن اردو زبان و ادب سے ان کی دلچسپی سب سے زیادہ رہی۔ انہوں نے نہ صرف اردو زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے غیر معمولی ترقی دے کر اردو ادب کی نشوونما و ارتقاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔سر سید احمد خان اپنے ادبی اور سیاسی کارناموں سے ہندوستان میں ایک بلند مقام رکھتے تھے۔ نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، مولانا نذیر احمد، مولوی چراغ علی، مولوی زین العابدین اور الطاف حسین حالی جیسے لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھا تھا، ان کے ادبی حلقے میں شامل تھے۔ سر سید احمد خان نے درجنوں کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھے۔ جن کے ترجمے ان کی زندگی میں ہی انگریزی، فارسی، فرانسیسی میں ہونے لگے۔ سرسید کی سیاسی حکمت عملی کی اصلی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم ثابت کرتے ہوئے حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کے افکار کو آگے بڑھایا۔ صحافت سے سرسید کا تعارف ان کے بڑے بھائی سید محمد خان کے اخبار “سیدالاخبار” کے ذریعے ہوا۔جو 1841ء میں دہلی سے جاری ہوا۔ پھر جب بڑے بھائی کے انتقال کے بعد سرسید نے اس اخبار کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی تو اس کا نام بدل کر “مطبع الاخبار” رکھ دیا۔ سر سید احمد خان نے جہاں مذہبی، اخلاقی اور سیاسی موضوعات پر قلم اٹھایا وہاں تعلیم، سائنس، انگریز دوستی، مغربی تہذیب کی اچھائیاں اور عام مسلمانوں کے حالات جیسے موضوعات کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان کے مضامین نے تحریک کے مفادات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اردو نثر کا وقار بھی بلند کیا۔ سرسید احمد خان نے اپنی لکھی کتب میں اپنے مذہبی نظریات بھی بیان کیے۔ 1842ء میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اردو زبان میں ایک کتاب “جلاء القلوب بذکرالمحبوب” لکھی۔ 1861ء میں ولیم میور نے کتاب”دی لائف آف محمد” لکھی۔ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے جا اعتراضات کیے گئے تھے۔ سر سید احمد خان نے ان کا جواب دینا ضروری سمجھا اور ایک کتاب “خطبات احمدیہ” لکھی۔ جو 1870ء میں لندن میں شائع ہوئی۔ جس پر مخالفین نے بھی کہا کہ سر سید میدان حشر میں “خطبات احمدیہ” کی وجہ سے ہی بخشے جائیں گے۔ مسلمانوں کے عروج کی خاطر تگ ودو میں زندگی گزارنے والا یہ جانباز، 27 مارچ 1898ء بروز اتوار اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گیا۔ انہیں علی گڑھ کالج کی مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: