Today's Columns

غربت از حفصہ الماس

لفظ غربت ہر اک ذی روح کی زبان پہ اتنا عام ہوچکا ہے نا کہ اس لفظ کو مفلسی، ناداری، مسکینی، محتاجی، تنگ دستی، تنگی، فقر اور قلاش وغیرہ کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ جب ہم تہی دست ہوں تو ہمیں دوسروں کی منت سماجت کرنی پڑتی ہے تاکہ ہمیں وہ چیز دیں۔ بے شک ہمیں پھر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلانا ہو یا خدائے ذالجلال کے بندوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے اور ہم ہاتھ تب پھیلاتے ہیں جب ہم کسی چیز کے لئے کسی دوسرے کے محتاج ہوں اور محتاج تو ہم صرف اللہ کی ذات کے ہوتے ہیں نا، اس کے سامنے گڑگڑاتے ہیں پھر وہ اپنے بندوں کو وسیلہ بنا کر بھیجتا ہے اور ان کے ذریعے سے وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ جب ہم مفلس ہو تو وہ ہماری غربت کا خاتمہ غیبی مدد سے کرتا ہے۔
بے شک وہ مسبب الاسباب ہے۔
آج کے دور میں غربت نے تقریبا پوری دنیا کو ہی مشکلات میں گھیرا ہوا ہے اور ہر کوئی اس پریشانی میں رونا روتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عالمی بینک کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 سالوں میں 35 فیصد غربت کی شرح میں کمی آئی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں 42.2فیصد، سندھ میں 34.2فیصد، خیبر پختونخواہ میں 27فیصد اور پنجاب میں 25 فیصد شرح غربت ہے۔ جبکہ سب سے ذیادہ غربت کی شرح بلوچستان کے ضلع واشک اور پنجاب کے ضلع ایبٹ آباد میں دیکھنے کو ملی ہے۔ غربت کی سب سے ذیادہ شرح غذائی قلت کی وجہ سے ہے۔ بلوچستان میں غذائی قلت 53 فیصد، سندھ میں 39 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 49 جبکہ پنجاب میں 38 فیصد ہے جو غربت کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36 فیصد جبکہ شہروں میں غربت کی شرح 18 فیصد ہے۔ اسی غربت میں بہت سے لوگ سڑکوں پہ رلتے دیکھے گئے ہیں جو فقط غربت سے لڑرہے ہوتے ہیں۔ کبھی سفر کریں تو ہمارا مشاہدہ ہمیں بہت سے ایسے لوگوں پر غور کرنا سکھاتا ہے جو یا تو سڑکوں پہ سوئے ہوتے ہیں یا کسی دکان کے آگے کھڑے ہوئے للچاتی نظروں سے چیزوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، کچھ شاپروں میں کھانے پینے کی اشیاء تھامے اپنی آشیانوں کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں یا پھر کسی کی آگے ہاتھ کئیے اور ان کے ساتھ بھاگتے بھاگتے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں کہ شاید کوئی رک کر ہمیں کچھ دے ہی دے اور کچھ تومصنوعات بیچ کر روزی روٹی پوری کررہے ہوتے ہیں لیکن ہم اکثر ان کو گداگر سمجھ کر بہت برے طریقے سے دھتکار دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ بھی ایک انسان ہے جس کو کبھی معاشرے کے سامنے معذور بنا کرپیش کیا جارہا ہوتا ہے تاکہ وہ بھیک مانگے اور خود یہ سوچ کر اس کے پاس بیٹھ کر نظر رکھی جاتی ہے کہ اس کو ملنے والی رقم ادھر ادھر نہ ہو یا پھر کبھی چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں کشکول تھما کر انہیں شہروں اور قصبوں کی گلی اور کوچوں میں بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ بڑوں سے ذیادہ بچے کما سکتے ہیں آخر کوئی جوان بھیک منگوں کو واپس بھی تو بھیج سکتا کہ بھئی اچھا بھلا کمانے کے لائق ہیں پھر کیوں مانگتے ہیں لیکن بچوں پہ تو ترس کھالیا جاتا ہے اور ان کو بہت کم ہی واپس بھیجا جاتا ہے اور پھر ان بچوں کو ملنے والی بھیک سے خود گینگ لیڈرز عیش کرتے ہیں۔ کبھی ہم اصلیت جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ہر گلی محلے میں چلنے پھرنے والے جو فقیر ہیں ان کی کیا مجبوریاں ہیں؟ ارے وہ تو دو وقت کی روٹی کھانے کے لالچ میں آکر مانگتے ہیں یا پھر وہ پیارے سے مرجھائے ہوئے پھول اپنے ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے، کاغذ کے پھول اور پھولوں کے گلدستے لے کر بیچنے کو جگہ جگہ دھکے کھارہے ہوتے ہیں۔ کوئی کیوں نہیں سوچتا کہ یہ دھکے ان کا نصیب بنایا جاتا ہے وہ تو فقط غربت کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ پھر غربت کا اک اور رخ ہمارے سامنے آتا ہے جس میں لوگوں کے پاس کھانے کے لئے ایک وقت کا کھانا ہوتا ہے دوسرے وقت کا نہیں۔ وہ خود بھوکے سو سکتے ہیں اور اس کھانے سے اپنے بچوں کی بھوک مٹاتیہیں لیکن کسی کے آگے ہتھیلی نہیں پھیلاتے۔ جو ان کے پاس ہے جتنا ہے اسی میں ہی خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں اور زندگی کو جنت کا نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے نا کہ ہر وقت غربت کا رونا رو رو کر ہر وقت لڑائی جھگڑا کر کے زندگی کو جہنم بنایا جاتا ہے۔ بے شک ایسے غرباء تنہا ہی رہ جاتے ہیں وجہ ان کی لوئر کلاس ہوتی ہے اور کوئی ان کے ساتھ رہنا کیوں پسند کرے گا آخر کو امیری غریبی بھی کسی چڑیا کا نام ہے نا۔ کبھی ایسے لوگوں کا رویہ دیکھیں اپنے جیسوں کے ساتھ تو آپکی سوچ دنگ رہ جائے گی کہ ایک انسان غریب ہے لیکن اس کی سوچیں، نظریات، خیالات اور رویے غریب نہیں ہیں۔ یہ اگر اپنے دروازے پہ کسی سائل کی صدا سن لیں تو فوراً بھاگتے ہیں کہ انہیں کہیں تاخیر نہ ہوجائے کہ سائل کو ذیادہ دیر انتظار کرنا پڑے۔ پھر ایسے لوگوں کے لئے سکون سے رہنا اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔جو زندگی تحفتاً ملی ہو اس کو نعمت سمجھ کر وہ مزے میں رہتے ہیں کیونکہ اگر غریب کی جھونپڑی سیلاب یا طوفان کی نذر ہو بھی جائے تو اس کو اتنی فکر نہیں ہوتی لیکن امیر کا راتوں کا سکون، نیند اور بھوک اڑ جاتی ہے۔ غریب اگر دو وقت کی روٹی سکون سے کھا رہا ہو اور تندرست و توانا اتنا ہو کہ خود کما کر کھا سکے اور اس کو اپنی کاہلی اور سستی کی وجہ سے آرام پسندی اور عیش کی عادت نہ ہو تو وہ غریب کبھی کبھی نہیں ہوتا لیکن غربت تو تب ہوتی ہے جب انسان سہل پسند ہوجائے اور اس کی انسانیت اور خلوص کا خاتمہ ہوجائے۔ آپ کو اگر فاقوں کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا تو روزانہ سوتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرکے سویا کریں شاید اگلی صبح اٹھنے کا موقع ملے یا نہ ملے اور پھر شاید آپ کو کسی غریب کو کچھ دینے کا موقع نہ ملے بلکہ دینے کیا کسی غریب سے کچھ لینے کا موقع نہ ملے کیونکہ جتنا دیتے ہیں وہی آپ کو ذیادہ کر کے لوٹا دیا جاتا ہے۔ تو اپنی پوری کوشش کریں کہ اگر کسی ایسے غریب انسان کو دیکھیں تو اپنی طرف سے اس کی بھلائی کی پوری کوشش کریں کیونکہ اگر وہ ڈھونگی فقیر بھی ہے لیکن اللہ کے نام پہ مانگ رہا ہے یا کسی کو ضرورت ہے لیکن وہ ہاتھ نہیں پھیلا رہا تب بھی اس کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اللہ ہم سب کو غربت جیسی برائی سے بچائیں۔(آمین)

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: