ایچ ٹو او از جاوید چوہدری

عرفان جاویداور میںروز رات ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کرتے ہیں‘ یہ تازہ ترین کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور میں انھیں پچھلی رات کی فلم کے بارے میں بتاتا ہوں یا کوئی ایسا شہر‘ گاؤں یا ایسی جگہ کی داستان سناتا ہوں جہاں میں گیا اور میں نے وہاں کوئی نئی چیز دیکھی‘ یہ سرکاری ملازم ہیں مگر ان کی روح میں ایک دانشور‘ ایک مخلص انسان چھپا ہے‘ یہ سارا دن دفتری کام کرتے ہیں‘ فائلوں پر دستخط کرتے ہیں‘ میٹنگز بھگتاتے رہتے ہیں مگر جوں ہی شام ہوتی ہے تو ان کے اندر کا مخلص انسان اور دانشور جاگ جاتا ہے اور پھریہ سونے تک کتابوں اور خیالات میں تیرتے رہتے ہیں۔

میں نے کل رات انھیں فون کیا تو یہ امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کے بارے میں پڑھ رہے تھے‘ ان کا کہنا تھا پورے ملک کا میڈیا جوبائیڈن پر گوگل کو کاپی کر رہا ہے‘ یہ گوگل سے امریکا کے نئے صدر کے بارے میں مواد اٹھاتے ہیں اور ترجمہ کر کے لکھ دیتے ہیں‘ کوئی شخص قارئین کو نئی بات نہیں بتا رہا‘ میں نے ہنس کر کہا‘ جوبائیڈن کو صرف ایک پاکستانی جانتا اور سمجھتا ہے‘ وہ حسین حقانی ہے اور اس پر پاکستان میں پابندی ہے‘ یہ ہنس پڑے‘ میں نے عرض کیا ’’لیکن اب حسین حقانی کی سزا ختم ہو جائے گی۔

یہ آپ کو عنقریب عمران خان کے دائیں بائیں دکھائی دیں گے‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’وہ کیوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ واحد پُل ہے جو حکومت کو امریکا کے نئے صدر کے ساتھ ملا سکتا ہے‘ حسین حقانی اپنی اس ویلیو سے واقف ہیں‘ یہ انتہائی شاطر انسان ہیں‘ یہ اب عمران خان پر جال پھینکیں گے اور وزیراعظم اس جال سے بچ نہیں سکیں گے‘‘ عرفان جاوید غیرسیاسی دانشور ہیں‘ یہ بور ہونے لگے اور یوں ہم جوبائیڈن پر واپس آ گئے۔

ان کا کہنا تھا ’’میں حیران ہوں جوبائیڈن امریکی ہونے کے باوجود شراب نہیں پیتے‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’یہ سگریٹ بھی نہیں پیتے‘‘ عرفان جاوید نے قہقہہ لگایا‘ میں نے عرض کیا ’’آپ یہ جان کر حیران ہوں گے امریکا کے پچھلے گیارہ صدور میں سے کوئی شخص شراب پیتا تھا اور نہ سگریٹ اور ان میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں‘ یہ بھی شراب اور سگریٹ نہیں پیتے‘ صدر جارج بش نے اپنی جوانی بڑی دیوانی گزاری تھی‘ یہ شروع میں الکوحلک ہو گئے تھے لیکن پھر یہ ٹھیک ہوئے اور صدر بننے تک انھیں شراب چھوڑے 29 برس ہو چکے تھے۔

ٹرمپ میں بھی سارے عیب تھے لیکن یہ بھی سگریٹ اور شراب نہیں پیتے تھے‘ دوسرا امریکا کے گیارہ صدور میں سے 10 نے کتابیں بھی لکھی تھیں اور یہ کتاب بین بھی تھے‘ ان کے گھروں اور کمروں میں باقاعدہ لائبریریاں تھیں اور یہ کتاب بینی کے ساتھ ساتھ روزانہ ایکسرسائز بھی کرتے تھے‘ جوبائیڈن صدر اوباما کے دور میں نائب صدر تھے‘ یہ جب بھی اوباما سے ملاقات کے لیے آتے تھے‘ اوباما ان کے ساتھ وائیٹ ہاؤس کے کوریڈورز اور لان میں جاگنگ کرتے تھے‘جاگنگ کی ویڈیو اس وقت وائرل ہے جب کہ بل کلنٹن اور جارج بش جاگنگ کرتے ہوئے اپنے سیکیورٹی گارڈز کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے تھے‘‘۔

عرفان جاوید نے ہنس کر کہا ’’یہ بھی کیا لوگ ہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ بات صرف صدور تک محدود نہیں بلکہ امریکا کے 22 ٹاپ سی ای اوز اور چیئرمین بھی شراب اور سگریٹ نہیں پیتے‘ یہ لوگ روز ایکسرسائز بھی کرتے ہیں‘ روز کتابیں بھی پڑھتے ہیں‘ یونیورسٹیوں میں لیکچر بھی دیتے ہیں اور یہ ویلفیئر کا کام بھی کرتے ہیں‘ بل گیٹس اور وارن بفٹ دنیا کے امیر ترین اور مصروف ترین لوگ ہیں‘ بل گیٹس سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں جب کہ وارن بفٹ روزانہ چار پانچ گھنٹے مطالعہ کرتے ہیں‘ یہ 22 سی ای اوز اپنی گاڑی بھی خود ڈرائیو کرتے ہیں۔

یہ صرف آفیشل لنچ‘ ڈنر اور تقریبات میں ڈرائیور ساتھ لے کر جاتے ہیں‘یہ عام حالات میں اکیلے ڈرائیو کرتے ہیں اور قطار میں کھڑے ہو کربرگر اور کافی لیتے ہیں اور اپنے گھر کے لیے خود سودا خریدتے ہیں‘ یہ عادتیں امریکا کے 2 ہزار 6 سو 24 ارب پتیوں میں بھی ہیں‘ یہ اپنے جہازوں اور جزیروں کے مالک ہیں لیکن یہ لوگوں کو سڑکوں پر دوڑتے بھی نظر آتے ہیں‘ یہ ہر نئی کتاب اور ہر نئی فلم کے ابتدائی ناظر بھی ہوتے ہیں‘ یہ اپنے ہفتے کے کم از کم آٹھ گھنٹے جم اور میدانوں میں گزارتے ہیں۔

آپ کو کبھی ان کے ہاتھ میں شراب کا گلاس یا سگریٹ دکھائی نہیں دے گا‘ یہ آپ کو غریبوں‘ بے آسروں‘ لاچاروں اور معذوروں کی مدد کرتے بھی ملیں گے اور جانوروں اور پرندوں کے حقوق کے لیے لڑتے بھی‘ یہ جنگوں اور بیماریوں کے خلاف بھی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں‘‘ ہماری بحث اس کے بعد کتابوں کی طرف نکل گئی۔

ہم اگر کسی دن فرسٹ اور تھرڈ ورلڈ اور کامیاب اور ناکام لوگوں کی عادتوں کا تجزیہ کریں تو حیران کن حقائق ہمارے سامنے آئینگے‘ ہم پاکستان جیسے معاشروں میں بیٹھ کر یہ سوچتے ہیں انسان جب ترقی کرتا ہے‘ یہ سیاسی لحاظ سے کام یاب ہوتا ہے یا اس کے پاس اربوں کھربوں روپے آ جاتے ہیں تو یہ شراب‘ سگریٹ اور سگار ضرور پیتا ہے‘ یہ سارا سارا دن لیٹا بھی رہتا ہو گا اور یہ ٹشو پیپر کے لیے بھی کسی کو آواز دیتا ہو گا اور اس کی زندگی میں ڈرائیور اور گارڈز بھی لازمی ہوں گے اور اسے اب پڑھنے‘ دوڑنے‘ کھیلنے اور لائین میں لگنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

یہ ایک تھرڈ ورلڈ سوچ ہے اور آپ کو یہ سوچ ملک کے ہر حصے میں دکھائی دے گی جب کہ اس کے مقابلے فرسٹ ورلڈ کی سوچ اور طرز زندگی بالکل مختلف ہے‘ یہ لوگ یہ سوچ ہی نہیں سکتے ملک میں کوئی شخص طاقتور‘ مشہور اور دولت مند ہو اور وہ دانشور نہ ہو اور وہ جسمانی لحاظ سے فٹ نہ ہو‘ اس میں عاجزی اور انکساری نہ ہواور یہ ایمان دار اور مہذب نہ ہو اور یہ اپنا کام خود نہ کرتا ہو اور یہ کسی بداخلاقی یا کسی عادت بد میں بھی مبتلا ہو۔

یورپین لوگ سمجھتے ہیں یہ ناکام اور برے لوگوں کی عادتیں ہیں اور یہ عادتیں ہمارے ملک کے طاقتور‘ مشہور اور کام یاب لوگوں میں ہو ہی نہیں سکتیں جب کہ ہم یہ سوچتے ہیں ہمارے ملک کا کوئی طاقتور‘ مشہور اور کامیاب شخص ایمان دار‘ مہذب‘ پڑھا لکھا اور صحت مند نہیں ہو سکتا ہے‘ یہ اپنی گاڑی بھی خودنہیں چلا سکتا‘ یہ اپنے گھر کا سودا بھی خود نہیں لے کر آئے گا اور یہ کتابیں بھی نہیں پڑھے گا اور یہ واک اور جاگنگ نہیں کرے گا اور یہ لوگوں سے جھک جھک کر بھی نہیں ملے گا اور یہ وہ ناکام سوچ ہے جو ہمیں کام یاب نہیں ہونے دیتی۔

ہم اپنے گھر میں اپنے مہمانوں کی خدمت خود کرتے ہیں‘ میں یا میرے بیٹے مہمان کے سامنے چائے اور کھانے کے برتن لگاتے ہیں اور مہمان چھوٹا ہو یا بڑا ہم خود اسے سرو کرتے ہیں‘ ہمارے تمام مہمان ہماری اس ’’غریبانہ سوچ‘‘ پر حیران ہوتے ہیں لیکن میں انھیں ہر بار یہ جواب دیتا ہوں ’’ہم اگر خود اپنے ہاتھ سے اپنے مہمانوں کی خدمت بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں انسان کہلانے کا کوئی حق نہیں‘‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو ویٹر کی ٹریننگ دلا رکھی ہے‘ یہ پروفیشنل ویٹرز بھی ہیں۔

میرے دوستوں کو میری یہ حرکت اچھی نہیں لگتی لیکن میں دنیا میں جہاں بھی گیا میں نے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے مہمانوں کو خود سرو کرتے دیکھا‘ میں آرٹ بک والڈ سے ملا تھا‘ میں نے بل گیٹس اور لی آئیا کوکا سے ملاقات کی‘ یہ لوگ خود کافی بنا کر اپنے مہمانوں کو پیش کر رہے تھے اور ان کی شان کا کوئی کنگرا ڈھیلا نہیں ہوا تھا جب کہ ہم گاڑی کا دروازہ تک دوسروں سے کھلواتے ہیں اور ہم جب تک لیٹ نہ ہو جائیں‘ ہم جب تک لوگوں کو انتظار نہ کرا لیں ہم خود کو اہم نہیں سمجھتے۔

ہمیں ماننا ہو گا امریکا اگر آج امریکا ہے تو اس کی وجہ امریکیوں کی عادتیں ہیں‘ یہ لوگوں کو دو عادتوں میں تقسیم کرتے ہیں‘ اچھی عادتوں والے لوگ اور بری عادتوں کے لوگ‘ امریکا میں اگر آپ پڑھے لکھے‘ مہذب‘ ایمان دار‘ وقت کے پابند‘ جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ اور جہد مسلسل کے عادی ہیں تو پھر آپ گورے ہوں یا کالے آپ کا نام خواہ بارک حسین اوباما ہو یا کمالا ہیرس آپ کو دنیا کی کوئی طاقت انتہائی بلندی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی لیکن آپ اگر سست‘ مایوس‘ بیمار‘ بے ایمان‘ غیرمہذب اور نالائق ہیں تو پھر آپ خواہ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں امریکی معاشرہ آپ کو مسترد کر دیگا‘ کاروبار ہو یا سیاست ناکامی پھر آپ کا مقدر ہو گی۔

آپ اوباما اور ان کے بھائیوںکی مثال لے لیجیے‘ برنارڈ امریکا میں پراپرٹی کا چھوٹا سا بزنس کرتا تھا‘جارج نے ایک غیر معروف زندگی گزار دی‘ بارک حسین اوباما دو بار امریکا کے صدر بنے جب کہ ان کے بھائی اسی امریکا میں اس دوران لوئرمڈل کلاس زندگی گزارتے رہے‘ جارج اور برنارڈ وائیٹ ہاؤس نہیں پہنچ سکے اور بارک حسین اوباما کو کوئی شخص وائیٹ ہاؤس پہنچنے سے نہیں روک سکا اور یہ ہے امریکا اور یہ ہے ترقی کا اصل گُر یعنی آپ دس اچھی عادتیں اپنا لیں اور آپ کے لیے سارے بند دروازے کھل جائینگے اور آپ اگر کینیڈی خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی اگر عادتیں اچھی نہیں ہیں تو پھر کوئی شخص آپ اور آپکے خاندان کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکے گا۔

دنیا میں بھی کامیابی کا صرف یہی گُر ہے‘ آپ اچھے ہو جائینگے آپکو اس کا پھل ضرور ملے گا اور آپ اگر غلط راستے پر نکل گئے ہیں تو پھر آپ کے مقدر میں بربادی کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘ یقین نہ آئے تو آپ ٹیسٹ کر کے دیکھ لیں آپ کو ایچ ٹو او کی طرح کا میابی کا یہ فارمولا بھی ہر جگہ یکساں ملے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: