تیرا اک ظلم میں در بدر از عتیق الرحمان خاں

0 12

اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک لازوال دولت اور نعمت ہے یہ ایسا پھل ہے جس کے بغیر کسی بھی انسان کی زندگی کو نامکمل تصور کیا جاتا ہے اس پھل کے ناملنے کی وجہ سے ناجانے آج تک کتنے گھر اور خاندان مسائل کا شکار ہوکر تباہ ہو چکے ہیںاسی تباہی کے چکر میں بہت سے ایسے لوگوں کو بھی اس گناہ کی سزا بھگتنا پڑتی ہے جن کا براہ راست اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ بھی نہیں ہوتا مگر انسانی رشتے ہونے کی وجہ سے ان کو بھی اس کے رگڑے سے گزرنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی عظمت کو بڑھا کر اس جذبہ کو اور زیادہ مضبوط کر دیا ہے کہ جانور بھی اپنی اولاد کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں یہ تصاویر معاشرے میں دیکھنے کو عام ملتی ہیں کہ موسلادھار بارش میں کوئی پرندہ خود تو بری طرح بھیگ رہا ہے مگر اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کران کو اس آفت سے بچانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہوتا ہے آج کی داستان بھی اسی معاشرہ کے ستائے ہوئے ایک مظلوم شخص کے گرد گھومتی ہے جو اولاد کی خواہش کی تکمیل کیلئے اس بے مہار کشتی میں انجانے میں سوار تو ہوگیا مگریہ خواہش اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول بن کر اس کے گلے میں ایسی پڑی کہ اب وہ اس جھنجٹ سے نکلنے کی کوشش میںایک ڈوبتے شخص کی ماند ہاتھ پائوں مارتے ہوئے تھک کر خود کو پانی کی لہروں کے رحم وکرم پر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔بارہ سال شادی کو ہونے کو تھے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد جیسی دولت سے نوازہ نا گیا اس نعمت کے حصول کیلئے دوسری شادی کاخیال آیا تو سوچا کہ شاید اللہ کو یہی منظور ہے اور ویسے بھی ہمارا مذہب اس کی کھلی اجازت دیتا ہے کچھ دوستوں کی مشاورت کچھ رشتہ داروں کی کوششوں سے شادی کی کشتی میں سوار ہو گیادوسری شادی کرنا ایک سنگین جرم بن کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیاپہلی بیوی اور اس کے خاندان سے کشیدگی کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیاخاوند کو اس جرم کا سبق سکھانے کیلئے پہلی بیوی نے خود بوتل میں انگلی ڈال کر فریکچر جیسا گھنائونا فعل کیا اور ہسپتال سے ایم ایل سی کا رزلٹ لیکر خاونداسکی دوسری بیوی اور بھائی پر تھانہ میں پرچہ کٹوا دیاچونکہ وہ رزلٹ سارا تھانے اور ہسپتال کے عملے کی ملی بھگت سے حاصل کیا گیا تھاتو پرچہ کے اندراج میں ان کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا کیونکہ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو روپے کی چمک سے ہٹا دیا گیا تھاتفتیش کیلئے کیس ایک اے ایس آئی کے سپرد کر دیا گیارانا صاحب کی جیب چونکہ پہلے ہی گرم ہو چکی تھی تو اس گرمی میں وہ تما م قواعدوضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے چار عدد مرد کانسٹیبلوں کے ساتھ ملزم کے دروازے پر جا پہنچے ۔ دروازہ کھلنے کی دیری پر دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہونے کو ترجیح دی گئی گھر میں اس کی دوسری بیوی اپنے دو عدد معذور دیوروں کیساتھ موجود تھی۔ملزم کو گھر میں نا پاکر دوسری بیوی کو زبردستی ساتھ چلنے کو کہا تو اس کے استفسار پر کہ آپ لیڈیز پولیس لائے ہیں تو لاتوں اور گھونسوںکی بارش اور گالیاں اس کا مقدر بن گئیںمرد کانسٹیبلوں کی مدد سے کھینچ کر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر تھانہ پہنچا دیا گیاجہاں پر بغیر کسی لیڈیز پولیس کے اس سے طرح طرح کے سوال وجواب کا سلسلہ جاری رہاچونکہ ملزم ایک سکول ٹیچر تھا اور ساری عمر وہ تو کیا اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی تھانے نہیں گیا تھاجب اسکو حالات سے آگاہی ہوئی تو دوستوں اور ہمدردوں کی طرف دیکھنا اس کی مجبوری بن گیا مگر شرم کے مارے کہ میں دوستوں کو جا کر کیا بتائوںگھر کا معاملہ ہے عزت بھی جاتی رہے گی مرتا کیا نا کرتامجبوراوکیل صاحب سے رابطہ کرنا پڑا وکیل صاحب تو پہلی ہی نظر میںبھانپ گئے کہ مرغی انجان ہے تو انھوں نے مرچ مصالہ خوب تیز رکھاخیر خدا خدا کر کے عبوری ضمانت مل گئی ماسٹر صاحب ہاتھ میں ضمانت نامہ لئے وکیل صاحب کی ہدایت کیمطابق شامل تفتیش ہونے کیلئے تھانہ پہنچ گئے جہاں پر تفتیشی اے ایس آئی صاحب پہلے ہی تیار بیٹھے تھے ماسٹر صاحب کو دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوگئے اور اسی غصے میں ناجانے ماسڑ صاحب کوان القابات سے نواز دیا گیا جو شائد ماسٹرصاحب نے کبھی زندگی میں سوچے بھی نہ ہونگے چونکہ ملزم کی حیثیت سے تھانے میں جانے کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا توسب کچھ کو کھلے دل سے قبول کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔اس پہلی خوراک کے بعد ماسٹر صاحب کو شام چھ بجے کو آنے کا حکم سنا دیا گیاحکم کی تعمیل کا وعدہ کرتے ہوئے ماسٹر صاحب بوجھل قدموں کے ساتھ تھانہ سے باہر آگئے باہر آکر ایسے محسوس ہوا جیسے ہر کوئی سوالیہ نگاہوں سے ان کی طرف ہی دیکھ رہا ہے اور وہ کسی کے سوال کا جواب نہیں دے پا رہے تھے اسی کشمکش میں کہ کیا کیا جائے موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور گھر کی طرف دوڑا دی گھر پہنچنے پر محلے داروں کے دل جلا دینے والے سوالوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔اب شام چھ بجے کی تلوار گردن پر لٹکنے لگی ابھی تو پہلے ہونے والی عزت کے زخم ہرے تھے مقررہ وقت سے پہلے ہی تھانہ میں پہنچنے میں عافیت جانتے ہوئے ماسٹر صاحب تھانہ پہنچ گئے تفتیشی اے ایس آئی صاحب کے ساتھ والی کرسی پر سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس شخصیت کی طرف سے آواز آئی ‘‘آ ماسٹر آ تیرا ای انتظار سی‘‘ماسٹر صاحب نے غور کیا تو یہ وہی شخص تھا جس کا حلیہ محلے داروں نے بتایا تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے آپ کے گھر ریڈ کی تھی اور یہ وہ ہی شخص تھا جو ساری فورس کو لیڈ کر رہا تھاماسٹر صاحب سمجھ گئے کہ یہ یہاں تھانے کے انچارج اور اس تفتیشی کے افسر ہونگے۔تفتیشی اے ایس آئی خاموش رہا مگر وہ سفید سوٹ والا ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں مختلف سوال جواب کرتا رہاچار گھنٹے کی اذیت کے بعد ماسٹر صاحب کو کل کا ٹائم دے دیا گیااب یہ اذیت کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا اس دوران تفتیشی اے ایس آئی کی جانب سے بلیک میلنگ بھی شروع ہو چکی تھی نقدی کے علاوہ ہر روز دوپہر کے ٹائم تو کبھی رات کے پچھلے پہر ماسٹر صاحب کو مٹن کڑاہی تو کبھی چرغہ اور ساتھ میں ڈن ہل کی چار ڈبیاں جسکی ایک کی قیمت ساڑھے چار سو روپے تھی تفتیشی صاحب کے کمرہ میں جہاں ان کیساتھ ان کا جوان سالہ بیٹا بھی جو کہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا اور اس کیساتھ ہی تھانہ میں رہائش پذیر تھاکو پہنچانا فرض عظیم بن چکا تھاایک دن ماسٹر صاحب کے اوسان اس وقت خطا ہو گئے جب ان کے وکیل نے بتایا کہ آپ کا تفتیشی تو آپ سب کو گنہگار لکھ چکا ہے جبکہ آپ کے چیلنج کئے ہوئے میڈیکل کا رزلٹ ابھی آنا باقی ہے قانونی طور پر اس وقت تک چالان مکمل نہیں ہوتا جب تک میڈیکل کا رزلٹ نہ آ جائے۔جیل کا تصور کرکے ماسٹر صاحب کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل گئی کہ جمع پونجی تو پہلے مقدمے کی نظر ہو چکی اب سروس بھی چلی گئی تو معذور بھائیوں کا کیا بنے گااسی افراتفری میں انھوں نے نوکری کو خیر آباد کہنے میں ہی بھلائی جانی کہ چلیں اتنے پیسے تو پینشن کے مل جائیںکہ میرے بعد گھر کا کچن چل سکے۔ریٹائر منٹ ہوجانے کے بعد پتا چلا کہ تفتیشی اے ایس آئی کیساتھ جو براجمان ہوتا تھا اور الٹے سیدھے سوال کرتا تھا وہ پولیس ملازم تو ہے ہی نہیں وہ تو ایک نوسر باز ہے اور کسی قصبے میں ایک زمیندار کا ڈرائیور رہ چکا تھا اور اپنی انہی کرتوتوں کی وجہ سے وہاں سے نکالا جا چکا تھا۔مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھاعلاقہ کے معتبر شخصیات نے مداخلت کر کے ماسٹر صاحب کی پہلی بیوی کے ساتھ صلح کروا کر کیس تو ختم کرا دیامگر ماسٹرصاحب تفتیشی اے ایس آئی کی طرف سے کی جانے والی زیادتی اوربربادی کی داد رسی کیلئے پولیس کے اعلیٰ حکام کے پاس پہنچے تو یہاں پر بھی ان کا پالا ایک تفتیشی سے ہی پڑا ہے مگر فرق یہ ہے کہ یہ تفتیشی خود ٹیچر رہ چکے ہیںاور انھوں نے ماسٹر صاحب کو انصاف کی امید دلائی ہے ماسٹر صاحب بھی کمر بستہ ہیں اس امید سے کہ پولیس کے محکمہ میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ کوئی اور ماسٹر وقت سے پہلے اپنی نوکری چھوڑنے پر مجبور نا ہو جائے۔اور یہ کہنے پر مجبور ہونے والوں کی تعداد شاید کم ہو جائیـ،، تیرا اک ظلم میں دربدر۔۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: