Today's Columns

گورنمنٹ آف پاکستان اور انٹر نیشنل سٹی از اے ڈی شاہد ( چنتا )

پچھلے دنوں جب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے انٹرنیشنل سٹی پاکپتن کے لیے یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا تو پاکپتن اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس عظیم مقصد کے لیے جس جس نے جو جو کردار ادا کیا اس نے سوشل میڈیا پر خوب حق جتایا جو جتانا بھی چاہیئے۔ مگر راقم نے بھی جب وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب نے 29 جنوری 2021 کو ساہیوال کا دورہ کیا تو اپنی ایک رپورٹ ” وزیر اعظم کا دورہ ساہیوال ” میں انٹر نیشنل سٹی کا درجہ رکھنے والے پاکپتن کے مسائل پر قلم کی جنبش سے حکومتی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی جسے کشمیر سے کراچی تک متعدد اخبارات نے 2اور 3 فروری کو شائع کیا جن کا میں بے حد مشکور ہوں۔ اس رپورٹ کا احوال کچھ یوں تھا جو اپنیقارئین کی نذر کرتا ہوں۔”وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا دورہ ساہیوال چیچہ وطنی، ہڑپہ اور ساہیوال کے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خوشیوں کی نوید لایا۔قسمت کی دیوی ساہیوال پر ایسے مہربان ہوئی کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار تو پورے تین دن ساہیوال میں ہی قیام پذیر رہے۔ یوں لگتا وقت کے شہنشاہوں وزیراعظم اور وزیراعلی کی نظرعنایت سے ضلع ساہیوال کی قسمت چمک اٹھی اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اضلاع اوکاڑہ اور پاکپتن شریف کو نظر انداز کیا گیا اور ان اضلاع کی طرف مرکزی و صوبائی وزرا کی توجہ مرکوز نہ ہو سکی۔ حالانکہ پاکپتن قدیم ترین تاریخی شہر ہے جو کہ پسماندگی اور مسائل کا شکار کئی دہائیوں سے حکومتی توجہ کا منتظر ہے مگر اس بار بھی قریب ہی ساہیوال میں حکومتی مہربانیوں کی گنگا بہتی رہی لیکن ”ہم رہے پیاسے کے پیاسے لاکھ ساون آگئے”۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی پاک پتن اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے عقیدت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس کے باوجود پاکپتن اور اس کے بسنے والوں کے ساتھ حکومتی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پاک پتن پورے ضلع میں کوئی سرکاری یونیورسٹی یا کسی ایک بھی سرکاری یونیورسٹی کا کیمپس موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے طلبا و طالبات کو حصول علم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے اور کئی طالب علم تعلیم پر ہونے والے بھاری اخراجات کی وجہ سے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پاتے جو کہ نوجوان نسل کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور ہر ماں اپنے بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت و دیگر ضروریات کا خاص خیال رکھتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس علاقے کے لوگوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے ایسے لگتا ہے جیسے یہاں پر ماں لمبی تان کر سو رہی ہے جسے اپنے بچوں کی ذرا بھی فکر نہیں ہے ماں کا ان بچوں کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس ضلع میں کوئی اسپورٹس کمپلیکس موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے نئی نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار اور نشے کی عادی بنتی جا رہی ہے اور ہر سال درجنوں نوجوان نشے کی وجہ سے بے موت مارے جاتے ہیں۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال عارفوالا میں کئی دہائیوں سے بند پڑا کارڈیالوجی وارڈ ہمیشہ سے حکومتی توجہ کا منتظر ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاکپتن کسی ڈسپنسری سے بھی بدتر ہے جس میں بوقت ضرورت نہ کوئی ڈاکٹرز اور نہ ہی ادویات ملتی ہیں۔ اس ہسپتال میں معمولی مریضوں کو بھی ریفر کرنے کے سوا اور کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ اس دور جدید میں بھی ریڈیالوجسٹ کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ایم ایل سی کے لیے ساہیوال جانا پڑتا ہے جہاں پر وہ بھاری معاوضہ دے کر اپنے میڈیکل کلیئر کرواتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہسپتال کو ڈاکٹروں کی بجائے صفائی کرنے والی کمپنیوں کا عملہ چلا رہا ہے۔ شیر شاہ سوری کے دور میں بننے والی تاریخی شاہراہ جو دہلی دروازے تک جاتی تھی جو آج ترقی کے اس دور میں بھی ون وے نہ ہو سکی جس پر دیپالپور سے پاک پتن اور عارف والا تک ہر سال سینکڑوں انسانی جانیں روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ مشرف کے دور حکومت میں 2 ارب کی لاگت سے دریائے ستلج پر منچن آباد پل تو بن گیا مگر پاک پتن کا معاشی حب 8 کلومیٹر چن پیر منچن آباد روڈ آج تک نہیں بن سکا۔حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر ہر سال دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کے رش اور سکیورٹی ایشوز کی وجہ سے پاک پتن کے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں ۔جس کے لیے اوورہیڈبرج، انڈرپاسز اور مزید جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس پر آج تک کسی حکومت کو توجہ دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ٹاون ہال تا کلمہ چوک تک روڈ کی توسیع کا بار بار سروے تو کیا گیا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا نتیجہ صفر ہے۔ ویسے بھی یہ شہر پچھلے کئی سالوں سے سیاسی یتیمی کا شکار ہے جس سے کئی ایم این ایز منتخب ہوئے مگر ان میں سے کسی نے بھی اس شہر کی ترقی و خوشحالی کے بارے میں نہیں سوچا یا پھر شاید جان بوجھ کر اسے پسماندہ رکھا گیا تا کہ کئی دہائیوں سے قائم جاگیرداری نظام کا تسلط متاثر نہ ہو۔ کیا اس بدنصیب علاقے کے لئے حکومتوں کی طرف سے سولنگ نالی کا ملنا ہی رہ گیا ہے کوئی بڑا پروجیکٹ کیوں نہیں۔ سرسبز و شاداب زرعی علاقے میں ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کیوں نہیں۔ مین قومی شاہراہ سے دور ہونے کی وجہ سے قدیم ترین مگر پسماندہ علاقے کو انڈسٹریل اسٹیٹ کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔ ٹیکنیکل انڈسٹریل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ ادارے کیوں نہیں۔ پاکپتن انٹرنیشنل سٹی کا درجہ رکھت
ا ہے اس کے ساتھ سوتیلوں جیسا حکومتی سلوک کیوں ہے۔کپتان جی ذرا سوچئے۔
اے شہنشاہ وقت ایک نظر ادھر بھی دیکھ
ہمیں تو مار گئے ہیں تیرے یہ سخت فرماں
ہر رات کے ماتھے پہ سجا صبح کا جھومر
میری راتیں شاہد کالی صبح بھی ہے ویراں ”
رپورٹ کے شائع ہونے کے چند دنوں کے بعد میرے ایک مہربان حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آپ کی رپورٹ پر غور کیا جا رہا ہے انشااللہ جلد ہی اعلانات اور اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی پنجاب نے یونورسٹی کے قیام کا اعلان کیا اور پاکپتن میں محنتی اور تجربہ کار ضلعی افسران ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم،اسسٹنٹ کمشنر شرجیل شاہد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ماہم آصف ملک،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملک مشتاق احمد ٹوانہ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ملک جمیل ظفر اور رانا اشفاق احمد ڈی ایس پی تعینات کیئے۔ جب ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم نے پاکپتن ضلع کا چارج سنبھالا تو اس وقت انہیں مختلف اور کئی چیلنجز کا سامنا تھا جن میں رمضان بازاروں کا انعقاد، گندم خریداری کے مراکز،آٹے اور چینی کی فراہمی کوحکومتی مقرر کردہ نرخوں پر ضلع بھر میں یقینی بنانا اور کرونا ایس پی پیز پر عملدرآمد کروانا وغیرہ شامل تھے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم اور ان کی ٹیم نے حکومتی ہدایات کے مطابق عوامی ریلیف کے پیش نظر ضلع بھر میں 4 رمضان بازار لگائے گئے ہیں۔جہاں پر اشیائے خوردونوش مارکیٹ سے کم قیمت پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ دس کلو گرام آٹے کا تھیلا 375 روپے،چینی 65 روپے کلو گرام اور مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے ایگری کلچرل فیئر پرائس
شاپس کی 13 آئٹمز پر سبسڈی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سستے اور اعلی کوالٹی کے پھل اور سبزیاں عام مارکیٹ کے حساب سے 15سے 20 روپے کم میں دستیاب ہیں۔ اسی طرح گھی،دالیں، مشروبات اور کریانہ آئٹمز کے علاوہ گوشت اور انڈے بھی ارزاں نرخوں پر رمضان بازاروں میں دستیاب ہیں۔ ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ماہم آصف ملک، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملک مشتاق احمد ٹوانہ اور اسسٹنٹ کمشنر شرجیل شاہد خصوصی طور پر مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ رمضان بازاروں میں محکمہ صحت کی جانب سے میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جہاں لوگوں کے لئے ابتدائی طبی امداد اور ادویات کے لیے ہیلتھ عملہ اور ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔کورونا ایس او پیز پر بھی سختی سیعمل درآمد کروایا جا رہا ہے اور قطار سسٹم میں باہمی فاصلے کا بھی خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔ پولیس کے جوان بہترین انداز میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ گندم کے حکومتی ٹارگٹ 77288 میٹرک ٹن کو پورا کرنے کیلئے 8 گندم خریداری مراکز قائم کیے جن پر خریداری زوروں شوروں سے جاری ہے۔ انٹر نیشنل سٹی کا درجہ رکھنے والے پاکپتن کے مسائل پر حکومتی توجہ مرکوز ہو چکی ہے امید ہے کہ اس کے ترقیاتی پیکج کا اعلان اور اس پر عمل درآمد بہت جلد شروع ہو جائے گا انشااللہ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: