Muhammad Akram Amir Today's Columns

چوہدری نثار کا حلف، سیاست میں ہلچل از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

پاکستانی سیاست بڑی بے رحم بھی ہے اور سیاستدانوں کیلئے سود مند بھی، ملکی سیاست کے کھلاڑی دنوں میں امیر ہوتے دیکھے گئے ہیں، ہمارے ملک کی سیاست میں اکثریت سیاستدانوں پر طرح طرح کے کرپشن کے الزامات ہیں، اور ہر حکومت کے دور میں احتساب کا نعرہ لگتا رہا مگر کسی دور حکومت میں بھی کرپٹ عناصر کا احتساب نہ ہو سکا، اب موجودہ حکومت بھی کرپٹ اور بد عنوان سیاستدانوں کا احتساب کا نعرہ لگا کر برسر اقتدر آئی ہے، اور سیاستدانوں اور ملک کی قومی دولت کو لوٹنے والوں کے احتساب میں لگی ہوئی ہے، کرپشن زدگان کے بڑے بڑے نام سامنے آ چکے ہیں، یہاں خاص بات یہ ہے کہ 1980ء سے سیاست کے بڑے نام چوہدری نثار پر کسی دور میں کرپشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا، تا ہم ان پر اختیارات سے تجاوز اور دوران وزارت سستی کاہلی کے الزامات لگتے رہے، اسی چوہدری نثار نے 2 سال 10 ماہ بعد ایم پی اے کے عہدے کا حلف اٹھایا ہے، اس کے پس پردہ کیا حقائق ہیں یہ آئندہ چند روز میں سامنے آ جائیں گے، موصوف نے 2018 کے انتخابات میں ایم این اے اور ایم پی اے دو نشستوں پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا 25 جولائی 2018کو ہونے والی پولنگ کے نتیجہ میں چوہدری نثار ایم این اے کی نشست چوہدری غلام سرور سے ہار گئے تھے لیکن پی پی 10 راولپنڈی سے ایم پی اے کی نشست جیت کر ایم پی اے منتخب ہو گئے تھے، چوہدری نثار کا شمار ملک کے بڑے سیاست دانوں میں ہوتا ہے، لیکن قومی اسمبلی کی نشست پر انہیں 2018 میں شکست دینے والے ان کے مخالف چوہدری غلام سرور کو پی ٹی آئی کی حکومت بننے پر وزارت پٹرولیم کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا، یہ عہدہ ماضی میں چوہدری نثار کے پاس کئی حکومتوں کے دور میں رہا، جس پر چوہدری نثار سیاست سے دلبرداشتہ ہو گئے اور موصوف نے اتنے عرصہ تک سیاست میں خاموشی اختیار کئے رکھی اور ایم پی اے کی نشست پر حلف نہ اٹھایا، چوہدری نثار کا شمار 2018کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ ن کے اہم راہنماؤں میں ہوتا تھا، موصوف کا 1985 کے بعد ہر سیاسی دور میں سیاست میں نمایاں کردار رہا ،وہ مسلسل 2013 تک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے، موصوف 2008سے 2013تک قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے، وہ1988میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رہے،وہ میاں نواز شریف کے دونوں ادوار حکومت میں وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے عہدے پر فائز رہے، مسلم لیگ ن کے تیسرے دور حکومت جس میں میاں نواز شریف کے سبکدوش ہونے پر خاقان عباسی وزیراعظم بنے تھے میں چوہدری نثار وفاقی وزیر داخلہ تھے، چوہدری نثار 1980میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل راولپنڈی بنے تو میاں نواز شریف سے ان کی قربت ہوگئی، چوہدری نثار 1985میں قومی اسمبلی کے حلقہ 52سے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے،پھر 1988میں اسی حلقہ اور اسی جماعت سے دوبارہ ایم این اے منتخب ہوئے،چوہدری نثار 1990میں دوبارہ جیتے اور وفاقی وزیر بنے، 1993کے انتخاب میں چوہدری نثار چوتھی بار رکن قومی اسمبلی بنے،1997 میں پانچویں بار جیت کر چوہدری نثار علی خان وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل تھے کہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا، اور دیگر لیگی قائدین کی طرح اس دوران چوہدری نثار بھی کئی ہفتے تک پابند سلاسل رہے، اس وقت تک چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ میں میاں نواز شریف کے بعد سب سے طاقتور شخصیت تصور ہوتے تھے، چوہدری نثار علی خان ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے مشکل وقت میں بھی مسلم لیگ ن کو زندہ رکھا،2002کے الیکشن میں چوہدری نثار قومی اسمبلی کے حلقہ 52اور53دونوں سے کامیاب ہوئے،مگر این اے 52کی نشست چھوڈ دی،2008میں ساتویں بارایم این اے بن کر وفاقی وزیر خوراک، زراعت، لائیوسٹاک، اور مواصلات کے وزیر کے عہدے پر براجمان رہے،ستمبر 2008میں چوہدری پرویز الٰہی کے استعفے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے، 2013 میں چوہدری نثار مسلم لیگ کے امیدواروں کا انتخاب کرنے والے پارلیمانی بورڈ کے اہم رکن تھے، 2013 میں ایم این منتخب ہوکر چوھدری نثار نے مسلسل آٹھویں بار ایم این اے بننے کا ملکی سیاسی تاریخ میں ریکارڈ قائم کیا، اس دوران چوہدری نثار مسلم ن میں اہم شخصیت تصور ہوتے تھے، زرائع کہتے ہیں کہ 2013کے انتخابات سے قبل چوہدری نثار علی خان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے لابنگ بھی کی، مگر نواز شریف نے چوہدری نثار کو ایم پی اے کا ٹکٹ نہ دیا،اس کے باوجود چوہدری نثار نے ایم پی اے کا بھی آزاد الیکشن لڑا اور وہ پارٹی ٹکٹ پر ایم این اے اور زاد حیثیت سے ایم پی اے منتخب ہوگئے۔ مگر چوہدری نثار کوشش کے باوجود وزیر اعلی پنجاب نہ بن سکے اور میاں نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کو ترجیح دی، اور چوہدری نثار علی خان کو وزیر داخلہ بنا دیا گیا، زرائع کہتے ہیں کہ وزارت اعلیٰ پنجاب نہ دینے پر نواز شریف اور چوہدری نثار میں اختلاف چل رہے تھے کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد نوازشریف نے استعفیٰ دے دیا،تو چوہدری نثار نے 27جولائی 2017کو وزارت داخلہ کے عملے سے الوداعی ملاقات کی اور اگلے دن وزارت داخلہ کا عہدہ چھوڈ دیا،اور موصوف شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کا حصہ نہ بنے،سیاسی زرائع کہتے ہیں کہ چوہدری نثار پر الزام لگایا گیا کہ غداری کے مقدمہ کے ملزم پرویز مشرف کو موصوف (چوہدری نثار علی خان) نے محفوظ راستہ دیا ہے،2018کے الیکشن سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چوہدری نثار علی خان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی ،لیکن چوہدری نثار علی خان نہ مانے، جبکہ اس دوران مسلم لیگ کے میاں برادران سے بھی انکی دوریاں بڑھ چکی تھیں، اور جون 2018میں چوہدری نثار نے مسلم لیگ ن کو باضابطہ الوداع کہہ دیا۔
سو بات کہاں سے کہاں نقل گئی بات ہورہی تھی 2018کے الیکشن میں چوہدری نثار علی خان کے ایم پی اے کی نشست جیت کر حلف نہ اٹھانے اور دوسال دس ماہ تک سیاست میں مسلسل خاموش کے بعد چوہدری نثار کے حلف اٹھانے کی،توتوجہ طلب بات یہ ہے کہ چوہدری نثار نے اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد حکومتی نشست پر کھڑا ہوکرحلف اٹھایا ہے، لیکن چوہدری نثار نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا ابھی اعلان نہیں کیا،چونکہ موصوف نے حکومتی نشست پر کھڑے ہوکر حلف اٹھایا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ حکومتی جماعت میں ہی شامل ہوں گے؟ لیکن کیاوہ عمران خان کی قیادت کو تسلیم کریں گے؟ یا پھرجہانگیر ترین کے گروپ میں شامل ہوں گے۔ یہ عندیہ آئندہ دو تین روز میں کھل جائے گا،لیکن یہ بات ببانگ دھل کہی جاسکتی ہے کہ چوہدری نثار علی خان کا پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانا کسی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) کے طویل عرصہ تک پردھان رہے ہیں اور نواز شریف پر جب کڑا وقت تھا تو چوہدری نثار نے انہیں تحمل سے سیاست کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان آئندہ چند روز میں اپنی سیاسی گہما گہمی شروع کریں گے اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی قیادت سے ان کی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ چوہدری نثار علی خان سیاست میں کیا نیا رنگ دکھاتے ہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن سیاسی حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان کا ایم پی اے کی نشست پر حلف اٹھانا بہت سی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: