ذخیرہ اندوزوں اور کرپٹ مافیاز کا احتساب کب ممکن ہوگا۔؟

زرعی ملک میں زراعت زوال پذیرکیوں۔۔۔؟
ذخیرہ اندوزوں اور کرپٹ مافیاز کا احتساب کب ممکن ہوگا۔؟

سابقہ حکمرانوں کے جیالے اور متوالے بیوروکریٹس اور اداروں کے افسران اب بھی موجودہ ہیں ،کمشنر راولپنڈی محمدمحمود کون ہے۔؟ نوازشریف اور شہبازشریف کا متوالا ہی تو ہے ۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ان بیوروکریٹس تک پہنچ گئے ہیں جوحکومت کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 17سال بعد اکائوٹنٹ خسارہ سرپلس ’’مراعات سے ترسیلات زر‘‘ ایکسپورٹ میں24فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے آٹا ،چینی وضروریات زندگی کی اشیاء کی قلت پیدا ہوگی ،نہ ہی قیمتیں بڑھیں گی ۔حکومت رہے نہ رہے کرپٹ مافیا کونہ چھوڑنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔یہ سب باتیں اس وقت فائدہ مند ثابت ہونگی جب لوگوں کو روزگار ملے گا ۔اشیاء خوردونوش اورتن ڈھانپنے کیلئے کپڑے نصیب ہونگے ، رہنے کیلئے گھر ہوگا،بجلی ،گیس کی قیمتوں اور پٹرول ،ڈیزل کی قیمتیں کم ہونگی، لوگوں کو انصاف ملے گا، جان ومال کا تحفظ ہوگا، متعددسرکاری ادارے تو اب اپنے ملازمین کوبھی انصاف وسہولیات نہیں دے رہے ۔بعض اداروں میں نااہل وجاہل اپنے حقیقی کردار سے نابلد لوگ من مرضی کررہے ہیں تو وہ عوام کے ساتھ کیا سلوک کرینگے ۔ملک میں رہنے والے زندہ ضرورہیں مگر جس طرح حکومتیں عوام کوسہولیات بہم پہنچاتی ہیں۔اس طرح نہیں ہورہااس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی نے خوب کہاہے۔
’’نہ انجن میں خوبی نہ کمال ڈرائیور خدا کے سہارے چلی جارہی ہے۔‘‘
اب تو عام دوکمروں کا گھر کچے محلوں میں 10سے12ہزار روپے ماہانہ کرائے پر نہیں ملتا ،بڑے شہروں میں شائد اس سے بھی زیادہ جبکہ بجلی ،گیس ،سیوریج ،پانی کا بل اس سے الگ ہے۔حالت یہ ہے کہ چپڑاسی ،چوکیدار ،مالی سمیت درجہ چہارم کی چند پوسٹوں کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار وں کی ہزاروں درخواستیں آجاتی ہیں۔ مہنگی تعلیم حاصل کرکے نوجوان نسل روزگار کیلئے پریشان ہے۔راقم نے کئی سالوں سے مختلف حکومتوں کو تجویز دی تھی کہ نان ٹیکنیکل پوسٹوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر55سال کردی جائے تاکہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کو تو فی الفور روزگار دیاجاسکے ۔نیز ایسی پوسٹوں پر15،20،25سال ریٹائرمنٹ پالیسی رائج کی جائے کیونکہ غربت بے روزگاری کا خوفناک طوفان بڑھ رہاہے جوموجودہ مہنگائی کی وجہ سے تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔اس سے بچنے اور کمزور طبقہ پررحم کرتے ہوئے روزگار کا بندوبست کیاجائے جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے اندرونی وبیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کا اہتمام کیاجائے ۔ہمارے وزیر خارجہ عوامی پالیسیوں کی بجائے ہمہ وقت اقتدار کے حصول کیلئے ایگزیکٹو عہدہ کے خواہاں بلکہ بے چین رہتے ہیں۔اگرمحترم وزیرخارجہ دنیا بھرکے ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے کی جستجو کرتے تو لاکھوں نوجوان بیرونی ممالک نہ صرف روزگار حاصل کررہے ہوتے بلکہ ملکی خزانہ کوبھی مستحکم کرتے۔اس وقت یورپی ممالک کینیڈا ،امریکہ اور سوویت یونین سے الگ ہونے والے ممالک سمیت عرب ممالک میں انڈین لوگوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھ رہی ہے اور بنگلہ دیش کی حکومتیں بھی اس طرف نمایاں کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔فلپائن کی حکومتوں نے اور ان کے اداروں نے اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کیلئے اپنے اداروں کے ذریعے ٹرینڈ کرکے بھجوانے کیلئے وزارت خارجہ کو اثرورسوخ استعمال کرنے پرزور دے کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو برسرروزگار کروادیاہے ۔ پاکستان کی وفاقی وزارت محنت وافرادی قوت و سمندر پار پاکستانیز کی وزارت ہی ختم کردی گئی ہے۔ جبکہ بھارت اس وقت دنیابھرسے پاکستانیوں کو اور تو اور مسلم ممالک سے بھی نکلوانے میں کامیاب ہو رہا ہے ۔ پاکستانی صنعت ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے زوال پذیر ہے۔ کئی صنعتی ادارے بند ہو رہے ہیں اور بے شمار صنعتی ادارے کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ پی آئی اے ، سٹیل ملز ، ریلوے سمیت اہم سرکاری ادارے تباہی کی طرف جارہے ۔ اس کی وجہ اداروں میں کرپشن ، لوٹ مار ، خوشامد ، چاپلوشی ، کاغذی کارروائی میں بجٹ خردبرد ’’Lips Service سے بااختیار سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو مطمئن کرنے جیسے کارناموں کا واویلا کرنے والے لوگ اداروں پر قابض ہیں۔ اور تو اور محکمہ زراعت کو ہی دیکھ لیں، محکمہ زراعت کا زوال یوں تو 1985ء سے شروع ہوا ۔ جب سرمایہ داروں کی حکومت قائم ہونا شروع ہوئی کیونکہ میاں نواز شریف کا خیال ہے کہ کسان زمین میں ایسے بیج پھینک دیتا ہے اور فصلیں اٹھا لیتا ہے ۔ انہیں کاشتکاری میں جو تکالیف ہیں ان کے بارے علم نہیں ہے ۔ حالانکہ کسان کو صرف 6 ماہ کیلئے لاکھوں روپے کا ایکڑ رہن رکھ کر چند ہزار روپے قرضہ ملتا ہے جبکہ صنعت کار کو ایک کنال یا دو کنال زمین پر بھی کروڑوں روپے کا قرضہ معمولی منافع پر لمبے عرصے کیلئے مل جاتا ہے ۔ جو رائٹ آف بھی ہوجاتا ہے جبکہ کسان کا قرضہ معاف نہیں ہو تا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو کسان کی ساری محنت جمع پونجی صنعت کار ، ملٹی نیشنل کمپنیاں ، زرعی آلات، کھاد ،سیڈز ، پیسٹی سائیڈز ، بجلی وغیرہ کی مد میں لے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زمیندار طبقہ کاشتکاری کی بجائے رہائشی کالونیوں کی ضرورت کو زیادہ محسوس کررہاہے جس کی وجہ سے کاشتکاری سے توجہ ہٹتی جارہی ہے ۔ دوسری طرف حکمران اور اعلیٰ بیوروکریٹس محکمہ زراعت کی افسر شاہی کی مصنوعی کارکردگی سے متاثر ہوکر خوش ہوجاتے ہیں ۔ اگر کوئی ان کی ان جھوٹی کارروائیوں بارے آگاہ کرے تو وہ کان نہیں دھرتے جبکہ نشاندہی کرنے والے ان کی نفرت اور انتقام کا نشانہ بنتے ہیں ۔ 1997ء میں محکمہ زراعت کے پانچوں ڈی جی صاحبان پر مشتمل ایک زرعی مشاورتی بورڈ ز وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ریاض حسین قریشی نے تشکیل دیا تھا جس پرراقم نے انہیں لکھا کہ قیام پاکستان سے لیکر تا حال آپ کے بنائے ہوئے زرعی سائنسدانوں نے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیابلکہ ڈگری کو کلاشنکوف بنا کر ملکی خزانہ اور اداروں کے وسائل لوٹے ،اداروں کو زوال پذیر کیا ہے ان کی نسلیں تو سنور گئی ہیں،مگر ملک وقوم کیلئے انہوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔کون سی ایجاد ہے جو آپ کی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل سائنسدانوں نے کی ہے جو پاکستان کی پہچان ہو؟ جہاں تک اوسط پیداوارتو زرعی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بڑھی ہے۔ ٹریکٹر ،ٹیوب ویل ، کلٹی ویٹرز، روٹاویٹرز، تھریشر وغیرہ اور زرعی ادویات ، فرٹیلائزر ،سیڈز بریڈنگ ان میں سے کوئی بھی چیز پاکستانی زرعی ماہرین کی ایجاد کردہ نہیں ہے جس کی وجہ سے کاشتکاری آسان اور اوسط پیداوار بڑھی ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کاری ممکن ہوئی تو پیداوار بڑھی ہے کیونکہ پہلے کسان بیل جوڑے سے آدھی رات سے عصر تک بمشکل ایک ایکڑ پر ہل چلاتا تھا اور24گھنٹے میں باری باری تین جوڑے بیلوں سے کنویں کے ذریعے ایک ایکڑ کھیت سیراب کرسکتا تھا ۔کسان اپنی زمین کا تیسرا حصہ بھی بمشکل کاشت کر سکتا تھا جتنا چھوٹا زمیندار ہوتا اتنے ہی کم ، جبکہ بڑے زمینداروں کے پاس بیل جوڑے زیادہ ہوتے تھے۔ بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا ۔ تھریش کرنے کیلئے اور جدید طریقے سے کاشتکاری کا کوئی علم نہ تھا، ٹریکٹر کی وجہ سے ایک دن میں 25 ایکڑ زمین اچھے طریقے سے تیار ہونے لگی ، بروقت پانی اور اچھے زرعی آلات سے فصل تیار اور محفوظ ہونے لگی ۔ زمیندار اپنی پوری زمین سے تین تین فصلیں حاصل کرنے لگا جس کی وجہ بلڈوزرز ، ایکسی ویٹرز سے بنجرزمینیں آباد ہوئیں تو پیداوار بڑھنے لگی جس کا کریڈٹ کسان کی بجائے نام نہادزرعی سائنسدان لیتا ہے۔ اگر ہمارے زرعی سائنسدان ایمانداری سے کام کرتے یا اہل ہوتے تو سونا اگلنے والی زرعی زمین ، دریائی و نہری نظام ، چاروں موسم ، بارشوں کا ضرورت کے مطابق قدرتی سلسلہ ہونے کے باوجودہم گندم ، ٹماٹر ،آلو ، بھنڈی ، پیاز و دیگر ضروریات زندگی بیرونی ممالک سے درآمد نہ کرتے ، پاکستان میں سبزیاں اور فروٹس امریکہ کی تمام ریاستوں میں پیدا ہونے والی سبزیوں اور فروٹس سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ وی سی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ریاض حسین قریشی صاحب نے اپنے ڈین پروفیسر طاہر حسین کے ذریعے خط کے جواب میںاعتراف کیا تھا کہ ہم وسائل کی بہتات کے باوجود بہت سارے کم وسائل والے ممالک کے مقابلے میں ترقی میں پیچھے ہیں اس وقت بھی ہم انڈیا سے ضروریات زندگی کی اشیاء اور سبزیوں کا سیڈ خرید رہے ہیں ۔ جہاں تک وزیراعظم نے کہا کہ جڑیں کاٹنے والے بیوروکریٹس تک پہنچ گئے ہیں ، لگتا ہے وزیراعظم کو پوری طرح آگاہ نہیں رکھا جاتا ۔ کیپٹن (ر) محمد محمود کمشنر راولپنڈی تعینات ہے جو نوازشریف اور شہباز شریف کا متوالہ تھا اور اس کے بارے انہی صفحات میں لکھا تھا کہ جب حکومت بدلے گی ،یہ پھر چھلانگ لگا کر پی ٹی آئی حکومت سے جا ملے گا ۔ اب اس جیسے اور بھی بہت ہیں جو ذخیرہ اندوزوں اور کرپٹ مافیاز کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ہیں۔اس کے دور میں زراعت کا شعبہ زیادہ زوال پذیر ہوا ۔ اس وقت راقم نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کے غلط اقدامات کی نشاندہی کی تھی ۔ اب حالت یہ ہے کہ جو کسان بیل جوڑوں کے ذریعے ہل چلا کر کنوئوں کے ذریعے سیراب کرکے بغیر کھاد و زرعی ادویات کے کپاس 5 سے7 من فی ایکڑ روایتی بیج کے ذریعے حاصل کرتا تھا ۔ آج 2 من فی ایکڑ کے لئے ترس رہا ہے اور گندم بھی 7 سے 12 من اور 15 من تک حاصل کرتا تھا۔ آج اس کے ہاتھ سے سیڈ بھی چلا گیا ہے ۔ 1997ء میں راقم نے ہائبرڈ کے خلاف آواز اٹھائی تھی اس وقت کے افسران نے راقم کے خلاف محاذ بنایا تھا۔ راقم کوہردور کے سیکرٹریز اور حکومتی شخصیات کو استعمال کرکے انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ جو تاحال جاری ہے ۔ کرپٹ اور خوشامدی لوگوں کو پرموٹ کیا جارہا ہے تو زراعت خاک ترقی کر ے گی۔وزیراعظم صاحب کو چاہئے کہ وہ بااعتماد بیوروکریٹس کے ذریعے اتنا تو معلوم کرلیں کہ کون کون سے بیوروکریٹس ہیں جن کا دین ایمان غیر جانبداری اور اپنے مرتبے سے انصاف نہیں بلکہ سابقہ حکمرانوں کی عطا تصور کرتے ہیں۔ایسے ایسے بیوروکریٹس بڑے بڑے عہدوں پرفائض ہیں انہیں اپنی قابلیت اور قدرت کی طرف سے عزت ملنے کے باوجودوہ ان سے وفاداریاں نبھا رہے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: