میڈیکل سٹوڈنٹس کی اضطرابی کیفیت اور یوٹرن ناگزیر از شعیب بھٹی

پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کے پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے تو یہ شعر امت مسلمہ کے نوجوانوں میں جوش، جذبہ، ولولہ اور پختہ عزم پر قائم رہتے ہوئے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوھا منوانے کے حوالہ سے کہا تھا کہ برصغیر کے نوجوان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صفات کو استعمال میں لاکر اپنی اور امت مسلمان کی تقدیر کو سنوار سکیں لیکن حد افسوس کا مقام ہے کہ آج کا نیا پاکستان اس عظیم تخیل کے برعکس نوجوانوں کو تباہی اور بربادی کے گہرے گڑھوں میں دھکیل رہا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے ایک اصول نصٰفت کے فیصلے نے پاکستان بھر کے ایک لاکھ چالیس ہزار پری میڈیکل کے طلبا و طالبات کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون، اسلامی حکام اور مروجہ ضابطوں کے عین مطابق درست اور حق و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے لیکن پاکستان میڈیکل کمیشن کے نااہل، نکمّے اور عقل سے عاری حکام بالا نے وطن عزیز کے قابل، لائق اور محنتی طلبا و طالبات کو کربناک اذیت سے دوچار کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ غیر قانونی طور پر این ٹی ایس کو ایم ڈی کیٹ کا امتحان منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپنا کسی طور پر بھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر PMC نے اپنی مالی منعفت کے لیے غیر قانونی طور پر NTS کو یہ ذمہ داری سونپ دی تھی تو پھر NTS کو بھی چاہیے تھا کہ وہ اس غیر قانونی امتحانی انعقاد کی ذمہ داری ہی قبول نہ کرتا۔ اب PMC اور NTS کے بڑوں کے مفادات کی چکی میں وطنِ عزیز کے مستقبل کے ڈاکٹروں کو قربانی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ایک طرف کرونا وبا نے عوام کا جینا محال کردیا تھا تو دوسری طرف مفادات کی ہوس اور حرص نے میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو چاروں شانے چت کردیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اعلان ہوتے ہی سٹوڈنٹس کے اندر بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بار بار ایم ڈی کیٹ امتحانات کے انعقاد کے حوالہ سے نت نئی پالیسیوں اور تاریخوں کا اعلان سٹوڈنٹس کے لیے عذابِ مسلسل بن چکا ہے۔ کم عقلی کی انتہا یہ ہے کہ PMC آج تک سلیبس کا فیصلہ کرنے میں ہی مکمل طور پر ناکام ہے۔ جب عملی طور پر PMC کے عملہ کے پاس MDCAT کے امتحان لینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے تو پھر وفاقی حکومت، وفاقی کابینہ کیوں بضد ہے کہ MDCAT کا امتحان وفاقی سطح پر ہی لیا جائے MDCAT کے امتحانات کے انعقاد پر مسلسل ناکامی کی وجہ سے اب وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ PMC کے افسران کی نالائقی اور کم ظرفی کا سرکاری سطح پر اعتراف کرتے ہوئے فی الفور پرانے مروجہ طریقہ امتحانات کو صوبائی سطحوں پر منعقد کروانے کے احکامات صادر کرے اور نصاب بھی حسب سابق مروجہ نصابی کتب کے عین مطابق ہی متعین کردیا جائے۔ وفاقی حکومت اور وفاقی کابینہ کے جملہ ارسطو اور افلاطون فلاسفرز کو اپنی شکست تسلیم کرکے وطن عزیز کے لائق، قابل اور محنتی سٹوڈنٹس کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اگر ضد، ہٹ دھرمی اور جھوٹی انا کی تسکین کے لیے نالائقی کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا گیا تو گہر نایاب اسی طرح تباہی کی سمت فنا ہوتے رہیں گے۔ نوجوان کسی بھی قوم، ملت اور وطن کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اپنے سرمائے کو یوں ’’ٹگے ٹوکری‘‘ کرنے کی پالیسی کو بدلنا ہوگا۔ 12 سالہ مسلسل محنت کا صلہ اگر یوں ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا روکا نہ گیا تو ملک و قوم زوال سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ تباہی و بربادی کے اس تسلسل کو فی الفور روکنا ہوگا۔ علامہ اقبالؒ نے اسی ملتِ اسلامیہ کے نوجوانوں کے حوالے سے کہا تھا:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
دنیا کی سب سے اول سب سے محترم و مقدس ملت کے معماروں کو آج یوں برباد کرنے کی مشق سخن جاری ہے اس ستم ظریفی کی یلغاروں کو روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اگر ہم نے ذمہ داری کا ثبوت نہ دیا تو پھر ہمیں تباہی اور بربادی سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ معیشت میں تباہی اور ناکامی کی نئی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے افلاطون اور ارسطو نے امن عامہ کی تباہی، صحت کی سہولتوں کے فقدان کی بھی نئی تاریخ رقم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ان نامساعد حالات میں وطن عزیز کے نوجوان طلباء میں MDCAT کے حوالہ سے بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا پیدا کیا جانا حکمران جماعت کے لیے مسائل کھڑے کرسکتا ہے کیونکہ طلباء اگر حکومت خلاف تحریک کے لیے پرُعزم ہوگئے تو پھر ان تمام ارسطو، افلاطونوں کو بچنے کا راستہ دکھائی نہیں دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی کابینہ بغیر وقت ضائع کیے اپنے سابقہ تمام فیصلوں پر حسبِ سابق یوٹرن لیتے ہوئے MDCAT کے سابقہ طریقۂ کار کو بحال کرے تاکہ معمارِ وطن اپنا اور قوم کا مستقبل تابناک بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ لیکن اگر ضد، ہٹ دھرمی کو طاقت کے ساتھ منوانے کی کوشش کی گئی تو پھر تمام مقتدر حلقوں کو عزت کی بجائے مزید ناقابلِ تلافی ذلت اور خواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سندھ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے سے حکومت ذاتی انا کے ہاتھوں مجبور دکھائی دیتی ہے۔ اب ایوان اقتدار کے جملہ ارسطو اور افلاطون سرجوڑ کر بیٹھے ہیں کہ کیا کیا جائے۔ اگر یوٹرن لیں تو رسوائی ہے نہ لیں تو نکمّے، نااہل PMC عملے کے زیر اہتمام اگر نئی گورننگ باڈی بنا کر ہائیکورٹ کے احکام کے مطابق نصاب ساز کمیٹی تشکیل دے کر MDCAT کے امتحانات کا انعقاد کرلیا گیا تو ان حالات میں نئے بلنڈرز، نئی رسوائیوں کی راہ ہموار کردیں گے۔ اب وفاقی کابینہ کو سرجوڑ کر یوٹرن لینے میں مشفق ہونا پڑے گا کہ MDCAT کی سابقہ حیثیت اور طریقۂ کار کو بحال کردیں۔ کیونکہ اس عمل سے رسوائی تو ہوگی لیکن ذلتِ عظیم سے مزید دوچار نہ ہونا پڑے گا۔ دیکھئیے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: