بڑے مسائل کے چھوٹے حل

یاد رکھیے کہ بڑے مسائل کے حل ہمیشہ چھوٹے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے مسائل جو آپ کی ذات اور نفسیات سے متعلق ہوں۔ زندگی کے سنہرے اصول بہت سادہ ہیں۔ ان پر عمل کرنا آسان ہے اور نتائج کی گارنٹی سو فیصد ہے۔ لیکن ہمیں یہ پسند نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی بہت بڑا فلاسفر، دانشور اور ڈاکٹر مہنگی فیس لے کر، ایک مہینے کا وقت دے کر اور فائیو سٹار آفس میں بیٹھ کر کئی گھنٹوں سے سیشنز کر کے ہمارے مسائل کے مہنگے حل نہیں بتائے گا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ مجھے یہاں اشفاق احمد صاحب کی کتاب زاویہ سے ایک واقع یاد آ گیا۔

اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں ایک دن گھر میں داخل ہوا تو بانو قدسیہ اور میرا بڑا بیٹا ٹیرس پر بیٹھے تھے۔ بحث چل رہی تھی۔ میں نے بانو سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ اس نے بتایا کہ آپ کا بیٹا عجیب سوال پوچھ رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے محبت کا مطلب بتائیں۔ اشفاق صاحب نے کہا تو بتا دو۔ بانو قدسیہ نے جواب دیا کہ کئی مرتبہ بتایا ہے لیکن وہ

کہہ رہا ہے کہ یہ محبت کی تعریف نہیں ہے۔ اشفاق صاحب نے پوچھا کہ تم نے اسے کیا مطلب بتایا ہے۔ بانو نے جواب دیا کہ میں نے اسے کہا ہے کہ جب کسی انسان کو دوسرے انسان سے پیار ہو جائے تو اسے محبت کہتے ہیں۔ اشفاق صاحب نے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمھاری ماں صحیح تو کہہ رہی ہے۔ بیٹے نے کہا کہ یہ تو محبت کی وضاحت ہے اس کا مطلب نہیں۔ اس کی تعریف نہیں۔ جیسے مادہ کی ایک Definitionہوتی ہے کہ ہر وہ چیز جو وزن رکھتی ہے اور جگہ گھیرتی ہے مادہ کہلاتی ہے۔اسی طرح محبت کی بھی ایک تعریف ہو گی۔ مجھے وہ بتائیں۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ میں پریشان ہو گیا۔ اسے کئی طرح سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ مان نہیں رہا تھا۔ ہر تعریف میں سے کوئی نقص نکال دیتا تھا۔ ہم نے دنیا کے بڑے بڑے رائٹرز اور دانشوروں کی بتائی گئی محبت کی تعریف اس کے سامنے رکھی لیکن وہ ہر مرتبہ ہمیں شے مات دے جاتا۔ آخر تنگ آکر اس نے ہمیں کہا کہ آپ کہاں کے دانشور ہیں۔ دنیا آپ کو فلاسفر اور اہل علم کہتی

ہے لیکن آپ تو میرے ایک سوال کا جواب نہیں دے پا رہے۔اس کی یہ بات میرے دل پر لگی۔ میری سینے پر ایسا تھا کہ جیسے کوئی منوں بوجھ ڈال گیا ہو۔ بہت سوچا سمجھا لیکن تمام کوششیں بے سود رہیں۔ تھک ہار کر میں نے گاڑی نکالی، بانو اور بیٹے کو ساتھ بٹھایا اور دھرم پورہ لاہور کے پاس بابا جی نور والے کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔ میں جب بھی علم و عقل کے مسائل سے دو چار ہوتا تو بابا جی کے پاس آ کر بیٹھ جاتا تھا۔ میں نے کبھی ان سے تعویذ نہیں مانگا، کبھی دم درود نہیں کروایا اور نہ ہی وظائف کی تمنا کی تھی۔ وہ بظاہر میرے بڑے مسائل کا چھوٹا سا حل پیش کر دیتے تھے اور میری زندگی آسان ہو جاتی تھی۔ اس دن جب میں ڈیرے پر پہنچا تو کہا کہ جی میرے سینے پر بڑابوجھ ہے۔ میں خود کو بڑا دانشور سمجھتا ہوں۔ لوگ اپنے مسائل میرے پاس لے کر آتے ہیں اور میں انھیں مشکلات میں سے نکلنے میں مدد بھی کر دیتا ہوں لیکن آج میرے بیٹے نے ایک سوال پوچھ کر مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ وہ میرے کسی بھی جواب سے مطمئن نہیں ہے۔ بابا جی نے کہا کہ بیٹے کو اندر بلاؤ۔ بابا جی نے استفسار کیا کہ کس سوال کا جواب چاہیے۔ بیٹے نے کہا کہ مجھے محبت کی Definition بتائیں۔ بابا جی نے جب کوئی اہم بات کہنی ہوتی تھی تو باآواز بلند کہتے تھے۔ نوٹ۔ ویسے تو وہ کسی سکول کالج کے پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ ساری عمر کچے گھر میں گزاری۔ کپڑوں کے دو جوڑے رکھے ہوئے تھے۔ ایک دھو کر دوسرا پہن لیتے تھے۔ ایک بکری تھی جس کا دودھ پیتے تھے اور مرغی وغیرہ رکھی ہوئی تھی۔ نا جانے انہوں نے انگریزی کا یہ لفظ کہاں سے سیکھا تھا۔ خیر انھوں نے ’’نوٹ‘‘کی آواز بلند کی اور فرمایا۔’’جب کسی انسان کی برائیاں اچھائیاں لگنے لگیں تو اسے محبت کہتے ہیں‘‘اس کی مثال بھی نوٹ فرما لو۔ ماں کو بیٹے کی برائیاں بھی اچھائیاں لگتی ہیں کیونکہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔لہذا جب تمھیں یہ محسوس ہو کہ کسی کی برائیاں بھی اچھائیاں لگنے لگی ہیں تو سمجھ جاؤ کہ تمھیں محبت ہو گئی ہے۔ میرے بیٹے نے کہا یہ ہوئی نا بات۔ یہ ہے اصل definition. جیسے ہی بابا جی نے بات مکمل کی مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے سینے سے منوں ٹنوں وزن اتر گیا ہے۔ لیکن میں سوچنے لگا کہ میرے حاشیہ خیال میں یہ تعریف کیوں نہیں آئی۔ میں دنیا گھوما ہوا ہوں۔ روم میں پروفیسر رہا ہوں۔ وہاں جج بھی میری تعظیم میں کھڑا ہو جاتا تھا۔ پیرس، فرانس امریکہ ہر جگہ گیا ہوں۔ دنیا دیکھی ہے۔ مشاہدہ کیا ہے۔ اس وقت ایم اے پاس کیا تھا جب کوئی میٹرک بھی نہیں کر تا تھا۔ دنیا بھر کی کتابیں پڑھ چھوڑیں۔ زندگی، رشتوں اور احساس کے بارے میں اتنا لکھا کہ کوئی حساب نہیں رہا۔ صف اوّل کے ریڈیو، ٹی وی، اخبار اور رسالوں میں میرے افکار کی تعریف ہوتی ہے۔ وزیراعظم بھی میرا معترف ہے لیکن میری یہ پروفائل بابا جی نور والے کے سامنے بے معنی ہو کر رہ گئی۔ میں نے بابا جی سے پوچھا کہ آپ نے مسائل کے حل کہاں سے سیکھیں ہیں۔ کون بتاتا ہے آپ کو یہ سب باتیں۔ آپ کو تو پڑھنا بھی ٹھیک سے نہیں آتا ورنہ میں گمان کرتا کہ شاید کتابیں پڑھ کر یہ علم حاصل کیا ہے۔ آپ بتائیں آپ اتنی آسانی سے ہم اہل علم و قلم لوگوں کو کیسے پچھاڑ دیتے ہیں۔ بابا جی نے کہا کہ تم میں اور مجھ میں فرق ہے۔ تم زندگی کو جس رخ سے دیکھتے ہو وہ بنیاد سے دور ہے۔ انسان کے بیشتر مسائل اس کے اپنے پیدا کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کے پاس وسائل ہوتے ہیں اس لیے وہ ان کے استعمال سے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جتنے زیادہ وسائل اتنی ہی بڑی کوشش۔ تم یہ بتاؤ کہ جب انسان کے پاس وسائل نہیں تھے تو مشکلات کیسے حل ہو جاتی تھیں۔ میں خاموش رہا۔ بابا جی کہنے لگے کہ جو انسان مسائل پیدا کرتا ہے اس کا حل بھی اس کی گٹھری میں موجود ہوتا ہے۔ انسان کے کپڑوں پر لگی ہوئی گرہوں کے اندر ہی حل موجود ہوتا ہے۔ آپ نے بس وہ گروہ کھولنی ہے۔ لیکن یہ گروہ کھولنے کے لیے آپ کو باہر دیکھنے کی بجائے سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنا ہو گا۔ اپنی زندگی کو سمجھنا ہو گا۔ اپنے اباواجداد کے طریقوں کو دیکھنا ہوگا۔ اگر تم خود کو سمجھ گئے تو تمھارے مسائل پیدا ہوتے ہی ہوا میں تحلیل

Leave a Reply

%d bloggers like this: