آزادی اور غلامی، قید اور رہائی از حسن نثار

اتنے رنگ تو گرگٹ بھی نہیں بدلتا

ن لیگی لیڈر شپ مسلسل باندر ٹپکیاں لگا رہی ہے، قلابازیاں کھا رہی ہے اور خوش قسمتی اس کی یہ ہے کہ ہماری اجتماعی یادداشت مکمل طور پر فالج زدہ ہے ورنہ اگر ان کے تضادات جمع کئے جائیں تو انہیں قلم بند کرنے کیلئے والیومز کی ضرورت پڑے گی اور عنوان ہو گا ’’جھوٹ در جھوٹ، لوٹ در لوٹ ’’۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں اس ’’کلرکانہ ایکسرسائیز’’ کیلئے دو چار ریسرچرز کی خدمات حاصل کروں اور پھر ان کا یہ ناقابل تردید کچا چٹھا اپنے ’’غیور اور باشعور‘‘ عوام کی خدمت میں پیش کر دوں اور پھر دیکھوں کہ ہم کتنی ’’زندہ قوم ‘‘ ہیں کیونکہ زندہ قوموں کی یادداشتیں بھی زندہ ہوتی ہیں لیکن پھر سوچتا ہوں کہ یہ ساری محنت غارت اور اکارت جائے گی۔نہ کسی کی آنکھ نم ہو گی، نہ کسی کے کان پہ جوں رینگے گی، نہ کسی کے ٹھنڈے خون میں کوئی ابال آئے گا کہ زوال آتا ہے تو پورے کمال میں آتا ہے۔

ایسا کیا ہے جو ہمارے ’’اجتماعی بدن‘‘ کے اندر موت کے گھاٹ اتر چکا اور وہ کس قسم، شدت کا حادثہ، سانحہ ہو گا جو ہمیں عالم بے ہوشی سے ہوش میں لاسکے گا؟ شاید کوئی نہیں کیونکہ جو سائیں لوک’’ سقوط مشرقی پاکستان‘‘ پی گئے، وہ سمندر بھی پی جائیں تو پیاسے کے پیاسے ہی رہیں گے۔قبیلے، قومیں بدترین حالت میں بھی ہوا میں تحلیل تو نہیں ہو جاتیں۔ میں نے امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں لاتعداد ریڈانڈینز، مقامی لوگ دیکھے ہیں۔ چشم بددور جنموں سے زندہ ہیں اور نجانے کتنے جنموں تک زندگی کے جہنم میں جیتے جلتے رہیں گے۔ یہ کھاتے پیتے بھی ہیں، ہنستے کھیلتے بھی ہیں۔مخصوص قسم کے کاروبار دھندے بھی کرتے ہیں، شادیاں بھی کرتے بچے بھی جنتے ہیں یعنی ’’زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے ‘‘ لیکن یہ ٹیپو سلطان کے فلسفہ کی ضد ہے کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ کبھی کبھی میں بھی خود کو رینگتے سسکتے ریڈ انڈینز سے متفق پاتا ہوں کہ دفعہ کرو شیر کی ایسی ایک روزہ زندگی کو جس میں نہ مزہ نہ سواد۔ ایسے احمق جذباتی شیر سے تو وہ گیدڑ کہیں بھلا جو ’’زمینی حقائق‘‘ پر گہری نظر رکھتا اور کئی سال زندہ رہتا ہے۔ عزت، حرمت، حمیت کی ایسی تیسی، چمچہ گیری کرو اور لذیذ دیگوں کے اندر ’’محوگردش‘‘ رہو۔

قارئین !

معاف کیجئے بات جعلی شیروں سے شروع ہو کر اصلی شیر یعنی شیر میسور سے ہوتی ہوئی گیدڑوں تک پہنچ گئی تو آپ کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ شیئر کرتا ہوں ۔تقریباً تین چار سال پہلے ایک پاکستانی نژاد امریکن سرجن کا فون آیا۔ ملنا چاہتے تھے، میں نے کہا ’’موسٹ ویلکم‘‘۔ طے شدہ وقت پر تشریف لائے۔ جنرل گپ شپ کے دوران آپ نے مجھ سے کاغذ قلم مانگا جو میں نے فوراً پیش کر دیا کیونکہ بیٹھے ہی اسٹڈی میں تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے انسانی دماغ کا ایک سکیچ سا بنایا اور سمجھایا کہ ’’ہیومن برین‘‘ کا کون سا حصہ کس شے کے ساتھ ’’ڈیل ‘‘کرتا ہے۔ ایک حصہ پر قلم رکھ کر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ’’حسن صاحب! انسانی دماغ کا یہ حصہ دلیل، ریزن، لاجک وغیرہ کے ساتھ ڈیل کرتا ہے اور اگر دو تین نسلوں تک یہ حصہ استعمال میں نہ آئے تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مر جاتا ہے، ناکارہ ہو جاتا ہے اور پھر اس قسم کے انسان نہ کوئی عقلی بات کر سکتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جانوروں سے ملتے جلتے مخصوص جبلتوں کے اسیر ہوتے ہیں ورنہ دلت، ملیچھ، شودر ہزاروں سال بعد بھی اپنی موجودہ حیثیت پر ’’قناعت‘‘ نہ کرتے اور ہندوستان کے برہمنی سماج کی دھجیاں بکھیر دیتے۔ شودر ہوں یا ریڈ انڈین، کہانی ایسوں کی ایسی ہی ہے۔

یہاں بندر پر کیا گیا اک سائنسی تجربہ یاد آیا۔ بندر کو پنجرے میں بند کرکے ہلکے پھلکے الیکٹرک شاکس دیئے گئے تو بندر نے بری طرح اچھلنا کودنا پھڑکنا شروع کر دیا اور رہائی کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگا لیکن پنجرے کا دروازہ بند تھا۔ ’’تجربہ ‘‘ جاری رہا تو بیچارے بندر نے تھک ہار کر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو کچھ دیر بعد بجلی کے جھٹکوں کی شدت میں تھوڑا سا اضافہ کر دیا گیا۔ تھکے ہوئے بندر نے ایک بار پھر ’’آزادی‘‘ کیلئے جدوجہد شروع کر دی لیکن حسب معمول نتیجہ صفر۔ بندر بے دم ہو کر لیٹا رہا تو تجربہ کرنے والوں نے اسے ریسٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ اگلے روز اگلی ٹیم نے یہی عمل دہرایا تو بندر نے بھی وہی احتجاجی عمل دہرایا تو نتیجہ پھر صفر کا صفر۔ اس سے اگلے روز تیسری قوت یعنی تیسری ٹیم آئی اور اس نے بھی پہلی دو ٹیموں والی کارروائی جاری رکھی۔ بندر پھر پھدکا، تڑپا، مچلا لیکن نتیجہ پھر وہی۔مختصراً یہ کہ تجربہ کامیابی سے جاری رہا تو جب تجربہ کرنے والے ایکسپرٹس نے محسوس کیا کہ بندر کی قوت مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے اور بندر تقریباً ’’سن‘‘ ہو کر حالات حاضرہ سے سمجھوتہ کرتے ہوئے ہتھیار پھینک چکا ہے اور جھٹکوں کا عادی ہو چکا ہے تو ’’سائنس دانوں‘‘نے پنجرے کا دروزہ کھول کر الیکٹرک شاکس دینے شروع کئے تو بندر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر اطمینان سے بیٹھا ’’ریلیکس‘‘ کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک اس بات کی اہمیت ہی ختم ہو چکی تھی کہ ’’تبدیلی ‘‘ آ چکی تھی ….دروازہ کھل چکا تھا۔

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے

لیکن زندہ تو ریڈانڈینز بھی ہیں اور شودر بندر بھی کہ کبھی کبھی آزادی اور غلامی، قید اور رہائی میں فرق ختم ہو جاتا ہے، تمیز کرنے والی یاداشت ہی مر کھپ جاتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی یہ خبر نہیں پڑھی کہ طویل قید کے بعد رہائی پانے والے لاوارث قیدی نے رہا ہونے سے انکار کر دیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: