یہ اللہ کا فضل ہے

0 2

پاکستان میں کورونا واقعی کم ہو گیا ہے یا حکومت غلط اعدادو شمار پیش کر رہی ہے۔ اگر واقعی کورونا بے اثر ہو گیا ہے تو اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو آجکل ہر محفل میں پوچھے جانے لگے ہیں۔لیکن سائنسی بنیادوں پر اس کا تسلی بخش جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اگر برسات کے موسم کو اس کا ذمہ دار ٹھرایا جائے تو ہندوستان اورپاکستان کا موسم ایک جیسا ہے۔ وہاں بھی برسات کا موسم ہے اور یہاں بھی۔ اگر طبی سہولتوں کو اس کی وجہ قرار دیا جائے تو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ سہولتیں پاکستان سے بہتر مہیا کی جا رہی ہیں۔ اگر عوامی سطح پر شعور پیداہونے کی بات کی جائے تو شاید اس معاملے میں پاکستانیوں سے زیادہ بے شعور ملک کوئی نہیں ہو گا۔ سخت ترین لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی عوام کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے دکھائی دیے۔ عوامی رویوں کے حوالے سے آپ بیتی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

کورونا کے حوالے سے اکثر پڑھے لکھے اور ان پڑھ پاکستانیوں کا رویہ تقریباً ایک جیسا تھا۔ دونوں نے کورونا کو سنجیدہ نہیں لیا۔ ایک دن میں نے پھل فروش سے پھل خریدا تو تقریباً آٹھ فٹ کی دوری سے اسے بتایا کہ فلاں پھل دے دو۔ وہ جب پیسے لینے میرے قریب آیا تو میں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا اور پیسوں والا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اسے یقینا یہ طریقہ ناگوار گزرا۔ کہنے لگا ”باؤ جی تسی کورونا دی وجہ تو میرے تو منہ موڑیا“۔ میں نے جواب دیا، ظاہری گل اے۔ احتیاط ضروری اے۔ اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا اور باآواز بلند گلہ کہا کہ ”تسی وی عمران خان دیاں گلاں وچ آ گئے او“۔ میں گاڑی میں

بیٹھ گیا اوریہی سوچتا رہا کہ یہ شخص ان پڑھ ہے۔اسے معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہے۔ اگر یہ پڑھا لکھا ہوتا تو شاید ایسی سوچ نہ رکھتا۔ لیکن میرا یہ خیال چند دنوں میں ہی تبدیل ہو گیا۔ عید الفطر کے دنوں میں کورونا عروج پر تھا۔ ایک اعلی تعلیم یافتہ بزرگ عزیز نے عید کی دعوت کا اہتمام کر لیا۔ میں نے کہا کورونا نے پورے ملک میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور آپ دعوت رکھ رہے ہیں۔ ابھی رک جائیں جب حالات قابو میں آ جائیں تو دعوت رکھ لیجیے گا۔ انھوں نے کہا کہ آپ آ جائیں کچھ نہیں ہوتا۔ ہم ایس او پیز پر عمل کریں گے۔ ایموشنل بلیک میلنگ اوربے پناہ اصرار پر میں جانے کے لیے راضی ہو گیا۔ خود ڈبل ماسک پہنا،بیگم، تین سال کی بیٹی کو بھی ماسک پہنایا۔ لیکن جب ہم دعوت والے گھر میں داخل ہوئے تو میزبان اور مہمانوں دونوں نے نہ تو ماسک پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی سوشل ڈسٹنسگ کا خیال رکھا گیا تھا۔ تقریباً ستر لوگوں کی دعوت میں ایک شخص بھی احتیاط نہیں کر رہا تھا۔ میں نے جب احتیاط کرنے کی ہدایت کی تو وہی جواب سننے کو ملا کہ کوئی کورونا نہیں ہے۔ حکومت ڈرامے کر رہی ہے۔سب ڈالرز کی گیم ہے۔ تمام اعدادوشمار جھوٹے ہیں۔ مجھے اس وقت وہ پھل فروش یاد آ گیا۔ میں نے بھری محفل میں اس کا قصہ بیان کیا اور بتایا کہ میں غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا تھا کہ شاید ان پڑھ ہونے کی وجہ سے پھل فروش وبا کی اہمیت کو سمجھ نہیں پایا لیکن میں غلط تھا۔ یہاں تو پڑھے لکھے اور کامیاب کاروباری لوگوں کا بھی وہی حال ہے۔ آپ میں اور پھل فروش کی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میری باتیں میزبان کو ناگوار گزریں لیکن میرا ماننا ہے حق سچ بات کرنے میں کوئی شرم نہیں رکھنی چائیے۔ ممکن ہے کہ وقتی طور پر یہ باتیں بری لگیں لیکن ان کافائدہ ضرور ہو گا۔

خیر میں اب کورونا کم ہونے کی وجوہات کی طرف واپس آتا ہوں۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد پاکستانیوں میں کورونا کے خلاف ایمیونٹی پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ کیسے پیدا ہو گئی۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر پاکستان کو ہٹ کر سکتی ہے لیکن مجھے اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ بڑی عید اور محرم کے دنوں میں کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ بچوں کے سکول کھول دیے گئے ہیں۔ مسجدوں میں سوشل ڈسٹنسگ بالکل نہیں ہو رہی۔ مارکیٹوں میں رش برقرار ہے۔ ماسک بکنا بند ہو گئے ہیں۔ عوام سینی ٹائزر کو بھولنے لگے ہیں۔ گھر آ کر خود کو جراثیم سے پاک کرنے کی مشق بھی ختم ہو گئی ہے۔ ان تمام بے احتیاطی کے باوجود بھی کوروناکیسز میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اگر دوسری لہر آنا ہوتی تو اب تک آ چکی ہوتی۔دنیا کہہ رہی ہے کہ کوررونا پر قابو پانے کے حوالے سے پاکستان کی پیروی کریں۔ لیکن کوئی ہمیں یہ بھی تو بتائے کہ کس چیز کی پیروی کریں۔ بے احتیاطی اور لاپرواہی کے علاوہ مجھے بظاہر کوئی ایسی چیز دکھائی نہیں دے رہی جسے ہم نے مستقل مزاجی سے فالو کیا ہو۔ کہا جا رہا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی پیروی کریں۔ دنیا سمارٹ لاک ڈاؤن کر رہی ہے لیکن کوررونا بڑھ رہا ہے۔ تمام تر تحقیق کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں کورونا کا کم ہونا اللہ کے فضل سے ہی ممکن ہوا ہے۔ جب لاجک اور اصول بے معنی ہو جائیں اور انسانی عقل کی حدیں ختم ہو جائیں تویقینا انسان کے پاس قدرت پر یقین رکھنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: