حاجی نمازی از پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں جیسے ہی حاجی صاحب کے دفتر میں داخل ہوا وہ سفید لٹھے کے مائع شدہ لباس سر سبز موتیوں سے سجی سنہری ٹوپی ‘چہرے پر چاندی کی طرح سفید داڑھی چہرے پر چالاک خوشامدی مسکراہٹ سجائے اپنی کرسی سے اُٹھ کر گرم جوشی سے میری طرف بڑھے ۔گرم جوشی سے جپھی ڈا ل کر مجھے چوما پھر اپنی جیب سے عطر کی خوبصورت چھوٹی سی شیشی نکال کر میرے ہاتھ پر عطر لگا کر مجھے معطر کیا پھر میری راہنمائی کر تے ہوئے مجھے اپنی میز کے سامنے آرام دہ مہنگی کرسی پر بٹھا کر پھر دل آویز پیار بھری مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا اور جاکر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔حاجی صاحب اپنے شاندار مشفقانہ روئیے سے بھر پور تاثر چھوڑ نے میں کامیاب ہو چکے تھے اپنے اِس تاثر کے سلسلے کو دراز کر تے ہوئے شاندار صحت مند لذت سے بھر پور سعودی عرب کی عجوہ امبر مبروم شکری کھجوروں کی بھری ہوئی چمک دار طشتری میرے سامنے رکھتے ہوئے بولے جناب آپ کے لیے خاص طور پر سعودی عرب سے منگوائی ہیں اِس کے ساتھ ہی چھوٹے سے بلوری جام نما شیشے کے گلاس میںآب زم زم انڈیلا بھرپور مسکراہٹ شہد جیسے میٹھے لہجے جناب آپ کے لیے آب زم زم حاضر ہے اِس کو اٹھ کر قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے نوش فرمائیں آب زم زم کا سنتے ہی میری رگوں میں عقیدت کے جذبات دوڑنے لگے ۔میں نے مشکور نظروں سے حاجی صاحب کی طرف دیکھا اور ان کی ہدایت کے مطابق کھڑے ہو کر اپنے حلق کو آب زمزم سے تر کرنے لگا آب زم زم کے کرشماتی اثرات سے میرے جسم کا انگ انگ جھومنے لگا ابھی میں آب زم زم کے سحر سے نکلا نہیں تھا کہ حاجی صاحب نے اپنی میزبانی اور محبت کا ایک اور خوبصورت حملہ قہوے کی صورت میں کر دیا۔ مہنگے ترین چینی کے کپوں سے گرما گرم معطر قہوے کی بھاپ میرے مشام جان کو کیف اور سرور کی نعمت سے سرفراز کر نے لگی گرما گرم سنہرے قہوے کے درمیان خاص جڑی بوٹیوں کے پتے تیر رہے تھے اُن جڑی بوٹیوں کی افادیت پر حاجی صاحب سیر حاصل روشنی ڈال کر ہمیں قہوے کے فوائد بتا رہے تھے ۔میں قہوے کا گرما گرم بھاپ اڑاتا کپ اٹھانے لگا تو حاجی صاحب نے شیشے کا چھوٹا سا جار آگے سرکایا جس کے اندر سنہرے رنگ کا چھوٹا سا چمچہ رکھا ہوا تھا حاجی صاحب بولے یہ شہد بھی وادی سوات سے خاص طور پر منگوایا گیا ہے جو جسم کے ہر بال سے بیماری نکال کر انسان کو جوان زندہ اور تازہ دم کر دیتا ہے یہ شہد سو بیماریوں کا خاص علاج ہے پھر دو چمچے بھر کر قہوے کے کپ میں ڈال کر اُس کو تابعداری سے ہلاتے ہوئے بولے جناب یہ خاص طور پر آپ کے لیے نکالا ہے خاص شہد خاص لوگوں کے لیے ہے ۔عام لوگ اِس کے کرشماتی اثرات سے واقف نہیں ہیں اب ہم خوشبودار خالص شہد اور جڑی بوٹیوں والے قہوے کے ساتھ عجوہ امبر مبروم کھجوروں کے ساتھ ذائقوں کی دنیا دنیا سے متعارف ہونے لگے کھجوریں واقعی بہت لذیذ صحت مند رس بھری تھیں ہر کھجور اپنا ہی الگ ذائقہ خوشبو رکھتی تھی حاجی صاحب کی کولیکشن واقعی لاجواب تھی اِسی دوران حاجی صاحب نے اپنی دراز کھول کر شیشے کے ڈبے کو سامنے رکھ کر اُس کا ڈھکن کھول دیا جس میں کاجو بر فی کے ترتیب سے جڑے ٹکڑے دعوت نظارہ کے ساتھ دعوت طعا م بھی دے رہے تھے اب حاجی صاحب نے کاجو برفی کے قصیدے پڑھنا شروع کر دئیے ۔اب ہمارے ہاتھ کاجو برفی کے ساتھ بھی انصاف کر نے لگے اِس دوران حاجی صاحب محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کبھی کوئی کھجور کبھی برفی کا ٹکڑا نہایت خلوص سے اپنے ہاتھ سے پیش کر تے جارہے تھے ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ حاجی صاحب تھوڑا آگے جھکے اور بولے جناب یہاں پاس ہی بریانی بہت اعلیٰ تیار ہوتی ہے اگر اجازت دیں تو بریانی منگوائوں یا پھر مٹن قہوی منگوائوں تو میں نے سختی سے منع کر دیا تو اُنہوں نے چند مو سمی پھلوں کا ذکر کیا کہ آج کل یہ پھل بازار میں آئے ہو ئے ہیں جو میں نے سختی سے منع کر دیا ۔حاجی صاحب پیار محبت میزبانی کے سارے ریکارڈ توڑنے پر تُلے ہوئے تھے یہ میری حاجی صاحب سے پہلی ملاقات تھی میرا ایک جاننے والا بہت دنوں سے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا کہ اُس کے جاننے والے حاجی صاحب ہیں بہت نیک ہیں کئی حج اور بے شمار عمرے کر چکے ہیں ‘ اللہ نے بہت رزق دے رکھا ہے سخاوت بھی بہت کر تے ہیں آجکل اپنے بیٹے کے ہاتھوں بہت تنگ آچکے ہیں بیٹے کے سدھار کے لیے آپ سے ملنا چاہتے ہیں دو دفعہ مُجھ سے ملنے میرے گھر آچکے ہیں لیکن میری ملاقات نہیں ہوئی میں نے حاجی صاحب کو آپ کے بارے میں بتا یا تو وہ دو بار آپ کے گھر بھی گئے لیکن ملاقات نہیں ہوئی ایک بار دفتر بھی گئے لیکن لوگوں کا ہجوم دیکھ کر چلے گئے اب میرے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح ایک بار پروفیسر صاحب کو میرے دفتر لے کر آئو تو اِس بیچارے نے مجھے کہا تو شروع میں تو میں نے انکار کر دیا لیکن اِس کے بار بار کہنے پر میں آج ساتھ چلا آیا یہاں آنے کی وجہ یہ تھی کہ بقول اِس کے حاجی صاحب کی خواہش ہے کہ میں گناہ گار ان کے دفتر میں تشریف لائو ںبرکت کے لیے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ حاجی صاحب کا دفتر شکار گاہ ہے جہاں پر وہ اپنے گفتگو روئیے میزبانی چرب زبانی سے آنے والے معصوم لوگوں کے خوابو ں سے کھیلتے ہیں یہ ان باتوں کا پتا بعد میں چلا اب میں اور میرا دوست حاجی صاحب کے سامنے بیٹھے تھے ۔حاجی صاحب اپنے روئیے اور میزبانی سے اپنی بھرپور دھاک بٹھا چکے تھے اب میں بولا حاجی صاحب حکم کریں آپ نے کس لیے مُجھ نا چیز کو یہاں طلب کیا تو اچانک حاجی صاحب اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے پروفیسر صاحب یہ دنیا داری تو چلتی رہے گی‘ نماز کا وقت ہے آئیں پہلے نماز پڑھ لیں اُن کے عملے نے کرسیاں سائیڈ پر کر کے جائے نماز بچھا دئیے تو حاجی صاحب بولے آپ امامت کرائیں تو میں نے شرمندگی سے کہا میں گناہ گار اِس قابل کہاں تو وہ خود امامت کے لیے کھڑے ہو گئے ہم نے اُن کی امامت میں نماز پڑھی نوافل اور سنتیں ادا کر نے کے بعد انہوں نے رقت آمیز لہجے میں خشوع خضوع سے رو رو کر دعا مانگی ۔حاجی صاحب کے ماتھے پر نشان ان کے پکے نمازی کی گواہی دے رہا تھا نماز کے بعد ہم پھر آمنے سامنے بیٹھ گئے تو حاجی صاحب نے سچے موتیوں پر مشتمل خوبصورت تسبیح کھجوریں عطر نکال کر مجھے پیش کیا اور بولے آپ کا شکریہ کس طرح ادا کروں ۔میری جان حاضر ہے کوئی حکم ہو تو میں حاضر ہوں عمرے حج کاکام کر تا ہوں اِس بار آپ کو عمرے پر بھی بھیجنا ہے وہ لگا تار اپنی میزبانی پر فارمنس سے مجھے ذبح کر نے پر تُلے ہو ئے تھے اب جب انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ مجھے متاثر بلکہ گھائل کر چکے ہیں تو بولے جناب میرا ایک ہی بیٹا ہے جو اب جوان ہو کر جوانی کے نشے میں دھت عیاشیوں کے ریکارڈ تو ڑ رہا ہے آجکل کسی طاقتور سیاسی وڈیرے کی بیوی کا عاشق ہو کر اُس کے پیچھے پڑ ا ہوا ہے اُس عورت نے چند دن اِس کو ورغلایا جھوٹے وعدے کئے جب اُس کے خاوند کو پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی اب وہ اِس کا فون نہیں اٹھاتی نہ ہی کوئی بات کر تی ہے یہ پاگل اُس کے پیچھے ہر خوف سے آزاد ہو چکا ہے ہم نے بہت سمجھایا لیکن یہ باز نہیں آرہا خدا کے لیے اِس کے سر سے عشق کا بھوت تو اتاریں پھر وہ دیر تک اپنی بے بسی پریشانی سناتے رہے میں نے ذکر اذکار دئیے اور واپس آگیا اِس کے بعد بیٹے کی پریشانی کے لیے حاجی صاحب میرے پاس آتے رہے میں نے چند ملاقاتوں میں ہی جان لیا تھا کہ وہ نماز میزبانی اپنے ذاتی مفاد کاروبار گاہک پھنسانے کے لیے کرتے ہیں لوگ اُن کی عبادت حاجی پن اور نمازوں سے متاثر ہو کر ان پر اعتباار کر تے ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر یہ امیر لوگوں کو پھنسا کر ان کو عمرہ حج کراتے ہیں ساتھ میں کر نسی تبدیل کرنے کا دھندہ بھی کرتے ہیں میں نے ایک دن اِن کو سمجھایا کہ آپ حاجی نمازی اپنے کاروبار کے لیے نہیں خدا کے لیے یہ عبادت خدا کے لیے کریں اور دل سے سچی تو بہ کریں نہیں تو آپ کی چالاکیاں سب ایک دن پکڑی جائیں گی لیکن حاجی صاحب توبہ کی طرف نہ آئے چند ملاقاتوں کے بعد دوسرے پروفیشنل بابوں پر اپنی دولت لٹانے لگے چند ماہ گزر گئے کہ اچانک حاجی صاحب میرے پاس آئے تو اجڑے ہوئے ویران خزاں زدہ پرانے سلوٹوں والے کپڑوں میںہارے ہوئے جواری کی طرح آتے ہیں بولے پروفیسر صاحب کاش میں آپ کی بات مان کر سچی توبہ کر لیتا اور خدا کو مُجھ چالاک عیار پر ترس آجاتا میںدولت چالاکی میں مست تھا کہ بیٹا اُس عورت کے گھر چلا گیا جا کر اُس کو اغوا کر نے کی کو شش کی تو انہوں نے گولیاں مار کر ختم کر دیا میرا سب کچھ لُٹ گیا میں ساری زندگی اپنی چرب زبانی چالاکی سے لوگوں سے کھیلتا رہا آخر میں تقدیر نے ایک ہی وار کر کے مُجھ سے سب کچھ چھین لیا پروفیسر صاحب مجھے توبہ کا طریقہ بتا ئیں تو میں بولا انسانوں کو لوٹنا بند کریں اور عبادت نمازیں صرف خدا کے لیے شروع کردیں وہ ماں سے زیادہ شفیق رب تم کو معاف کر دے گا اور تمہاری آخرت سنور جائے گی پھر حاجی صاحب تو بہ کا وعدہ کر کے چلے گئے اور میں سوچنے لگا انسان اپنی چالاکی عیاری کے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ اِس کائنات کا مالک خدا بھی ہے جو حرکت میںآجاتا ہے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: