فقیدالمثال گمنام ہیروز

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ نہایت ہی قابل، محب وطن اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے میرے کہوٹہ کے ساتھیوں کے بارے میں مضامین کی ایک اور کڑی ہے۔
اپنے پچھلے ایک کالم میں اپنے فقیدالمثال میکینکل انجینئر ساتھی اعجاز احمد کھوکھر کے بارے میں چند دلچسپ واقعات بتائے تھے۔ آج ایک اور واقعہ یاد آیا تو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔کھوکھر کا تعلق لاہور سے تھا اور آپ جانتے ہیں کہ لاہوریوں کی دو خصوصیات ہیں، اوّل یہ لاہور کے آگے کسی اور شہر کو اس سے اچھا ماننے کو تیار نہیں اور دوئم مرچ مصالحے والے کھانے میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان کے ہر کھانے میں گوشت، دال، سبزی وغیرہ کم اور مرچ زیادہ ہوتی ہے۔ ہم چین جارہے تھے وہاں ایک نمائش ہو رہی تھی۔ میں اور چند رفقائے کار تھے جن میں انجینئر کھوکھر بھی تھے۔ مجھے ان کے مرچیں کھانے کے شوق کا علم تھا۔ لنچ پر ہری مرچیں کھیرے کی طرح کھاتے تھے۔ میں نے جاتے وقت چار بوتلیں امریکن تیز مرچوں کے عرق کی منگوا کر ساتھ رکھ لیں۔ جب ہم چین پہنچ گئے اور شام کو ڈنر کرنے بیٹھے تو میں نے ایک بوتل کھوکھر کو دیدی۔ انھوں نے اس کا ڈھکنا کھولا، اس کو سُونگھا اور پلیٹ پر چھ، سات مرتبہ جھٹک دیا۔ یہ بے حد تیزمرچ ہوتی ہے اور ہم تو عموماً ایک دو قطرے ہی استعمال کرتے ہیں۔ دو تین لقمے لینے

کے بعد انھوں نے پھر بوتل کھولی اور پوری پلیٹ پر خالی کردی۔ ہم سب خاموشی و حیرت سے دیکھتے رہے۔ دو چار لقمہ کھا کر بولے، ’’یہ امریکن بھی پاگل ہیں۔ بوتل پر مرچ کی تصویر ہے اور اندر میٹھی چٹنی بھری ہوئی ہے۔‘‘یہ تھے ہمارے ملنگ کھوکھر دیکھئے ہم سب انسان ہیں اور غلط عادت کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ کھوکھر میں ایک بڑی خامی تھی وہ مستقل مزاج نہ تھے، بہت جلد ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری چیز شروع کرنا چاہتے تھے اور کر دیتے تھے۔ میں نے یہ اصول بنایا تھا کہ روز ان کی ورکشاپ میں جاتا اور دیئے ہوئے کام کی رفتار اور حالت دیکھتا اور ان کو اِدھر اُدھر ہلنے نہیں دیتا ۔ ان کے دو ساتھیوں نے انکے دائیں، بائیں ہاتھ کی طرح ڈویژن کو سنبھالا ہوا تھا۔ انجینئر سعید احمد نے، جن کا ذکر پہلے کرچکا ہوں اور جن کو نمک حراموں اور احسان فراموشوں نے بہت ستایا اور تکلیف دی کہ وہ بذریعہ بس ترکی سے ایران سے ہوتے ہوئے پاکستان واپس آئے تھے، پورا ڈیزائن سیکشن سنبھالا ہوا تھا۔ نہ صرف تمام ڈرائنگز نہایت اچھے طریقہ سے بناکر رکھی تھیں بلکہ جب (Computer-aided Design) CAD اور (Computer-aided Manufacturing)CAM کی ٹیکنیک کا استعمال وجود میں آیا تو انجینئر سعیدنے خود محنت کرکے تمام کام میں اعلیٰ مہارت حاصل کرلی اور ہمارے پلانٹ کی تمام ڈرائنگز کو کمپیوٹر سے تیار کردہ ڈرائنگز میں تبدیل کرلیا۔ اس کا بہت بڑا فائدہ یہ تھا کہ جب بھی ہمیں ڈرائنگز میں تبدیلی کرنا ہوتی تھی فوراً کمپیوٹر کی مدد سے اس میں ترمیم کرکے نئی کاپی نکال کر ریکارڈ میں رکھ لیتے تھے۔ انجینئر سعید احمد کا یہ شاندار کارنامہ تھا اور اسی وجہ سے میں نے ان کو شمالی قبرص میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے بھیج دیا تھا۔ یہ ایک انمول ہیرا تھا جس کو ظالموں نے معمولی سا پتھر سمجھا اور بے قدری کی۔ آج کل یہ اپنا چھوٹا سا کاروبار کرکے رزق حلال کما اور کھا رہے ہیں۔ کھوکھر کے دوسرے ساتھی انجینئر نذیرمرزا تھے۔ انھوں نے ایک نہایت اہم موٹر بنانے کی ذمہ داری لی ہوئی تھی۔ اس ملک میں جہاں آج تک سینے کی سوئی نہیں بنتی انھوں نے یہ موٹر بنالی جسکا پریشر یا تھرسٹ 27ٹن تھا۔ ہر چیز انھوں نے خود کہوٹہ میں تیار کی جو ایک اہم ہتھیار کی تیاری میں کام آئے جو آج بھی یہ ہمارے لئے واحد موثر ہتھیار ہے۔ ایک نہایت اہم مشین کے کام کی نگرانی ڈاکٹر طاہررسول کے ذمّہ تھی جو انھوں نے نہایت مہارت و خوش اسلوبی سے انجام دی۔ آجکل ایئریونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔
اپنے پچھلے کالم میں آپ کو میں نے اپنے اسپتال اور وہاں موجود سہولتوں کے بارے میں کچھ بتلایا تھا۔ آج آپ کو مزید تفصیل اس اعلیٰ اسپتال کے بارے میں بتاتا ہوں۔ یہ 200 بیڈ پر مشتمل اسپتال ہے جہاں نئے ڈاکٹر ہائوس جاب کرتے ہیں اور ڈگری یافتہ ڈاکٹر5 سالہ پوسٹ گریجویٹ تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ اس کا خاص مقصد ہمارے اپنے رفقائے کار کو اعلیٰ طبّی سہولت میسر کرنا تھی۔ میری ریٹائرمنٹ کے بعد اسے فوج نےلےلیا اوراب اس اسپتال میں پرائیویٹ مریضوں کا علاج بھی ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے اپنے اسٹاف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت یہ اسپتال جی۔9 سیکٹر میں دو بڑے پلاٹوں پر مشتمل ہے اور کئی منزلہ عمارتوں میں قائم ہے۔ اسپتال کے انچارج اور ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر سید محمد کامران ہیں جو کئی برسوں سے یہاں کام کررہے ہیں، انگلینڈ کے تربیت یافتہ اعلیٰ یورولوجسٹ ہیں اور اپنے میدان میں کافی مشہور ہیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر بابر تحسین جاوید ڈائریکٹراور ڈاکٹر سہیل اَنصر، ڈاکٹر آمنہ بلال اور ڈاکٹر سید غضنفر زیدی ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ٹیم پورے اسپتال کی اِنتظامیہ سنبھالتی ہے۔ یہاں سرجری ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے انچارچ ڈاکٹر عامر غضنفر ہیں،اِن کے ساتھ ڈاکٹر اطہر سجّاد، ڈاکٹرلابیبا مقبول، ڈاکٹر اِرم حسن اور ڈاکٹر محمد عاصم کی ماہرٹیم ہے۔ میں نے اپنے دو اہم آپریشن اپنے ہی اسپتال میں کرائے تھے۔ ہماری آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر رفعت محمود ہیں اور ان کے ساتھ ڈاکٹر مغیث اکرام امین ہیں۔ ڈاکٹر مغیث میری کمر کے آپریشن کے وقت پروفیسر خلیق الزمان اور ان کی بیگم پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ خلیق کے ساتھ شامل تھے اور اب بھی چیک اَپ کرتے رہتے ہیں اور ہدایات دیتے ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک نیوروسرجن ڈاکٹر مرزا فیصل احمد رفیق ہیں۔ یورولوجی میں ڈاکٹر کامران مجید کی سربراہی میں ڈاکٹر عدیل احمد خان اور ڈاکٹر کاشف سردار بنگش جیسے ماہرین کی ٹیم ہے۔ اسپتال کی ریڈیالوجی کی ٹیم خاصی بڑی ہے ، ڈاکٹر ساجدہ مَہیسر کی سربراہی میں ڈاکٹر وسیم اعوان ، ڈاکٹر وجیہہ ارشد، ڈاکٹر مہہ جبین محمود، اعلیٰ علاج وسروس مہیا کرتی ہے۔ KRL اسپتال کی ENT کی ٹیم بہت اعلیٰ ہے اس کے انچارج ڈاکٹرمحمد سرور خان ہیں اور ٹیم میں نہایت تجربہ کار اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ڈاکٹر جمشید بن سعید (جو ہمیشہ سے ہماری فیملی کی دیکھ بھال کرتے رہے ہیں)، ڈاکٹر قاضی مظفرعالم، ڈاکٹر محمد یاسر خان اور ڈاکٹر سید عدنان قاسمی ہیں۔ یہ سب نہایت تجربہ کار اور بہترین ڈاکٹر ہیں۔ میڈیسن ڈویژن کے انچارج ڈاکٹرمحمد سلیم قریشی ہیں، یہ ملک کے مایہ ناز میڈیکل اسپیشلسٹ ہیں اور پچھلے10 سال سے ہماری دیکھ بھال کررہے ہیں۔ ہفتے میں دو روز ضرور آتے ہیں، انھوں نے ہی بروقت میرا پروسٹیٹ کا کینسر پکڑ لیا تھا اور بروقت آپریشن سے (جو آغا خان اسپتال کے ڈین اور نہایت قابل اور ملک کے مایہ ناز ڈاکٹر فرحت عبّاس نے کیا تھا) مجھے بہت مشکل و تکلیف سے بچا لیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ نہایت قابل ڈاکٹروں کی ٹیم ہے جس میں ڈاکٹر عظمت علی، ڈاکٹر انیلہ نثار، ڈاکٹر رائو محمد کلیم فرقان، ڈاکٹر محمد قیصربٹ اور ڈاکٹر سید وقار حسین شامل ہیں۔ امراضِ گردہ (نیفرالوجی) کا بھی بہترین علاج ہوتا ہے اور یہاں ڈاکٹر زاہد نبی اوران کے رفیق کار ڈاکٹر ہمایوں رشید بہترین علاج مہیا کرتے ہیں۔ سینہ اور پھیپھڑوں کے اعلیٰ علاج کے ماہر ڈاکٹر کلیم اللہ طوری موجود ہیں، دماغی امراض کے ماہر کرنل ڈاکٹر سعید عظیم خندہ پیشانی سے مریضوں کی تکالیف سنتے اور بہترین علاج کرتے ہیں، جلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر شوکت سلطان (جنھوں نے میرا بھی علاج کیا ہے انگلی کے ناخن کے نیچے فنگس ہوگئی تھی) اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر کوکب گلزار مریضوں کو بہترین علاج مہیا کرتے ہیں۔ کیونکہ آئوٹ ڈور مریضوں کی تعداد کافی ہوتی ہے یہ بڑا محکمہ ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر عزیزاللہ میمن ہیں اور ان کے ساتھ ڈاکٹر عمارہ قریشی، ڈاکٹر حافظ محمد زبیر، ڈاکٹر محمد شعیب، ڈاکٹر سیمی گل، ڈاکٹر فرحین ملک اور ڈاکٹر عتیقہ محمود ہمارے اسٹاف کو اعلیٰ فوری علاج مہیا کرتے ہیں۔ ڈاکٹرعمارہ قریشی ہمارے ڈاکٹر سلیم قریشی کی غیرموجودگی میں مجھے دیکھنے آتی ہیں نہایت قابل اور خوش گفتار ہیں۔ ڈاکٹر سلیم قریشی ، ڈاکٹر سینیہ اختراور ڈاکٹرعمارہ کے ساتھ ہمیشہ نزہت رحمٰن سینئر نرس آتی ہیں اور آٹھ سال سے ان سب سے رفاقت نے ان کو فیملی ممبربنا دیا ہے۔ سب نہایت پرخلوص اور قابل ہیں۔ہمارا نفسیات (Psychiatric) کا ڈپارٹمنٹ بھی اعلیٰ خدمات انجام دے رہا ہے۔ گردش زمانہ کی وجہ سے اکثر لوگ ذہنی دبائو کا شکارہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر سینیہ اختر جو کہ انگلستان سے تعلیم یافتہ ہیں اور وہاں کام بھی کیا ہے اور ماہر نفسیات ہیں یہ پچھلے دس سال سے ہماری فیملی ڈاکٹر ہیں۔ ہفتہ میں ایک بار تشریف لاتی ہیں، علم نہیں کہ یہ ہمیں سکون مہیا کرتی ہیں یا خود پرسکون ہوکر جاتی ہیں۔ ہنس مکھ اور خوش گفتار ہیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر انعم مصباح حسنات اسٹاف کی ذہنی پریشانیوں کا علاج کرتی ہیں۔ امراض قلب کے ماہر (جو میرا دل بھی چیک کرتے رہتے ہیں)، ڈاکٹر ہمایوں حق اور ان کے رفقائے کار ڈاکٹر حنا وسیم اور ڈاکٹر محمد ذیشان ہمارے اسٹاف کا ماہرانہ علاج کرتے ہیں۔ پیتھالوجی کے محکمے کے سربراہ نہایت قابل ڈاکٹر عمر فاروق ہیں اور ان کے ساتھ ماہر ڈاکٹر، ڈاکٹر مسعود اقبال ستّی، ڈاکٹر نورالعین اور ڈاکٹر اظہر سلیم نور ہیں۔ اِنِستھیسیا دینے والے (یعنی بے ہوش کرنے والے) ڈاکٹروں کا کام نہایت اہم اور خطرناک ہوتا ہے، اگرغلطی ہوجائے تو مریض خالق حقیقی سے جاملتا ہے۔ مجھے کئی بار بے ہوش کیا گیا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر شاہدہ نسیم کی سربراہی میں ڈاکٹر فدا احمد، ڈاکٹر طارق حیات خان، ڈاکٹر جاوید صغیر، ڈاکٹر حمیرہ جدون اور ڈاکٹر زاہد فرقان اعلیٰ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان محکموں کے علاوہ ہمارے یہاں ایک نہایت اہم محکمہ فزیوتھراپی، ری ہیبلی ٹیشن کا ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر نورالاسلام خان جو اپنے فن میں ماہر ہیں میرے پروسٹیٹ کے آپریشن اور کمر کے آپریشن کے بعد سے یہ مجھے ورزش کرارہے ہیں اور بہت اچھے نتائج نکلے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی ٹیم ہمارے اسٹاف کو گرانقدر خدمات مہیا کررہی ہے۔ہمارے اس بڑے اسپتال کے علاوہ کہوٹہ میں ایک بڑا اسپتال ہے جہاں تمام سہولتیں اور ڈاکٹر موجود ہیں۔ ہمارا بہت سا اسٹاف وہاں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ پنڈی آفس اور گولرہ کے اسٹاف کے لئے بھی OPD موجود ہیں جو فوراً عام امراض کا علاج کردیتی ہیں۔
(نوٹ) پچھلے دنوں واپڈا کے سابق ممبر پاور اور نیپرا کے سابق چیئرمین انجینئر چوہدری جاوید اختر کا انتقال ہوگیا۔ اللہ پاک ان کو جنت عطا فرمائے۔ نہایت قابل، خوش اخلاق انسان تھے۔ ہمارے پروگرام کے اوائل میں ان سے اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔ انھوں نے ہمیں منگلہ اور تربیلہ سے بجلی فراہم کی جسکی وجہ سے کبھی بجلی کی سپلائی میں خلل نہیں پڑا۔ ان کے نہایت قابل رفیق کار انجینئر، چیف انجینئر نذیرعلی نے نہایت برق رفتاری اور مہارت سے ہمیں عارضی کنکشن مہیا کردئیے تھے جس سے ہمیں بے انتہا سہولت مل گئی تھی اور کام تیز ہوگیا تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: