Today's Columns

دنیا کا امن پھر خطرے میں از مہر اشتیاق احمد

دنیا اس وقت جدید جنگ کے انتہائی خطرناک موڑ پر آ چکی ہے ۔ ان ممالک میں وہی ممالک خود کو بچا پائے گا ۔ جو اپنے ملک میں اتحاد اتفاق رکھے گا اور دشمن کے ہتھیاروں کا توڑ رکھے گا ۔ پوری دل دہلا دینے والی تحریر پڑھ کر اندازہ کیجئے کہ دنیا اس وقت کہاں کھڑی ہے ۔ دنیا کی بڑی طاقتوں میں اس وقت سائبر جنگ پورے عروج پر پہنچی ہوئی ہے ۔ ہر طاقتور ملک کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے حریف ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جائے یا اس کے خفیہ راز چرا لے گئے ہیں یا چرا کر اپنے دشمن کی حکمت عملی کا توڑ کرکے اس کے عزائم کو خاک میں ملادے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جو ہر وقت دنیا کی سپر پاور ہونے کے غرور اور تکبر میں مبتلا رہتا ہے ۔ اسے دفاعی لحاظ سے کہیں نہ کہیں غلطی رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اس کے مخالف ممالک کی یہ کوشش ہے کہ اقوام عالم کے امن سب سے بڑے دشمن امریکہ کی شر پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے راز چرا لیے جائیں ۔ کس قدر حیران کن بات ہے کہ امریکہ جو ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک اور ایک ناکام ریاست ثابت کرکے اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کر لے ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ امریکہ پاکستان کے لئے کھودے جانے والے اپنے گڑھے میں خود گر جائے ۔ دراصل امریکہ بھارت اسرایل نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لینے یا انہیں تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور وہ اپنی ناپاک سازش پر اس وقت عمل کرنا چاہتا ہے ۔ جب پاکستان کسی اندرونی بحران سے دوچار ہو کیونکہ امریکہ اور بیشتر مغربی ممالک کو کسی بھی طور پر اسلامی ملک کا ایٹمی طاقت ہونا قبول نہیں اور وہ شروع سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے منصوبے بناتے آرہے ہیں ۔ وہ پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اس پرعراق کی طرح براہ راست حملہ نہیں کر سکتے یا ایران کی طرح پابندیاں عائد نہیں کر سکتے ۔ تاہم وہ ہر صورت میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور ایٹمی میزائلوں کی تباہی چاہتے ہیں۔امریک دوسری جانب امریکہ بھارتی ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی کو جدیدترین بنانے کے لیے اس کی ہر طرح سے معاونت کر رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتا ہے ۔ جسے وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے ۔ چنانچہ اس مقصد کے تحت بھی وہ ہرصورت میں پاکستان کو۔پہلے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ کمزور اور اس کی ایٹمی طاقت سلب کرنا چاہتا ہے تاکہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو اور وہ یکسوئی سے چین کو ٹکر دینے کی تیاری کرے ۔ ایک طرف امریکہ دوسرے ممالک کے خلاف اپنی ایسی شر پسندانہ کارروائیوں میں مصروف رہتا ہے ۔ لیکن یہ بھی چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خلاف جوابی کارروائی بھی نہ کرے ۔ جب کوئی ایسا کرنے لگتا ہے تو وہ شور مچانے لگتا ہے ۔ امریکی ہتھیاروں کانظام خود خطرے میں ؟ تقریبا ہی چرا لیا گیا ہے ۔ اب خبر یہ سامنے آئی ہے کہ امریکی ہتھیاروں کا سسٹم بآسانی ہیک کیا جا سکتا ہے ۔ بلکہ بہت پہلے سے کیا جا چکا ہے اور تمام امریکی جدید ہتھیاروں کے فارمولے چورائے جا چکے ہیں ؟ امریکی دفاعی ملٹری محکمہجی اے او نے جب 2012 سے 2017 کے درمیان تقریبا تمام ہتھیاروں کا معائنہ کیا ۔ جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ ہتھیار سائبر حملوں کی زد میں ہیں۔ جی اے او کے مطابق ان میں جدید ترین ایف35 جیٹ کے علاوہ میزائل سسٹم بھی شامل ہیں ۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو پیش کی جانے والی 50 صفحات پر مشتمل رپورٹ ، جس کے بعد امریکہ کی پراسرار خاموشی ، لیکن چڑیا کھیت چگ چکی تھی۔ پینٹاگون کو اپنے ہتھیاروں کے سسٹم کی کمزوری کا ٹھیک طرح سے ادراک نہیں تھا ۔ پینٹاگون کی ہتھیاروں اور میزائل سسٹم کی حفاظت کے حوالے سے ناقص سکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ شمالی کوریا کے ہیکرز اور امریکہ و جنوبی کوریا کے جنگی منصوبیدنیا کے مختلف ممالک میں سائنر جنگ کس قدر شدت اختیار کر چکی ہے ؟ اس حوالے سے شمالی کوریا کی مثال پیش کی جا سکتی ہے ۔ جو کہنے کو تو بہت چھوٹا سا ملک ہے ۔ لیکن اس کے ہیکرز نے گزشتہ برس امریکہ اور جنوبی کوریا کے جنگی منصوبے چوری کر لیے تھے۔ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے جنوبی کوریا کی فوجی دستاویزات کی بڑی تعداد چوری کی تھی ۔ جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ، پاکستان ، ترکی ، سعودی عرب ، ایران ، افغانستان ، شام ، عراق ، لیبیا ، یمن ، چائنہ ، ہائی پروفائل قیادت یا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سیاسی رہنماں کو ، مذہبی رہنما کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ جس میں ان ممالک کے اب تک 1200 اور 50 بڑی شخصیات کو قتل کیا جا چکا ہے اور پانچ سو کو قتل کرنے کا پلان تھا ۔ جس میں ترکی ، پاکستان ، سعودی عرب اور ایران کی شخصیت شامل تھیں ۔ جس کے بارے میں جنوبی کوریا کے ایک قانون ساز ریچول کا کہنا تھا کہ چوری کی جانے والی معلومات وزارتِ دفاع سے متعلق ہیں ۔ چوری کی جانے والی دستاویزات میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ سے متعلق تیارکیے جانے والے منصوبے بھی شامل تھے ۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکر دیا تھا ۔ ان دستاویزات میں جنوبی کوریا کی خصوصی افواج کے منصوبوں تک رسائی حاصل کی گئی ۔ جن میں اہم پاور پلانٹس اور فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات بھی شامل تھیں ۔ ری چول کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے دفاعی ڈیٹا سنٹر سے 235 گیگابائٹس فوجی دستاویزات چوری کی گئیں ۔ یہ دستاویزات گزشہ سال ستمبر میں ہیک کی گئیں تھیں ۔ جس پرجنوبی کوریا نے کہا تھا کہ ان کا بڑی مقدار میں ڈیٹا چرایا گیا تھا ۔ سیول حالیہ برسوں میں اپنے کیمونسٹ ہمسائے کی جانب سے سائبر حملوں کا شکار رہا ہے ۔ جس میں سرکاری ویب سائٹس اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ جس کے بعد شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر من گھڑت الزام عائد کرنے کا دعوی کیا ۔ شمالی کوریا نے بعد ازاں ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعوی بھی کیا تھا ۔ جسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پر رکھ کر لانچ کیا جا سکتا ہے ۔ جس پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو راکٹ مین کہہ کر پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ خودکش مشن پر ہیں ۔ اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ سٹھیائے ہوئے دماغی مریض امریکی صدر کو آگ سے سدھائیں گے ۔امریکہ اور یورپ ، دشمن کو مفلوج کر دینے والی منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ جس میں بائیلوجیکل جراثیمی حیاتیاتی ہتھیار بھی شامل تھے اور ظاہری اور چھپے ہوئے بھی ۔لیکن یہ راز سارے افشا ہو چکے ہیں ۔ اس لیے کہتے ہیں جدید سائبر جنگ ظاہری ہتھیاروں سے انتہائی خطرناک ہے ۔ لمحوں میں تمام جدید ہتھیاروں کا ڈیٹا چرا لیا گیا اور دشمن کے پلان بھی چرا لے گئے ۔یاد رہے کہ مغربی ممالک کئی بار روس، چائنا پر سائبر حملوں کا الزام عائد کر چکے ہیں ۔ چائنا روس فوج نے متنبہ کیا کہ مغربی ممالک کی جانب سے سائبر جنگجووں اور ہیکرز کے حوالے سے موجودہ توجہ کے مقابلے میں روسی انفارمیشن جنگ کہیں زیادہ وسیع ہے ۔ اس دوران الزامات کی بھرمار چل رہی تھی ۔ روس مغربی کی جمہوریت اور انفراسٹرکچرکو نشانہ بنا رہا ہے؟کچھ عرصہ قبل روس کے انفارمیشن فوجیوں کی کارروائیوں سے نالاں برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ولادمیر پوتن مغربی ممالک کا امتحان لے رہے ہیں ۔ برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ روس سائبر حملوں کے ذریعے مغربی ممالک میں جمہوریت اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ماسکو غیر مصدقہ معلومات کو بطور ہتھیار اپنا اثر و رسوخ بڑھانے ، مغربی ممالک میں حکومتوں کو غیر مستحکم اور نیٹو کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہو گیا ہے کہ اتحادی ممالک اپنے سائبر دفاع کو مضبوط کریں ۔ اب امریکی دفاعی اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ نیٹو کو سائبر سپیس میں اپنا دفاع اتنے ہی موثر انداز میں کرنا چاہیے جتنا وہ فضا ، زمین اور سمندروں پر کرتا ہے تاکہ دشمن کو پتا ہو کہ اگر وہ سائبر حملے کرے گا تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کیے گئے ممکنہ سائبر حملوں میں فرانس میں نشریاتی ادارہ ٹی وی 5 منوڈے کا اپریل 2015 میں نشریات بند کرنا ، اور جرمنی میں ایوانِ زیریں کو نشانہ بنانا شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ اکتوبر 2016 میں بلگیریا میں ایک سائبر حملے کو ملک کے صدر نے جنوب مشرقی یورپ کا بھاری اور شدید ترین حملہ قرار دیا تھا ۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع نے روس کی جانب سے ممکنہ طور پر دونوں مرکزی امریکی سیاسی جماعتوں کی ہیکنگ کا ذکر بھی کیا ۔ ” یاہو نے اپنے سسٹم پر سائبر حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا ۔ اسی طرح چند برس قبل امریکی کمپنی یاہو پر بھی انتہائی شدید سائبر حملہ کیا گیا تھا ۔ ہیکنگ کے اس حملہ کے نتیجے میں یاہو کے ایک ارب اکاونٹس متاثر ہوئے تھے ۔ اس حملے کے متعلق یاہو کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہونے والی ایک ہیکنگ سے کم سے کم ایک ارب صارفین کے اکاونٹس متاثر ہوئے تھے ۔ یاہو کا کہنا مزید کہنا تھا کہ ہیکنگ کا یہ واقعہ 2014 میں ہونے والی اس ہیکنگ سے الگ ہے ۔ جس کے دوران ہیکرز کو 50 کروڑ اکاونٹس تک رسائی حاصل ہوئی تھی ۔ یاہو کا کہنا تھا کہ اس ہیکنگ کے دوران صارفین کے نام ، فون نمبرز ، پاسورڈز اور ای میل ایڈریسز لیے گئے ۔ تاہم بینک اور ادائیگیوں سے ، دفاعی خفیہ ھتیاروں کے راز متعلق معلومات چرائی گئیں ۔ یاہو نے انکشاف کیا تھا کہ 2014 میں اس کے نظام میں دخل اندازی کر کے صارفین کی معلومات چرائی گئی تھیں ۔ بعدازں ان سائبر حملہ کے حوالے سے یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ریاستی معاونت سے کیا گیا تھا ۔ یاہو کا کہنا تھا کہ جس سائبر حملے میں ہیکرز نے اس کے 50 کروڑ صارفین کے اکاونٹس کی معلومات کچھ عرصہ پہلے چوری کی و ہ ریاستی معاونت سے کیا گیا۔ امریکی بحریہ کا کنٹریکٹر ، سائبر حملہ اور خفیہ معلومات کی چوری ہوی تھیں ۔ 2018میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا کہ چینی فوج امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بحر الکاہل کے علاقے میں حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔کانگریس کو پیش کی جانے والی پینٹاگون کی یہ سالانہ رپورٹ کہتی ہے کہ چین مسلسل اپنی عسکری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے ۔ واضح رہے کہ چین کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین سالوں میں پیپلز لبریشن آرمی نے تیزی سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور میری ٹائم علاقوں میں مشقیں کیں ۔ جس سے لگتا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ چین تائیوان کو اپنے حصہ تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن امریکہ اس کی آزادی کا حامی ہے ۔ تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہیں ۔ چین جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں اپنی فوجی تنصیبات میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے اور کئی مقامات پر اپنے بمبار طیارے اتار چکا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب امریکہ نے جاپان اور بھارت میں اپنی فوجیں تیار رکھی ہوئی ہیں ۔ دوسری جانب یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر پاور چین سے خوفزدہ امریکی انویسٹیگیشن نے ایک مبینہ چینی سائبر حملے کی تفتیش کرنا شروع کی تھی ۔ جو امریکی بحریہ کے ایک کنٹریکٹر پر کیا گیا تھا اور جس کی وجہ سے خفیہ معلومات چرا لی گئی تھیں ۔ دنیا کا امن ایک مرتبہ پھر خطرے میں ہے ۔ کیونکہ اب پھر ایک مرتبہ دنیا سائبر وار کے دھانے پر آن کھڑی ہوئی ہے ۔ کیوں کہ اس جدید جنگ میں کسی کے بھی میزائل فضائیہ سیٹلائٹ اور دیگر فوجی تنصیبات کو میزائلوں کو چلایا بھی جاسکتا اور روکا بھی جا سکتا ہے ۔

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: