Today's Columns Umme Muhammad Abdullah

اے بیت المقدس کی وارث ماؤں! از ام محمد عبداللہ

Umme Muhammad Abdullah
Written by Todays Column

بیت المقدس امت محمدیہ ﷺ کا عظیم ورثہ ہے۔ اس کے محافظ و خادم ہونے کا منصب اللہ پاک نے ہمیں بخشا ہے۔ اس کی خدمت و حفاظت ہماری غیرت و حمیت اور ایمان کا امتحان ہے۔ آئے دن فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کی خبریں سن کر بے حسی کی چادر اوڑھ کر سونے کی روایت ترک کرتے ہوئے اے عظیم امت وسط کی، بیت المقدس جیسے عظیم ورثے کی وارث ماؤں!
آج ایک کام ضرور کرو۔ اپنے پالنے کے بچوں کو لوری میں، سکول جاتے بچوں کے حافظے میں، جوانوں کے جوش مارتے لہو کو اور ادھیڑ عمر کو پہنچے باشعور اذہان کو سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل مرحوم کی ایک تقریر سے اخذ کیے گئے یہ چند حقائق بتا دو، سمجھا دو، جتا دو۔ شاید کہ تمہاری یہ کوشش بارآور ثابت ہو اور بیت المقدس کی پاک سرزمین کو یہود کے ناجائز قبضہ سے آزاد کرانے کا خواب ایک بار پھر اس امت کے بیٹوں کی آنکھوں میں جگمگانے لگے۔
یہودی فلسطین کے اصل باشندے نہیں ہیں۔یہودی دراصل بیرونی حملہ آور تھے جو فلسطین پر طاقت سے مسلط ہونے کے بعد کچھ عرصہ فلسطین پر مسلط رہے اور اس کے بعد نکال دیے گئے۔ فلسطین میں ان کی موجودگی کا عرصہ نہایت مختصر تھا۔ فلسطین میں حضرت سلیمان علیہ السلام سے لے کر آج تک کبھی خالص یہودی حکومت قائم نہیں ہوئی۔فلسطین میں یہودیوں کی کبھی اکثریت نہیں رہی۔ جب فلسطین سے یہودیوں کو نکال دیا گیا تو اس میں صرف اس کے اصل باشندے ہی رہ گئے جو شروع سے لے کر آج تک وہیں رہ رہے ہیں۔ سولہ سو سال کی طویل مدت میں فلسطین میں کبھی کوئی یہودی آباد نہیں رہا۔عربوں کی حکومت تقریبا ساتویں صدی سے فلسطین میں رہی۔ آج وہاں سیکڑوں تاریخی عمارات موجود ہیں جو عرب طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔
ان سب حقائق سے منہ پھیرتے ہوئے ناجائز اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی اور ارض فلسطین کے اصل مکینوں یعنی فلسطینی مسلمانوں پر یہود کے ظلم و ستم پر خاموش رہنا ایک ناقابلِ معافی اور ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ امت کی ماؤں! اٹھو اور اپنے پالنے کے بچے سے لے کر ادھیڑ عمر کو پہنچی اولاد تک کو بتا دو، سمجھا دو، جتا دو کہ بیت المقدس ہماری غیرت و حمیت اور ایمان کا امتحان ہے۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: