حکومتی مبارکبادیں اور عوامی حالات

0 2

حکومت مٹھائیاں بانٹ رہی ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے لیکن یہ نہیں بتا رہی کہ یہ اضافہ برآمدات بڑھانے سے نہیں بلکہ درآمدات میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔اسے یوں سمجھ لیجیے کہ تین ٹائم کا کھانا چھوڑ کر دو ٹائم کر لیا جائے اور مہینے کے آخر میں دعوی کردیا جائے کہ ہمارے پاس پانچ کلو آٹا بچ گیا ہے۔

آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ بہترین حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ یہ خوشی کا مقام ہے یا غم کا۔ کراچی کے تاجر لاہور میں ایک دعوت میں میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا کام کیسا چل رہا ہے۔ یہ پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ پھٹ پڑے۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ویتنام سے مال منگواتے تھے۔ اب مال منگوانا بند کر دیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ درآمدی ٹیکس زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ نے تجارت بند کر دی ہے۔ کہنے لگے کہ ٹیکس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

اصل مسئلہ روپے کی قدر میں کمی ہے۔ ڈالر میں مال منگوانا پڑتا ہے۔ اتنا مہنگا مال منگوائینگے تو بیچیں گے کہاں پر۔ حکومت نے کاروبار کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ اب نہ مال آئیگا نہ لوگ خریدیں گے۔ حکومت کے مطابق یہ بچت ہے۔ اب انھیں کون بتائے کہ یہ بچت نہیں نقصان ہے۔ اس طرح ترقی نہیں ہو سکتی۔ ترقی خرچ کرنے سے ہوتی ہے۔ ایک فیکٹری کا حال ملاحظہ کیجیے۔فیکٹری چوبیس گھنٹے چلتی تھی۔اس سے پانچ سو خاندانوں کا روزگار جڑا تھا اور حکومت کو ٹیکس بھی ملتا تھا۔
حکومتی پالیسی سے تنگ آکر مالک نے فیکٹری بند کر دی اور وہ جگہ کرائے پر دے دی۔ مالک کو ماہانہ پچاس لاکھ روپے کرایہ آتا ہے۔ لیکن پانچ سو خاندان بے روزگار ہو گیا۔ اب مالک یہ دعوی کرے کہ میرے پاس ماہانہ پچاس لاکھ بچ رہا ہے یہ کامیابی ہے تو یہ مضحکہ خیز ہو گا کیونکہ جو پانچ سو خاندان بے روزگار ہو گیا ہے اس نقصان کو تو کوئی دیکھ ہی نہیں رہا۔ پاکستان میں بھی اس وقت یہی ہو رہا ہے۔

سونے کی قیمتیں بڑھنے پر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ جن سنیاروں کے پاس سونا پڑا تھا وہ راتوں رات امیر ہو گئے ہیں اب انھیں کون سمجھائے کہ پڑے ہوئے مال کی قیمت بڑھ جائے تو وہ منافع نہیں ہوتا۔ منافع وہ ہوتا ہے جو معمول کی خریدوفروخت کے تحت حاصل ہوتا ہے۔جس سنار کے ماہانہ پچاس سیٹ بکتے ہوں اور اب وہ کم ہو کر پندرہ رہ جائیں تو منافع کیسے ہو سکتا ہے۔

عام آدمی کی قوت خرید اس قدرکم ہو گئی ہے کہ صاحب حیثیت لوگ اپنے آپ کو سابقہ صاحب حیثیت کہنے لگے ہیں۔ حکمرانوں کو کون بتائے کہ جس کے پاس ایک لاکھ روپے تھے وہ بیٹھے بٹھائے ساٹھ ہزار کے برابر ہو گئے ہیں۔انھیں کون بتائے کہ صغرٰی بی بی نے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے جو دو لاکھ روپے جوڑے تھے ان کی قدر ایک لاکھ بیس ہزار روپے رہ گئی ہے۔ اکرم صاحب نے بیٹے کی تعلیم کے لیے جو پانچ لاکھ روپے سنبھال رکھے تھے وہ اب تین لاکھ کے برابر ہو گئے ہیں۔

کاروبار شروع کرنے کے لیے حبیب صاحب نے دس سال کی نوکری سے جو بیس لاکھ روپے جوڑے تھے وہ بارہ لاکھ کے برابر ہو چکے ہیں۔ دس مرلے کے گھر کے لیے جو سوا کروڑ روپے جوڑ رکھے تھے اس میں اب پانچ مرلے کا گھر بھی مشکل سے ملتا ہے۔ 1800 سی سی گاڑی خریدنے کے لیے جو چھبیس لاکھ روپے جوڑے تھے ان میں اب 1300 سی سی گاڑی بھی نہیں آتی۔ ایک اینکرنے مجھے بتایا کہ انھوں نے لندن کے کالج میں اپنے بیٹے کا داخلہ کروایا تھا ڈالر بڑھنے سے میرا بجٹ آؤٹ ہو گیا ہے اس لیے بیٹے کو باہر جانے سے روک دیا ہے۔

ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ پہلے گوشت مقامی بازار سے منگوا لیتا تھا لیکن اب اتنی مہنگائی ہو گئی ہے کہ تین چار خاندان مل کر منڈی جاتے ہیں۔ ایک بکرا خریدتے ہیں اور قصائی سے حصے کروا لیتے ہیں۔ اس طرح گوشت ان قیمتوں میں پڑ جاتا ہے جو مہنگائی ہونے سے پہلے مقامی بازار سے پڑتا تھا۔ جس شخص کے گھر کا کل خرچ پچاس ہزار روپے تھا وہ اب بڑھ کر اسی ہزار روپے ہو چکا ہے جب کہ آمدن میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آنا ہندسوں کا گورکھ دھندا ہے اور کچھ نہیں ہے۔

عام آدمی اتنا بے بس ہے کہ ڈالر کو بڑھتا ہوا دیکھ سکتا ہے روک نہیں سکتا۔ روکنا تو دور کی بات وہ حکومت سے پوچھ نہیں سکتا کہ کیوں بڑھ رہا ہے۔ اب تو حکومت کے بقول کرنٹ اکاونٹ خسارہ ختم ہو گیا ہے لیکن ڈالر ابھی بھی نیچے آنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ اوپر ہی جا رہاہے۔ اب کوئی سرکار سے پوچھے کہ نہ تو قرض کی کوئی قسط ادا کرنی ہے، بقول سرکار نہ ڈالر اسمگل ہو رہا ہے اور نہ ہی ملک میں ڈالروں کی کمی ہے پھر بھی ڈالر بڑھ رہا ہے۔

اب عام آدمی کو یہ کون بتائے کہ ڈالر کی قیمت اس لیے بڑھا رہے ہیں کہ مافیاز کے اثاثے ڈالرز میں ہیں۔ وہ اپنے اثاثوں کو سو گنا بڑھا چکے ہیں اور مزید بڑھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔حکمرانوں سے گزارش ہے کہ پورا سچ عوام کے سامنے رکھیں۔حکومت اس بات پر بھی قوم کو مبارکبادیں دے رہی ہے کہ جولائی کے مہینے میں ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

ایک ماہ میں 2.768 بلین ڈالرز کی ترسیلات موصول ہوئی ہیں۔ جو کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مان لیا کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن حکمران عوام کو یہ بھی تو بتائیں کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ حاصل ہوا۔ کیا مہنگائی کم ہوئی۔ کیا آٹا سستا ہوا۔ کیا چینی سستی ہوئی۔ عام آدمی کو ان اعدادوشمار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا مسئلہ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت ہے۔ وہ تو ان بنیادی ضرورتوں سے ہی نہیں نکل پا رہا۔حکومت کے اعدادوشمار کیا خاک سمجھے گا۔

عام آدمی کو جو حساب کتاب سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے کہ خمیری روٹی پندرہ روپے کی مل رہی ہے، چینی ایک سو دس کی مل رہی ہے۔ آٹانوے روپے میں مل رہا ہے۔ بچوں کے اسکول کی فیس پچاس گنا بڑھ گئی ہے۔ بجلی کا بل ہر ماہ دس گنا بڑھ رہا ہے۔ دوائیوں کی قیمتیں ہر دس دن بعد بڑھ رہی ہیں اور گروسری کے سامان کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں۔

ایک بڑی سپر اسٹور چین کے عہدیدار نے بتایا کہ اشیا پر قیمتوں کے ٹیگ لگانے بند کر دیے ہیں وجہ پوچھی تو بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ رہی ہیں اب روزانہ ٹیگ لگائیں یا سامان بیچیں۔حکمرانوں سے گزارش ہے کہ ان حالات میں عام آدمی کو مبارکباد دیکر اس کے زخموں پر نمک پاشی نہ کریں۔ ایسے اقدامات کرے کہ عام آدمی کی بنیادی ضرورتیں احسن انداز میںپوری ہو سکیں اور اس کی زندگی آسان ہو سکے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: