امریکی انتخابات اور ہم از ڈاکٹر عبد القدیر

پچھلے دنوں پوری دنیا امریکی انتخابات اور اس کے نتائج کے انتظار میں مصروف رہی۔ ٹرمپ کے 214اور بائیڈن کے 253ووٹ کئی دن تک TVپر دیکھتے رہے۔ الیکشن بڑا دلچسپ رہا، خاص طور پر ٹرمپ کی ادائیں، حرکتیں اور تقریریں بہت دلچسپ تھیں۔ کل ایک پرانے سینئر ریٹائرڈ سفیر خیریت پوچھنے آئے تو امریکی انتخابات کا ذکر چھڑ گیا۔ وہ کہنے لگےیہ ناقابلِ یقین ہی ہے کہ ٹرمپ نتائج قبول نہیں کررہا اور وائٹ ہائوس چھوڑنے سے انکار کررہا ہے۔ میں نے ان کو تین دلچسپ واقعات سنائے: (1) جب جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ اُلٹا اور غیر قانونی طور پر حکومت پر قبضہ کرلیا تو ایک دن میں آبپارہ سبزی اور پھل لینے گیا ۔ میری عادت تھی کہ خود سبزی اور پھل چن کر خریدتا تھا۔ میں دکاندار کے پاس کھڑا تھا کہ ایک شخص آیا اور دکاندار سے کہا: ارے یار! تو نے سنا ہے ضیاء الحق نے کہا ہے کہ وہ90دن کے بعد الیکشن کرائے گا۔ وہ مسکرایا اور کہا ابے تو نے کبھی بچّے کو سائیکل پر بٹھا کر اُتارنے کی کوشش کی، وہ لپٹ جاتا ہے اور رو رو کر برا حال کرلیتا ہے مگر سائیکل نہیں چھوڑتا۔ ضیاء الحق کو حکمرانی کا مزہ لگ گیا ہے، وہ کبھی نہیں چھوڑے گا اور ہم نے دیکھا کہ 90دن 11برس میں تبدیل ہو گئے۔ اور سوائے ایٹمی پروگرام کے ملک کے باقی تمام ادارے تباہ کر دیےگئے۔

(2)دوست (سابق سفیر )نے حیرت کا اظہار کیا کہ ٹرمپ صدارت چھوڑنے میں کیوں مشکلات پیدا کررہا ہے؟ میں نے اس کی وضاحت یہ کی کہ ٹرمپ ارب پتی سہی مگر قانون کی نگاہ میں نہایت معمولی آدمی تھا۔ پولیس، انٹرنل ریوینیو سروس کسی بھی غلطی پر پکڑ کر اندر کردیتی۔ پہلی مرتبہ اس کو طاقت کا مزہ لگا۔ جنرلوں، وزیروں، سفیروں کو نوکری دے سکتا تھااور ایک منٹ میں چھٹی کرسکتا تھا۔ یہ ایک ایسا مزہ ہے کہ انسان بہت جلد اس نشے کا عادی ہوجاتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ یہ مستقل چیز ہے اور جب یہ ہاتھ سے جانے لگتی ہے تو بوکھلا جاتا ہے، پاگل ہو جاتا ہے یہی حال ٹرمپ کا ہے مگر امریکہ میں نظام بہت صاف ہے۔ وائٹ ہائوس کے لوگ اب اس کے کسی غیرقانونی حکم کی پابندی نہیں کریں گے اور اگر یہ آخری دن سے ایک دو روز پہلے وہاں سے روانہ نہ ہوا تو اس کا سامان باہر رکھ دیں گے اور اس کو اندر نہیں آنے دینگے۔ اس سے پہلے تقریباً 200سال پیشتر ایسا ہی واقعہ ہوا تھا، وہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

(3)یہ 1801ءکی بات ہے امریکہ کے دوسرے صدر جان ایڈمز (John Adams) نے 4مارچ کو کامیاب صدر تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) کو صدارت کا چارج دینے سے انکار کردیا، اُس وقت تک 20جنوری کی دوپہر کا قانون نہیں بنایا گیا تھا۔ اس کی ضد کے باوجود اسے دفترمیں نہیں چھوڑاگیا۔ جونہی تھامس جیفرسن نے حلف اُٹھایا، وائٹ ہائوس کے اسٹاف نے ایڈمزکا سامان اٹھانا شروع کردیا۔ تمام سیکورٹی اسٹاف نے تعلقات منقطع کرلئے۔ پورے صدارتی اسٹاف نے پرانے صدر کے احکامات قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس طرح پرانے صدر کو ناکارہ بنا دیا اور پورا اسٹاف نئے صدر کے پاس چلا گیا۔ اس وقت سے تمام وائٹ ہائوس چھوڑنے والے صدر الیکشن کے فوراً بعد وائٹ ہائوس چھوڑنے کی تیاری شروع کردیتے ہیں، اس سے قبل کہ حکومت کے تمام اہم ادارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔ یہ لوگ ایک قانون کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کی وفاداری قانونی صدر کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں کی طرح نہیں کہ جس نے غیرقانونی طور پر حکومت پر قبضہ کرلیا خوشامدی، لوٹے فوراً دوڑ کر اس کے فرمانبردار، وفادار غلام بن گئے اور عیاشی کرنے لگے۔ اب چونکہ بائیڈن نے سرکاری طور پر الیکشن جیت لیا ہے تو ٹرمپ کی بکواس، دھمکیاں وغیرہ بیکار ہیں،کوئی اس کی بات نہیں مانے گا اور پرانے صدر کو صرف روزمرہ کی ضروری باتوں سے آگاہ کرے گا۔ صدر کے مزاج کے مطابق وائٹ ہائوس کو نئے انداز سے آراستہ کیا جائے گااور 20جنوری کو اسٹاف پرانے صدر کا تمام سامان باہر نکال دے گا اور نئے صدر کا سامان رکھ دے گا۔ اسی دن سے نئے صدر کو تنخواہ ملنے لگے گی۔ اور صدر بائیڈن کا نامزد اسٹاف فوراً اپنی ذمّہ داریاں سنبھال لےگا۔ ٹرمپ اگر ٹھہرے گا تو اس کو گارڈ آف آنر دیا جائے گا۔ صدر بائیڈن کے خون کانمونہ لیا جائے گااور یہ جانچ کیجائے گی کہ صحت کا کیا حال ہے؟ یہ 200سال سے چلی آ رہی روایت ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگوں نے ٹرمپ اور عمران خان میں مماثلت کا اظہار کیا ہے اور واقعی چند اہم باتیں یکساں ہیں مثلاً دونوں کو حکومت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ دونوں مسلسل مخالفین پر الزامات لگاتے اور غلیظ زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ٹرمپ ایک کامیاب بزنس مین اور ارب پتی ہے۔

الیکشن کے بعد جو بائیڈن کی اسسٹنٹ کمالا ہیرس نے فوراً پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیل کی بےحد تعریف کی اور کہا کہ ان کی حکومت اسرائیل کی پوری مدد کرے گی اور اُسے مشرق وسطیٰ کی طاقتور ترین مملکت بنائے رکھے گی۔ یہ بیان یوٹیوب پر موجود ہے۔ جب میں نے یہ بیان سنا تو مجھےبہت حیرت ہوئی اورافسوس ہوا، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمارے لئے دونوں یکساں ہیں۔ لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ جناب بائیڈن کے بیان سے اُمیدیں لگا کر نہ بیٹھ جائیں ،امریکہ میں جو بھی صدر آئے گا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں سے مخلص نہیں ہوگا، کینڈی، جانسن، کارٹر، ریگن، بش سینئر، کلنٹن، بش جونیئر، اُوباما، ٹرمپ، سب کی مثالیںآپ کے سامنے ہیں۔ کلنٹن، بش اور اوباما کے زمانے میں لاکھوں مسلمان مارے گئے جبکہ صدر بنتے ہی اوباما نے مصراور ترکی میں مسلمانوں کی حمایت میں تقریریں کی تھیںاور میں نے اُسی وقت کالم میں لکھ دیا تھا کہ صرف بیوقوف اور جاہل مسلمان ہی ان بیانات کو سن کرخوش ہونگے۔ اب تک تقریباً 70سال سے اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، ان کی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے، ان کو ملک سے نکال رہا ہے مگر کوئی مغربی ملک ایک لفظ فلسطینیوں کی حمایت میں نہیں بولتا۔ عراق اور شام کے حکمرانوں نے یہ غلطی کی تھی تو ان کو تاریخ نے نشانِ عبرت بنا دیا۔ صرف ترک صدر رجب طیب اُردوان نے تھوڑی بہادری دکھائی ہے، اللہ پاک ان کا حامی و ناصر و محافظ ہو۔ آمین!

Leave a Reply

%d bloggers like this: