Today's Columns

سائنس آئی خوشیاں لائی از رابعہ وحید

سائنس نے بہت سی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور انسان کی زندگی کو آسان بنانے میں بہت حد تک مدد کی ہے۔ سائنس نے بیماروں کی صحت یابی کے لیے مختلف وسائل کو جنم دیا ہے۔ بہت سے لاعلاج مریض سائنس کی وجہ سے علاج پانے لگے ہیں۔ مسلمان کیمیا دان ابنِ سینا نے بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات کے نسخے تیار کئے جو رہتی دنیا تک کارآمد رہیں گے۔
گرمی سے بچنے کے لیے بجلی والے پنکھے ایجاد کئے گئے۔ اندھیرے میں روشنی کرنے کے لیے لالٹین اور دیے کی جگہ بلب آگیا۔ زمین سے پانی نکالنے کے لیے کنوؤں کی جگہ بہترین موٹریں ایجاد کی گئیں جو کم وقت میں بغیر محنت کے وافر مقدار میں پانی مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایک بہت ہی اہم سہولت جو سائنس نے ہمیں دے وہ ہے بجلی۔ جیسے سائنس آئی خوشیاں لائی اسی طرح بجلی آئی رونق لائی۔ جی ہاں! بجلی ایک مفید ایجاد ہے۔ ہمارے پنکھے بجلی چلاتی ہے۔ بلب کو روشن ہونے کے لیے بجلی یا کرنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کنوؤں کی جگہ زمین سے پانی نکالنے والی موٹروں کو بجلی چلاتی ہے۔
ریڈیو سائنس کی ایک ایسی ایجاد ہے کہ جس پر گانے سننے کے علاوہ آڈیو ڈرامے بھی سنے جا سکتے اور خبریں اور دیگر پروگراموں سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سائنس نے ترقی کی اور آگیا ٹی وی۔ اور ٹی وی کو بجلی چلاتی ہے جس پر مزے مزے کے پروگرام ہم سننے کے علاوہ دیکھ بھی سکتے ہیں۔ مختلف قسم کے فیشن، کپڑوں کے ڈیزائن اور دوسری بہت سی چیزوں کے بارے میں دیکھ اور جان سکتے ہیں۔ مختلف کھانے پکانے کی ترکیبیں مختلف شوز دیکھ کر حاصل کر سکتے ہیں۔ بچوں کے لیے مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ٹی وی پر کارٹون اور بچوں کے دیگر بہترین پروگرام دیکھ کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں کی گھر بیٹھے ٹی وی کے ذریعے سیر کر سکتے ہیں۔ٹی وی ہمیں ملکی حالات سے باخبر رکھتا ہے۔ مختلف کھیلوں کی خبریں بھی ہم ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں۔
سائنس نے بچھڑے ہوؤں کے ایک دوسرے کی یاد میں بہتے آنسوؤں کو روکنے کے لیے ٹیلیفون اور موبائل فون لا کر دئیے۔ جس کے ذریعے لوگ جس وقت چاہیں ایک دوسرے کی آواز سن سکتے ہیں اور بات کر سکتے ہیں۔ میلوں دور بیٹھے اپنے پیاروں کی نہ صرف آواز سن سکتے ہیں بلکہ ویڈیو کال کے ذریعے ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں۔ بلا شبہ سائنس آئی خوشیاں لائی۔ یہی نہیں موبائل فون میں اب پوری دنیا سما گئی ہے۔ ہماری ہزاروں ضروریات ایک موبائل فون کے ذریعے پوری ہو رہی ہیں۔ وقت دیکھنے کے لیے اب آپ کو الگ سے گھڑی کلائی پر باندھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کا موبائل فون آپ کو وقت بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موبائل فون کے ذریعے ہم گھر بیٹھے شاپنگ کر سکتے ہیں اور اپنی مرضی کی چیز بآسانی منگوا سکتے ہیں۔ حساب کتاب کے لیے موبائل فون آپ کو کیلکولیٹر بھی مہیا کرتا ہے۔ آپ اہم واقعات یا تاریخ کو اپنے پاس محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو موبائل فون مہیا کرتا ہے آپ کو ایک نوٹ پیڈ بمع قلم کے۔
موبائل فون ہمیں کیمرے کی سہولت سے بھی بہرہ ور ہونے کا موقع دیتا ہے۔ لامحدود تصاویر اور ویڈیوز ہم بنا سکتے ہیں یہی نہیں ہم موبائل فون کے ذریعے اپنی تصاویر اور ویڈیوز کا اپنے پیاروں سے تبادلہ بھی کر سکتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے ہم گھر بیٹھے بجلی کا بل جمع کرا سکتے ہیں۔ دوست احباب کو ضرورت کے وقت رقم بھیج سکتے ہیں اور ان سے منگوا بھی سکتے ہیں۔ موبائل فون جیسی نعمت سے ہم دوسرے کو اپنی لوکیشن بھی بھیج سکتے ہیں اور کسی بھی جگہ جانے کے لیے موبائل فون پہ بچے مختلف گیمیں کھیل کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ موبائل فون پر موجود انٹرنیٹ کی سہولت سے راستوں کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اور کمپاس کا استعمال بھی موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے لے سکتے ہیں۔ جی ہاں! انٹرنیٹ…!!!
سائنس ایک اور مزے کی چیز لے کر آئی اور وہ ہے انٹرنیٹ۔ اس کے ذریعے ہم گھر بیٹھے چند سیکنڈز میں دنیا جہان کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ ہمیں دنیا جہان کے کتب خانوں سے بھی متعارف کراتا ہے۔ یہ کتب خانے ہمیں ہر قسم کی کتابیں مفت مہیا کرتے ہیں۔ یہی نہیں آپ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی کتابیں بھی شائع کرا سکتے ہیںاور شائع ہونے کے بعد کتاب کو انٹرنیٹ ہی کے ذریعے بیچ بھی سکتے ہیں۔ صرف کتابیں ہی نہیں اور بھی بہت کچھ بیچ سکتے ہیں اور پیسہ کما سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ ہمیں کاروبار کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔ آپ خریداری کے لیے بھی انٹرنیٹ کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یوٹیوب پر جہاں ہمیں بہت سی ویڈیوز ملتی ہیں وہیں یوٹیوب چینل بنانے والے اپنی ویڈیوز بیچ کر لاکھوں کماسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے آپ اپنا اخبار نکال اور بیچ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر، پرنٹر ، الٹراساؤنڈ، فریج ،اوون اور زندگی میں آسانی لانے والی دیگر اشیاء سائنس نے انسان کو عطا کیں۔
سائنس نے زندگی کے مشکل کاموں کو آسانیوں میں بدل دیا ہے۔ سائنس کی بدولت ہم خوراک کو زیادہ عرصے تک محفوظ کر سکتے ہیں۔ سائنس نے سمندر کی گہرائیوں کا پتہ لگا لیا ہے۔ آسمان کی بلندیوں کو مسخر کر لیا ہے۔ میدانوں کی وسعتوں کو سائنس نے بآسانی سر کیا ہے۔ صحراؤں کی تپش کا اندازہ لگا لیا ہے۔ سائنس نے ہمیں بتایا کہ پازیٹو بادل نیگیٹو بادل سے ٹکرا جائے تو بارش ہوتی ہے۔
سائنس نے ہمیں سولر سسٹم سے متعارف کرایا۔ جس کے ذریعے کم خرچ پر ہمیں بآسانی بجلی جیسی سہولت مل سکتی ہے۔ بجلی کی ترسیل کے لیے ٹرانسفارمر بھی سائنس کی پیداوار ہے۔پہلے لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو جنوں بھوتوں سے منسوب کر لیا کرتے تھے۔ سائنس نے لوگوں کے خیالات بدل ڈالے۔ سیب درخت سے گرا نیوٹن نے اس پہ غور کیا تو گریویٹی کا پتہ چلا اور پھر اسی طرح بہت سے لوگوں کا طرزِ فکر بھی تبدیل ہونے لگا۔ بلاشبہ انسان کے انداز فکر میں تبدیلی سائنس کی مرہون منت ہے۔ جدید آلات نے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ فلکیات، طبیعیات، حیاتیات الغرض سائنس کے کمالات ہر شعبہ ہائے زندگی میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جن کا شمار کرنا قلم و قرطاس کی وسعتوں سے کہیں زیادہ ہے۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: