ڈیرہ مسلم لیگ (ن ) بقائی‘ احیاء ‘ توقعات اور خدشات از بلند اقبال بلوچ

قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں ڈیرہ اسماعیل خان مسلم لیگ کیلئے سر زمین قبولیت رہاہے ۔ 1960 ؁ء کی دہائی میں فوجی آمر حکمرانوں نے مسلم لیگ کو مختلف سابقوں لاحقوں سے اپنے اقتدار کی گود میں لینا شروع کیا اور بطور سیاسی پلیٹ فارم اسکا بے دریغ استعمال کیا ۔ان تمام ادوار میں با اثر سیاسی خاندانوں کا رخ ‘ دلچسپی اور پسندیدگی ہمیشہ مسلم لیگ کو حاصل رہی لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلم لیگ عوامی مقبول جماعت نہ بن پائی۔ 1980 ؁ء کی دہائی کے آخری برسوں اور 1990 ؁ء کی دہائی کی شروعات میں مسلم لیگ (ن ) ڈی آئی خان میں ایک مقبول عوامی سیاسی قوت کے طور پر سیاسی منظر پر نمودار ہوئی ۔ درآصل سوویت یونین کی شکست و ریخت کی بدولت بائیں بازو کے درجنوں ورکرز انقلابی سیاست سے بیزاری اور مایوسی کا شکار تھے ۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب مقامی سیاسی خاندان میانخیل گروپ نے مسلم لیگ (ن ) میں شمولیت اختیار کی ۔ حالانکہ عمر فاروق میانخیل بائیں بازو کے نظریات کے حامل ترقی پسند سیاسی سوچ و فکر رکھنے والی سیاسی شخصیت تھے ۔ چونکہ بائیں بازو کے ورکرز سے سیاسی روابط رکھتے تھے ۔ لہذا بائیں بازو کے سیاسی طور پر مایوس اور بے زار ورکرز اور دانشوروں کو مسلم لیگ (ن ) میں شمولیت پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ 1992 ؁ء کے بعد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ورکرز اور دانشوروں کی قابل ذکر تعداد نے مسلم لیگ (ن ) میں شمولیت اختیار کی ان ورکرز ‘ دانشوروں اور ترقی پسند مقامی قائدین میں شاہ نواز خان میانخیل ‘ سابق ممبر صوبائی اسمبلی شائستہ خان بلوچ‘ محمد یونس تھہیم ایڈوکیٹ ‘ محمد دائود خان ایڈوکیٹ ‘ چوہدری محمد یوسف خان شامل تھے ۔ بائیں بازو کی طرح ڈی آئی خان میں اس وقت دائیں بازو کی روایتی جماعتوں سے بھی ورکرز اور مقامی درمیانہ درجہ کے قائدین نا لاں اور بے زار تھے ۔ لہذا دائیں بازو کی جماعتوں سے بھی ورکرز کی خاصی تعداد نے مسلم لیگ (ن ) کی طرف اڑان بھری ۔ ان جماعتوں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے ورکرزاور مقامی لیڈران قابل ذکر ہیں ۔ جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں سے آنے والے مقامی سیاستدانوں میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی ملک صلاح الدین خان‘چوہدری محمد شریف ‘میجر امین اللہ خان گنڈہ پور اور عبدالرئوف پراچہ شامل تھے ۔ دائیں اور بائیں بازو سے آنے والوں نے مسلم لیگ (ن ) کو اپنی زندگی کا فائنل سیاسی میچ سمجھا اور اسے جانفشانی اور ایمانداری سے کچھ اس انداز سے کھیلا کہ سیاست کی مقامی بساط پر مسلم لیگ (ن ) واحد فاتح اور میانخیل خاندان جیت کا واحد کھلاڑی بن گئے۔ لیکن حسب روایت اس بار بھی جمہوری بساط زیادہ پائیدار نہ ہوئی اور میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کا عسکری اداروں کے ہاتھوں دھڑن تختہ ہو گیا ۔ میاں نواز شریف حکومت کے دھڑن تختہ کے بعد میانخیل خاندان نے مسلم لیگ کو داغ مفارقت دے دیا ۔ میانخیل خاندان مسلم لیگ ق میں رونق افروز ہو گیا ۔ یہاں بھی زیادہ عرصہ ٹک نہ پایا اور تحریک انصاف میں شمولیت کر لی اور کچھ عرصہ کے بعد تحریک انصاف کو بھی چھوڑ دیا ۔ مسلم لیگی مقامی قائدین اور ورکرز بھی تتر بتر ہو گئے ۔ کچھ شخصیات نے اپنی اپنی سابقہ سیاسی مچانوں کی جانب اڑان بھر لی ۔ کچھ ورکرز اور مقامی قائدین سیاست سے کنارہ کش ہو کر وقت اور زمانہ کی دھول میں گم گشتہ ہو گئے ۔ مشرف دور میں میاں نواز شریف کو جلا وطن کر دیا گیا ۔ یہ جلا وطنی 10 سال پر محیط رہی ۔ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بھی ڈیرہ مسلم لیگ کو مقامی طور پر دبنگ قیادت یا پشت بان سیاسی خاندان دستیاب نہ ہو سکا ۔ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان جیسے خطے کی سیاست مڈل کلاس ورکرز کے بس سے باہر تھی ۔ اسلیئے 2018 ؁ء کے الیکشن کے دوران مقامی ڈیرہ مسلم لیگ (ن ) ایک خوابیدا سیاسی قوت دکھائی دی ۔ لیکن رواں سال 2020 ؁ء میں دیرینہ سیاسی خاندان کنڈی خاندان کے ایک موثر دھڑے کی مسلم لیگ (ن ) میں شمولیت نے مقامی مسلم لیگ (ن ) کے اچھے دنوں کے احیاء کی امید پیدا کر دی ۔ کنڈی خاندان ڈیرہ و ٹانک ڈویژن کا ایک دیرینہ قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد اس خاندان نے ڈیرہ و ٹانک ڈویژن کو صوبائی اور قومی نمائندے ‘ صوبائی کابینہ کواہل ارکان اور سیاسی لیڈر شپ مہیا کی ۔ اس لیئے خطہ ڈی آئی خان و ٹانک کی مقامی سیاست کا ذکر کنڈی خاندان کے ذکر کے بغیر تشنہ تکمیل ہے ۔ گو کہ کنڈی خاندان اب دو سے زائد حصوں میں بٹ چکا ہے ۔ لیکن پھر بھی اس خاندان کا ہر دھڑا اپنے اپنے طور پر سیاسی اہمیت اور اثر و نفوذ کا مالک سمجھا جاتا ہے ۔ سابق ایم این اے داور خان کنڈی کی سرکردگی میں چلنے والا گروپ اور مذکورہ سیاسی خاندان خطہ ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے خاندانی مراسم کی بدولت اچھی شہرت کا حامل ہے ۔ داور خان کنڈی کم سنی میں ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ۔ بحثیت ممبر قومی اسمبلی انکی اسمبلی فلورپر کی گئی تقاریر سے انکی سیاسی دانش اور ویژن کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے ۔ راقم چونکہ ایک طویل مدت سے داور خان کنڈی کے سیاسی ارتقا اور مزاج کا شاہد و آشنا ہے ۔ لہذا ہمارے فہم و نظر کے مطابق داور خان کنڈی کی شکل میں مسلم لیگ ن ڈیرہ اپنے موجودہ لیڈر شپ کے خلاء و بحران سے نجات پا سکتی ہے ۔ اور عوامی مقبولیت کے احیاء کی منزل دوبارہ حاصل کر سکتی ہے ۔ عوامی اور نچلے محروم طبقات میں میل جول اور تعلقات عامہ کی صلاحیت سے مالا مال شخصیت داور خان کنڈی مقامی مسلم لیگ (ن ) کا مسقبل سنوارنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حالیہ دنوں فرانسی صدر کے اسلام مخالف اور پیغمبر اسلامؐ بارے شان میں نا زیبا اور متصبانہ ریمارکس کے خلاف داور کنڈی کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس طرح بیساکھی گرائونڈ میں مسلم لیگ (ن ) کے ورکرز کنونشن کا کامیاب انعقاد وغیرہ کی سرگرمیاں ‘ بحثیت متحرک سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن ) کی ڈی آئی خان میں واپسی کے اشارے ہیں‘داور خان کنڈی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ 2021 ؁ء کی مسلم لیگ ن اسٹبلشمنٹ کی منظور نظر سیاسی قوت نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن ) حال و مستقبل کی ایک مزاہم جمہوری سیاسی قوت ہے ۔ جو عسکری اداروں اور اسکے زیر اثر ایجنسیوں کے سیاسی میدان میں مداخلت کے خاتمے کا ایجنڈا لیئے کھڑی ہے ۔ اس لیئے دائمی طاقتور اداروں کے زیر عتاب ہے ۔آنیو الا کل مسلم لیگ کے ورکرز اور قائدین کیلئے پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ پر خار راستہ ہے ۔ 2000 ؁ء سے قبل تلک مسلم لیگ (ن ) کے تعلقات مقتدار اداروں سے خوشگوار رہے لیکن جنرل مشرف نے جب میاں نواز حکومت کا دھڑن تختہ کیا ۔ مقتدرہ اور مسلم لیگ (ن ) کے مابین فاصلے بڑھ گئے ۔ جب تلک مسلم لیگ (ن ) اور مقتدار اداروں کے درمیان حالات خوشگوار رہے تمام حکمران طبقات کا رخ مسلم لیگ ن جانب رہا ۔ مسلم لیگ (ن ) ماضی قریب تک اقتدار کی ریس کا تیز رفتار گھوڑا رہی ہے ۔ راقم چشم دید گواہ ہے کہ ڈی آئی خان شہر میں مسلم لیگ (ن ) کی ہنگامی شہری میٹنگ کے شرکاء کی تعداد پانچ سو سے زائد ورکرز پر مشتمل ہوا کرتی تھی ۔ مسقتبل کے مزاحمتی سیاسی طرز عمل کے پیش نظر مسلم لیگ (ن ) کے سیاسی شو بھلے ہائوس فل نہ ہوں مگر ملک میں بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی مسلم لیگ (ن ) کے سیاسی پروگراموں کو ہائوس فل بنانے میں مدد گار ہوگی ۔ جہاں تلک دائود خان کنڈی اور اسکی سیاسی ٹیم کا تعلق ہے ۔
ہمارے فہم و نظر کے مطابق داور خان کنڈی ایک سخت کوش سیاسی شخصیت ہونے کے ناطے اس مذاحمتی سیاسی دورانیہ کو جھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ داور خان کنڈی دیرہ و ٹانک میں سرائیکی قومیتی شناخت کے حوالے سے بہت زیادہ متحرک رہے ہیں ۔ ٹانک کو سرائیکی خطے کا حساس علاقہ مانا جاتا ہے ۔ ٹانک میں پہاڑوں سے اتر کر آنے والے آبادی نے قدیم آبادی کے اعداد و شمار کو بہت زیادہ زیرو زبر کر دیا ہے ۔ لیکن داور خان کنڈی نے سرائیکی قومیتی شناخت کے ایشو پر جانفشانی سے کام کرتے ہوئے اس ایشو کے حوالے سے سینکڑوں نئے ورکرز پیدا کیے ۔ 2008 ؁ء تا 2013 ؁ء کے درمیانی عرصہ میں ٹانک میں سرائیکی قومیتی شناخت کی حمایت میں ایک تاریخی ریلی نکال کر سرائیکی ایشو میں نئی جان ڈال دی ۔ تاریخی سرائیکی عوامی ریلی سے ٹانک کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دم توڑ گئیں۔ اس ریلی سے سرائیکی کاز اور داور کنڈی کی عوامی پذیرائی دونوں کو فائدہ ہوا جبکہ ٹانک ڈیرہ میں داور خان کنڈی کے سرائیکی حامیوں میں اضافہ ہوا ۔ داور خان کنڈی اپنے ماضی کے سیاسی دوستوں ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن ) کے نئے سیاسی سفر میں اپنا ہمرا ہی بنانے کیلئے انہیں بلاوا دے سکتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دیرینہ ہمسفروں میں سرائیکی کاز کے دوست ساتھی انکے نئے سفر میں انکا ساتھ کیونکر دے پائیں گے ! کیونکہ مسلم لیگ (ن ) کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ سرائیکیوں کی قومتی شناخت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی چلی آ رہی ہے ۔ لیکن داور خان کنڈی سرائیکی اکائی بارے مسلم لیگ (ن ) کے بیانیہ میں ترمیم کروانے میں کامیابی حاصل کرکے ڈیرہ و ٹانک میں مسلم لیگ (ن ) کیلئے بے پناہ حمایت کی گنجائش بھی پیدا کر سکتے ہیں ۔ وطن عزیز کے موجودہ سیاسی منظر میں مسلم لیگ (ن ) ایک مذاحمتی سیاسی قوت ہے ۔ اور محروم طبقات سے متعلق سیاسی کارکن کیلئے بہت زیادہ جازبیت رکھتی ہے ۔ داور خان کنڈی کمسن مگر منجھے ہوئے سیاستکار ہیں ۔ ان سے یہ امید باندھی جا سکتی ہے کہ وہ متعدد چھوٹے بڑے علاقائی سیاسی گروپوں کو مسلم لیگ (ن ) میں کھینچ لائیں گے ۔ یوں داور خان کنڈی مقامی مسلم لیگ (ن ) کو نئے سیاسی ورکرز کی پر جوش کثریت و قوت فراہم کرسکتے ہیں ۔ ان تمام توقعات ‘ امکانات اور خدشات کے باوجود داور خان کنڈی گروپ کی ڈیرہ اسماعیل خان (ن ) میں آمد و شمولیت مسلم لیگ (ن ) کیلئے فعالیت اور عوامی پذیرائی کی بابت نیک شگون ہے کیونکہ داور خان کنڈی ایک طلسماتی اور کرشمہ شاز سیاست کار ہیں ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: