پروفیسر مرزا خالد محمود کی یاد میں از تحریر شعیب بھٹی

یہ سچ ہے کہ ہے قوم میں قحطِ انسان
نہیں قوم کے ہیں سب افراد یکساں

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری قوم کے سب افراد اپنی عادات و خصائل اور کردار و عمل سے ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ عصر حاضر کے انسانی سمندر میں قوم کے افراد تو کروڑوں میں ہیں لیکن اگر انسانوں کی مردم شماری کی جائے تو شاید ہماری پاک سرزمین میں قحط انساں کے باعث یہ اعدادوشمار شرمناک حد تک محدود نظر آئیں گے لیکن یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اسی قوم کے افراد میں ایسے ایسے قیمتی جواہر بھی شامل رکھے ہیں جو ہمیشہ خدمت انسانیت کی اعلیٰ معراج اور خدمت خلق کے ارفع مقام میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ایسے گوھرِ نایاب کی اگر فہرست بنانی مقصود ہوتو اس کام کے لیے کاغذ اور قلم کی کمی عمل میں آنے کا اندیشہ بھی باقی ہے۔ پروفیسر مرزا خالد محمود بھی ایک ایسی ملنسار، خوش گفتار، باکردار اور نیک طینت ہستی تھے جو آج خود تو ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن اُن کی محبت کی چاشنی، خلوص، وفاداری اور وفا شعاری نے ان کے بچھڑنے کے بعد بھی اُن کی ذات کو ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں امر (زندہ) کر رکھا ہے۔
پروفیسر مرزا خالد محمود نے اپنی زندگی زندہ دلی سے بسر کی۔ بچپن میں خود باپ کی شفقت سے محروم ہوکر ہمیشہ دُکھی اور پریشان حال لوگوں کے لیے ایک بہترین شفیق شجر سایہ دار کی شکل میں غم گساری کے ذریعے احباب کے دل میں گھر کرتے رہے۔ نامساعد حالات کے باوجود ہمیشہ دوسروں کی خدمت اور بہتری کے عمل میں ہمیشہ خود کو متحرک رکھتے تھے۔ اُن کا شمار عصر حاضر کی بااخلاق، باکردار، مخلص اور وفا کے جذبہ سے سرشار شخصیات میں کیا جاتا تھا۔ فطرتاً مزاج اور طبع کے اعتبار سے وہ ایک ہر دلعزیز اور خندہ پیشانی سے پیش آنے والے معلم تھے۔ طلبہ اور احباب کے ساتھ ان کا رویہ بڑا مثالی تھا ان کا یہی حسن سلوک ان سے ملنے والوں کے دلوں میں پہلی ملاقات میں انہیں ہرکس و ناکس کا پسندیدہ رفیق کار بنا دیتا تھا۔ ان سے شرف ملاقات حاصل کرنے والا ہمیشہ ان کی قربت اور دائمی رفاقت کا آرزومند رہتا تھا۔ ان کے طلبہ ہمیشہ انہیں اپنے لیے ایک محسن عظیم گردانتے تھے۔ پہلے پہل جب پروفیسر مرزا خالد نے ایک طویل مدت ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ شیخوپورہ میں اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کیا تو ان کے سینکڑوں طلبہ ان کی شیریں بیانی اور پندونصاح پرمبنی باتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے انہیں لاہور خصوصاً شرفِ ملاقات کے لیے بڑے تسلسل سے حاضری دیتے رہے۔ پھر جب سرکاری تبادلہ کے باعث گوجرانوالہ بسلسلہ ملازمت رختِ سفر باندھنا پڑا تو بڑی ہی کم مدت میں دوستوں اور تلامذہ کا ایک جمِ غفیر ان سے عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے ایک طویل مدت لاہور آتا رہا۔ پروفیسر مرزا خالد محمود کی شیریں بیانی اور شگفتہ مزاجی ہمیشہ ان سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کا باعث بنتی رہی۔ ان کا حلقۂ احباب میں مسلسل اضافہ کی ایک بڑی وجہ ان کا ہر کسی کے ساتھ نہایت اخلاق اور اخلاص سے پیش آنا ہے۔ دوست احباب اور ہر اجنبی سے محوِ گفتگو ہوتے ہوئے وہ مہرومحبت، غم گساری و اخوت اور حسن اخلاق کی ایک بہترین لفاظی سے وہ دوسروں کے دل جیتنے کا فن جانتے ہی تھے بلکہ اس میں مہارت کاملہ رکھتے تھے۔

پنجاب گورنمنٹ کی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسر مرزا خالد محمود پاک آرمی ایجوکیشن کور کے زیر انتظام پاک فوج کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارہ ’’لاہور گیریژن ایجوکیشنل سسٹم‘‘ کی کہنہ مشق ٹیم کا حصہ بنے اور گیریژن بوائز ہائی سکول اینڈ انٹرمیڈیٹ کالج کے شعبہ فائن آرٹ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ LGES کے سابقہ چیئرمین جناب بریگیڈیئر شمس السلام، سابق چیئرمین جنرل اشرف سمیت سابقہ پرنسپلز کرنل (ر) تسنیم باری سلیمی، بریگیڈیئر ریاض احمد اور بالخصوص مرحوم و مغفور جناب کرنل محمد یوسف عظیم سے اسنادِ امتیاز بڑی فضیلت سے حاصل کرتے رہے۔ LGES کی تاریخ میں یہ بلند رتبہ و مقام شاید ہی کسی اور شعبہ کے کسی معلم کو نصیب ہوا ہو کہ جسے اپنے دور کے ہر چیئرمین نے خوب تعریفی کلمات سے نوازا ہو۔ اپنے رفقاء کے ساتھ ان کا رویہ مثالی اور شاندار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام شعبہ جات کے معلمین اب سے بیحد محبت رکھتے تھے۔ پروفیسر مرزا خالد محمود شعبہ آرٹس (فنون لطیفہ) سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ احباب کے ساتھ بہتر سے بہترین ربط ضبط پیدا کرنے کا آرٹ بخوبی جانتے تھے جو شخص ان سے ایک بار مختصراً بھی ملتا اس کے دل میں ان سے ملاقات کا اشتیاق ہمیشہ شدت پکڑتا تھا۔ ان کا یہ حسن اخلاق انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز و مفتخر بنا دیتا ہے۔ احباب کی جس محقل میں بیٹھتے تھے اس محفل کو کشت زعفران بنا دیتے تھے۔ یہ انہی کو زیب دیتا ہے کہ وہ کمال مہارت سے دلوں پر حکمرانی کا فن بخوبی جانتے تھے۔ بچے، بڑے، ہم عمر سمیت تمام لوگ ان سے بیحد محبت رکھتے تھے اور اس بے پناہ محبت کی بنیاد وہ خود تھے ہر کسی سے نہایت مشفقانہ طرزِ عمل سے ملنا ان کے مزاج کا خاصا تھا وہ احترام آدمیت اور احترام انسانیت کی ایک بہترین مثال تھے۔ منافق اور منافقت اختیار کرنے والوں کو بھی عزت و تکریم کے روئیے سے اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے اور پھر نہایت ذہانت، فطانت کے ساتھ ایسے لوگوں کی اصلاح کرتے تھے کہ وہ لوگ منافقانہ طرزِ عمل سے خود توبہ کرلیتے تھے۔ نفرین، طنز کے نشتر چلائے بغیر ایسے کم فہم شاطرانہ چالیں چلنے والوں کو بھی صراطِ مستقیم کی راہ پر لے آنے کے فن میں یکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم منافقین کے طرزِ عمل کو دیکھ کر ان سے نفرت کریں گے تو پھر ایسے گمراہ لوگوں کی اصلاح کون کرے گا۔ ’’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے اقدامات کے جذبوں کو فروغ دینے میں مصروف عمل رہتے تھے۔ جہاں برائی کا پہلو نظر آتا وہیں غیر محسوس انداز سے احباب کی اصلاح کے لیے سرگرداں دکھائی دیتے تھے۔ عموماً لوگ نیکی کا کام، نیکی کا عمل خود کو نیک چلن ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں لیکن مرزا خالد محمود کمال انسان تھے وہ نیکی اور بھلائی کے معاملات میں اجر جزیل، بے پناہ ثواب اور ستائش کی خاطر نیکی کو ترجیح نہ دیتے تھے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد ہی اطاعت خداوندی کے ساتھ ساتھ خدمت انسانیت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ احباب کی خدمت، رفقاء سے بے پناہ پیار محبت کے جذبات کا برملا اظہار اُن کی طبیعت ثانی بن چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بہترین طرز چلن کو نیکی میں شمار ہی نہ کرتے تھے۔ نیکی کو نیکی سمجھتے ہی نہ تھے بلکہ کہا کرتے تھے یہ عمل انسان کی تخلیق کا اولین مقصد ہے ان کا یوں بے وقت بچھڑ جانا ان کے اہل خانہ سمیت ان کے سب چاہنے والوں کو ایک دردناک غم سے روشناس کر گئے ہیں۔ موت برحق ہے۔ موت سے مفرممکن نہیں لیکن اس طرح اچانک موت سے وہ اپنے سب چاہنے والوں کو روتا چھوڑ گئے ہیں۔ ہمیشہ سب کے دلوں کی اداسی دور کرنے والے ایک کربناک اذیت سے دوچار کرگئے ہیں۔ زندگی بھر احباب کے غم گسار، غم بانٹنے والے ایک کبھی نہ ختم ہونے والے غم جدائی سے سب کے دلوں کو تڑپ اور درد سے آشنا کرگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ، ارفع مقام سے نوازے۔ (آمین)۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: