الوداع پیارے ارشد از حامد میر

سال 2020ء کے آغاز میں دنیا کو کورونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لیا تو ہم میں سے اکثر لوگ بہت بُری خبریں سننے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے۔ ہمارے کئی پیارے کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور ﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر مریض صحت یاب ہو گئے۔

کورونا وائرس نے امریکہ اور یورپ سمیت ہمارے اردگرد ممالک میں بہت جانیں لیں لیکن پاکستان میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ ﷲ تعالیٰ کی اِس خاص مہربانی کا شکر ادا کرنے کی بجائے ہمارے سیاسی لیڈروں نے کورونا وائرس پر بھی سیاست شروع کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کامیاب رہی، کسی نے کہا کہ یہ پالیسی ناکام ہے اور کورونا دوبارہ پھیلے گا۔

کچھ عرصہ تک دنیا کے تمام بڑے شہر بند رہنے کے بعد کھلنے لگے۔ پاکستان میں بھی تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز کھل گئے۔

حکومت اور اپوزیشن نے جلسے بھی شروع کر دیے۔ زندگی معمول پر آ گئی اور ہم کورونا وائرس سے کافی بےخبر ہو گئے۔ اب ہم بُری خبریں سننے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھے لیکن بُری خبریں ہماری مرضی کی تابع نہیں ہوتیں اور نہ ہی دروازہ کھٹکھٹا کر، اجازت لے کر ہمارے سامنے آتی ہیں۔ بُری خبریں ہمیشہ ہتھوڑا بن کر آپ کے اعصاب پر برستی ہیں اور اگر آپ ذہنی طور پر تیار نہ ہوں تو آپ کے ہوش گم کر دیتی ہیں۔

چند دن پہلے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے۔ اُن کی موت کی خبر ایک جھٹکا تھی۔ حیرت اِس بات پر ہوئی کہ اُنہیں علاج کے لئے اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں لایا گیا۔

پشاور میں اُن کا علاج نہیں ہوا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ پاکستان کی تاریخ کے وہ جج تھے جنہوں نے ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آئین شکنی پر انتہائی سخت سزا سنائی اور حکومتِ وقت کے وزیروں نے اُنہیں ذہنی مریض قرار دے دیا۔ اُن کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے دیا گیا۔

اُنہیں اپنے فیصلے کی کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑی لیکن وہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر اپنے فرائض معمول کے مطابق انجام دیتے رہے۔ جیسے ہی اُن کا انتقال ہوا تو وہ سب اہلِ اقتدار، جنہوں نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو ذہنی مریض قرار دیا تھا، اپنے تعزیتی بیانات میں اُن کی تعریفیں کرنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ ہم زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتے، جب وہ مر جاتے ہیں تو پھر ہم مرنے والوں کی دل کھول کر تعریفیں کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری تعریف سن ہی نہیں سکتے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ سے میری کوئی ذاتی نیاز مندی نہیں تھی۔ 2007ء میں جب وکلاء تحریک چل رہی تھی تو پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک سیمینار میں اُن سے سلام دعا ہوئی تھی لیکن اُن کے لکھے گئے کچھ فیصلوں پر میں نے کالم لکھنے کے لئے ارادہ باندھا۔

پرویز مشرف کے خلاف اُن کے فیصلے کو ایک اور عدالت سے معطل کرا دیا گیا تھا۔ میں مشرف کے خلاف اور حق میں دیے جانے والے دونوں فیصلوں کو غور سے پڑھ رہا تھا کہ ایک اور خبر ہتھوڑے کی طرح میرے اعصاب پر برسی۔ وہ خبر یہ تھی کہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جیو پارلیمنٹ‘‘ کے میزبان اور جنگ کے کالم نگار ارشد وحید چوہدری بھی کورونا وائرس کا شکار بن گئے۔

ارشد وحید چوہدری کافی دنوں سے راولپنڈی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے.

31اکتوبر کو اُنہوں نے خود ایک ٹویٹ کے ذریعے اطلاع دی کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں اور اِس لئے جیو نیوز پر اپنا پروگرام پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

2؍نومبر کو پیر کے دن میں دفتر آیا اور ساتھیوں سے اُن کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا کہ اُنہیں اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ میں نے اُنہیں ایک دعائیہ پیغام بھیجا۔ خلافِ معمول جواب نہیں آیا تو اُن کے دوست وقار ستی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا اسپتال جا کر اُنہیں دیکھنا ممکن ہے؟ وقار ستی کی اپنی والدہ بھی اِس موذی وبا کا شکار ہو کر اسپتال میں داخل تھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اسپتال مت آئیں، میں آپ کا پیغام ارشد تک پہنچا دوں گا۔ ایک ہفتہ کے بعد دوبارہ میں نے وقار سے پوچھا کہ کیا اب ارشد سے ملنا ممکن ہے؟ وقار کچھ پریشان سا لگا لیکن اُس نے مجھے تسلی دی۔ کچھ ساتھیوں نے کہا کہ وہ مسلسل اسپتال کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور ارشد وحید چوہدری کی حالت سنبھل رہی ہے۔

اِس دوران یہ کوشش بھی کی گئی کہ ارشد کو راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کر دیا جائے لیکن اسلام آباد میں کسی سرکاری اور پرائیویٹ اسپتال میں وینٹی لیٹر میسر نہ تھا۔

مریضوں کی بہتات کے باعث اسلام آباد کے اسپتالوں میں جگہ نہ تھی، اِس کے باوجود ہم میں سے کسی کو یہ گمان تک نہ تھا کہ ارشد وحید چوہدری ہمیں اچانک چھوڑ کر چلا جائے گا۔

ہمارے کئی ساتھی، قریبی دوست اور رشتہ دار اِس وائرس کا شکار ہوئے اور اکثر صحت یاب ہو گئے۔ مجھے یقین تھا کہ ارشد وحید چوہدری جیسے ہی صحت یاب ہو گا تو 2نومبر کو میری طرف سے بھیجے گئے پیغام کا جواب دے گا اور پھر جب ملے گا تو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہے گا کہ اتنی دیر سے جواب دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے جب وہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات میں سینئر نائب صدر کے عہدے کے لئے کھڑا ہوا تھا تو اُس نے ووٹ کے لئے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے اُس کا پیغام پڑھا اور فون کرکے کہا کہ تمہیں مجھ سے ووٹ مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں تو شکیل انجم سمیت تمہارے پورے پینل کے پیچھے کھڑا ہوں البتہ اپنے کچھ قریبی دوستوں پر توجہ دو، شاید وہ کچھ کنفیوز ہیں۔

وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ مجھے پتا ہے، میں نہ بھی مانگوں، آپ مجھے ہی ووٹ دیں گے لیکن میں تو اُن سے بھی ووٹ مانگ رہا ہوں جو مجھے کبھی ووٹ نہیں دیں گے لیکن جو مجھ سے محبت کرتے ہیں، اُن سے ووٹ مانگنا دراصل میرا اظہارِ محبت ہے۔ اُس نے الیکشن بھی جیتا اور ہمارا دل بھی۔ وہ ہمارا جدوجہد کا ساتھی تھا۔

مشرف دور میں مجھ پر پابندی لگی تو وہ صحافیوں کے مظاہروں میں سب سے آگے ہوتا تھا۔ 2014میں مجھ پر کراچی میں حملہ ہوا تو اُس نے میرے حق میں ایک کالم لکھا اور شائع ہونے کے بعد اُسے اپنے نیوز روم کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کر دیا۔ میں کئی ہفتوں تک زیر علاج رہنے کے بعد واپس آیا تو ارشد کے ساتھ ساتھ اُس کے کالم نے بھی میرا استقبال کیا۔ ارشد ایک سچا عاشقِ رسولﷺ تھا۔

اُس کا ایک کالم ’’ہمارے محمدﷺ‘‘ (28؍ دسمبر 2015) اُس کی مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اُس کے درجات بلند کرے۔ اُس کے لئے بھی دعا کریں اور اپنے لئے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کورونا وائرس سے بچائے اور اُس کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

16 Nov

Leave a Reply

%d bloggers like this: