Today's Columns

گھر کے تو خیر خواہ رہو از ڈاکٹر ایم ایچ بابر

یہ پاک دھرتی عظمتوں اور رفعتوں والی دھرتی ،جسے لاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر حاصل کیا گیا اس گھر کو بنانے میں لاکھوں پیر و جواں جسم بطور اینٹ پتھر صرف ہوئے لاکھوں لوگوں کا لہو اس گھر کو بنانے میں لگا لاکھوں بے ردا مائوں ،بہنوں بیٹیوں نے اپنی عصمتیں اور ردائیں قربان کر کے اس گھر پر اپنی عصمتوں کا سائبان بنایا ہزاروں کنبے ہندوستان سے چلے اس پاک دھرتی کو چومنے کی دل میں خواہش لئے دو سو تین سو افراد پر مشتمل خاندان جب چلا تو پاکستان تک پہنچتے پہنچتے کسی کے دس افراد بچے کسی کے بیس اور کسی کا پورا خاندان کٹ گیا صرف کوئی تن تنہا بچا مگر ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان کی سلامتی نہ ہو پاکستان نہ رہے وہ اتنی قربانیاں دینے کے بعد بھی اس وطن کی خیر خواہی چاہتے رہے پاکستان پہنچ کر اس کی مٹی پر سجدے کرتے رہے اس عظیم وطن کی خاک کو بوسے دیتے رہے کیونکہ ان کو وطن کی قدر و قیمت معلوم تھی وہ اس عظیم وطن کی اپنی جانوں اور عزتوں کی صورت میں قربانیاں دے کر یہاں پہنچے تھے اور میرا ایمان ہے کہ یہ وطن ہمیشہ قائم رہنے کے لئے معرض وجود میں آیا ہے۔کل کے گاندھی اور نہرو کے پٹھوئوں سے لیکر آج کے مودی کے بہی خواہوں تک کوئی کتنا بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا لے یہ وطن کبھی نہیں ٹوٹے گا بلکہ اسکو توڑنے کے خواب دیکھنے والے کل بھی مٹ گئے تھے اور ان شاء اللہ آئیندہ بھی ان کا نام و نشان صفحہ ہستی پر نہیں رہے گا ۔ میں ہر اس شخص کی دل سے قدر کرتا ہوں جو میرے وطن کی خیر خواہی چاہتا ہے اس پاک دھرتی سے محبت کرتا ہے اس عظیم تر دھرتی سے محبت کرتا ہے اسکی سلامتی اس کو ہر چیز سے عزیز ہے ایسے ہر بندے کا احترام میرا نصب العین ہے اور جو ناہنجار نا خلف اس دھرتی کا کھاتا ہے ،اس کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اسی کے دم سے ایوانوں کا حصہ بنتا ہے اور اسی کی بد خواہی کرے میرے نزدیک بد ترین شخص ہے ۔قارئین یاد کیجئے 2007 ء کا وہ واقعہ جب اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم اور ایک بڑی پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تھا تو اس وقت سندھی لوگ انتہائی غصے میں تھے خدشہ تھا کہ علیحدگی پسند بپھرے ہوئے تھے اس وقت ایک ایسے شخص نے اعلانیہ کہا تھا کہ پاکستان قائم رہے پاکستان سلامت رہے پاکستان کی یکجہتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اس شخص نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی نمائیندہ جماعت ہے ناکہ سندھ کی بعد میں پاکستان کی یکجہتی کا نعرہ لگانے والا وہی شخص وفاق کی سب سے بڑی کرسی پر صدر پاکستان کی حیثیت سے بیٹھا اس شخص کا نام آصف علی زرداری ہے جس نے اتنی بڑی لیڈر کے قتل کے بعد بھی پاکستان کی یکجہتی چاہی میرا زرداری سے لاکھ سیاسی اختلاف ہو مگر میں اس معاملے میں اس کی قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی یکجہتی پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔اس کے بعد ایک ایسا شخص جس کو تمام جماعتیں مل کر غدار منوانے پر تلی ہوئی ہیں مگر میں اس کو اس لئے غدار نہیں کہتا کہ اسنے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر ثابت کیا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں یہ تمام عہدے ،اختیارات ،نام و شہرت جو بھی ہے اسی ملک کے دم سے ہیں وہ شخصیت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ہے جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا مگر آج کچھ ناعاقبت اندیش یہ کہتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں کہ اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے پاکستان مشرقی پاکستان بن جائے گا یہ باتیں کرنے والا میرے ہی شہر کا رہنے والا تین مرتبہ کا ایم این اے مسلم لیگ (ن) کا مرکزی نائب صدر میاں جاوید لطیف کہہ رہا ہے تف ہے ایسی سوچ پر ۔میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میاں جاوید لطیف آپ کو ایک مرتبہ ایم پی اے اور تین مرتبہ ایم این اے بنانے والے پاکستان کے باشندے اور شیخوپورہ کے عوام ہی تھے پھر آپ مدت سے جن اسملیوں میں بیٹھ رہے ہو یہ پاکستان کی اسمبلیاں ہیں کوئی رائیونڈی یا جاتی امرائی اسمبلیاں نہیں ارے بابا یاد کرو جاتی امراء کا وہی ایوان ہے جہاں نریندر مودی جیسا دشمن پاکستان بھی بیٹھ کر جا چکا ہے آپ پاکستان کے بیٹے ہوکر پاکستان کی عوام سے ووٹ کی بھیک مانگ کر ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں آپ کی سوچ پاکستانی ہونی چاہئے آپ وفاق کے نمائندے ہیں آپ کی فکر و شعور میں پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی نظر آنی چاہئے تھی پھر کیا ہوا کہ آپ کی سوچ نواز شریفی اور فکر اچانک نریندر مودیائی ہوگئی ؟ اور یاد جس لیڈر اور اس کے خاندان کی محبت میں آپ نے پاکستان کی محبت کو بالائے طاق رکھ دیا وہ لیڈر پاکستان کے ساتھ کتنا مخلص تھا قارئین آیئے دیکھتے ہیں کہ جاوید لطیف کا لیڈر کیسا ہے تو جناب ن لیگ کے سربراہ تو وہ ہیں جو کبھی اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہوتے ہیں تو کبھی پاکستان کے ازلی دشمن اور بدترین مسلم مخالف نریندر مودی کو گھر بلا کر ضیافتوں کا اہتمام کرتے نظر آتے ہیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کی چھٹی تک ختم کر دیتے ہیں انکی بیٹی مریم نواز کی پسندیدہ سیاسی لیڈر حسینہ واجد ہیں یہ نام کی مسلم لیگ دراصل عوامی لیگ کی بی ٹیم لگتی ہے آج مجھے یقین ہوگیا ہے کہ آپکے قائدین سچ مچ گریٹر پنجاب کا خواب دیکھ رہے تھے اسی لئے ہندوستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے تبھی آپکے منہ سے یہ بات نکلی کہ اگر مریم کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے بالکل ٹھیک کہا آپ نے آپ کیسے پاکستان کھپے کہہ سکتے ہیں آپ کے منہ میں صرف نواز شریف کی نہیں بلکہ نریندر مودی کی زبان ح
رکت کرتی ہوئی محسوس ہورہی ہے آپکے لیڈران تو پاکستان مخالف تھے ہی آپ بھی ان کی اقتداء میں یہ بھول گئے کہ آپکو عزت پاکستان اور پاکستان کی عوام نے دی ہے باعث شرم ہے یہ بات کہ شیخوپورہ کا فرزند آج ایسے لگا کہ جیسے اس نے بی جے پی جوائن کر لی ہے افسوس صد افسوس ۔جاوید لطیف آج آپ سے بہت بلند قد نظر آرہا ہے مجھے آصف علی زرداری کا جس نے بینظیر کی شہادت کے باوجود ایسی بات منہ سے نہیں نکالی بلکہ پاکستان کی یکجہتی کو اولیت دی اور بہت چھوٹا کر لیا آپ نے خود کو پاکستانی عوام کی نظر میں اب اگر آپ میں ذرا سی بھی شرم باقی ہے تو جاکر جاتی امراء بیٹھو پاکستان کی قومی اسمبلی میں وہی بیٹھنے کا حق دار ہے جو پاکستان کی سلامتی و یکجہتی چاہتا ہے اور پاکستان کھپے کا نعرہ بڑی سے بڑی مشکل میں بھی لگاتا ہے ۔جس گھر نے تجھے نام دیا ،مقام دیا ،عزت دی ،مرتبہ دیا اس کے تو خیر خواہ رہو ورنہ چھوڑ دو اپنے قائدین کی طرح میری اس عظیم اور سدا قائم رہنے والی دھرتی کو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: