نیلگوں دھند کے بیچ

ایک سرد اور سیاہ رات میں ہم لندن کی سڑکوں پر آوارہ پھرتے تھے۔ لندن میں برادرم ارشد لطیف حق میزبانی ادا کرتے ہوئے مجھے ہر وہ جگہ دکھانا چاہتے تھے جو پہلی بار لندن آنے والے کو دیکھنی چاہیے۔ اس کے بعد بھی مختلف ماہ و سال میں لندن کے کئی سفر ہوئے اور اس شہرِ دلدار کو کئی زاویوں سے دیکھنے کا موقع ملا لیکن ابھی 2010 کی اس رات کی بات ہے جس میں ہم لندن کے مرکزی علاقے میں گاڑی دور کھڑی کرکے پیدل گھومتے تھے۔ آوارہ گردی کہہ لیں یا چہل قدمی‘ دونوں کا لطف رات کو ہے۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ شہروں کی مرکزی سڑکیں‘ چوک اور گلیاں دن بھر ایک سست الوجود شخص کی طرح پڑی اونگھتی رہتی ہیں لیکن جب شام ڈھلے ان کا سورج طلوع ہوتا ہے تو ایک دم ان پر رنگ اور روشنیاں برسنے لگتی ہیں۔
دجلہ کنارے بغداد ہو یا نیل کنارے قاہرہ‘ گومتی کنارے لکھنؤ ہو یا راوی کنارے لاہور‘ ان کا طلسم دھیرے دھیرے جاگتا ہے۔ رومان ہر دریا کے پانیوں میں بہتا اور کناروں سے پھوٹتا ہے۔ ٹیمز کنارے لندن بھی ایسا ہی فسوں خیز شہر ہے۔ ہم اس کی گلیوں اور چوراہوں میں پھر رہے تھے جہاں خوش باش لوگ نوجوان جوڑے ہنستے بولتے کھاتے پیتے ادھر سے ادھر آتے جاتے تھے۔ دریائے ٹیمز سے ایک نیلگوں دھند سحر کی طرح اٹھتی اور سب کو غلاف میں لپیٹتی جاتی تھی۔
ہائیڈ پارک رات گئے بھی اپنی کشش قائم رکھے ہوئے تھا۔ گہماگہمی اور رونق کے بیچوں بیچ ایک گوشۂ عافیت۔ اور یہ ایجور روڈ‘ جہاں امرا کی رہائش گاہیں ہیں۔ ہر امیر شخص بھی یہاں رہائش نہیں رکھ سکتا۔ امیرالامرا میں شامل ہونا ضروری ہے۔ وہاں سے نکلیے اور ہجوم کا حصہ بن جائیے۔ اچھا تو ایسی ہوتی ہے ایبے سٹریٹ اور بیکر سٹریٹ۔ بیکر سٹریٹ سے گزرتے وہاں زیادہ دیر رکے کہ شاید شرلاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن دکھائی دے جائیں‘ لیکن وہ تو کیا ملتے پائپ پینے والا کوئی شخص بھی نظر نہیں آیا۔ آکسفورڈ سٹریٹ فیشن اور برانڈز کی چکاچوند میں نہائی ہوئی سڑک تھی لیکن لیسسٹر سکوائر رونق میں اس سے بھی آگے تھا۔ تھیٹر‘ سینما اور قسم قسم کے تماشے دیکھنے ہوں تو لیسسٹر سکوائر ان کا مرکز ہے۔
لیکن لندن کا دل پکاڈلی ہی کو کہنا چاہیے۔ ویسے تو پکاڈلی ایک بارونق سڑک کا نام ہے لیکن فوارے والا چوک ہی پکاڈلی کی درست نمائندگی ہے۔ فوارے کے گرد بیٹھنے والے جوڑے بڑی تعداد میں تھے۔ برطانوی سیکرٹ ایجنٹ جیمز بانڈ ہمیشہ حسیناؤں کے جھرمٹوں میں نظر آتا ہے اس لیے خیال تھا کہ یہاں ضرور بیٹھا ہوگا‘ لیکن جیمز بانڈ تو کیا‘ مسٹر بین بھی اپنے گھر میں میٹھی نیند کے مزے لے رہا تھا۔ سیاہ رنگ کا فوارہ اسی طرح مسلسل اچھلتا تھا جیسے اس کے اطراف قہقہے بلند ہوتے تھے۔ ہم پکاڈلی پر گھومے، فوارے کے سامنے بیٹھے۔ تصویریں کھنچوائیں اور چل کھڑے ہوئے۔ یہ بہت تھا اور وقت اس سے زیادہ مہلت دیتا بھی نہیں ہے۔
بگ بین لندن برج کی سیر کرتے ہم دریائے ٹیمز کے پل پر آکھڑے ہوئے۔ یہاں سے مشہور لندن آئی نامی سربفلک جھولا بھی صاف دکھائی دیتا تھا۔ پل کے نیچے سے پانی تیزی سے گزر رہا تھا۔ دور سے پہلے قہقہوں کی آواز آئی اور پھر تاریکی اور دھند میں دو سیاح نمودار ہوئے۔ قریب پہنچے تو ہم نے ان سے ایک تصویر اتارنے کی درخواست کی۔ ایک دو جملوں میں پتہ چل گیا کہ وہ روسی سیاح ہیں اور انگریزی بس کام چلانے کے لیے جانتے ہیں‘ لیکن وہ ہماری بات سمجھ گئے۔ پہلے ایک زوردار قہقہہ لگایا‘ پھر ہماری تصویر اتاری اور پھر ایک قہقہے کے ساتھ روسی زبان میں کچھ کہا۔ مجھے کافی حد تک یقین تھاکہ ان خوش مزاج روسیوں نے روسی زبان میں کوئی جگت لگائی ہے‘ لیکن اسے سمجھنے یا جواب دینے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔
رات گہری ہوگئی ہے۔ آوارہ گردو! اس سے پہلے کہ مختلف زبانوں کی مزید جگتیں سننا پڑیں‘ سیدھے سیدھے گھر کو لوٹ چلو۔ ایک اور پُرفسوں رات تو بہرحال یادوں میں شامل ہوگئی ہے۔
قیام لندن کی چمکیلی صبحوں میں سے ایک دن میں اس عجائب گھر کے لیے نکلا جو مادام تساؤ میوزیم کے نام سے دنیا بھر میں معروف ہے۔ ایک دو دن لندن میں گزار کر اور میزبانوں سے، ٹھیک ٹرین سے ٹھیک جگہ پہنچنے کے گر سیکھ کر میں اچھا خاص طاق ہوچکا تھا۔ طاق ہونے کے باوجود یہ تو ہوتا رہاکہ غلط ٹرین یا غلط سٹیشن سے واپس لوٹ کر درست جگہ پر آیا اور وقت زیادہ لگا‘ لیکن فارغ آدمی کے لیے یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا۔
ایک لمبی قطار ٹکٹ کے لیے مادام تساؤ میوزیم کے باہر دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔ میڈم تساؤ میوزیم اب کئی حصوں پر مشتمل ہے جن میں معروف مومی مجسموں کے کمرے تو خیر ہیں ہی لیکن اپنی شہرت کے فائدے اٹھاتے ہوئے انہوں نے ایک ٹرین بھی بنا رکھی ہے جو قدیم زیر زمین لندن کے مناظر سے گزرتی اور دہشت زدہ کرتی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک فور ڈی آڈیٹوریم بھی اس کا حصہ ہے۔ اصل فائدہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ ٹکٹ جو پہلے ہی کم نہیں تھا‘ ان حصوں کی شمولیت کے بعد بہت مہنگا کردیا ہے اور سیاح خریدنے پر مجبور ہیں۔ خیر کمر توڑ مہنگائی تو یوکے خاص طور پر لندن کی وہ خصوصیت ہے جو ہر قدم پر پہلے قدم سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ سیر کے لیے کہیں نکلے ہیں تو خالی جیب لوٹنے کے لیے ذہن تیار کرلیں۔
مومی مجسمے۔ بڑا شہرہ سنا تھا۔ بہت مضامین پڑھے تھے۔ سنا تھاکہ اصل اور نقل میں فرق بتانا ناممکن ہے۔ کچھ سیاحوں نے لکھا تھاکہ وہ پہچان نہ سکے کہ جیتا جاگتا گارڈ کون سا ہے اور مومی پتلا کون سا‘ لیکن ان باتوں میں یا تو کمپنی کی مشہوری کی کوشش تھی یا پھر کسی زمانے میں ایسا رہا ہوگا یا شاید بعد کے زمانوں میں وہ معیار نہیں رہا۔ مصنوعی پن اکثر مجسموں میں جھلکتا تھا اور مشہور شخصیات کے پتلے کچھ بہت کمال تھے، کچھ اچھے بنائے گئے تھے اور کچھ بس گزارے کا کام تھا۔ یہ مشہور اور نامور ترین لوگوں کی بستی ہے۔ سیاستدان‘ حکمران‘ کھلاڑی‘ اداکار‘ سائنسدان‘ ہر کوئی اس بستی میں بہترین لباس پہن کرسانس روکے کھڑا ہے۔ میں نے اڑتے بالوں والے آئن سٹائن اور اس کے پیچھے کھڑے الجھی داڑھی والے کارل مارکس کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں‘ قائد اعظم محمد علی جناح کو سلام کیا‘ محمد علی باکسر، ٹام کروز، جولیا رابرٹس، بارک اوباما کو ذرا دیر کی ہم نشینی کا شرف بخشا اور ان کی زندگی یادگار بنا دی۔ یہاں بے نظیر بھٹو بھی پاکستانی سبز سفید لباس میں کھڑی تھیں اور اندرا گاندھی بھی۔ مائیکل جیکسن بھی پوز بنائے کھڑے ہیں۔ ہر کچھ مدت کے بعد ان مجسموں میں تبدیلی ہوتی ہے۔ کچھ مومی پتلے نئے داخل ہوتے ہیں اور کچھ نکال دئیے جاتے ہیں۔ زندگی کے سٹیج کی طرح آمدورفت لگی رہتی ہے۔ یہ مومی پتلوں کی دنیا اصل نہیں لیکن ان کی پوری کوشش ہے کہ اصل سے بڑھ کر نظر آئیں۔ اور کیا یہی کوشش آپ کو ہر شعبے میں اپنے اطراف میں نظر نہیں آتی؟
کبھی کبھار تو لگتا ہے اصل ہیں تو یہی
یہ سارے موم کے پتلے یہ سب مجسم لوگ
فور ڈی آڈیٹوریم اس وقت نئی چیز تھی۔ ایک گول گنبد میں تماش بین بیٹھ گئے۔ ان کے ہر طرف فلم چل رہی تھی لیکن خاص بات یہ کہ اگر فلم میں کسی سے کوئی گلاس گرا تو پانی کے چھینٹے تماشائیوں نے بھی محسوس کیے۔ کسی لڑائی میں خنجر بھونکا گیا تو آپ کی سیٹ کی پشت سے ایک نوکدار چیز نکل کر آپ کے پہلو میں بھی کھب جاتی ہے۔ دنیا میں نئے نئے تماشوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور وہ زیر زمین لندن کے منظروں کے بیچ سے گزرتی ہوئی ٹرین جہاں گاڑھا سرخ رنگ غالب ہے۔ لندن کی مشہور آگ، کوڑھی اور مکروہ چہرے ہر قدم پر۔ پورا سفر سراپا وحشت۔ اگر یہ سب واقعی تاریخ کا حصہ ہے تو شاید ہی کسی شہر کی تاریخ ایسی بھیانک ہو۔ خیر‘ یہ حسرت نہ رہی کہ مادام تساؤ میوزیم نہیں دیکھا۔ دیکھا بھئی۔ بہت خوب دیکھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: